Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 151–160 of 176

151

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ حَقًّۭا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

وہ بلا اشتباہ کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :178

یعنی کافر ہونے میں وہ لوگ جو نہ خدا کو مانتے ہیں نہ اس کے رسولوں کو اور وہ جو خدا کو مانتے ہیں مگر رسولوں کو نہیں مانتے ، اور وہ جو کسی رسول کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں ، سب یکساں ہیں ۔ ان میں سے کسی کے کافر ہونے میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ۔

An-Nisaa 4:151Listen in Qur'an →
152

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَمْ يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّنْهُمْ أُو۟لَٰٓئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :179

یعنی جو لوگ خدا کو اپنا واحد معبود اور مالک تسلیم کر لیں ، اور اس کے بھیجے ہوئے تمام رسولوں کی پیروی قبول کریں ، صرف وہی اپنے اعمال پر اجر کے مستحق ہیں ، اور وہ جس درجہ کا عمل صالح کریں گے اسی درجہ کا اجر پائیں گے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے خدا کی لاشریک الہٰیّت و ربوبیت ہی تسلیم نہ کی ، یا جنہوں نے خدا کے نمائندوں میں سے بعض کو قبول اور بعض کو رد کرنے کا باغیانہ طرز عمل اختیار کیا ، تو ان کے لیے کسی عمل پر کسی اجر کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا ، کیونکہ ایسے لوگوں کا کوئی عمل خدا کی نگاہ میں قانونی عمل نہیں ہے ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :180

یعنی جو لوگ اللہا ور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں گے ان کا حساب لینے میں اللہ سخت گیری نہیں برتے گا بلکہ ان کے ساتھ بہت نرمی اور درگزر سے کام لے گا ۔

An-Nisaa 4:152Listen in Qur'an →
153

يَسْـَٔلُكَ أَهْلُ ٱلْكِتَٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَٰبًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا۟ مُوسَىٰٓ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوٓا۟ أَرِنَا ٱللَّهَ جَهْرَةًۭ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَءَاتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًۭا

(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :181

مدینہ کے یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عجیب عجیب مطالبے کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہم آپ کی رسالت اس وقت تک تسلیم نہ کریں گے جب تک کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک لکھی لکھائی کتاب آسمان سے نازل نہ ہو ، یا ہم میں سے ایک ایک شخص کے نام اوپر سے اس مضمون کی تحریر نہ آجائے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول ہیں ، ان پر ایمان لاؤ ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :182

یہاں کسی واقعہ کی تفصیل بیان کرنا مقصود نہیں ہے ، بلکہ یہودیوں کے جرائم کی ایک مختصر فہرست پیش کرنی مقصود ہے ، اس لیے ان کی قومی تاریخ کے چند نمایاں واقعات کی طرف سرسری اشارات کیے گئے ہیں ۔ اس آیت میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ سورہ بقرہ آیت ۵۵ میں بھی گزر چکا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ بقرہ ، حاشیہ نمبر ۷۱ )

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :183

کھلی کھلی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رسول مقرر ہونے کے بعد سے لے کر فرعون کے غرق ہونے اور بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے تک پے در پے ان لوگوں کے مشاہدے میں آچکی تھیں ۔ ظاہر ہے کہ سلطنت مصر کی عظیم الشان طاقت کے پنجوں سے جس نے بنی اسرائیل کو چھڑایا تھا وہ کوئی گائے کا بچہ نہ تھا بلکہ اللہ رب العالمین تھا ۔ مگر یہ اس قوم کی طابل پرستی کا کمال تھا کہ خدا کی قدرت اور اس کے فضل کی روشن ترین نشانیوں کا تجربہ اور مشاہدہ کر چکنے کے بعد بھی جب جھکی تو اپنے محسن خدا کے آگے نہیں بلکہ ایک بچھڑے کی مصنوعی مورت ہی کے آگے جھکی ۔

An-Nisaa 4:153Listen in Qur'an →
154

وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ ٱلطُّورَ بِمِيثَٰقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا۟ فِى ٱلسَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :184

صریح فرمان سے مراد وہ احکام ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تختیوں پر لکھ کر دیے گئے تھے ۔ سورہ اعراف ، رکوع ۱۷ میں اس کا ذکر زیادہ تفصیل کے ساتھ آئے گا ۔ اور عہد سے مراد وہ میثاق ہے جو کوہ طور کے دامن میں بنی اسرائیل کے نمائندوں سے لیا گیا تھا ۔ سورہ بقرہ آیت ٦۳ میں اس کا ذکر گزر چکا ہے اور اعراف آیت ۱۷۱ میں پھر اس کی طرف اشارہ آئے گا ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :185

