Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 141–150 of 176

141

ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَٰفِرِينَ نَصِيبٌۭ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ ٱللَّهُ لِلْكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ ۔۔ : یعنی یہ منافقین تمہارے بارے میں تاک اور انتظار میں رہتے ہیں، اگر اللہ کی طرف سے تمہیں فتح مل جائے تو کہتے ہیں، کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے، یعنی اس فتح میں ہمارا بھی حصہ ہے اور اگر کسی وقت کافروں کو کوئی حصہ مل جائے تو ان سے کہتے ہیں، کیا ہم تم پر غالب نہیں آگئے تھے، پھر یہ ہمارا ہی کام تھا کہ ہم نے ایسے وسائل اختیار کیے جن سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا لیا، یعنی منافقین دونوں طرف اپنا احسان چڑھاتے رہتے تھے۔ - فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ : یعنی دنیا میں تو ان منافقین نے بظاہر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو بچا لیا، لیکن آخرت میں ان کی حقیقت کھول دی جائے گی اور پتا چل جائے گا کہ کون مومن تھا اور کون منافق ؟ - وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ ۔۔ : اگر کوئی کہے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہرگز کوئی راستہ نہیں بنائے گا، مگر اس وقت معاملہ اس کے برعکس ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ ان مومنوں پر جن کا یہاں ذکر ہے، کفار کو کبھی غلبہ حاصل نہیں ہوا، اب اگر مومن ہی وہ مومن نہ رہیں اور جہاد چھوڑ بیٹھیں تو اس میں اللہ کے وعدے کا کیا قصور ہے ؟ دیکھیے سورة شوریٰ (٣٠) اور سورة آل عمران ( ١٣٩) ۔

An-Nisaa 4:141Listen in Qur'an →
142

إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوٓا۟ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُوا۟ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلًۭا

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم

اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ : اس جملے کی تشریح سورة بقرہ کی آیت (٩) اور (١٥) میں ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا انھیں دھوکا دینا بھی اسی طرح ہوگا جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ - وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ ۔۔ : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کو اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرنے کے لیے مسجد میں آنا پڑتا تھا۔ اگر کوئی مسجد میں نماز نہ پڑھتا تو مسلمان شمار نہیں ہوتا تھا، منافقین کی یہ نمازیں صرف مسلمانوں کے دکھلاوے کے لیے تھیں، اس لیے جن نمازوں میں چھپنے کی گنجائش ہوتی اس میں وہ غیر حاضر رہتے، جیسے صبح اور عشاء کی نماز۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” منافقین پر صبح اور عشاء کی نماز تمام نمازوں سے زیادہ بھاری ہے، حالانکہ اگر وہ جانتے کہ ان کا کیا ثواب ہے تو وہ ان میں حاضر ہوتے، چاہے انھیں ان میں گھسٹ کر آنا پڑتا۔ “ [ بخاری، الأذان، باب فضل فی - صلوۃ العشاء۔۔ : ٦٥٧۔ مسلم : ٢٥٢؍٦٥١ ]- وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا : یعنی جلدی جلدی، جیسے کوئی بیگار ٹالنا مقصود ہے۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ منافق کی نماز ہے، بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ( یعنی غروب کے بالکل قریب) ہوجاتا ہے، تو اٹھتا ہے اور چار ٹھونگے مار لیتا ہے، ان میں اللہ کو یاد نہیں کرتا مگر بہت کم۔ “ [ مسلم، المساجد، باب استحباب التبکیر : ٦٢٢ ] معلوم ہوا کہ عصر کی نماز دیر سے پڑھنا بھی نفاق ہے اور جلدی جلدی اکٹھے دو سجدے بھی، جن میں وقفہ نہ ہو، ایک ہی سجدہ ہوتے ہیں، ورنہ آپ چار کے بجائے آٹھ ٹھونگے فرماتے۔

An-Nisaa 4:142Listen in Qur'an →
143

مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ وَلَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًۭا

بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہ پاؤ گے

مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ ۔۔ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ماری ماری پھرتی ہے، کبھی اس ریوڑ کی طرف اور کبھی اس ریوڑ کی طرف اور نہیں جانتی کہ ان دونوں میں سے کس کے پیچھے لگے۔ “ [ مسلم، صفات المنافقین، باب صفات المنافقین :- ٢٧٨٤ ]- 2 یعنی جو شخص سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود خود گمراہی میں پڑا ہو اور باطل پرستی کی طرف راغب ہو تو اسے راہ راست پر لانے کے لیے کوئی انسانی نصیحت اور کوشش کارگر نہیں ہوسکتی، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی سزا کے طور پر گمراہی اور باطل پرستی میں پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا جائے گا۔

