Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 161–170 of 176

161

وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

(آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا ‘(160) واخذھم الربوا وقد نھو عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل واعتدنا للکفرین منھم عذابا الیما (161) (4 : 160۔ 161)

(۔ غرض ان یہودیوں کے اسی ظالمانہ رویے کی بناء پر اور اس بناء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ‘ اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ‘ ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کیلئے حلال تھیں ‘ اور وہ لوگ جو ان میں سے کافر ہیں ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ )

چناچہ اس آیت کے ذریعے ان کے سابقہ منکرات میں کچھ مزید منکرات کا اضافہ کردیا گیا ۔ اور یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں سے لوگوں کو روکنے کے سوا ان کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے ۔ گویا وہ رات دن ایسی کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ نیز یہ رات دن سودی کاروبار میں لگے رہتے ہیں اور یہ کام وہ محض کم علمی کی وجہ سے نہیں کر رہے یا یہ کہ انہیں اس سلسلے میں متنبہ نہیں کیا گیا ‘ بلکہ انہیں صاف الفاظ میں اس سے روکا گیا تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اس پر اصرار کیا اور لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے رہے ۔ یہ ربا کے ذریعے بھی کھاتے رہے اور دوسرے ذرائع سے بھی ۔

ان منکرات اور اس سے پہلی سورتوں میں مذکورہ جرائم کی وجہ سے اللہ نے ان پر بعض حلال چیزوں کو حرام کردیا جوان کیلئے حلال تھیں اور یہ کہ اللہ نے کافروں کیلئے سخت دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

یہودیوں کے خلاف اس مہم میں یہودیوں کے چہرے سے نقاب اتار کر پھینک دیا گیا ‘ اور اس ان کے تاریخ سے بعض واقعات بھی پیش کئے گئے تاکہ معلوم ہو کہ ان کی تاریخ کیا ہے ۔ ان کی بہانہ سازیوں اور ان کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کیا کیا اور یہ بتایا گیا کہ وہ کسی طرح مان کردینے والے نہیں ہیں اور یہ کہ انہوں نے اپنے قائد ‘ اپنے نجات دہندہ اور اپنے عظیم نبی کے ساتھ یہی رویہ اختیار کئے رکھا ان کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ صالحین اور انبیاء کے ساتھ برے سلوک اور ان کے خلاف بدگوئی کرنے میں بہت ہی جری وسریع رہے ہیں ۔ وہ انبیاء کو بھی قتل کرتے رہے ہیں اور پھر ندامت کے بجائے اس قتل پر فخر کرتے رہے ہیں ۔ ان جملوں کے نتیجے میں ‘ یہودیوں کے مکروفریب کا جال تار تار ہوگیا جو انہوں نے اسلامی صفوں کے خلاف بچا رکھا تھا ۔ ان کی سازشیں ناکام ہوگئیں اور مسلمانوں کے ساتھ انکی خفیہ دوستیاں کٹ گئیں ۔ یوں اہل اسلام نے یہودیوں کے اصل مزاج کو اچھی طرح جان لیا۔ اسلام کے خلاف ان کی سازشوں اور ان میں استعمال ہونے والے وسائل وذرائع کو پہچان لیا ۔ اس بات کا انہیں علم ہوگیا کہ وہ کس طرح ہر سچائی کے مقابلے میں جتھہ بندی کرلیتے ہیں چاہے یہ سچائی خود ان کے اندر انکی اپنی صفوں سے اٹھے یا ان سے باہر دوسری اقوام کے اندر پائی جائے ۔ اس لئے کہ وہ ہمیشہ سچ اور اہل حق کے دشمن رہے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ہدایت اور ہادیوں کی بیخ کنی کرتے رہے ہیں ۔ ہر دور میں اور ہر زمانے میں وہ یہ کام کرتے رہے ہیں ۔ اپنے دشمنوں کے ساتھ تو ان کا یہ رویہ بہرحال تھا ہی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں ‘ اس لئے ہر دور میں ہر اسلامی تحریک اور اسلامی سوسائٹی کا یہ فرض ہے کہ وہ یہودیوں سے چوکنا رہے اس لئے کہ ان کی جبلت ہی ایسی ہے کہ وہ ذاتی طور پر سچائی کے دشمن ہیں ۔ ان کے دل کے اندر حق کی دشمنی بھری ہوئی ہے ۔ ان کے کلیجے سخت ہوگئے ہیں ۔ وہ اپنے سر صرف اس شخص کیلئے جھکاتے ہیں جو ان پر ڈنڈے برسائے اور وہ سچائی کو تب تسلیم کرتے ہیں جب ان کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہو ۔

اس قسم کے لوگوں کا یہ تعارف صرف اس جماعت اسلامی کیلئے نہ تھا جو مدینہ طیبہ میں کام کر رہی تھی اس لئے کہ قرآن اس امت کے لئے گائیڈ ہے جب تک کہ یہ امت موجود رہے گی ۔ اگر قرآن سے یہ امت اپنے دشمنوں کے بارے …

An-Nisaa 4:161Listen in Qur'an →
162

لَّٰكِنِ ٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أُو۟لَٰٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے

(آیت) ” نمبر 162۔

غرض پختہ علم اور اس پر روشن ایمان انسان کو اس طرح ہدایت دیتے ہیں کہ انسان پورے دین پر ایمان لانے والا بن جاتا ہے ۔ انسان اپنے علم کی پختگی اور صاف ایمان کی وجہ سے اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ دین اللہ وحدہ کی طرف سے آیا ہے اور یہ کہ اپنے مزاج کے اعتبار سے دین ایک ہی ہے ۔

