Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 161–170 of 176

161

وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ ۔۔۔۔۔ اس وقت جو تورات موجود ہے اس میں بھی متعدد مقامات پر سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھیے کتاب خروج، باب ٢٢، فقرہ ٢٥ تا ٢٧) ۔- وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ : یعنی رشوت، جوئے، دھوکے اور دوسرے ناجائز ذرائع سے لوگوں کے اموال کھانا۔ گناہوں کی دو قسمیں ہیں، مخلوق پر ظلم اور حق سے اعراض۔ اوپر کی آیت : ( وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ) ( ان کے اللہ کے راستے سے بہت زیادہ روکنے کی وجہ سے) سے مخلوق پر ظلم کی طرف اشارہ ہے، باقی کا تعلق ” اعراض عن الحق “ سے ہے۔ (کبیر)

An-Nisaa 4:161Listen in Qur'an →
162

لَّٰكِنِ ٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أُو۟لَٰٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ : علم میں پختہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی طرف سے آنے والی وحی کے متلاشی ہوں اور اسی سے دلیل اور رہنمائی حاصل کریں، نہ لکیر کے فقیر ہوں نہ تقلید آباء کے اور ” المومنون “ سے مراد تورات پر صحیح ایمان رکھنے والے ہیں، یعنی یہ مومن اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا۔ “ یہ اہل کتاب کے مومنوں کو بشارت ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لے آئے، مثلاً عبداللہ بن سلام (رض) وغیرہ۔ - وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ : اس سے پہلے اور بعد والی تمام صفات مرفوع ہیں اور یہ منصوب ہے، اسے ” منصوب علی المدح “ یا ” علی الاختصاص “ کہا جاتا ہے۔ گویا یہ ” اَخُصُّ “ کا مفعول ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ” اور جو خاص کر نماز ادا کرنے والے ہیں۔ “

An-Nisaa 4:162Listen in Qur'an →
163

۞ إِنَّآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ كَمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ نُوحٍۢ وَٱلنَّبِيِّۦنَ مِنۢ بَعْدِهِۦ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَٰرُونَ وَسُلَيْمَٰنَ ۚ وَءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ زَبُورًۭا

(اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی

اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ۔۔ : یہ ان کے اس اعتراض اور مطالبے کا اصل جواب ہے کہ آپ تورات کی طرح آسمان سے اکٹھی کتاب نازل کروائیں، یعنی وحی اور دعوت الی الحق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ دوسرے انبیاء سے مختلف نہیں ہے، نوح (علیہ السلام) سے لے کر جتنے انبیاء و رسل ہوئے ہیں سب کو الگ الگ معجزات ملے اور تورات کے علاوہ کسی کو بھی یک بارگی کتاب نہیں دی گئی، پھر جب یک بارگی کتاب ان پر نازل نہ کرنے سے ان کی نبوت پر حرف نہیں آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے لیے باعث اعتراض کیوں ہے ؟ نوح (علیہ السلام) سے پہلے بھی بہت سے انبیاء ہوئے ہیں مگر اولو العزم اور صاحب شریعت نبی سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) تھے اور نوح (علیہ السلام) ہی وہ نبی ہیں جن کی قوم پر عذاب نازل ہوا اور رد شرک کا وعظ بھی نوح (علیہ السلام) سے شروع ہوا، اس لیے سب سے پہلے ان کا نام ذکر کیا ہے۔ ( قرطبی، کبیر) وحی کے اصل معنی تو ” کسی مخفی ذریعے سے کوئی بات سمجھا دینا “ کے ہیں اور ” اِیْحَاءٌ“ (افعال) بمعنی الہام بھی آجاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة شوریٰ (٥١) ۔- وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا : یعنی تم زبور کو تو اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرتے ہو، حالانکہ وہ بھی داؤد (علیہ السلام) پر تورات کی طرح تختیوں کی شکل میں نازل نہیں ہوئی تھی، پھر قرآن مجید کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ (کبیر) موجودہ زبور میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں، جن میں دعائیں نصیحتیں اور تمثیلیں مذکور ہیں، حلت و حرمت کے احکام مذکور نہیں ہیں۔

An-Nisaa 4:163Listen in Qur'an →
164

وَرُسُلًۭا قَدْ قَصَصْنَٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًۭا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًۭا

اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں

وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ : جن رسولوں کے اسمائے گرامی اور واقعات قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ان کی تعداد چوبیس (٢٤) یا پچیس (٢٥) ہے۔ آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب، شعیب، موسیٰ ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، الیاس، یسع، زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ ، ذوالکفل (اکثر مفسرین کے نزدیک) اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ - وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ : جن انبیاء و رسل کے نام قرآن میں ذکر نہیں ہوئے ان کی تعداد کتنی ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے، جو بہت مشہور ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ایک حدیث میں آٹھ ہزار بتائی گئی ہے، مگر ان احادیث میں کلام ہے۔ - وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا : یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا، جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (٢٥٣) پھر اگر موسیٰ (علیہ السلام) کے اس شرف سے دوسرے انبیاء پر طعن نہیں آسکتا تو تورات کا یک بارگی نزول دوسرے انبیاء کے لیے موجب طعن کیسے ہوسکتا ہے۔ (رازی) - اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا بھی ثابت ہوا، جو لوگ یونانی فلسفے سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان آیات و احادیث کا کیا جواب دیں گے جن میں صاف لفظوں میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا ذکر ہے۔ اللہ کے ان بندوں نے اللہ تعالیٰ کو انسان سے بھی عاجز یعنی گونگا بنادیا اور اپنے خیال میں اسے اللہ تعالیٰ کی خوبی سمجھ رہے ہیں۔ امام احمد ابن حنبل (رح) ایسے ہی لوگوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ قرآن یا حدیث میں کہیں دکھاؤ کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ مخلوق ہے مگر نہ اس وقت ان کے مخالف یہ دکھا سکے نہ اب کوئی دکھا سکتا ہے۔