An-Nisaa 4:143Listen in Qur'an →
144

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْكَٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا۟ لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًا

اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟

لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کافروں کو دوست بنانے کی جگہ جگہ ممانعت کی ہے، دیکھیے سورة آل عمران (٢٨) ، سورة مائدۃ (٥١) ، سورة مجادلہ (٢٢) اور سورة ممتحنہ (١) - اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا ۔۔ : یعنی اس کے حکم کی خلاف ورزی کر کے عذاب الٰہی کے لیے ایسی واضح اور کھلی دلیل اپنے اوپر قائم کرنا چاہتے ہو کہ اس کے بعد مستحق عذاب ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے۔

An-Nisaa 4:144Listen in Qur'an →
145

إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِى ٱلدَّرْكِ ٱلْأَسْفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا

کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے۔ اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ جس طرح جنت کے درجات ہیں، سب سے اونچا درجہ فردوس سب سے افضل ہے، اسی طرح جہنم کے بھی درکات ہیں، جو جتنا نیچا ہے اتنا ہی سخت ہے۔ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے، کیونکہ نفاق صریح کفر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

An-Nisaa 4:145Listen in Qur'an →
146

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِٱللَّهِ وَأَخْلَصُوا۟ دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًۭا

ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمانبردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا جن منافقین کی اوپر مذمت کی ہے ان کی نجات کے لیے بطور استثنا چار باتیں فرمائیں، ایک یہ کہ اپنے پچھلے رویے پر نادم ہوں، دوسرے یہ کہ آئندہ کے لیے اپنی پوری طرح اصلاح کرلیں، تیسری یہ کہ اللہ کی رسی مضبوط پکڑیں، چوتھا یہ کہ دین کا جو کام کریں خالص اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کریں۔ “ یہ چاروں کام درجہ بدرجہ اور ایک دوسرے کی ترتیب پر قائم ہوں گے۔

An-Nisaa 4:146Listen in Qur'an →
147

مَّا يَفْعَلُ ٱللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَءَامَنتُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًۭا

اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اور خدا تو قدرشناس اور دانا ہے

مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ…... مقصد یہ بتانا ہے کہ عذاب کا باعث تمہارا شکر نہ کرنا اور ایمان نہ لانا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ تمہیں عذاب دے، سو اگر تم دل سے ایمان لے آؤ اور قول و فعل سے اللہ کی فرماں برداری کر کے اس کا شکر ادا کرو تو اللہ قدر دان ہے اور سب کچھ جانتا بھی ہے۔

An-Nisaa 4:147Listen in Qur'an →
148

۞ لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلْجَهْرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَــهْرَ بالسُّوْۗءِ ۔۔ : یعنی اگر کسی شخص میں کوئی دینی یا دنیوی عیب پایا جاتا ہے تو اسے سرعام ذلیل کرنا جائز نہیں اور نہ ہر شخص کو بتانا جائز ہے، کیونکہ یہ غیبت ہے اور غیبت قطعی حرام ہے، البتہ جب کوئی شخص ظلم پر اتر آئے تو مظلوم کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کی زیادتی کے خلاف آواز بلند کرے، خصوصاً جہاں آواز بلند کرنے سے اس پر ظلم رک سکتا ہو، یا اس کا مداوا ہوسکتا ہو۔ اسی طرح لوگوں کو اس کے ظلم سے بچانے کے لیے اس کا عیب بیان کرنا بھی جائز ہے۔ حدیث کے راویوں پر جرح بھی اسی ضمن میں آتی ہے، کیونکہ ضعیف روایت بیان کرنا امت پر ظلم ہے۔ کوئی شخص باوجود وسعت کے دوسرے کا حق نہ دیتا ہو تو اس کو طعن و ملامت کرنا بھی جائز ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” غنی آدمی کا حق ادا کرنے میں دیر کرنا، یا ٹال مٹول کرنا اس کی سزا اور اس کی عزت کو حلال کردیتا ہے۔ “ [ بخاری، الاستقراض، باب لصاحب الحق مقال، قبل ح : ٢٤٠١ ] اسی طرح جو زیادتی میں پہل کرے اسے جواب دینا جائز ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” آپس میں گالی گلوچ کرنے والے، وہ دونوں جو کچھ بھی کہیں، سب گناہ پہل کرنے والے پر ہے، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔ “ [ مسلم، البر والصلۃ، باب النھی عن السباب : ٢٥٨٧ ] اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ظالم کے حق میں بددعا کرنا جائز ہے۔ مزید دیکھیے سورة شوریٰ (٤١) کوئی شخص زبردستی اس کے منہ سے برا کلمہ نکلوائے تو وہ بھی اس کے تحت جائز ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہمسائے کی زیادتیوں کی شکایت کی، آپ نے اسے اپنا سامان گھر کے باہر راستے میں نکال کر رکھ دینے کا مشورہ دیا، اب جو گزرتا پوچھتا تو وہ ہمسائے کا ظلم بتاتا۔ ہمسائے نے یہ دیکھ کر معذرت کرلی اور آئندہ ایذا نہ پہنچانے کا وعدہ کیا اور سامان اندر رکھنے کی درخواست کی۔ [ أبو داوٗد، الأدب، باب فی حق الجوار : ٥١٥٣ ]- 3 گزشتہ آیات میں منافقین کے عیوب کا بیان تھا، یہاں بات مکمل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ چونکہ ظالم ہیں، اس لیے ان کے عیب ظاہر کرنا جائز ہے۔ (کبیر) تاہم حتی الوسع نام لے کر بیان نہ کرے۔ (موضح) (وَكَان اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِـــيْمًا) یعنی اگر مظلوم زیادتی کرے گا تو اللہ تعالیٰ کو وہ بھی معلوم ہے۔

