Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 151–160 of 176

151

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ حَقًّۭا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

وہ بلا اشتباہ کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

Explained together with ayah 149

An-Nisaa 4:151Listen in Qur'an →
152

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَمْ يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّنْهُمْ أُو۟لَٰٓئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

Explained together with ayah 149

An-Nisaa 4:152Listen in Qur'an →
153

يَسْـَٔلُكَ أَهْلُ ٱلْكِتَٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَٰبًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا۟ مُوسَىٰٓ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوٓا۟ أَرِنَا ٱللَّهَ جَهْرَةًۭ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَءَاتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًۭا

(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا

Explained together with ayah 149

An-Nisaa 4:153Listen in Qur'an →
154

وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ ٱلطُّورَ بِمِيثَٰقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا۟ فِى ٱلسَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا

87: ان واقعات کی تفصیل سورۃ بقرہ کی آیات 51 تا 66 اور ان کے حواشی میں گذر چکی ہے۔

An-Nisaa 4:154Listen in Qur'an →
155

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں

88: ان کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے دل بالکل محفوظ ہیں کہ ان میں اپنے مذہب کے سوا کسی اور مذہب کی بات داخل نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا کہ دل محفوظ نہیں ہیں، بلکہ ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے کوئی صحیح بات ان کے دلوں میں نہیں اترتی۔

89: تھوڑی باتوں مراد یہ ہے کہ مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر تو ایمان لاتے ہیں، لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لاتے۔

An-Nisaa 4:155Listen in Qur'an →
156

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَٰنًا عَظِيمًۭا

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب

90: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اس لیے یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اس معجزے کو تسلیم کرنے کے بجائے حضرت مریم علیہا السلام جیسی پاک نفس اور عفت مآب خاتون پر گھناؤنا الزام لگایا تھا۔

An-Nisaa 4:156Listen in Qur'an →
157

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا ٱلْمَسِيحَ عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًۢا

اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا

91: یعنی قرآنِ کریم نے یہ حقیقت بڑے پرزور الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ کوئی قتل کرسکا، اور نہ انہیں سولی دے سکا، بکہ ان کو استثناء ہوگیا، یعنی انہوں نے کسی اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اسے سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اوپر اٹھا لیا۔ قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو واضح کرنے پر اکتفا فرمایا ہے اور اس واقعے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ کے مقدس ساتھیوں میں سے ایک نے یہ قربانی دی کہ خود باہر نکلے، اور اﷲ تعالیٰ نے ان کی صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنا دی۔ دُشمنوں نے ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا، اور اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اوپر اٹھا لیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جاسوسی کر کے انہیں گرفتار کرنے کے لئے اندر داخل ہوا تھا، اﷲ تعالیٰ نے اسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں تبدیل کردیا، اور جب وہ باہر نکلا تو اسی کو گرفتار کر کے سولی دی گئی، واللہ سبحانہ اعلم۔

92: یعنی بظاہر تو وہ یقینی طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دی گئی تھی، لیکن چونکہ ان کے پاس اس کی کوئی یقینی دلیل نہیں ہے، اس لئے ایسا ہے جیسے وہ درحقیقت شک میں ہیں۔

An-Nisaa 4:157Listen in Qur'an →
158

بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے

Explained together with ayah 157

An-Nisaa 4:158Listen in Qur'an →
159

وَإِن مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِۦ قَبْلَ مَوْتِهِۦ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًۭا

اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے

93: یہودی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر ہی نہیں مانتے، اور عیسائی خدا کا بیٹا ماننے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو سولی پر چڑھا کر قتل کردیا گیا تھا۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ سارے اہل کتاب، چاہے یہودی ہوں، یا عیسائی، اپنے مرنے سے ذرا پہلے جب عالمِ برزخ کے مناظر دیکھیں گے تو اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے تمام غلط خیالات خود بخود ختم ہوجائیں گے، اور وہ ان کی اصل حقیقت پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ اس آیت کی ایک تفسیر ہے جسے بہت سے مستند مفسرین نے ترجیح دی ہے، اور حضرت حکیم الام مولانا تھانویؒ نے ’’بیان القرآن‘‘ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ البتہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے اس آیت کی جو تفسیر منقول ہے، اس کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا : ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ضرور بالضرور ایمان نہ لائے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تو آسمان پر اٹھا لیا ہے، لیکن، جیسا کہ صحیح احادیث میں مروی ہے، آخر زمانے میں وہ دوبارہ اس دُنیا میں آئیں گے، اور اس وقت تمام اہلِ کتاب پر ان کی اصل حقیت واضح ہوجائے گی، اور وہ سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

An-Nisaa 4:159Listen in Qur'an →
160

فَبِظُلْمٍۢ مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَٰتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ كَثِيرًۭا

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے

94: اس کی تفصیل ان شاء اللہ سورۃ انعام (146:6) میں آئے گی۔

An-Nisaa 4:160Listen in Qur'an →

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.