Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 151–160 of 176

151

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ حَقًّۭا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

وہ بلا اشتباہ کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

یہودیوں کا دعوی یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی رسالتوں کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ نصاری کا موقف یہ تھا کہ وہ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لاتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے وہ بھی منکر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ بھی سمجھتے تھے ۔

قرآن کریم نے ان دونوں کے موقف پر سخت گرفت کی ۔ اور اللہ اور اس کے انبیاء ورسل پر ایمان لانے کا جامع تصور پیش فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا بھی غلط ہے اور خود اللہ کے تمام رسولوں کے درمیان فرق کرکے بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنا بھی غلط ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے تمام رسولوں پر بلا امتیاز ایمان لانا ضروری ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے اللہ کو اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہے کیونکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے تقاضوں کو صرف اسی صورت میں پورا کیا جاسکتا ہے ۔

اللہ کی وحدانیت مطلقہ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کا دین بھی ایک ہو ‘ جس کے حامل وہ تمام رسول قرار دیئے جائیں جو انسان کی ہدایت کیلئے کسی بھی وقت بھیجے گئے ہوں اور جن جن رسولوں کو یہ امانت سپرد کی گئی ان کا درجہ اور مقام بھی ایک ہونا ضروری ہے ۔ رسولوں کے ایک ہی منصب اور ایک ہی مقام کا جو بھی انکار کرے گا وہ اللہ کی توحید کا انکار تصور ہوگا ۔ اس سے اللہ کی وحدانیت کا ایک بڑا تصور سامنے آئے گا اس لئے کہ انسانوں کیلئے اللہ کا پسندیدہ دین بہرحال وہی ایک ہے ‘ اس کی بنیاد ایک ہے ‘ اور اس کا مصدر ومنبع ایک ہے ‘ لہذا اس کے نمائندوں کے درمیان تفریق کس طرح معقول ہو سکتی ہے ۔

قرآن کریم نے اللہ اور رسولوں کے درمیان تفریق کرنے کو ان الفاظ میں بیان کیا ۔ ” کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں کا انکار کرتے ہیں ۔ “ اور رسولوں کے درمیان تفریق کو یوں بیان کیا ۔ ” ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے ۔ “ اور ان دونوں فریقوں کے بارے میں کہا۔ (آیت) ” ان الذین یکفرون باللہ ورسولہ “۔ (4 : 150) (جو لوگ اللہ اور رسولوں سے کفر کرتے ہیں) اس طرح قرآن کے نزدیک اللہ اور رسولوں میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا بھی کفر ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک مستقل اکائی ہے اور اسکے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے جاسکتے ایمان کا پہلا قدم اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے ۔ اللہ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرنے کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کیلئے جو نظام زندگی اور جو دین پسند فرمایا ہے وہ بھی ایک ہے جو عقیدہ توحید کی اساس پر ہے ۔ جو رسول اس دین کو لیکر آتے رہے ہیں وہ بھی ایک ہیں اس لئے کہ یہ سب اسی کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ خود سے نہیں آئے نہ وہ اللہ کے ارادے اور اس کی وحی سے علیحدہ رہے ہیں ۔ ان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اس لئے ایک پوری اکائی کی تحلیل اور تجزیہ نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی ایمان کی اس وحدت اور اکائی میں فرق کرے گا وہ کفر مطلق کا ارتکاب کرے گا اگرچہ وہ یہ خیال کرتا ہو کہ بعض اجزاء پر ایمان لایا ہے اور بعض سے کفر کیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی جزاء اللہ کے نزدیک یہ ہوگی کہ انہیں تو ہیں آمیز عذاب دیا جائے گا ایسے سب لوگوں کو ۔

(آیت) ” اولئک ھم الکفرون حقا ، واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 151) (وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کیلئے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کردینے والی ہوگی ۔ ) کسی قسم کا تفرقہ جائز نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے ہاں تمام رسولوں کی عقیدت اور احترام پایا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے نزدیک تمام سماوی ادیان برحق ہیں ‘ ہاں اگر انکے اندر تحریف کردی جائے تو پھر وہ دین نہ رہیں گے اگرچہ ان ادیان کے بعض حصے اپنی اصل شکل میں موجود ہوں ‘ اس لئے کہ دین ایک ہی وحدت ہے اور اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ دین میں ایک …

An-Nisaa 4:151Listen in Qur'an →
152

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَمْ يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّنْهُمْ أُو۟لَٰٓئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) ” والذین امنوا باللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منھم اولئک سوف یوتیھم اجورھم وکان اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 152)

(بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں ‘ ان کو ہم ضرور ان کے اجر عطا کریں گے اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ )

اسلام نے اللہ اور رسل کے بارے میں عقائد کو ایک اکائی قرار دینے کے بارے میں اس قدر تشدد کیوں کیا ؟ اسی لئے کہ ایک مومن کے تصور الہ میں عقیدہ توحید ایک اساسی حیثیت کا حامل ہے ۔ اور یہ عقیدہ اس کائنات کے اندر ایک مدیر ومنتظم کے تصور کے ساتھ بھی لگا کھاتا ہے جو نہ تعدد کو قبول کرتا ہے اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا منتظم ہو سکتا ہے ۔ یہی عقیدہ کوئی ذی شعور انسان اختیار کرسکتا ہے جو اس کائنات کے اندر جاری وساری ناموس اکبر کو محسوس کرتا ہے اور جب تک اس کی نظر کو رسائی حاصل ہے ۔ یہی تصور حیات اہل ایمان کو ایک متحد قافلے کی شکل دے سکتا ہے جو کفر کی صفوں اور حزب الشیطان کی پارٹی کے مقابلے میں ‘ ایک جماعت کی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ اہل ایمان ان نظریات کے حامل لوگوں کی طرح متفرق اور بکھرے ہوئے نہیں ہوتے ‘ جن کا دین اور نظریہ اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو سماوی تھا مگر انہوں نے اس میں تحریف کرلی اور اب وہ صحیح اہل ایمان کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے نہیں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اسلام کو دین قرار دیتا ہے ۔ صرف اہل اسلام کو خیر امت قرار دیتا ہے جسے لوگوں کی خاطر برپا کیا گیا ہے ۔ وہ مسلمان جن کا عقیدہ درست ہو ‘ جن کا عمل اور کردار اس عقیدے اور نظرئیے کے مطابق ہو ‘ یہ نہ ہو کہ بس وہ ایک مسلمان کے گھر پیدا ہوئے ہوں اور نہ صرف یہ ہو کہ انہوں نے اسلام کے کلمے کو یاد کرلیا ہو اور زبان سے ادا کردیا ہو ۔

اس تشریح وبیان کے بعد معلوم ہوگیا کہ وہ کون ہیں جو ایک طرف اللہ اور رسولوں میں جدائی کرتے ہیں اور دوسری جانب رسولوں میں سے بعض کو مانتے ہیں اور بعض دوسروں کا انکار کرتے ہیں ۔ وہ تاریخی قافلہ ایمانی کے سلسلے کے اندر گیپ پیدا کرتے ہیں ‘ اس وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں جو اللہ نے پیدا کی ہے اور یوں وہ اس وحدانیت کا انکار کردیتے ہیں جس پر عقیدہ ایمان باللہ قائم ہے ۔

رسولوں اور انکی رسالت کے بارے میں اسلامی تصور حیات کی خشت اول کو مضبوط کرنے کے بعد اور حقیقت ایمان اور حقیقت کفر کو واضح کردینے کے بعد اس سلسلے میں یہودیوں کے بعض غلط مواقف زیر بحث لائے جاتے ہیں ‘ جن کا تعلق اس بدگوئی سے بھی ہے جس کا ذکر اس پارے کے آغاز میں کیا گیا ہے ۔ اس میں نبی ﷺ اور آپ کی رسالت کے بارے میں ان کے موقف کی تردید کی جاتی ہے اور اس بات کی مذمت کی جاتی ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ سے معجزات اور نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ وہ اپنے اس موقف اور عقیدے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے موقف اور عقیدے کے درمیان فرق کرتے ہیں ۔ پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ محترمہ کے بارے میں ان کا موقف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مختلف ہے ۔ حالانکہ ان تمام پیغمبروں کی حقیقت پوری انسانی تاریخ میں ایک ہی ہے ۔ یہاں سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید جو یہودی اور اہل کتاب حضرت محمد ﷺ کے سامنے کھڑے ہیں وہی لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے بھی کھڑے تھے اور یہی لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے بھی کھڑے تھے ۔ اس سے اس مفہوم کی تاکید مطلوب ہے کہ جس طرح رسل ایک ہیں اسی طرح ہم بھی ایک ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم ان کی اس جبلت کو ان الفاظ میں ظاہر کرتا ہے ۔

An-Nisaa 4:152Listen in Qur'an →
153

يَسْـَٔلُكَ أَهْلُ ٱلْكِتَٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَٰبًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا۟ مُوسَىٰٓ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوٓا۟ أَرِنَا ٱللَّهَ جَهْرَةًۭ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَءَاتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًۭا

(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا

جزیرۃ العرب میں یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے مقابلے میں کھلا معاندانہ دشمنی کا موقف اختیار کیا ۔ وہ آپ کے خلاف مسلسل خفیہ اور نہایت ہی معاندانہ سازشیں تیار کرتے رہے جن کی تفصیلات کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے ۔ اور جن کے کچھ رنگ ہم سورة بقرہ ‘ سورة آل عمران اور خود اسی سورة کے پارہ پنجم میں دکھا چکے ہیں ۔ ان آیات میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ بھی ان کے اس مسلسل موقف کا ایک رنگ ہے ۔

ان کی پہلی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آسمانوں سے ایک کتاب نازل فرما دیں ‘ یہ لکھی ہوئی ہو ‘ وہ مجسم طور پر آسمانوں سے انکے سامنے آرہی ہو اور وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھولیں ۔

(آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) اس سوال کا جواب ‘ حضرت نبی اکرم ﷺ کی جانب سے خود اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں اور حضور ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے ‘ یہودیوں کی تردید کرتے ہوئے خود یہودیوں کی اپنی تاریخ سے ‘ ان کا اپنے نجات دہندہ اور قائد اور عظیم نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے رویے کی ایک جھلک پیش فرماتے ہیں ۔ حالانکہ ان یہودیوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ان کی تاریخ کا یہ صفحہ الٹ کر بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ عادت کوئی نئی عادت نہیں ہے ۔ موجودہ مدینہ کے یہودی ہی ایسے سوالات نہیں کر رہے بلکہ از منہ قدیمہ سے ان کی ایسی ہی عادت رہی ہے ۔

ان کی جبلت آج بھی وہی ہے جو عہد موسیٰ میں ہوا کرتی تھی حالانکہ وہ انکے قائد بھی تھے ‘ نبی بھی تھے اور ان کے نجات دہندہ بھی تھے ۔ وہ موٹے دماغ کے لوگ ہیں ۔ ان کو صرف محسوس چیزوں کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے ۔ جس طرح یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ہٹ دھرم تھے ‘ عناد کرنیوالے تھے اور ماسوائے اس کے کہ انہیں کسی کی بات کو زبردستی تسلیم کرنے پر مجبور کردیا جائے ‘ یہ مان کر نہیں دیتے ۔ یہ آج بھی ویسے ہی کفر پیشہ اور غدار ہیں اور دوڑکر وعدہ توڑنے والے ہیں ۔ یہ وہی ہیں جھوٹے اور گندے لوگ ۔ وہ کسی موقف پر ثابت قدم رہنے والے نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی یہ لوگ بدگوئی سے چوکتے ہیں ۔ یہ ہر وقت لالچ کے بندے ہیں اور دنیا پرستی انکا شعار ہے ۔ لوگوں کے مال باطل اور ناجائز طریقے سے کھانا ان کا وطیرہ ہے ۔ یہ بھی ان کی قدیم عادت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے حکم سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کے ہاں جو ثواب آخرت میں ملتا ہے اسے خاطر ہی میں نہیں لاتے ۔

ان آیات میں ان کے خلاف یہ مہم اسی لئے چلائی گئی ہے کہ ان کی حقیقت کھول کر سامنے رکھدی جائے ۔ انہیں شرمندہ کردیا جائے ۔ اس مہم کے زور اور اس کے تنوع کو دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت یہودی سازش کو بےنقاب کرنے کی کسی قدر ضرورت تھی جو سازش وہ اسلام اور وقت کے نبی کے خلاف کر رہے تھے ۔ یہودیوں کی یہی حیثیت اور ناپاک سازشیں ہیں جو آج تک اس دین اور اس کے ماننے والوں کے خلاف بدستور جاری ہیں ۔

(آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) آپ ان کی اس ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہوں ‘ اس لئے کہ انکی یہ ہٹ دھرمی تعجب انگیز تعجب انگیز نہیں ہے ‘ نہ یہ کوئی نئی بات ہے ۔

(آیت) ” فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ (4 : 153) ”(تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ سے کرچکے ۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو بیشمار معجزات نازل فرمائے تھے وہ ان کے احساس کو نہ جگا سکے ۔ ان …

An-Nisaa 4:153Listen in Qur'an →
154

وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ ٱلطُّورَ بِمِيثَٰقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا۟ فِى ٱلسَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا

جزیرۃ العرب میں یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے مقابلے میں کھلا معاندانہ دشمنی کا موقف اختیار کیا ۔ وہ آپ کے خلاف مسلسل خفیہ اور نہایت ہی معاندانہ سازشیں تیار کرتے رہے جن کی تفصیلات کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے ۔ اور جن کے کچھ رنگ ہم سورة بقرہ ‘ سورة آل عمران اور خود اسی سورة کے پارہ پنجم میں دکھا چکے ہیں ۔ ان آیات میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ بھی ان کے اس مسلسل موقف کا ایک رنگ ہے ۔

ان کی پہلی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آسمانوں سے ایک کتاب نازل فرما دیں ‘ یہ لکھی ہوئی ہو ‘ وہ مجسم طور پر آسمانوں سے انکے سامنے آرہی ہو اور وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھولیں ۔

(آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) اس سوال کا جواب ‘ حضرت نبی اکرم ﷺ کی جانب سے خود اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں اور حضور ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے ‘ یہودیوں کی تردید کرتے ہوئے خود یہودیوں کی اپنی تاریخ سے ‘ ان کا اپنے نجات دہندہ اور قائد اور عظیم نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے رویے کی ایک جھلک پیش فرماتے ہیں ۔ حالانکہ ان یہودیوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ان کی تاریخ کا یہ صفحہ الٹ کر بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ عادت کوئی نئی عادت نہیں ہے ۔ موجودہ مدینہ کے یہودی ہی ایسے سوالات نہیں کر رہے بلکہ از منہ قدیمہ سے ان کی ایسی ہی عادت رہی ہے ۔