An-Nisaa 4:164Listen in Qur'an →
165

رُّسُلًۭا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى ٱللَّهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ ٱلرُّسُلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے

رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ ۔۔ : یعنی انبیاء کی بعثت کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کرلیں انھیں جنت کی خوش خبری دیں اور جو کفر اور نادانی پر جمے رہیں انھیں ان کے غلط رویے کے انجام بد سے ڈرائیں، تاکہ اس طرح ان پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ اللہ کے ہاں کوئی عذر پیش نہ کرسکیں کہ ہمارے پاس تو تیری طرف سے کوئی خوش خبری دینے والا یا ڈرانے والا آیا ہی نہیں اور یہ مقصد کتاب و شریعت کے نازل کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت بس یہ دونوں چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے کسی امام یا مجتہد کو دین میں حجت نہیں بنایا) عام اس سے کہ وہ کتاب یک بارگی دے دی جائے یا تدریجاً نازل ہو۔ بعثت کے اس اصلی مقصد پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ کتاب کے حسب ضرورت تدریجاً نازل کرنے سے تو یہ مقصد زیادہ کامل طریقے سے پورا ہوتا ہے، پھر ان کا یہ کہنا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح یک بارگی کتاب لائیں گے تو مانیں گے ورنہ نہیں، یہ محض ضد اور عناد ہے۔ (کبیر)

An-Nisaa 4:165Listen in Qur'an →
166

لَّٰكِنِ ٱللَّهُ يَشْهَدُ بِمَآ أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُۥ بِعِلْمِهِۦ ۖ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اس کی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے

لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ ۔۔ : یعنی وحی ہر پیغمبر پر آتی رہی ہے، کچھ نیا کام نہیں، پر اس کلام (قرآن مجید) میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ تعالیٰ اس حق کو ظاہر کر دے گا، چناچہ ظاہر ہوا کہ جس قدر ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہ ہوئی۔ (موضح) یہ آیت بھی یہود کے مذکورہ سوال کے جواب میں ہے کہ اگر یہود قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا انکار کرتے ہیں تو اس سے قرآن کا سچا ہونا مجروح نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے قرآن اپنے علم اور حکمت بالغہ کے ساتھ نازل کیا ہے، جو اس کے انتہائی کامل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اس کا علم ماضی، حال اور مستقبل سب کو محیط ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے یہ قرآن اپنے علم سے، یعنی خوب جانتے ہوئے اتارا ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں سے بڑھ کر آپ ہی اس چیز کے اہل تھے کہ آپ پر یہ قرآن نازل کیا جاتا۔

An-Nisaa 4:166Listen in Qur'an →
167

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ قَدْ ضَلُّوا۟ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑے

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۔۔ : ان لوگوں سے مراد یہودی ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خود بھی ایمان نہ لاتے اور لوگوں کو بھی یہ کہہ کر روکا کرتے تھے کہ اس شخص کی کوئی صفت ہماری کتاب میں مذکور نہیں، یا یہ کہ نبوت کا دائرہ تو ہارون اور داؤد ( علیہ السلام) کی اولاد تک محدود ہے، یا یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی شریعت منسوخ نہیں ہوسکتی، ان کی اسی قسم کی کوششوں کو قرآن نے دور کی گمراہی قرار دیا ہے۔

An-Nisaa 4:167Listen in Qur'an →
168

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَظَلَمُوا۟ لَمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں رستہ ہی دکھائے گا

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَظَلَمُوْا۔۔ : ان کی گمراہی کی کیفیت بیان کرنے کے بعد اب ان کو وعید سنائی جا رہی ہے۔ (کبیر) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا، یا آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات کو چھپا کر ان پر ظلم کیا، یا دوسرے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کر کے ان پر ظلم کیا۔ (قرطبی)

An-Nisaa 4:168Listen in Qur'an →
169

إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًۭا

ہاں دوزخ کا رستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭ۔۔ : یعنی جب کفر ہی کی حالت میں مرجائیں گے اور مرنے سے پہلے توبہ نہیں کریں گے تو سیدھے جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کو جہنم میں لے جانا اور پھر ہمیشہ وہاں رکھنا اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ہے، لہٰذا اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ کفر و عناد سے باز آجائیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اختیار کرلیں۔

An-Nisaa 4:169Listen in Qur'an →
170

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ ٱلرَّسُولُ بِٱلْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَـَٔامِنُوا۟ خَيْرًۭا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الرَّسُوْلُ بالْحَقِّ ۔۔ : متعدد طریقوں سے یہود کے اعتراضات و شبہات کی تردید اور قرآن کی حقانیت ثابت کرنے کے بعد اب سب لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے، جن میں یہود بھی شامل ہیں کہ جب یہ رسول برحق ہے اور قرآن بھی اللہ کی سچی کتاب ہے تو تمہیں لازم ہے کہ اس دعوت کو قبول کرلو، اس میں تمہارا بھلا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے، ورنہ یاد رکھو کہ زمین و آسمان میں جتنی مخلوق ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، اس کا تمہارے ایمان نہ لانے سے کچھ نہیں بگڑتا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (٨) ۔

An-Nisaa 4:170Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.