سورة بقرہ آیت ۵۹-۵۸ و حاشیہ نمبر ۷۵ ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :186

سورة بقرہ آیت ٦۵- و حاشیہ نمبر ۸۲ و ۸۳ ۔

An-Nisaa 4:154Listen in Qur'an →
155

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :187

یہودیوں کے اس قول کی طرف سورہ بقرہ آیت ۸۸ میں بھی اشارہ کیا گیا ہے ۔ درحقیقت یہ لوگ تمام باطل پرست جہلا کی طرح اس بات پر فخر کرتے تھے کہ جو خیالات اور تعصبات اور رسم و رواج ہم نے اپنے باپ دادا سے پائے ہیں ان پر ہمارا عقیدہ اتنا پختہ ہے کہ کسی طرح ہم ان سے نہیں ہٹائے جا سکتے ۔ جب کبھی خدا کی طرف سے پیغمبروں نے آکر ان کو سمجھانے کی کوشش کی ، انہوں نے ان کو یہی جواب دیا کہ تم خواہ کوئی دلیل اور کوئی آیت لے آؤ ہم تمہاری کسی بات کا اثر نہ لیں گے ، جو کچھ مانتے اور کرتے چلے آئے ہیں وہی مانتے رہیں گے اور وہی کیے چلے جائیں گے ۔ ( ملاحضہ ہو سورہ بقرہ ، حاشیہ نمبر ۹٤ ) ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :188

یہ جملہ معترضہ ہے ۔

An-Nisaa 4:155Listen in Qur'an →
156

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَٰنًا عَظِيمًۭا

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :189

یہ فقرہ اصل سلسلہ تقریر سے تعلق رکھتا ہے ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :190

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا معاملہ یہودی قوم میں فی الواقع ذرہ برابر بھی مشتبہ نہ تھا بلکہ جس روز وہ پیدا ہوئے تھے اسی روز اللہ تعالیٰ نے پوری قوم کو اس بات پر گواہ بنا دیا تھا کہ یہ ایک غیر معمولی شخصیت کا بچہ ہے جس کی ولادت معجزے کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی اخلاقی جرم کا ۔ جب بنی اسرائیل کے ایک شریف ترین اور مشہور و نامور مذہبی گھرانے کی بن بیاہی لڑکی گود میں بچہ لیے ہوئے آئی ، اور قوم کے بڑے اور چھوٹے سیکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اس کے گھر پر ہجوم کر کے آگئے ، تو اس لڑکی نے ان کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے خاموشی کے ساتھ اس نوزائیدہ بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ تمہیں جواب دے گا ۔ مجمع نے حیرت سے کہا کہ اس بچہ سے ہم کیا پوچھیں جو گہوارے میں لیٹا ہوا ہے ۔ مگر یکایک وہ بچہ گویا ہو گیا اور اس نے نہایت صاف اور فصیح زبان میں مجمع کو خطاب کر کے کہا کہ اِنِّیْ عَبْدُ اللہِ قف اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا ۔ ” میں اللہ کا بندہ ہوں ، اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے ۔ “ ( سورہ مریم رکوع ۲ ) ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کی ہمیشہ کے لیے جڑ کاٹ دی تھی جو ولادت مسیح کے بارے میں پیدا ہو سکتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے سن شباب کو پہنچنے تک کبھی کسی نے نہ حضرت مریم علیہ السلام پر زنا کا الزام لگایا ، نہ حضرت عیسٰی کو ناجائز ولادت کا طعنہ دیا ۔ لیکن جب تیس برس کی عمر کو پہنچ کر آپ نے نبوت کے کام کی ابتدا فرمائی ، اور جب آپ نے یہودیوں کو ان کی بد اعمالیوں پر ملامت کرنی شروع کی ، ان کے علماء و فقہاء کو ان کی ریاکاریوں پر ٹوکا ، ان کے عوام اور خواص سب کو اس اخلاقی زوال پر متنبہ کیا جس میں وہ مبتلا ہو گئے تھے ، اور اس پرخطر راستے کی طرف اپنی قوم کو دعوت دی جس میں خدا کے دین کو عملاً قائم کرنے کے لیے ہر قسم کی قربانیاں برداشت کرنی پڑتی تھیں اور ہر محاذ پر شیطانی قوتوں سے لڑائی کا سامنا تھا ، تو یہ بے باک مجرم صداقت کی آواز کو دبانے کے لیے ہر ناپاک سے ناپاک ہتھیار استعمال کرنے پر اتر آئے ۔ اس وقت انہوں نے وہ بات کہی جو تیس سال تک نہ کہی تھی کہ مریم علیہا السلام معاذاللہ زانیہ ہیں اور عیسیٰ ابن مریم ولد الزنا ۔ حالانکہ یہ ظالم بالیقین جانتے تھے کہ یہ دونوں ماں بیٹے اس گندگی سے بالکل پاک ہیں ۔ پس درحقیقت ان کا یہ بہتان کسی حقیقی شبہہ کا نتیجہ نہ تھا جو واقعی ان کے دلوں میں موجود ہوتا ، بلکہ خالص بہتان تھا جو انہوں نے جان بوجھ کر محض حق کی مخالفت کے لیے گھڑا تھا ۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اسے ظلم اور جھوٹ کے بجائے کفر قرار دیا ہے کیونکہ اس الزام سے ان کا اصل مقصد خدا کے دین کا راستہ روکنا تھا نہ کہ ایک بے گناہ عورت پر الزام لگانا ۔