قرآن کریم کی جانب سے یہ اشارہ دینا کہ علم کی گہرائی کے نتیجے میں صحیح معرفت حاصل ہوتی ہے اور دل کے دروازے نور ایمان کے لئے کھل جاتے ہیں ‘ نزول قرآن کے دور میں نہایت ہی معنی خیز ہے یہ قرآن کریم کے اشارات میں سے ایک اہم اشارہ ہے اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے زمانے میں صورت حال کیا تھی ۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں نفس انسانی کی صورت حال کیا ہوتی تھی ۔ سطحی علم کی مثال اس طرح ہوتی ہے جس طرح کفر اور انکار ۔ یہ کفر اور انکار ان کے دل کے اندر صحیح معرفت کے اترنے میں حائل ہوجاتے ہیں۔ ہر دور میں یوں ہوتا ہے کہ سطحی علم کی وجہ سے حقیقت کی معرفت حاصل نہیں ہوتی ۔ جو لوگ علم میں گہرائی تک چلے جاتے ہیں اور انہیں حقیقی علم حاصل ہوجاتا ہے تو ان کی آنکھوں کے سامنے شواہد آجاتے ہیں جو اس کائنات کے اندر پنہاں ہیں ۔ اگر انکے سامنے شواہد نہیں آتے تو کم ازکم ایسے سوالات آجاتے ہیں جن کا جواب ان کے پاس نہیں ہوتا اور محض کسی سماوی نظریہ حیات کو قبول کرکے ہی وہ ان سوالات کے جواب سے جان چھڑا سکتے ہیں ۔ مثلا یہ کہ اس کائنات کا ایک الہ ہے ۔ وہ اس پر حاوی ہے ‘ اس کا مدیر ہے ‘ اور اس پر پوری طرح متصرف ہے ۔ اس کا ایک ہی ارادہ ہے ۔ اس نے اس کائنات کے اندر یہ ناموس اعظم جاری کیا ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے دل ہدایت کیلئے بےتاب ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر راز کھول دیتے ہیں اور انکی روح ہدایت کو پالیتی ہے ۔ وہ لوگ جو ادھر ادھر سے کچھ معلومات چن لیتے ہیں اور اپنے آپ کو علماء سمجھنے لگتے ہیں ‘ ان کے اس سطحی علم کا پردہ ان کے اور ان دلائل ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے جو اس کائنات میں پوشیدہ ہوتے ہیں ‘ اس لئے وہ ایمان تک نہیں پہنچ پاتے ۔ ان پر ایمان ظاہر ہی نہیں ہوتا ‘ اس لئے کہ ان کا علم ناقص اور سطحی ہوتا ہے اور یہ سطحی علم اس کائنات کے سوالات کا ادراک نہیں کرسکتا ۔ ان کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ ان کے دل مائل بہ ایمان وہدایت نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ اس کے شائق ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں کہ جب دل میں ہوں وہ ایمان کا ذوق نہیں رکھتا اور نہ اسے نور ایمان کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر وہ ایمان رکھتا ہے تو اس دین پر رکھتا ہے جو اسے بطور عصبیت جاہلیہ وراثت میں ملا ہوتا ہے ۔ چناچہ وہ اس دین سے دور ہوجاتا ہے جو خدائے متعال کی جانب سے نازل ہوا ہے اور جسے سلسلہ رسل کے ذریعے بھیجا گیا ہے ۔ جس کی کڑیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں صلی اللہ علیہم وسلم اجمعین ۔

تفسیر ماثور میں یہ روایات آئی ہیں ‘ کہ یہ اشارہ سب سے پہلے ان لوگوں کی طرف ہے جو لوگ یہودیوں میں سے اپنے رسوخ فی العلم کی وجہ سے ہدایت پاگئے تھے ۔ جنہوں نے رسول کی دعوت پر لبیک کہا اور جن کے نام ہم نے گذشتہ سطور میں دے دیئے ہیں لیکن آیت عام ہے اور اس کے مفہوم میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو کبھی بھی اپنے رسوخ فی العلم کی وجہ سے اس دین میں شامل ہوں گے یا وہ اپنی ایمانی بصیرت کی وجہ سے دین اسلام کو قبول کرلیں گے ہیں خواہ تاریخ کے کسی بھی دور میں ہوں۔ (مثلا ڈاکٹر محمد اسد ‘ حقیقت حال اللہ ہی جانتا ہے)

(آیت) ” لکن الرسخون فی العلم منھم والمومنون یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک والمقیمین الصلوۃ والموتون الزکوۃ والمومنون باللہ والیوم الاخر اولئک سنوتیھم اجراعظیما “۔ (4 : 162)

” مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو اے نبی ‘ تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو …

An-Nisaa 4:162Listen in Qur'an →
163

۞ إِنَّآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ كَمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ نُوحٍۢ وَٱلنَّبِيِّۦنَ مِنۢ بَعْدِهِۦ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَٰرُونَ وَسُلَيْمَٰنَ ۚ وَءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ زَبُورًۭا

(اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی

(آیت) ” نمبر 163 تا 165۔

غرض یہ ایک قافلہ ہے جو شاہراہ تاریخ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ یہ ایک ہی رسالت ہے اور اس کا ایک ہی نصب العین ہے کہ انسان کو قبل از وقت خبردار کردیا جائے اور اچھے لوگوں کو قبل از وقت ہی اچھے انجام کی خوشخبری دیدی جائے ، اس قافلے میں آگے پیچھے مختار ان درگاہ الہی اور انسانوں میں سے چیدہ لوگ آگے پیچھے چلے آرہے ہیں ۔ یہ رہے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ آئی سواری حضرت اسماعیل کی ۔ انکے بعد یہ چلے آرہے ہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بعد متصلا حضرت یعقوب آرہے ہیں ۔ اب کچھ مختلف گروہ نمودار ہوئے حضرت ایوب (علیہ السلام) یونس (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) ‘ سلیمان (علیہ السلام) ‘ داؤد (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اپنی اپنی باری پر اور بعض ایسے لوگ بھی چلے آئے ہیں جن کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ آخر میں حضرت محمد ﷺ خاتم النبین تشریف لا رہے ہیں اور اب اس قافلے کا آخری سرا اختتام کو پہنچا ۔ اس قافلے میں بعض لوگ ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے پیش کیا ۔ اس قافلے میں مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں کے نبی ہیں اور کرہ ارض کے مختلف علاقوں میں یہ قافلہ نظر آتا ہے ۔ اور مختلف ادوار اور مختلف زمانوں میں ، مختلف معاشروں اور مختلف خاندانوں میں یہ رسول کام کرتے رہے ۔ یہ سب ایک ہی مصدر اور منبع سے پیغام لاتے رہے ۔ یہ سب راہ دکھانے والی ایک ہی روشنی کے حامل رہے ۔ سب کے سب متنبہ اور خبردار کرتے رہے اور خوشخبری دیتے رہے ۔ یہ سب کے سب قافلہ انسانیت کی زمام اپنے ہاتھ میں لیکر اسے نور ہدایت میں داخل کرتے رہے ۔ چاہے کوئی کسی ایک خاندان کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی کسی ایک قوم کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی ایک شہر ار ایک علاقے کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی تمام انسانوں کیلئے آیا ہو اور خاتم النبین کا لقب پایا ہو۔

یہ سب کے سب وحدہ سے وحی پاتے رہے ۔ ان میں سے کسی نے کوئی بات اپنی طرف سے پیش نہیں کی ۔ ان میں سے اگر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست بات کی تو وہ بھی وحی کا ایک رنگ تھا ۔ اس کیفیت سے ہم آگاہ نہیں ہیں نہ اس کا ادراک کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم آخری وحی کا ریکارڈ ہے اور یہ اس قدر درست ریکارڈ ہے جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے اور قرآن نے اس ہم کلامی کی کوئی تفصیل یاکیفیت بیان نہیں کی ہے ۔ اس کی کیفیت کیا تھی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کن خواص اور کس قوت ادراک سے اسے پا رہے تھے ۔ یہ سب باتیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے بارے میں کوئی بات بیان نہیں کی ہے ۔ اور قرآن کریم کے علاوہ اس موضوع پر جو کوئی بھی اپنے دہن سے بات کرے گا وہ بےسند ‘ فلسفہ یا قصہ کہانی ہوگی ۔

یہ رسول ‘ جن میں سے بعض کے نام ذکر ہوئے اور بعض کے نام نہیں لئے گئے کیوں بھیجے گئے ؟ اللہ کی شفقت اور رحمت اور عدالت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ رسول بھیجے ۔ تاکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے مومنین اور اطاعت کندگان کو خوشخبری دیدیں کہ اللہ نے ان کیلئے کیا کیا نعمتیں تیار کی ہوئی ہیں ۔ بیشمار نعمتیں اور اللہ کی رضا مندی ان کے انتظار میں ہے ۔ اور کافروں اور نافرمانوں کو ڈرائیں کہ اللہ کا غضب اور ایک دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ اور یہ سب کچھ کیوں کیا گیا ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ (4 : 165) (تاکہ ان کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے ۔ “ اور یہ رسول لوگوں کو بتا دیں کہ ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر کیا کیا دلائل ہیں ۔ انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ جنس بشر کو متاع عقل سے نوازا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے …

An-Nisaa 4:163Listen in Qur'an →
164

وَرُسُلًۭا قَدْ قَصَصْنَٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًۭا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًۭا

اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں

(آیت) ” نمبر 163 تا 165۔

غرض یہ ایک قافلہ ہے جو شاہراہ تاریخ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ یہ ایک ہی رسالت ہے اور اس کا ایک ہی نصب العین ہے کہ انسان کو قبل از وقت خبردار کردیا جائے اور اچھے لوگوں کو قبل از وقت ہی اچھے انجام کی خوشخبری دیدی جائے ، اس قافلے میں آگے پیچھے مختار ان درگاہ الہی اور انسانوں میں سے چیدہ لوگ آگے پیچھے چلے آرہے ہیں ۔ یہ رہے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ آئی سواری حضرت اسماعیل کی ۔ انکے بعد یہ چلے آرہے ہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بعد متصلا حضرت یعقوب آرہے ہیں ۔ اب کچھ مختلف گروہ نمودار ہوئے حضرت ایوب (علیہ السلام) یونس (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) ‘ سلیمان (علیہ السلام) ‘ داؤد (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اپنی اپنی باری پر اور بعض ایسے لوگ بھی چلے آئے ہیں جن کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ آخر میں حضرت محمد ﷺ خاتم النبین تشریف لا رہے ہیں اور اب اس قافلے کا آخری سرا اختتام کو پہنچا ۔ اس قافلے میں بعض لوگ ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے پیش کیا ۔ اس قافلے میں مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں کے نبی ہیں اور کرہ ارض کے مختلف علاقوں میں یہ قافلہ نظر آتا ہے ۔ اور مختلف ادوار اور مختلف زمانوں میں ، مختلف معاشروں اور مختلف خاندانوں میں یہ رسول کام کرتے رہے ۔ یہ سب ایک ہی مصدر اور منبع سے پیغام لاتے رہے ۔ یہ سب راہ دکھانے والی ایک ہی روشنی کے حامل رہے ۔ سب کے سب متنبہ اور خبردار کرتے رہے اور خوشخبری دیتے رہے ۔ یہ سب کے سب قافلہ انسانیت کی زمام اپنے ہاتھ میں لیکر اسے نور ہدایت میں داخل کرتے رہے ۔ چاہے کوئی کسی ایک خاندان کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی کسی ایک قوم کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی ایک شہر ار ایک علاقے کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی تمام انسانوں کیلئے آیا ہو اور خاتم النبین کا لقب پایا ہو۔

