Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 161–170 of 176

161

وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد 2،ص 454 ۔ یہود ونصاري كے پاس آسمانی علم تھا۔ ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کرلیتاہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔

جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام وحلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین بعض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اللہ والا بننے پر۔ چنانچہ وہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع كيے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لیے ہونے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا، نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔

یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلّام وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر اصلی آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل كيے جائیں گے۔

An-Nisaa 4:161Listen in Qur'an →
162

لَّٰكِنِ ٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أُو۟لَٰٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے

عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد 2،ص 454 ۔ یہود ونصاري كے پاس آسمانی علم تھا۔ ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کرلیتاہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔

جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام وحلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین بعض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اللہ والا بننے پر۔ چنانچہ وہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع كيے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لیے ہونے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا، نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔

یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلّام وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر اصلی آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل كيے جائیں گے۔

An-Nisaa 4:162Listen in Qur'an →
163

۞ إِنَّآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ كَمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ نُوحٍۢ وَٱلنَّبِيِّۦنَ مِنۢ بَعْدِهِۦ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَٰرُونَ وَسُلَيْمَٰنَ ۚ وَءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ زَبُورًۭا

(اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی

اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جنت اور جہنم بنائی۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی مستقل نہیں ہے بلکہ وقتی ہے اور امتحان کے لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے تاکہ اچھے اور برے کو چھانٹا جائے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگوں میں کون وہ شخص ہے جو اپنی آزادی کے باوجود حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنے کو اللہ کا بندہ بنا کر رکھتا ہے اور کون وہ ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے بتاتا ہے کہ وہ ایک سرکش انسان ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دونوں کو یہاں یکساں طورپر خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہے۔ مگر امتحان کی مقرره مدت پوری ہونے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے سے الگ کرديے جائیں گے۔ پہلے گروہ کو ابدی طورپر جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا اور دوسرے گروہ کو ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

زندگی کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ انسان کو بڑی نزاکت میں ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختصر زندگی کا انجام دو انتہائی صورتوں میں سامنے آنے والا ہے، یا ابدی راحت یا ابدی عذاب۔ اس لیے الله نے رہنمائی کے دوسرے فطری انتظامات کے علاوہ پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا انتظام کیا تاکہ کوئی شخص زندگی کی حقیقت سے بے خبر نہ رہے اور فیصلہ کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو الٰہی منصوبہ کا پتہ نہ تھا تاكه ہم اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناتے۔

اللہ کے اس منصوبہ کے لازم معنی یہ ہیں کہ شروع سے آخر تک آنے والے تمام نبیوں کا پیغام اور ان كا منصبی فریضہ ایک ہو۔ جب تمام انسان ایک ہی امتحان کی ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے امتحان کا پرچہ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہوسکتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں کا پیغام ايك تھا اور اسی ایک پیغام سے انھوںنے تمام انسانوں کو باخبر کیا۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک ایسے نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے جس کے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم۔ وہ ایک طرف چلے تو جنت میں پہنچے گا اور دوسری طرف چلے تو جہنم میں جاگرے گا — تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی۔البتہ زمانی ضرورت کے اعتبار سے ان كو خدا کی تائید مختلف صورتوںمیں ملی۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی باقی ہے۔ ڈرانے اور خوش خبری سنانے کا پیغمبرانہ کام کرنے کے لیے آج جو لوگ اٹھیں گے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے یقیناً اللہ کی خصوصی تائید کے مستحق ہوں گے۔ تاکہ وہ اپني دعوتی ذمہ داری کو مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔

An-Nisaa 4:163Listen in Qur'an →
164

وَرُسُلًۭا قَدْ قَصَصْنَٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًۭا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًۭا

اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں

اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جنت اور جہنم بنائی۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی مستقل نہیں ہے بلکہ وقتی ہے اور امتحان کے لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے تاکہ اچھے اور برے کو چھانٹا جائے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگوں میں کون وہ شخص ہے جو اپنی آزادی کے باوجود حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنے کو اللہ کا بندہ بنا کر رکھتا ہے اور کون وہ ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے بتاتا ہے کہ وہ ایک سرکش انسان ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دونوں کو یہاں یکساں طورپر خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہے۔ مگر امتحان کی مقرره مدت پوری ہونے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے سے الگ کرديے جائیں گے۔ پہلے گروہ کو ابدی طورپر جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا اور دوسرے گروہ کو ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

زندگی کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ انسان کو بڑی نزاکت میں ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختصر زندگی کا انجام دو انتہائی صورتوں میں سامنے آنے والا ہے، یا ابدی راحت یا ابدی عذاب۔ اس لیے الله نے رہنمائی کے دوسرے فطری انتظامات کے علاوہ پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا انتظام کیا تاکہ کوئی شخص زندگی کی حقیقت سے بے خبر نہ رہے اور فیصلہ کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو الٰہی منصوبہ کا پتہ نہ تھا تاكه ہم اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناتے۔