An-Nisaa 4:156Listen in Qur'an →
157

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا ٱلْمَسِيحَ عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًۢا

اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :191

یعنی جرأت مجرمانہ اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ رسول کو رسول جانتے تھے اور پھر اس کے قتل کا اقدام کیا اور فخریہ کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ۔ اوپر ہم نے گہوارے کے واقعہ کا جو حوالہ دیا ہے اس پر غور کرنے سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یہودیوں کے لیے مسیح علیہ السلام کی نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی ۔ پھر جو روشن نشانیاں انہوں نے حضرت موصوف سے مشاہدہ کیں ( جن کا ذکر سورہ آل عمران رکوع ۵ میں گزر چکا ہے ) ان کے بعد تو یہ معاملہ بالکل ہی غیر مشتبہ ہو چکا تھا کہ آنجناب اللہ کے پیغمبر ہیں ۔ اس لیے واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا وہ کسی غلط فہمی کی بنا پر نہ تھا بلکہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہم اس جرم کا ارتکاب اس شخص کے ساتھ کر رہے ہیں جو اللہ کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہے ۔

بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی قوم کسی شخص کو نبی جانتے اور مانتے ہوئے اسے قتل کر دے ۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کے انداز و اطوار ہوتے ہی کچھ عجیب ہیں ۔ وہ اپنے درمیان کسی ایسے شخص کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں جو ان کی برائیوں پر انہیں ٹوکے اور ناجائز کاموں سے ان کو روکے ۔ ایسے لوگ چاہے وہ نبی ہی کیوں نہ ہوں ، ہمیشہ بد کردار قوموں میں قید اور قتل کی سزائیں پاتے ہی رہے ہیں ۔ تلمود میں لکھا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المَقْدِس فتح کیا تو وہ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوا اور اس کی سیر کرنے لگا ۔ عین قربان گاہ کے سامنے ایک جگہ دیوار پر اسے ایک تیر کا نشان نظر آیا ۔ اس نے یہودیوں سے پوچھا یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے جواب دیا”یہاں زکریا نبی کو ہم نے قتل کیا تھا ۔ وہ ہماری برائیوں پر ہمیں ملامت کرتا تھا ۔ آخر جب ہم اس کی ملامتوں سے تنگ آگئے تو ہم نے اسے مار ڈالا“ ۔ بائیبل میں یرمیاہ نبی کے متعلق لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی بد اخلاقیاں حد سے گزر گئیں اور حضرت یرمیاہ نے ان کو متنبہ کیا کہ ان اعمال کی پاداش میں خدا تم کو دوسری قوموں سے پامال کرادے گا تو ان پر الزام لگایا گیا کہ یہ شخص کسدیوں ( کلدانیوں ) سے ملا ہوا ہے اور قوم کا غدار ہے ۔ اس الزام میں ان کو جیل بھیج دیا گیا ۔ خود حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعہ صلیب سے دو ڈھائی سال پہلے ہی حضرت یحییٰ کا معاملہ پیش آچکا تھا ۔ یہودی بالعموم ان کو نبی جانتے تھے اور کم از کم یہ تو مانتے ہی تھے کہ وہ ان کی قوم کے صالح ترین لوگوں میں سے ہیں ۔ مگر جب انہوں نے ہیرو دیس ( والی ریاست یہودیہ ) کے دربار کی برائیوں پر تنقید کی تو اسے برداشت نہ کیا گیا ۔ پہلے جیل بھیجے گئے ، اور پھر والی ریاست کی معشوقہ کے مطالبے پر ان کا سر قلم کر دیا گیا ۔ یہودیوں کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے زعم میں مسیح کو سولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو“ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے” ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :192