یہ سب کے سب وحدہ سے وحی پاتے رہے ۔ ان میں سے کسی نے کوئی بات اپنی طرف سے پیش نہیں کی ۔ ان میں سے اگر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست بات کی تو وہ بھی وحی کا ایک رنگ تھا ۔ اس کیفیت سے ہم آگاہ نہیں ہیں نہ اس کا ادراک کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم آخری وحی کا ریکارڈ ہے اور یہ اس قدر درست ریکارڈ ہے جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے اور قرآن نے اس ہم کلامی کی کوئی تفصیل یاکیفیت بیان نہیں کی ہے ۔ اس کی کیفیت کیا تھی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کن خواص اور کس قوت ادراک سے اسے پا رہے تھے ۔ یہ سب باتیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے بارے میں کوئی بات بیان نہیں کی ہے ۔ اور قرآن کریم کے علاوہ اس موضوع پر جو کوئی بھی اپنے دہن سے بات کرے گا وہ بےسند ‘ فلسفہ یا قصہ کہانی ہوگی ۔

یہ رسول ‘ جن میں سے بعض کے نام ذکر ہوئے اور بعض کے نام نہیں لئے گئے کیوں بھیجے گئے ؟ اللہ کی شفقت اور رحمت اور عدالت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ رسول بھیجے ۔ تاکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے مومنین اور اطاعت کندگان کو خوشخبری دیدیں کہ اللہ نے ان کیلئے کیا کیا نعمتیں تیار کی ہوئی ہیں ۔ بیشمار نعمتیں اور اللہ کی رضا مندی ان کے انتظار میں ہے ۔ اور کافروں اور نافرمانوں کو ڈرائیں کہ اللہ کا غضب اور ایک دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ اور یہ سب کچھ کیوں کیا گیا ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ (4 : 165) (تاکہ ان کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے ۔ “ اور یہ رسول لوگوں کو بتا دیں کہ ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر کیا کیا دلائل ہیں ۔ انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ جنس بشر کو متاع عقل سے نوازا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے …

An-Nisaa 4:164Listen in Qur'an →
165

رُّسُلًۭا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى ٱللَّهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ ٱلرُّسُلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے

(آیت) ” نمبر 163 تا 165۔

غرض یہ ایک قافلہ ہے جو شاہراہ تاریخ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ یہ ایک ہی رسالت ہے اور اس کا ایک ہی نصب العین ہے کہ انسان کو قبل از وقت خبردار کردیا جائے اور اچھے لوگوں کو قبل از وقت ہی اچھے انجام کی خوشخبری دیدی جائے ، اس قافلے میں آگے پیچھے مختار ان درگاہ الہی اور انسانوں میں سے چیدہ لوگ آگے پیچھے چلے آرہے ہیں ۔ یہ رہے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ آئی سواری حضرت اسماعیل کی ۔ انکے بعد یہ چلے آرہے ہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بعد متصلا حضرت یعقوب آرہے ہیں ۔ اب کچھ مختلف گروہ نمودار ہوئے حضرت ایوب (علیہ السلام) یونس (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) ‘ سلیمان (علیہ السلام) ‘ داؤد (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اپنی اپنی باری پر اور بعض ایسے لوگ بھی چلے آئے ہیں جن کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ آخر میں حضرت محمد ﷺ خاتم النبین تشریف لا رہے ہیں اور اب اس قافلے کا آخری سرا اختتام کو پہنچا ۔ اس قافلے میں بعض لوگ ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے پیش کیا ۔ اس قافلے میں مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں کے نبی ہیں اور کرہ ارض کے مختلف علاقوں میں یہ قافلہ نظر آتا ہے ۔ اور مختلف ادوار اور مختلف زمانوں میں ، مختلف معاشروں اور مختلف خاندانوں میں یہ رسول کام کرتے رہے ۔ یہ سب ایک ہی مصدر اور منبع سے پیغام لاتے رہے ۔ یہ سب راہ دکھانے والی ایک ہی روشنی کے حامل رہے ۔ سب کے سب متنبہ اور خبردار کرتے رہے اور خوشخبری دیتے رہے ۔ یہ سب کے سب قافلہ انسانیت کی زمام اپنے ہاتھ میں لیکر اسے نور ہدایت میں داخل کرتے رہے ۔ چاہے کوئی کسی ایک خاندان کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی کسی ایک قوم کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی ایک شہر ار ایک علاقے کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی تمام انسانوں کیلئے آیا ہو اور خاتم النبین کا لقب پایا ہو۔