ان کی جبلت آج بھی وہی ہے جو عہد موسیٰ میں ہوا کرتی تھی حالانکہ وہ انکے قائد بھی تھے ‘ نبی بھی تھے اور ان کے نجات دہندہ بھی تھے ۔ وہ موٹے دماغ کے لوگ ہیں ۔ ان کو صرف محسوس چیزوں کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے ۔ جس طرح یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ہٹ دھرم تھے ‘ عناد کرنیوالے تھے اور ماسوائے اس کے کہ انہیں کسی کی بات کو زبردستی تسلیم کرنے پر مجبور کردیا جائے ‘ یہ مان کر نہیں دیتے ۔ یہ آج بھی ویسے ہی کفر پیشہ اور غدار ہیں اور دوڑکر وعدہ توڑنے والے ہیں ۔ یہ وہی ہیں جھوٹے اور گندے لوگ ۔ وہ کسی موقف پر ثابت قدم رہنے والے نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی یہ لوگ بدگوئی سے چوکتے ہیں ۔ یہ ہر وقت لالچ کے بندے ہیں اور دنیا پرستی انکا شعار ہے ۔ لوگوں کے مال باطل اور ناجائز طریقے سے کھانا ان کا وطیرہ ہے ۔ یہ بھی ان کی قدیم عادت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے حکم سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کے ہاں جو ثواب آخرت میں ملتا ہے اسے خاطر ہی میں نہیں لاتے ۔

ان آیات میں ان کے خلاف یہ مہم اسی لئے چلائی گئی ہے کہ ان کی حقیقت کھول کر سامنے رکھدی جائے ۔ انہیں شرمندہ کردیا جائے ۔ اس مہم کے زور اور اس کے تنوع کو دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت یہودی سازش کو بےنقاب کرنے کی کسی قدر ضرورت تھی جو سازش وہ اسلام اور وقت کے نبی کے خلاف کر رہے تھے ۔ یہودیوں کی یہی حیثیت اور ناپاک سازشیں ہیں جو آج تک اس دین اور اس کے ماننے والوں کے خلاف بدستور جاری ہیں ۔

(آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) آپ ان کی اس ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہوں ‘ اس لئے کہ انکی یہ ہٹ دھرمی تعجب انگیز تعجب انگیز نہیں ہے ‘ نہ یہ کوئی نئی بات ہے ۔

(آیت) ” فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ (4 : 153) ”(تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ سے کرچکے ۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو بیشمار معجزات نازل فرمائے تھے وہ ان کے احساس کو نہ جگا سکے ۔ ان …

An-Nisaa 4:154Listen in Qur'an →
155

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں

(آیت) ” فبمانقضھم میثاقھم وکفرھم بایت اللہ وقتلھم الانبیآء بغیر حق وقولھم قلوبنا غلف “۔ (4 : 155) (آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ‘ اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں) ۔۔۔۔۔۔ ان کی اس بات پر کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں ۔ (قلوبنا غلف (4 : 155) ان پر تنقید ختم ہوتی ہے اور اگلی آیت میں ان کی اس بات کا جواب دیا جاتا ہے ۔ وہ یہ بات اس وقت کہتے تھے جب حضور ﷺ ان پر دعوت اسلامی پیش کرتے ۔ یہ لوگ یہ جواب یا تو اس لئے دیتے تھے کہ حضور ﷺ ان سے مایوس ہوجائیں اور آئندہ ان پر دعوت پیش نہ کریں اور یا وہ حضور ﷺ کی جانب سے تبلیغ پر آپ کے ساتھ بطور مزاح یہ بات کرتے تھے اور آپ کی دعوت کو رد کر کے گویا وہ بڑے لوگ بننے کی کوشش کرتے تھے کہ ہم تو ان باتوں پر کان ہی نہیں دھرتے ۔ یہ دونوں باتیں ہی ان کے پیش نظر ہو سکتی ہیں ‘ بہرحال اللہ کا جواب یوں آتا ہے ۔

(آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یومنون الا قلیلا “۔ (4 : 155) (حالانکہ درحقیقت انکی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔۔۔۔۔ ) مطلب یہ ہے کہ ان کے دل ملفوف نہیں ہیں ‘ بلکہ وہ دعوت اسلامی کا انکار اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے ۔ یہ ٹھپہ بھی ان کے دلوں پر اس لئے لگایا گیا ہے کہ انہوں نے کفر کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے اس لئے ان کے دل سخت ہوگئے ہیں ‘ وہ جمادات کی طرح ہوگئے ہیں ‘ اور کفر کے نیچے دب گئے ہیں ۔ انہوں ایمان کی تروتازگی کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا ‘ ان کے اندر ایمان کی مٹھاس کی حس ہی نہیں رہی ہے ۔ اس لئے شاذونادر رہی یہ ایمان قبول کرتے ہیں ۔ یہ شاذ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مذکورہ بالاافعال بد کا ارتکاب نہ کیا تھا ‘ اسی لئے ان کے دلوں پر مہر نہیں لگائی گئی تھی ۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے دلوں کے دروازوں کو قبول حق کیلئے کھلا رکھا اور حق کو قبول کرکے عزت دار بن گئے ۔ انکو اللہ نے ہدایت دی اور ایمان نصیب کیا۔ یہودیوں میں سے ایسے لوگ بہت ہی کم تھے بلکہ کم سے کم ‘ مثلا عبداللہ بن سلام ‘ ثعلبہ ابن معیہ ‘ اسد ابن محیہ اور اسد ابن عبید اللہ ؓ اجمعین ۔

اس تنقید اور استدراک کے بعد ‘ اللہ تعالیٰ ان اسباب کو گنواتے ہیں جن کی وجہ سے یہ یہودی اس سلوک کے مستحق ہوئے جو انکے ساتھ کیا گیا ۔ دنیا میں ان پر بعض نہایت ہی پاک چیزوں کو حرام حرام قرار دے دیا گیا ‘ آخرت میں ان کیلئے آگ کا عذاب تیار کیا گیا تاکہ وہ آخرت اور قیامت آنے سے پہلے ہی اس کا انتظار کریں۔

An-Nisaa 4:155Listen in Qur'an →
156

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَٰنًا عَظِيمًۭا

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب

(آیت) ” وبکفرھم وقولھم علی مریم بھتانا عظیما (156) وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “۔ (157) (4 : 156۔ 157) (پھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا ‘ اور خود کہا کہ ہم نے مسیح ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ‘ رسول اللہ کو قتل کردیا ہے) ۔۔۔۔ جب بھی ان کے برے افعال میں سے کسی بات کا ذکر کیا جاتا ہے قرآن کریم ان کی صفت کفر کو ضرور ساتھ لاتا ہے ۔ قتل انبیاء ذکر کے وقت بھی یہ صفت دہرائی گئی کہ انہوں نے انبیاء کو ناحق قتل کیا ‘ انبیاء کا قتل جب بھی ہوا ناحق ہی ہوا ۔ ناحق کا لفظ بطور حقیقت واقعہ لایا گیا ہے ۔ اسی طرح جہاں اس بات کا ذکر ہوا کہ انہوں نے حضرت مریم (علیہ السلام) پر عظیم بہتان باندھا وہاں بھی اس صفت کا ذکر ہوا ۔ مریم پر انہوں نے جو بہتان باندھا اس کے قائل صرف یہودی تھے ۔ انہوں نے مریم پر یوسف نجار کے ساتھ زنا کرنے کا الزام باندھا (ان پر خدا کا غضب ہو ! ) اس کے بعد انہوں نے یہ ڈینگ ماری کہ انہوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھایا اور طنز ! یہ کہا کہ ” انہوں نے مسیح ابن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے ۔ “

یہاں تک آکر سیاق کلام ایک بار پھر رک جاتا ہے اور ان کے اس دعوے کی لگے ہاتھوں تردید کردی جاتی ہے ۔ اور سچائی کو ثابت اور مستحکم کردیا جاتا ہے ۔

An-Nisaa 4:156Listen in Qur'an →
157

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا ٱلْمَسِيحَ عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًۢا

اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا

(آیت) ” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ، وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا “۔ (157) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عزیزا حکیما (158) (4 : 157۔ 158) (حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پرچڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے) ۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے معاملے میں اہل یہود سخت خبط میں پڑے ہوئے تھے اور خود عیسائیوں کو بھی اس بارے میں سخت غلط فہمی لاحق تھی ۔ یہودی یہ کہتے تھے ” ہم نے عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “ کو قتل کردیا ہے ۔ لفظ رسول اللہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بطور مزاح استعمال کرتے تھے ۔ اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا “ انہیں سولی پر چڑھایا گیا اور دفن کردیا گیا لیکن تین دونوں کے بعد آپ دوبارہ اٹھ گئے ۔ “ اور ان کی تاریخ حضرت مسیح کی ولادت اور وفات سے اس طرح خاموش ہے کہ شاید اس واقعہ کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی ۔ ان دونوں فریقوں نے اس عظیم واقعہ کے بارے میں وثوق کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی تھی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات بہت ہی تیزی سے وقوع پذیر ہوتے رہے اور نظروں سے اوجھل ہوتے رہے ۔ مختلف روایات پھیلتی رہیں اور سچ اور جھوٹ ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہوگئے ۔ کوئی بات یقین کے ساتھ کوئی نہ کہہ سکتا تھا ‘ نہ کسی نے کہی ‘ لہذا صرف وہی بات یقینی ہے جو اللہ رب العالمین نے فرمائی ۔