یہ پھر جملہ معترضہ ہے ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :193

یہ آیت تصریح کرتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے جانے سے پہلے اٹھا لیے گئے تھے اور یہ کہ مسیحیوں اور یہودیوں ، دونوں کا یہ خیال کہ مسیح نے صلیب پر جان دی ، محض غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ قرآن اور بائیبل کے بیانات کا متقابل مطالعہ کرنے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غالباً پیلاطس کی عدالت میں تو پیشی آپ ہی کی ہوئی تھی ، مگر جب وہ سزائے موت کا فیصلہ سنا چکا ، اور جب یہودیوں نے مسیح جیسے پاک نفس انسان کے مقابلہ میں ایک ڈاکو کی جان کو زیادہ قیمتی ٹھیرا کر اپنی حق دشمنی و باطل پسندی پر آخری مہر بھی لگا دی ، تب اللہ تعالیٰ نے کسی وقت آنجناب کو اٹھالیا ۔ بعد میں یہودیوں نے جس شخص کو صلیب …

An-Nisaa 4:157Listen in Qur'an →
158

بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :195

یہ اس معاملہ کی اصل حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے ۔ اس میں جزم اور صراحت کے ساتھ جو چیز بتائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح کو قتل کرنے میں یہودی کامیاب نہیں ہوئے ، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ۔ اب رہا یہ سوال کہ اٹھا لینے کی کیفیت کیا تھی ، تو اس کے متعلق کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی ۔ قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرہ زمین سے اٹھا کر آسمانوں پر کہیں لے گیا ، اور نہ یہی صاف کہتا ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی روح اٹھائی گئی ۔ اس لیے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے اور نہ اثبات ۔ لیکن قرآن کے انداز بیان پر غور کرنے سے یہ بات بالکل نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اٹھا ئے جانے کی نوعیت و کیفیت خواہ کچھ بھی ہو ، بہرحال مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ نے کوئی ایسا معاملہ ضرور کیا ہے جو غیر معمولی نوعیت کا ہے ۔ اس غیر معمولی پن کا اظہار تین چیزوں سے ہوتا ہے:

ایک یہ کہ عیسائیوں میں مسیح علیہ السلام کے جسم و روح سمیت اٹھائے جانے کا عقیدہ پہلے سے موجود تھا اور ان اسباب میں سے تھا جن کی بنا پر ایک بہت بڑا گروہ الوہیت مسیح کا قائل ہوا ہے ، لیکن اس کے باوجود قرآن نے نہ صرف یہ کہ اس کی صاف صاف تردید نہیں کی بلکہ بعینہ وہی”رفع“ ( ) کا لفظ استعمال کیا جو عیسائی اس واقعہ کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ کتاب مبین کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ کسی خیال کی تردید کرنا چاہتی ہو اور پھر ایسی زبان استعمال کرے جو اس خیال کو مزید تقویت پہنچانے والی ہو ۔

دوسرے یہ کہ اگر مسیح علیہ السلام کا اٹھایا جانا ویسا ہی اٹھایا جانا ہوتا جیسا کہ ہر مرنے والا دنیا سے اٹھایا جاتا ہے ، یا اگر اس رفع سے مراد محض درجات و مراتب کی بلندی ہوتی جیسے حضرت ادریس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ رَفَعْنَاہُ مَکَاناً عَلِیًّا ، تو اس مضمون کو بیان کرنے کا انداز یہ نہ ہوتا جو ہم یہاں دیکھ رہے ہیں ۔ اس کو بیان کرنے کے لیے زیادہ مناسب الفاظ یہ ہو سکتے تھے کہ ”یقیناً انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو زندہ بچا لیا اور پھر طبعی موت دی ۔ یہودیوں نے اس کو ذلیل کرنا چاہا تھا مگر اللہ نے اس کو بلند درجہ عطا کیا“ ۔

تیسرے یہ کہ اگر یہ رفع ویسا ہی معمولی قسم کا رفع ہوتا جیسے ہم محاورہ میں کسی مرنے والے کو کہتے ہیں کہ اسے اللہ نے اٹھا لیا تو اس کا ذکر کرنے کے بعد یہ فقرہ بالکل غیر موزوں تھا کہ ” اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے“ ۔ یہ تو صر ف کسی ایسے واقعہ کے بعد ہی موزون و مناسب ہو سکتا ہے جس میں اللہ کی قوت قاہرہ اور اس کی حکمت کا غیر معمولی ظہور ہوا ہو ۔