یہ سب کے سب وحدہ سے وحی پاتے رہے ۔ ان میں سے کسی نے کوئی بات اپنی طرف سے پیش نہیں کی ۔ ان میں سے اگر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست بات کی تو وہ بھی وحی کا ایک رنگ تھا ۔ اس کیفیت سے ہم آگاہ نہیں ہیں نہ اس کا ادراک کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم آخری وحی کا ریکارڈ ہے اور یہ اس قدر درست ریکارڈ ہے جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے اور قرآن نے اس ہم کلامی کی کوئی تفصیل یاکیفیت بیان نہیں کی ہے ۔ اس کی کیفیت کیا تھی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کن خواص اور کس قوت ادراک سے اسے پا رہے تھے ۔ یہ سب باتیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے بارے میں کوئی بات بیان نہیں کی ہے ۔ اور قرآن کریم کے علاوہ اس موضوع پر جو کوئی بھی اپنے دہن سے بات کرے گا وہ بےسند ‘ فلسفہ یا قصہ کہانی ہوگی ۔

یہ رسول ‘ جن میں سے بعض کے نام ذکر ہوئے اور بعض کے نام نہیں لئے گئے کیوں بھیجے گئے ؟ اللہ کی شفقت اور رحمت اور عدالت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ رسول بھیجے ۔ تاکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے مومنین اور اطاعت کندگان کو خوشخبری دیدیں کہ اللہ نے ان کیلئے کیا کیا نعمتیں تیار کی ہوئی ہیں ۔ بیشمار نعمتیں اور اللہ کی رضا مندی ان کے انتظار میں ہے ۔ اور کافروں اور نافرمانوں کو ڈرائیں کہ اللہ کا غضب اور ایک دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ اور یہ سب کچھ کیوں کیا گیا ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ (4 : 165) (تاکہ ان کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے ۔ “ اور یہ رسول لوگوں کو بتا دیں کہ ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر کیا کیا دلائل ہیں ۔ انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ جنس بشر کو متاع عقل سے نوازا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے …

An-Nisaa 4:165Listen in Qur'an →
166

لَّٰكِنِ ٱللَّهُ يَشْهَدُ بِمَآ أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُۥ بِعِلْمِهِۦ ۖ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اس کی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے

(آیت) ” نمبر 166۔

اہل کتاب اس آخری رسالت کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ یہ رسالت اللہ کی سنت کے عین مطابق ہے کہ اللہ تعالیٰ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسولوں کو بھیجتے رہتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ہدایت دیں اور تاکہ لوگوں کے پاس قیامت کے دن کوئی حجت نہ رہے اور یہ کہ اہل کتاب حضرت محمد ﷺ سے قبل کے تمام رسل کو مانتے ہیں اور یہودی بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ سے پہلے کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اگر باوجود ان حقائق کے یہ لوگ مان کر نہیں دیتے تو نہ سہی (مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ اے نبی جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور اس پر ملائکہ بھی گواہ ہیں اگرچہ اللہ کا گواہ ہونا بالکل کفایت کرتا ہے ۔ )

اس آیت میں قرآن کی سچائی پر اللہ کی گواہی ہے ‘ اللہ کے بعد فرشتوں کی گواہی ہے اور ان فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس قرآن کو رسول ﷺ کریم پر اتارا ۔ ان دو گواہیوں سے وہ دعوی ساقط ہوجاتا ہے جو اہل کتاب کرتے ہیں ۔ اگر اللہ گواہی دیتا ہے تو ان لوگوں کے انکار کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔ اگر فرشتے گواہ ہیں تو انکا انکار چہ معنی دارد ۔ جبکہ اللہ کی شہادت ہی کفایت کرتی ہے ۔ اس شہادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دیدی کیونکہ یہودی انکار حق کے ساتھ ساتھ رات دن سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں بھی مصروف تھے ۔

نیز اس شہادت کی وجہ سے اہل اسلام کو اطمینان دلانا بھی مطلوب ہے تاکہ وہ اپنے موقف پر اچھی طرح جم جائیں یہ یقین دہانی انہیں اس دور میں کی گئی جب وہ مدینہ میں نووارد تھے ۔ اس دور میں مدینہ کے یہودیوں نے اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کا ایک طوفان برپا کر رکھا تھا اور وہ مختلف طریقوں ‘ مختلف اسالیب سے اسلام کو ختم کرنے کے درپے تھے اور قرآن کریم نے بھی اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں اس کا بھرپور جواب دیا ۔

یہاں آکر اب منکرین حق کو ایک تہدید آمیز دھمکی دی جاتی ہے ۔ اور اللہ اور فرشتوں کی شہادت کے بعد اب دھمکی ہی ان کے خلاف مناسب انداز ہے اس لئے کہ اس شہادت کے باوجود لوگ ہٹ دھرمی اور روگردانی میں مبتلا تھے ۔

An-Nisaa 4:166Listen in Qur'an →
167

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ قَدْ ضَلُّوا۟ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑے

(آیت) ” نمبر 167 تا 169۔

یہ اوصاف اور یہ فیصلے ‘ باوجود اس کے کہ یہ عام ہیں ان کا اطلاق سب سے پہلے یہودیوں پر ہوتا ہے اور دین اسلام اور اس کے پیروکار ان کے ساتھ یہ موقف ان کا رہا ہے ۔ بلکہ یہودیوں نے ہر سچے دین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ یہ یہودی وہ ہوں جو آغاز اسلام کے وقت مدینہ میں موجود تھے یا وہ ہوں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے یا ان کے بعد آج تک وہ کبھی موجود رہے ہوں یا وہ جو آج ہمارے دور میں موجود ہیں ‘ ان میں سے شاذونادر ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل اسلام کیلئے کھول دیئین تھے اور ہدایت سے سرفراز ہوئے ۔