اللہ کے اس منصوبہ کے لازم معنی یہ ہیں کہ شروع سے آخر تک آنے والے تمام نبیوں کا پیغام اور ان كا منصبی فریضہ ایک ہو۔ جب تمام انسان ایک ہی امتحان کی ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے امتحان کا پرچہ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہوسکتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں کا پیغام ايك تھا اور اسی ایک پیغام سے انھوںنے تمام انسانوں کو باخبر کیا۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک ایسے نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے جس کے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم۔ وہ ایک طرف چلے تو جنت میں پہنچے گا اور دوسری طرف چلے تو جہنم میں جاگرے گا — تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی۔البتہ زمانی ضرورت کے اعتبار سے ان كو خدا کی تائید مختلف صورتوںمیں ملی۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی باقی ہے۔ ڈرانے اور خوش خبری سنانے کا پیغمبرانہ کام کرنے کے لیے آج جو لوگ اٹھیں گے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے یقیناً اللہ کی خصوصی تائید کے مستحق ہوں گے۔ تاکہ وہ اپني دعوتی ذمہ داری کو مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔

An-Nisaa 4:164Listen in Qur'an →
165

رُّسُلًۭا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى ٱللَّهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ ٱلرُّسُلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے

اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جنت اور جہنم بنائی۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی مستقل نہیں ہے بلکہ وقتی ہے اور امتحان کے لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے تاکہ اچھے اور برے کو چھانٹا جائے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگوں میں کون وہ شخص ہے جو اپنی آزادی کے باوجود حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنے کو اللہ کا بندہ بنا کر رکھتا ہے اور کون وہ ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے بتاتا ہے کہ وہ ایک سرکش انسان ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دونوں کو یہاں یکساں طورپر خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہے۔ مگر امتحان کی مقرره مدت پوری ہونے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے سے الگ کرديے جائیں گے۔ پہلے گروہ کو ابدی طورپر جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا اور دوسرے گروہ کو ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

زندگی کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ انسان کو بڑی نزاکت میں ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختصر زندگی کا انجام دو انتہائی صورتوں میں سامنے آنے والا ہے، یا ابدی راحت یا ابدی عذاب۔ اس لیے الله نے رہنمائی کے دوسرے فطری انتظامات کے علاوہ پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا انتظام کیا تاکہ کوئی شخص زندگی کی حقیقت سے بے خبر نہ رہے اور فیصلہ کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو الٰہی منصوبہ کا پتہ نہ تھا تاكه ہم اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناتے۔

اللہ کے اس منصوبہ کے لازم معنی یہ ہیں کہ شروع سے آخر تک آنے والے تمام نبیوں کا پیغام اور ان كا منصبی فریضہ ایک ہو۔ جب تمام انسان ایک ہی امتحان کی ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے امتحان کا پرچہ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہوسکتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں کا پیغام ايك تھا اور اسی ایک پیغام سے انھوںنے تمام انسانوں کو باخبر کیا۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک ایسے نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے جس کے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم۔ وہ ایک طرف چلے تو جنت میں پہنچے گا اور دوسری طرف چلے تو جہنم میں جاگرے گا — تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی۔البتہ زمانی ضرورت کے اعتبار سے ان كو خدا کی تائید مختلف صورتوںمیں ملی۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی باقی ہے۔ ڈرانے اور خوش خبری سنانے کا پیغمبرانہ کام کرنے کے لیے آج جو لوگ اٹھیں گے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے یقیناً اللہ کی خصوصی تائید کے مستحق ہوں گے۔ تاکہ وہ اپني دعوتی ذمہ داری کو مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔

An-Nisaa 4:165Listen in Qur'an →
166

لَّٰكِنِ ٱللَّهُ يَشْهَدُ بِمَآ أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُۥ بِعِلْمِهِۦ ۖ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اس کی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔

خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔

اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

An-Nisaa 4:166Listen in Qur'an →
167

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ قَدْ ضَلُّوا۟ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔

خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔

اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

An-Nisaa 4:167Listen in Qur'an →
168

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَظَلَمُوا۟ لَمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں رستہ ہی دکھائے گا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔

خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔

اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

An-Nisaa 4:168Listen in Qur'an →
169

إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًۭا

ہاں دوزخ کا رستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔

خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔

اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

An-Nisaa 4:169Listen in Qur'an →
170

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ ٱلرَّسُولُ بِٱلْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَـَٔامِنُوا۟ خَيْرًۭا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔

خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔

اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

An-Nisaa 4:170Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.