اس کے جواب میں قرآن سے اگر کوئی دلیل پیش کی جاسکتی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ صرف یہ ہے کہ سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے مُتَوَفِّیْکَ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ ( آیت ۵۵ ) ۔ لیکن جیسا کہ وہاں ہم حاشیہ نمبر ۵۱ میں واضح کر چکے ہیں ، یہ لفظ طبعی موت کے معنی میں صریح نہیں ہے بلکہ قبض روح ، اور قبض روح و جسم ، دونوں پر دلالت کر سکتا ہے ۔ لہٰذا یہ ان قرائن کو ساقط کر دینے کے لیے کافی نہیں ہے جو ہم نے اوپر بیان کیے ہیں ۔ بعض لوگ جن کو مسیح کی طبعی موت کا حکم لگانے پر اصرار ہے ، سوال کرتے ہیں کہ تَوَفی کا لفظ قبض روح و جسم پر استعمال ہونے کی کوئی اور نظیر بھی ہے؟ لیکن جب کہ قبض روح و جسم کا واقعہ تمام نوع انسانی کی تاریخ میں پیش ہی ایک مرتبہ آیا ہو تو اس معنی پر اس لفظ کے استعمال کی نظیر پوچھنا محض ایک بے معنی بات ہے ۔ دیکھنا یہی چاہیے کہ آیا اصل لغت میں اس استعمال کی گنجائش ہے یا نہیں ۔ اگر ہے تو ماننا پڑے گا کہ قرآن نے …

An-Nisaa 4:158Listen in Qur'an →
159

وَإِن مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِۦ قَبْلَ مَوْتِهِۦ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًۭا

اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :196

اس فقرے کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں اور الفاظ میں دونوں کا یکساں احتمال ہے ۔ ایک معنی وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ”اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہ لے آئے“ ۔ اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ عیسائی بھی ہوں ۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ مسیح کی طبعی موت جب واقع ہوگی اس وقت جتنے اہل کتاب موجود ہوں گے وہ سب ان پر ( یعنی ان کی رسالت پر ) ایمان لاچکے ہوں گے ۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تمام اہل کتاب پر مرنے سے عین قبل رسالت مسیح کی حقیقت منکشف ہو جاتی ہے اور وہ مسیح پر ایمان لے آتے ہیں ، مگر یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ایمان لانا مفید نہیں ہو سکتا ۔ دونوں معنی متعدد صحابہ ، تابعین اور اکابر مفسرین سے منقول ہیں اور صحیح مراد صرف اللہ ہی کے علم میں ہے ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :197

یعنی یہودیوں اور عیسائیوں نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ اور اس پیغام کے ساتھ ، جو آپ لائے تھے ، جو معاملہ کیا ہے اس پر آپ خداوند تعالیٰ کی عدالت میں گواہی دیں گے ۔ اس گواہی کی کچھ تفصیل آگے سورہ مائدہ کے آخری رکوع میں آنے والی ہے ۔

An-Nisaa 4:159Listen in Qur'an →
160

فَبِظُلْمٍۢ مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَٰتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ كَثِيرًۭا

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :198

جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ تقریر شروع ہوتا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :199

یعنی صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ خود اللہ کے راستے سے منحرف ہیں ، بلکہ اس قدر بے باک مجرم بن چکے ہیں کہ دنیا میں خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے جو تحریک بھی اٹھتی ہے ، اکثر اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ ہی کام کرتا نظر آتا ہے ، اور راہ حق کی طرف بلانے کے لیے جو تحریک بھی شروع ہوتی ہے اکثر اس کے مقابلہ میں یہودی ہی سب سے بڑھ کر مزاحم بنتے ہیں ، درآں حالے کہ یہ کم بخت کتاب اللہ کے حامل اور انبیاء کے وارث ہیں ۔ ان کا تازہ ترین جرم یہ اشتراکی تحریک ہے جسے یہودی دماغ نے اختراع کیا اور یہودی رہنمائی ہی نے پروان چڑھایا ہے ۔ ان نام نہاد اہل کتاب کے نصیب میں یہ جرم بھی مقدر تھا کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جو نظام زندگی اور نظام حکومت خدا کے صریح انکار پر ، خدا سے کھلم کھلا دشمنی پر ، خدا پرستی کو مٹا دینے کے علی الاعلان عزم و ارادہ پر تعمیر کیا گیا اس کے موجد و مخترع اور بانی و سربراہ کار موسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا ہوں ۔ اشتراکیت کے بعد زمانہ جدید میں گمراہی کا دوسرا بڑا ستون فرائڈ کا فلسفہ ہے اور لطف یہ ہے کہ وہ بھی بنی اسرائیل ہی کا ایک فرد ہے ۔

An-Nisaa 4:160Listen in Qur'an →

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.