یہ یہودی ہوں یا وہ لوگ ہوں ‘ جن پر بھی صفت کفر اور دین اسلام کی راہ روکنے کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے وہ یقینا گمراہ ہوگئے ہیں اور راہ حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ‘ انہوں نے اس راہ کو بھلا دیا جس کی طرف اللہ نے ان کی راہنمائی کی تھی اور انہوں نے وہ رستہ ترک کردیا جو زندگی کا راہ مستقیم تھا ۔ وہ فکری ‘ تصوراتی اور اعتقادی لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ اپنے طرز عمل ‘ اپنے معاشرے اور اپنے اطوار کے لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ دنیا میں بھی گمراہ ہوگئے اور آخرت میں بھی گمراہ ہوگئے ۔ وہ اس قدر دور چلے گئے کہ انکی واپسی کی کوئی امید نہیں رہی ہے ۔ (آیت) ” ضلوا ضللا بعیدا “۔ (4 : 167) (وہ راہ حق سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں)

(آیت) ” ان الذین کفروا وظلموا “۔ (4 : 168) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کرنے لگے ۔ “ کفر بذات خود ظلم ہے ۔ یہ حق کے ساتھ ظلم ہے ۔ یہ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور تمام لوگوں کے ساتھ ظلم ہے ۔ قرآن کریم بعض اوقات کفر پر ظلم کا اطلاق بھی کرتا ہے ۔ مثلا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم) ” بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔ “ اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “ ۔ (جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم ہیں ۔ “ اس آیت سے پہلی آیت میں ایسے لوگوں کے بارے میں کہہ دیا گیا تھا کہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔ (اس کے بارے میں تفصیلی بحث اس پارے کی سورة مائدہ میں ہوگی) ان لوگوں نے صرف شرک کے ظلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے اللہ کی راہ روکنے کا ارتکاب بھی کیا ۔ اس طرح گویا یہ لوگ کفر میں بہت ہی دور نکل گئے یا ظلم میں حدوں سے نکل گئے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کیلئے اخروی سزا بھی مقرر فرما دیتے ہیں ۔

(آیت) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ قد ضلوا ضللا بعیدا (167) ان الذین کفروا وظلموا لم یکن اللہ لیغفرلھم ولا لیھدیھم طریقا (168) الا طریق جھنم خلدین فیھا ابداء وکان ذلک علی اللہ یسیرا (169)

جو لوگ ان کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں نے کفر وبغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ انکو ہر گز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ ۔ بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “

اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بخش دے ‘ جبکہ وہ بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اوپر خود رحمت ومغفرت کے دروازے بند کرلیے ہیں ۔ اب اللہ کی شان کے یہ لائق نہیں ہے کہ جہنم کی راہ کے سوا انہیں کسی اور راستے کی طرف راہنمائی کرے ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنے لئے ہدایت کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور انہوں نے ان تمام راستوں میں رکاوٹیں خود قائم کرلی ہیں اور صرف اپنے لئے جہنم کی راہ کھلی رکھی ہے ۔ اور جہنم کی راہپر بھی وہ بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راہ کے اب وہ دائمی مسافر بن گئے ہیں ۔ یہ لوگ اسی پر چلتے رہیں گے اس لیے کہ انہوں نے کفر ‘ ظلم اور اللہ کی راہ کو روکنے کو اپنا …

An-Nisaa 4:167Listen in Qur'an →
168

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَظَلَمُوا۟ لَمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں رستہ ہی دکھائے گا

(آیت) ” نمبر 167 تا 169۔

یہ اوصاف اور یہ فیصلے ‘ باوجود اس کے کہ یہ عام ہیں ان کا اطلاق سب سے پہلے یہودیوں پر ہوتا ہے اور دین اسلام اور اس کے پیروکار ان کے ساتھ یہ موقف ان کا رہا ہے ۔ بلکہ یہودیوں نے ہر سچے دین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ یہ یہودی وہ ہوں جو آغاز اسلام کے وقت مدینہ میں موجود تھے یا وہ ہوں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے یا ان کے بعد آج تک وہ کبھی موجود رہے ہوں یا وہ جو آج ہمارے دور میں موجود ہیں ‘ ان میں سے شاذونادر ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل اسلام کیلئے کھول دیئین تھے اور ہدایت سے سرفراز ہوئے ۔

یہ یہودی ہوں یا وہ لوگ ہوں ‘ جن پر بھی صفت کفر اور دین اسلام کی راہ روکنے کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے وہ یقینا گمراہ ہوگئے ہیں اور راہ حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ‘ انہوں نے اس راہ کو بھلا دیا جس کی طرف اللہ نے ان کی راہنمائی کی تھی اور انہوں نے وہ رستہ ترک کردیا جو زندگی کا راہ مستقیم تھا ۔ وہ فکری ‘ تصوراتی اور اعتقادی لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ اپنے طرز عمل ‘ اپنے معاشرے اور اپنے اطوار کے لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ دنیا میں بھی گمراہ ہوگئے اور آخرت میں بھی گمراہ ہوگئے ۔ وہ اس قدر دور چلے گئے کہ انکی واپسی کی کوئی امید نہیں رہی ہے ۔ (آیت) ” ضلوا ضللا بعیدا “۔ (4 : 167) (وہ راہ حق سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں)

