Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 161–170 of 176

161

وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)

[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ …

An-Nisaa 4:161Listen in Qur'an →
162

لَّٰكِنِ ٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أُو۟لَٰٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے

لیکن جو پکے ہیں علم میں ان میں سےاور مومن، وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا آپ کی طرف اور جو نازل کیا گیا آپ سے پہلے اور قائم کرنے والے ہیں نماز اور ادا کرنے والے ہیں زکاۃ اور ایمان رکھنے والے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، یہ لوگ ہیں ، عنقریب دیں گے ہم ان کو اجر بہت بڑا(162)

[162] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے معایب بیان کیے تو اب ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو ان میں سے قابل تعریف ہیں ۔ ﴿لٰكِنِ الرّٰؔسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ مِنۡهُمۡ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں علم مضبوط اور ایقان راسخ ہے اور اس کے ثمرہ میں انھیں ایمان کامل حاصل ہوتا ہے ﴿ يُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپﷺ پر اتاری گئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئیں ۔‘‘ یہ ایمان انھیں اعمال صالحہ کا پھل عطا کرتا ہے ، مثلاً: نماز قائم کرنا اور زکٰوۃ ادا کرنا، یہ دونوں سب سے افضل اعمال ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے لیے احسان پر مشتمل ہیں ۔ وہ لوگ روز قیامت پر بھی ایمان لاتے ہیں ۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور اس کے وعدے پر امید رکھتے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَنُؤۡتِيۡهِمۡ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’ہم عنقریب انھیں اجر عظیم سے نوازیں گے‘‘ کیونکہ انھوں نے علم و ایمان، عمل صالح، گزشتہ اور آئندہ آنے والے انبیاء و مرسلین اور تمام کتب الہیہ پر ایمان کو جمع کر دیا۔

An-Nisaa 4:162Listen in Qur'an →
163

۞ إِنَّآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ كَمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ نُوحٍۢ وَٱلنَّبِيِّۦنَ مِنۢ بَعْدِهِۦ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَٰرُونَ وَسُلَيْمَٰنَ ۚ وَءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ زَبُورًۭا

(اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی

بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165)

[163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔

[164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔

[165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی …

An-Nisaa 4:163Listen in Qur'an →
164

وَرُسُلًۭا قَدْ قَصَصْنَٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًۭا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًۭا

اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں

بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165)

[163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔

[164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔

[165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی …

An-Nisaa 4:164Listen in Qur'an →
165

رُّسُلًۭا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى ٱللَّهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ ٱلرُّسُلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے

بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165)

[163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔

[164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔

[165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی …

An-Nisaa 4:165Listen in Qur'an →
166

لَّٰكِنِ ٱللَّهُ يَشْهَدُ بِمَآ أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُۥ بِعِلْمِهِۦ ۖ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اس کی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے

لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس کی جو نازل کیا اس نے طرف آپ کی کہ نازل کیا ہے اس کو اپنے علم کے ساتھ اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور کافی ہے اللہ گواہ(166)

[166] اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ اس نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح دیگر انبیاء کی طرف، وہاں یہ خبر بھی دی ہے کہ اس نے آپﷺ کی رسالت کی اور جو تعلیمات لے کر آپ مبعوث ہوئے، ان کی صحت کی گواہی دی ہے۔فرمایا:﴿اَنۡزَلَهٗ بِعِلۡمِهٖ﴾ ’’اس نے اپنے علم سے اسے نازل کیا ہے۔‘‘ اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس نے قرآن کو اس طرح نازل فرمایا کہ وہ اس (اللہ) کے علم پر مشتمل ہے، یعنی اس کے اندر تمام علوم الہیہ، احکام شرعیہ اور اخبار غیبیہ موجود ہیں ۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کا وہ علم ہے جو اس نے اپنے بندوں کو سکھایا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ہو کہ اس نے اس قرآن کو اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تب اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی شہادت کے پہلو کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے اس طرح نازل فرمایا ہے کہ وہ اوامر و نواہی پر مشتمل ہے اور یہ سب کچھ جانتا ہے۔ اور وہ اس کے احوال کو بھی جانتا ہے جس پر یہ نازل کیا گیا اور اللہ تعالیٰ یہ بھی جانتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے۔ پس جس کسی نے اس کی دعوت پر لبیک کہی اور اس کی تصدیق کی وہ اللہ تعالیٰ کا دوست ہے اور جس کسی نے اس کو جھٹلایا اور اس کے ساتھ عداوت رکھی وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا مال اور خون مباح کر دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دوست کو قدرت عطا کرتا ہے اور پے در پے اس کی مدد کرتا ہے، اس کی دعائیں قبول کرتا ہے، اس کے دشمنوں سے الگ ہو جاتا ہے اور اس کے دوستوں کی مدد کرتا ہے۔کیا کوئی ایسی شہادت ہے جو اس شہادت سے بڑی ہو؟ اللہ تعالیٰ کے علم، اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں عیب لگائے بغیر نیز فرشتوں کے ایمان کامل اور مشہود علیہ کی جلالت شان کی بنا پر اس چیز پر ان کی شہادت کے بارے میں جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے عیب چینی کیے بغیر اس شہادت میں جرح و قدح ممکن نہیں ۔ اس قسم کے عظیم الشان امور پر خواص ہی سے شہادت طلب کی جاتی ہے جیسا کہ توحید پر شہادت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآىِٕمًۢا بِالۡقِسۡطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾(ال عمران: 3؍18) ’’اس نے شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ،فرشتوں اور اہل علم نے بھی شہادت دی ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ حکومت کر رہا ہے،اس کے سوا کوئی الہ نہیں وہی زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔‘‘