جن چار مروجہ اناجیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گرفتاری کا قصہ بیان ہوا ہے ‘ آپ کی موت اور سولی پر چڑھانے کا جو قصہ اور پھر دفن کرنے اور پھر اٹھنے کا جو قصہ بیان ہوا ہے ‘ یہ تمام واقعات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے بہت ہی بعد کے ادوار میں لکھے گئے ہیں ۔ اس دور میں حضرت مسیح کے شاگردوں پر مظالم ہوتے رہے اور دین مسیح کو دبایا جاتا رہا ۔ اس خوف ‘ رازداری اور تشدد اور جلاوطنی کی فضا میں یہ بات نہایت ہی مشکل تھی کہ کوئی صحیح اور تحقیقی بات لکھی جاسکے ۔ اس دور میں بیشمار انجیلیں لکھی گئیں ۔ جبکہ 200 ء کے آخر میں جا کر ان میں سے ان مروجہ چار کو منتخب کیا گیا ۔ ان کو سرکاری اناجیل قرار دیا گیا۔ اور ان کو سرکاری اناجیل قرار دینے کے بھی بعض خاص مقاصد تھے اور شک وشبہ سے بالاتر نہ تھے ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو اناجیل تحریر ہوئیں ان میں سے ایک انجیل برناباس بھی تھی ۔ یہ انجیل ان چار منتخب اور تسلیم شدہ اناجیل سے مختلف تھی ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے واقعہ کے بارے میں یہ انجیل کہتی ہے ۔

” جب سپاہی یہوداہ کے ساتھ اس جگہ پہنچے ‘ جہاں یسوع تھا ‘ تو مسیح نے جم غفیر کو پاس آتے سنا اور وہ گھر کے ایک گوشے میں ڈر کر سمٹ گیا ‘ گیارہ شاگرد (بدستور) سو رہے تھے ‘ جب خدائے تعالیٰ نے دیکھا کہ اس کا بندہ (یسوع) خطرے میں ہے تو اس نے اپنے فرشتوں ‘ جبرئیل ‘ میخائیل ‘ رفائیل اور اور یل کو حکم دیا کہ وہ یسوع کو دنیا سے نکال لائیں ‘ پاکیزہ فرشتے آئے اور وہ یسوع کو اس کھڑکی سے ‘ جس کا رخ جنوب کی طرف تھا ‘ نکال کر اور اٹھا کرلے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں لے جا کر رکھ دیا ‘ جو تا ابد اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ‘ یہوداہ وقت کے ساتھ اسی کھڑی سے گھر میں داخل ہوا ‘ جس سے یسوع کو اٹھا لیا گیا تھا مسیح کے شاگرد سب کے سب (اب بھی) سو رہے تھے ‘ اب عجیب و غریب خدا نے ایک عجیب و غریب کام کیا اور وہ یہ کہ یہوداہ کی بولی اور اس کا چہرہ دونوں بدل گئے اور وہ یسوع کی طرح …

An-Nisaa 4:157Listen in Qur'an →
158

بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے

(آیت) ” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ، وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا “۔ (157) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عزیزا حکیما (158) (4 : 157۔ 158) (حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پرچڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے) ۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے معاملے میں اہل یہود سخت خبط میں پڑے ہوئے تھے اور خود عیسائیوں کو بھی اس بارے میں سخت غلط فہمی لاحق تھی ۔ یہودی یہ کہتے تھے ” ہم نے عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “ کو قتل کردیا ہے ۔ لفظ رسول اللہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بطور مزاح استعمال کرتے تھے ۔ اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا “ انہیں سولی پر چڑھایا گیا اور دفن کردیا گیا لیکن تین دونوں کے بعد آپ دوبارہ اٹھ گئے ۔ “ اور ان کی تاریخ حضرت مسیح کی ولادت اور وفات سے اس طرح خاموش ہے کہ شاید اس واقعہ کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی ۔ ان دونوں فریقوں نے اس عظیم واقعہ کے بارے میں وثوق کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی تھی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات بہت ہی تیزی سے وقوع پذیر ہوتے رہے اور نظروں سے اوجھل ہوتے رہے ۔ مختلف روایات پھیلتی رہیں اور سچ اور جھوٹ ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہوگئے ۔ کوئی بات یقین کے ساتھ کوئی نہ کہہ سکتا تھا ‘ نہ کسی نے کہی ‘ لہذا صرف وہی بات یقینی ہے جو اللہ رب العالمین نے فرمائی ۔