An-Nisaa 4:148Listen in Qur'an →
149

إِن تُبْدُوا۟ خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا۟ عَن سُوٓءٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّۭا قَدِيرًا

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنے والا (اور) صاحب قدرت ہے

اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا۔۔ : اس آیت میں معاف کردینے کی ترغیب ہے، یعنی اگرچہ ظالم کا شکوہ یا اس کے حق میں بد دعا جائز ہے، تاہم عفو و درگزر سے کام لینا بہتر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود پوری قدرت رکھنے کے باوجود بہت معاف کرنے والا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مال صدقے سے کم نہیں ہوتا اور معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتا ہے اور کوئی شخص اللہ کے لیے نیچا نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ اسے اونچا کردیتا ہے۔ “ [ مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع : ٢٥٨٨ ]

An-Nisaa 4:149Listen in Qur'an →
150

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍۢ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍۢ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا۟ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ…. منافقین کے قبیح اعمال و اقوال بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) کے خیالات و شبہات اور ان کی تردید کا بیان شروع ہو رہا ہے اور یہ سلسلہ سورت کے آخر تک چلا گیا ہے۔ (رازی) اللہ تعالیٰ کو ماننا اور رسالت و نبوت کو نہ ماننا کفر ہے۔ (قرطبی) اس لیے کہ اللہ کا ماننا یہی ہے کہ زمانے کے پیغمبرکا حکم مانے، اس کے بغیر اللہ کا ماننا غلط ہے۔ (موضح) نیز اللہ کے احکام ماننے سے انکار اس کا بندہ ہونے سے انکار ہے اور بندگی (عبادت) سے انکار کا مطلب کائنات کو بنانے والے کا انکار ہے۔ - وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۔۔ : مراد اہل کتاب ہی ہیں اور بعد والے جملے انھی کی خصلتوں کی تفسیر ہیں۔ (قرطبی، رازی) یہود موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کرتے تھے اور نصاریٰ موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے مگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کرتے۔ (ابن کثیر)- وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا : یعنی سب کو ماننا ایمان ہے، کسی ایک کا انکار کفر ہے، جب کہ یہ لوگ بعض پر ایمان لا کر اور بعض سے انکار کر کے ایک تیسری راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں اور اس کا نام یہودیت یا نصرانیت رکھتے ہیں، جیسا کہ ہمارے زمانے کے مادہ پرستوں نے مسجدوں میں نماز، بازاروں میں سود، غم و شادی اور عام رہن سہن میں غیر مسلموں کی نقالی اور عدالتوں اور حکومت کے شعبوں میں کفریہ قوانین، سب کچھ کو ملا کر اس کا نام اسلام رکھ دیا ہے اور بعض نے کہا کہ قرآن کو تو مانیں گے مگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کو نہیں مانیں گے۔ یہ منکرین حدیث بھی انھی لوگوں میں شامل ہیں۔

An-Nisaa 4:150Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.