An-Nisaa 4:166Listen in Qur'an →
167

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ قَدْ ضَلُّوا۟ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑے

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169)

[167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔

[169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔

An-Nisaa 4:167Listen in Qur'an →
168

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَظَلَمُوا۟ لَمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں رستہ ہی دکھائے گا

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169)

[167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔

[169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔

An-Nisaa 4:168Listen in Qur'an →
169

إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًۭا

ہاں دوزخ کا رستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169)

[167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔

[169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔

An-Nisaa 4:169Listen in Qur'an →
170

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ ٱلرَّسُولُ بِٱلْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَـَٔامِنُوا۟ خَيْرًۭا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

اے لوگو! تحقیق آگیا تمھارے پاس یہ رسول حق لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ایمان لاؤ تم، (ہوگا یہ) بہتر تمھارے لیے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور ہے اللہ خوب جاننے والا حکمت والا(170)

[170] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں ۔ اس نے اس سبب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ایمان کا موجب ہے اور ایمان کے اندر جو فوائد اور عدم ایمان کے اندر جو نقصانات ہیں ان سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ایمان کا موجب سبب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دینا ہے کہ رسول اللہﷺ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ۔ آپ کی تشریف آوری فی نفسہ حق اور جو شریعت آپ لائے ہیں وہ بھی حق ہے۔عقلمند شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ مخلوق کا اپنی جہالت میں سرگرداں رہنا اور اپنے کفر میں ادھر ادھر مارے مارے پھرنا جبکہ رسالت منقطع ہو چکی ہو .... اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی رحمت کے لائق نہیں ۔ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف رسول کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان کو گمراہی اور ضلالت میں سے رشد و ہدایت کی پہچان کروائیں ۔ آپﷺ کی رسالت میں مجرد غور و فکر ہی آپ کی نبوت کی صداقت کی قطعی دلیل ہے۔ اسی طرح اس عظیم شریعت اور صراط مستقیم میں غور و فکر، جس کے ساتھ آپ تشریف لائے ہیں ۔ آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس میں گزشتہ زمانوں اور آئندہ آنے والے زمانوں کے امور غیبیہ نیز اللہ تعالیٰ اور روز آخرت کے بارے میں ایسی ایسی خبریں دی گئی ہیں کہ کوئی شخص وحی اور رسالت کے بغیر ان کی معرفت حاصل نہیں کر سکتا اور اس میں ہر قسم کی خیر و صلاح، رشد و ہدایت، عدل و احسان، صدق، نیکی، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کا حکم دیا گیا ہے اور ہر قسم کے شر، فساد، بغاوت، ظلم، بدخلقی، جھوٹ اور والدین کی نافرمانی سے روکا گیا ہے جن کے بارے میں قطعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بندے کی بصیرت میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے پس یہ ہے وہ سبب جو بندے کو ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ رہی ایمان میں فائدے کی بات تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ﴿خَيۡرًا لَّـكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ خیر، شر کی ضد ہے۔ پس ایمان اہل ایمان کے ابدان، ان کے دلوں ، ان کی ارواح اور ان کی دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ ایمان پر مصالح اور فوائد مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ ہر قسم کا ثواب، خواہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو یا آخرت میں ، ایمان ہی کا ثمرہ ہے اور فتح و نصرت، ہدایت، علم، عمل صالح، مسرتیں ، فرحتیں ، جنت اور جنت کی تمام نعمتیں ، ان سب کا سبب ایمان ہے۔ جیسے دنیاوی اور اخروی بدبختی عدم ایمان یا نقص ایمان کے باعث ہے۔رہا رسول اللہﷺ پر عدم ایمان کا ضرر تو اسے ان فوائد کی ضد سے معلوم کیا جا سکتا ہے جو ایمان کے باعث حاصل ہوتے ہیں اور بندہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ تمام گناہ گاروں کا گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔‘‘ یعنی زمین و آسمان میں ہر چیز اس کی مخلوق، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر اور تصرف کے تحت ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘ ﴿حَكِيۡمًا ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت کا مالک ہے۔ پس وہ جانتا ہے کہ کون ہدایت اور کون گمراہی کا مستحق ہے۔ ہدایت اور گمراہی کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنے میں وہ حکمت سے کام لیتا ہے۔

An-Nisaa 4:170Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.