جن چار مروجہ اناجیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گرفتاری کا قصہ بیان ہوا ہے ‘ آپ کی موت اور سولی پر چڑھانے کا جو قصہ اور پھر دفن کرنے اور پھر اٹھنے کا جو قصہ بیان ہوا ہے ‘ یہ تمام واقعات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے بہت ہی بعد کے ادوار میں لکھے گئے ہیں ۔ اس دور میں حضرت مسیح کے شاگردوں پر مظالم ہوتے رہے اور دین مسیح کو دبایا جاتا رہا ۔ اس خوف ‘ رازداری اور تشدد اور جلاوطنی کی فضا میں یہ بات نہایت ہی مشکل تھی کہ کوئی صحیح اور تحقیقی بات لکھی جاسکے ۔ اس دور میں بیشمار انجیلیں لکھی گئیں ۔ جبکہ 200 ء کے آخر میں جا کر ان میں سے ان مروجہ چار کو منتخب کیا گیا ۔ ان کو سرکاری اناجیل قرار دیا گیا۔ اور ان کو سرکاری اناجیل قرار دینے کے بھی بعض خاص مقاصد تھے اور شک وشبہ سے بالاتر نہ تھے ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو اناجیل تحریر ہوئیں ان میں سے ایک انجیل برناباس بھی تھی ۔ یہ انجیل ان چار منتخب اور تسلیم شدہ اناجیل سے مختلف تھی ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے واقعہ کے بارے میں یہ انجیل کہتی ہے ۔

” جب سپاہی یہوداہ کے ساتھ اس جگہ پہنچے ‘ جہاں یسوع تھا ‘ تو مسیح نے جم غفیر کو پاس آتے سنا اور وہ گھر کے ایک گوشے میں ڈر کر سمٹ گیا ‘ گیارہ شاگرد (بدستور) سو رہے تھے ‘ جب خدائے تعالیٰ نے دیکھا کہ اس کا بندہ (یسوع) خطرے میں ہے تو اس نے اپنے فرشتوں ‘ جبرئیل ‘ میخائیل ‘ رفائیل اور اور یل کو حکم دیا کہ وہ یسوع کو دنیا سے نکال لائیں ‘ پاکیزہ فرشتے آئے اور وہ یسوع کو اس کھڑکی سے ‘ جس کا رخ جنوب کی طرف تھا ‘ نکال کر اور اٹھا کرلے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں لے جا کر رکھ دیا ‘ جو تا ابد اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ‘ یہوداہ وقت کے ساتھ اسی کھڑی سے گھر میں داخل ہوا ‘ جس سے یسوع کو اٹھا لیا گیا تھا مسیح کے شاگرد سب کے سب (اب بھی) سو رہے تھے ‘ اب عجیب و غریب خدا نے ایک عجیب و غریب کام کیا اور وہ یہ کہ یہوداہ کی بولی اور اس کا چہرہ دونوں بدل گئے اور وہ یسوع کی طرح …

An-Nisaa 4:158Listen in Qur'an →
159

وَإِن مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِۦ قَبْلَ مَوْتِهِۦ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًۭا

اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے

(آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ ، ویوم القیمۃ یکون علیھم شیھدا ، (4 : 159) (اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا ۔۔۔۔۔ ) اس آیت کے مفہوم میں سلف صالحین کے اندر اختلاف رائے رہا ہے ۔ اس اختلاف کے پیدا ہونے کی وجہ یہ رہی ہے کہ ” موتہ “ میں جو ضمیر ہے اس کے مرجع میں اختلاف ہوا ہے اگر اس کا مرجع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں تو مفہوم یہ ہوگا کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے قبل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایمان نہ لائے گا ۔ اس صورت میں یہ حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا ۔۔۔۔ دوسری تعبیر کے مطابق ” موتہ “ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہیں ۔ یعنی یہ کہ اہل کتاب میں سے ہر شخص اپنی موت سے قبل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے گا ۔ وہ یوں کہ موت سے قبل سکرات الموت کے اندر ہی میت پر حق واضح ہوجاتا ہے لیکن اس وقت اگر کوئی ایمان لے آئے تو اس کے لئے وہ ایمان مفید نہیں ہوتا ۔

میرے خیال میں یہ دوسرا قول زیادہ قابل ترجیح ہے اور اس کی طرف حضرت ابی ؓ کی قرات میں بھی اشارہ کر رہی ہے ۔ (آیت) ” (الا لیومنن بہ قبل موتہ) (4 : 159) (اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو ان کی موت سے قبل اس پر ایمان نہ لائے) اس قرات کے مطابق اس ضمیر کا مرجع صرف اہل کتاب ہی ہو سکتے ہیں ۔ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ جو یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرتے ہیں اور اب تک وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے انکو قتل کردیا ہے اور سولی پر چڑھایا ہے ان میں سے جو بھی موت پائے گا اسی وقت اس پر یہ بات واضح ہوجائے گی (یعنی بوقت نزع) کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو حق پر ہیں ان کی رسالت برحق ہے ۔ تو وہ حالت نزع میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے گا لیکن اس وقت تو ایمان لانا مفید نہیں ہوتا ۔ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر خود گواہ ہوں گے ۔

یہاں آکر قصہ صلیب ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد یہودیوں کے دیگر منکرات کا ذکر شروع ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ان منکرات پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو کیا سزا دی اور آخرت میں ان کیلئے کیا کچھ تیار ہے ۔

An-Nisaa 4:159Listen in Qur'an →
160

فَبِظُلْمٍۢ مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَٰتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ كَثِيرًۭا