(آیت) ” ان الذین کفروا وظلموا “۔ (4 : 168) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کرنے لگے ۔ “ کفر بذات خود ظلم ہے ۔ یہ حق کے ساتھ ظلم ہے ۔ یہ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور تمام لوگوں کے ساتھ ظلم ہے ۔ قرآن کریم بعض اوقات کفر پر ظلم کا اطلاق بھی کرتا ہے ۔ مثلا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم) ” بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔ “ اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “ ۔ (جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم ہیں ۔ “ اس آیت سے پہلی آیت میں ایسے لوگوں کے بارے میں کہہ دیا گیا تھا کہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔ (اس کے بارے میں تفصیلی بحث اس پارے کی سورة مائدہ میں ہوگی) ان لوگوں نے صرف شرک کے ظلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے اللہ کی راہ روکنے کا ارتکاب بھی کیا ۔ اس طرح گویا یہ لوگ کفر میں بہت ہی دور نکل گئے یا ظلم میں حدوں سے نکل گئے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کیلئے اخروی سزا بھی مقرر فرما دیتے ہیں ۔

(آیت) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ قد ضلوا ضللا بعیدا (167) ان الذین کفروا وظلموا لم یکن اللہ لیغفرلھم ولا لیھدیھم طریقا (168) الا طریق جھنم خلدین فیھا ابداء وکان ذلک علی اللہ یسیرا (169)

جو لوگ ان کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں نے کفر وبغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ انکو ہر گز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ ۔ بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “

اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بخش دے ‘ جبکہ وہ بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اوپر خود رحمت ومغفرت کے دروازے بند کرلیے ہیں ۔ اب اللہ کی شان کے یہ لائق نہیں ہے کہ جہنم کی راہ کے سوا انہیں کسی اور راستے کی طرف راہنمائی کرے ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنے لئے ہدایت کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور انہوں نے ان تمام راستوں میں رکاوٹیں خود قائم کرلی ہیں اور صرف اپنے لئے جہنم کی راہ کھلی رکھی ہے ۔ اور جہنم کی راہپر بھی وہ بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راہ کے اب وہ دائمی مسافر بن گئے ہیں ۔ یہ لوگ اسی پر چلتے رہیں گے اس لیے کہ انہوں نے کفر ‘ ظلم اور اللہ کی راہ کو روکنے کو اپنا …

An-Nisaa 4:168Listen in Qur'an →
169

إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًۭا

ہاں دوزخ کا رستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

(آیت) ” نمبر 167 تا 169۔

یہ اوصاف اور یہ فیصلے ‘ باوجود اس کے کہ یہ عام ہیں ان کا اطلاق سب سے پہلے یہودیوں پر ہوتا ہے اور دین اسلام اور اس کے پیروکار ان کے ساتھ یہ موقف ان کا رہا ہے ۔ بلکہ یہودیوں نے ہر سچے دین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ یہ یہودی وہ ہوں جو آغاز اسلام کے وقت مدینہ میں موجود تھے یا وہ ہوں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے یا ان کے بعد آج تک وہ کبھی موجود رہے ہوں یا وہ جو آج ہمارے دور میں موجود ہیں ‘ ان میں سے شاذونادر ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل اسلام کیلئے کھول دیئین تھے اور ہدایت سے سرفراز ہوئے ۔

یہ یہودی ہوں یا وہ لوگ ہوں ‘ جن پر بھی صفت کفر اور دین اسلام کی راہ روکنے کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے وہ یقینا گمراہ ہوگئے ہیں اور راہ حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ‘ انہوں نے اس راہ کو بھلا دیا جس کی طرف اللہ نے ان کی راہنمائی کی تھی اور انہوں نے وہ رستہ ترک کردیا جو زندگی کا راہ مستقیم تھا ۔ وہ فکری ‘ تصوراتی اور اعتقادی لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ اپنے طرز عمل ‘ اپنے معاشرے اور اپنے اطوار کے لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ دنیا میں بھی گمراہ ہوگئے اور آخرت میں بھی گمراہ ہوگئے ۔ وہ اس قدر دور چلے گئے کہ انکی واپسی کی کوئی امید نہیں رہی ہے ۔ (آیت) ” ضلوا ضللا بعیدا “۔ (4 : 167) (وہ راہ حق سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں)

(آیت) ” ان الذین کفروا وظلموا “۔ (4 : 168) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کرنے لگے ۔ “ کفر بذات خود ظلم ہے ۔ یہ حق کے ساتھ ظلم ہے ۔ یہ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور تمام لوگوں کے ساتھ ظلم ہے ۔ قرآن کریم بعض اوقات کفر پر ظلم کا اطلاق بھی کرتا ہے ۔ مثلا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم) ” بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔ “ اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “ ۔ (جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم ہیں ۔ “ اس آیت سے پہلی آیت میں ایسے لوگوں کے بارے میں کہہ دیا گیا تھا کہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔ (اس کے بارے میں تفصیلی بحث اس پارے کی سورة مائدہ میں ہوگی) ان لوگوں نے صرف شرک کے ظلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے اللہ کی راہ روکنے کا ارتکاب بھی کیا ۔ اس طرح گویا یہ لوگ کفر میں بہت ہی دور نکل گئے یا ظلم میں حدوں سے نکل گئے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کیلئے اخروی سزا بھی مقرر فرما دیتے ہیں ۔

(آیت) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ قد ضلوا ضللا بعیدا (167) ان الذین کفروا وظلموا لم یکن اللہ لیغفرلھم ولا لیھدیھم طریقا (168) الا طریق جھنم خلدین فیھا ابداء وکان ذلک علی اللہ یسیرا (169)

جو لوگ ان کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں نے کفر وبغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ انکو ہر گز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ ۔ بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “

اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بخش دے ‘ جبکہ وہ بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اوپر خود رحمت ومغفرت کے دروازے بند کرلیے ہیں ۔ اب اللہ کی شان کے یہ لائق نہیں ہے کہ جہنم کی راہ کے سوا انہیں کسی اور راستے کی طرف راہنمائی کرے ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنے لئے ہدایت کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور انہوں نے ان تمام راستوں میں رکاوٹیں خود قائم کرلی ہیں اور صرف اپنے لئے جہنم کی راہ کھلی رکھی ہے ۔ اور جہنم کی راہپر بھی وہ بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راہ کے اب وہ دائمی مسافر بن گئے ہیں ۔ یہ لوگ اسی پر چلتے رہیں گے اس لیے کہ انہوں نے کفر ‘ ظلم اور اللہ کی راہ کو روکنے کو اپنا …

An-Nisaa 4:169Listen in Qur'an →
170

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ ٱلرَّسُولُ بِٱلْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَـَٔامِنُوا۟ خَيْرًۭا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(آیت) ” نمبر 170۔

اس دعوت عامہ سے پہلے ‘ اہل کتاب کی تمام افترا بازیوں کا رد کیا گیا تھا اور یہودیوں کی فطرت اور ان کے منکرات اور ان کی تاریخی بداعمالیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ یہ لوگ ہمیشہ ہٹ دھرم رہے ہیں ۔ انہوں نے یہی سلوک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی کیا حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے قائد عظیم نبی اور ان کے نجات دہندہ تھے ۔ نیز اس دعوت عامہ سے قبل اللہ تعالیٰ نے رسالت کی حقیقت بھی بیان کردی تھی اور یہ بھی بتادیا تھا کہ رسالت کے مقاصد کیا ہوتے ہیں ۔ ان مقاصد کیلئے رسولوں کا بھیجنا ضروری تھا اور یہ بھی ضروری تھا کہ سب سے آخر میں حضرت محمد ﷺ کو بھیجا جائے اس لئے کہ یہ آخری نبی تمام جہانوں کیلئے ہے ۔ آپ کی دعوت “ کافۃ للناس ‘ ہے جبکہ آپ سے قبل جتنے رسول آئے تھے وہ اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے تھے ۔ لیکن جب سلسلہ رسالت کا خاتمہ طے ہوا تو ضروری تھا کہ خاتم النبین تمام دنیاکیلئے پیغام لانے والے ہوں ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے۔ “ اگر حضرت محمد ﷺ کی رسالت عام نہ ہوتی اور اس کا اطلاق پوری دنیا کے لوگوں پر نہ ہوتا تو آپ کے بعد جو لوگ اور جو اقوام آتیں ‘ قیامت تک کیلئے ان پر حجت تمام نہ ہوتی بلکہ ان کے ہاتھ اللہ کے خلاف یہ حجت آجاتی کہ ان تک تو کوئی رسول سرے سے بھیجا ہی نہیں گیا ۔ اس لئے حضور اکرم ﷺ کی رسالت کو تمام لوگوں اور تمام زمانوں کیلئے عام کر کے اور آخری رسالت قرار دے کر اس حجت کو تمام کردیا گیا ۔ چناچہ یہ بات کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا یا یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اللہ تعالیٰ کی صفت عدل و انصاف کے خلاف ہوگا ۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول بھیجنے کے بغیر ہی لوگوں کو جزا وسزا دین ۔ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے قبل کسی نبی اور رسول کی رسالت رسالت عامہ نہ تھی اس لئے رسالت عامہ کی ضرورت تھی ۔ یہ رسالت عامہ اللہ کی صفت عدل اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کا تقاضا تھی اور اللہ کی یہ بات سچ تھی کہ ہم نے آپکو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے ۔ آپ اس دنیا میں بھی رحمت تھے اور آخرت میں بھی رحمت ہوں گے ۔ جیسا کہ اس آیت کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے ۔

درس نمبر 44 ایک نظر میں :

اس سبق میں اہل کتاب میں سے نصاری کے ساتھ ایک راؤنڈ ہے جیسا کہ اس سے پہلے سبق میں یہودیوں کو لیا گیا تھا بہرحالت روئے سخن دونوں فرقوں کی طرف ہے جو مسیح اور مریم کے بارے میں افراط وتفریط میں مبتلا تھے ۔

اس سے پہلے سبق میں قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی جانب سے یہودیوں کی خرافات کا جواب دیا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب پر چڑھانے کے بارے میں صحیح صورت حال بیان کی تھی ۔ یہودیوں ‘ انکے اقوال و عقائد اور ان کی ہٹ دھرمی کے مقابلے میں سچائی کی مدافعت کی گئی تھی۔

اس سبق میں بھی موضوع سخن سچائی ہے اور روئے سخن خود نصاری کی طرف ہے کہ وہ خود بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور یہ کہ بعض اقوام کے اندر نصرانیت کے سادہ عقائد کے ساتھ ساتھ بت پرستی بھی انکے نظریات کا جزوبن گئی تھی ۔ جس وقت ان اقوام نے عیسائیت کو قبول کیا اور مضبوط تعلقات قائم ہوگئے تو خصوصا یونانی دیومالائی تصورات اور رومی قصے اور کہانیاں اور قدیم مصریوں کی توہم پرستی اور ہندوؤں کی بت پرستی وغیرہ انکے عقائد میں داخل ہوگئے ۔

قرآن کریم جس وقت نازل ہوا ‘ اس وقت اہل کتاب کے عقائد میں بےحد تحریفات ہوگئی تھیں ۔ انکے عقائد کے اندر جو دیومالائی قصے داخل ہوگئے تھے قرآن کریم نے ان کا بطلان کیا اور انکے تمام منحرف عقائد کی نشاند ہی کی ۔ اسی طرح دین …

An-Nisaa 4:170Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.