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے

(آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا ‘(160) واخذھم الربوا وقد نھو عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل واعتدنا للکفرین منھم عذابا الیما (161) (4 : 160۔ 161)

(۔ غرض ان یہودیوں کے اسی ظالمانہ رویے کی بناء پر اور اس بناء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ‘ اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ‘ ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کیلئے حلال تھیں ‘ اور وہ لوگ جو ان میں سے کافر ہیں ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ )

چناچہ اس آیت کے ذریعے ان کے سابقہ منکرات میں کچھ مزید منکرات کا اضافہ کردیا گیا ۔ اور یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں سے لوگوں کو روکنے کے سوا ان کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے ۔ گویا وہ رات دن ایسی کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ نیز یہ رات دن سودی کاروبار میں لگے رہتے ہیں اور یہ کام وہ محض کم علمی کی وجہ سے نہیں کر رہے یا یہ کہ انہیں اس سلسلے میں متنبہ نہیں کیا گیا ‘ بلکہ انہیں صاف الفاظ میں اس سے روکا گیا تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اس پر اصرار کیا اور لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے رہے ۔ یہ ربا کے ذریعے بھی کھاتے رہے اور دوسرے ذرائع سے بھی ۔

ان منکرات اور اس سے پہلی سورتوں میں مذکورہ جرائم کی وجہ سے اللہ نے ان پر بعض حلال چیزوں کو حرام کردیا جوان کیلئے حلال تھیں اور یہ کہ اللہ نے کافروں کیلئے سخت دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

یہودیوں کے خلاف اس مہم میں یہودیوں کے چہرے سے نقاب اتار کر پھینک دیا گیا ‘ اور اس ان کے تاریخ سے بعض واقعات بھی پیش کئے گئے تاکہ معلوم ہو کہ ان کی تاریخ کیا ہے ۔ ان کی بہانہ سازیوں اور ان کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کیا کیا اور یہ بتایا گیا کہ وہ کسی طرح مان کردینے والے نہیں ہیں اور یہ کہ انہوں نے اپنے قائد ‘ اپنے نجات دہندہ اور اپنے عظیم نبی کے ساتھ یہی رویہ اختیار کئے رکھا ان کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ صالحین اور انبیاء کے ساتھ برے سلوک اور ان کے خلاف بدگوئی کرنے میں بہت ہی جری وسریع رہے ہیں ۔ وہ انبیاء کو بھی قتل کرتے رہے ہیں اور پھر ندامت کے بجائے اس قتل پر فخر کرتے رہے ہیں ۔ ان جملوں کے نتیجے میں ‘ یہودیوں کے مکروفریب کا جال تار تار ہوگیا جو انہوں نے اسلامی صفوں کے خلاف بچا رکھا تھا ۔ ان کی سازشیں ناکام ہوگئیں اور مسلمانوں کے ساتھ انکی خفیہ دوستیاں کٹ گئیں ۔ یوں اہل اسلام نے یہودیوں کے اصل مزاج کو اچھی طرح جان لیا۔ اسلام کے خلاف ان کی سازشوں اور ان میں استعمال ہونے والے وسائل وذرائع کو پہچان لیا ۔ اس بات کا انہیں علم ہوگیا کہ وہ کس طرح ہر سچائی کے مقابلے میں جتھہ بندی کرلیتے ہیں چاہے یہ سچائی خود ان کے اندر انکی اپنی صفوں سے اٹھے یا ان سے باہر دوسری اقوام کے اندر پائی جائے ۔ اس لئے کہ وہ ہمیشہ سچ اور اہل حق کے دشمن رہے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ہدایت اور ہادیوں کی بیخ کنی کرتے رہے ہیں ۔ ہر دور میں اور ہر زمانے میں وہ یہ کام کرتے رہے ہیں ۔ اپنے دشمنوں کے ساتھ تو ان کا یہ رویہ بہرحال تھا ہی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں ‘ اس لئے ہر دور میں ہر اسلامی تحریک اور اسلامی سوسائٹی کا یہ فرض ہے کہ وہ یہودیوں سے چوکنا رہے اس لئے کہ ان کی جبلت ہی ایسی ہے کہ وہ ذاتی طور پر سچائی کے دشمن ہیں ۔ ان کے دل کے اندر حق کی دشمنی بھری ہوئی ہے ۔ ان کے کلیجے سخت ہوگئے ہیں ۔ وہ اپنے سر صرف اس شخص کیلئے جھکاتے ہیں جو ان پر ڈنڈے برسائے اور وہ سچائی کو تب تسلیم کرتے ہیں جب ان کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہو ۔

اس قسم کے لوگوں کا یہ تعارف صرف اس جماعت اسلامی کیلئے نہ تھا جو مدینہ طیبہ میں کام کر رہی تھی اس لئے کہ قرآن اس امت کے لئے گائیڈ ہے جب تک کہ یہ امت موجود رہے گی ۔ اگر قرآن سے یہ امت اپنے دشمنوں کے بارے …

An-Nisaa 4:160Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.