Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 141–150 of 176

141

ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَٰفِرِينَ نَصِيبٌۭ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ ٱللَّهُ لِلْكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

(آیت) ” 138 تا 143۔

منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔

(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)

(جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ )

یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔

اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔

یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟

کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ …

An-Nisaa 4:141Listen in Qur'an →
142

إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوٓا۟ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُوا۟ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلًۭا

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم

(آیت) ” 138 تا 143۔

منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔

(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)

(جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ )

یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔

اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔

یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟

کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ …

An-Nisaa 4:142Listen in Qur'an →
143

مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ وَلَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًۭا

بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہ پاؤ گے

(آیت) ” 138 تا 143۔

منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔

(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)

(جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ )

یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔

اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔

یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟

کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ …

An-Nisaa 4:143Listen in Qur'an →
144

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْكَٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا۟ لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًا

اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟

(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔

یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔

اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔

اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔

(آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (4 : 144) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔

ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔

(آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (4 : 145) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے)

درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔

دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔

ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔

(آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا)

دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔

(آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (4 : 146) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو …

An-Nisaa 4:144Listen in Qur'an →
145

إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِى ٱلدَّرْكِ ٱلْأَسْفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا

کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے۔ اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔

یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔

اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔

اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔

(آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (4 : 144) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔

ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔

(آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (4 : 145) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے)

درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔

دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔

ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔

(آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا)

دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔

(آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (4 : 146) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو …

An-Nisaa 4:145Listen in Qur'an →
146

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِٱللَّهِ وَأَخْلَصُوا۟ دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًۭا

ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمانبردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا

(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔

یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔

اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔

اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔

(آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (4 : 144) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔

ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔

(آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (4 : 145) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے)

درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔

دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔

ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔

(آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا)

دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔

(آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (4 : 146) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو …

An-Nisaa 4:146Listen in Qur'an →
147

مَّا يَفْعَلُ ٱللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَءَامَنتُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًۭا

اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اور خدا تو قدرشناس اور دانا ہے

(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔

یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔

اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔

اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔

(آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (4 : 144) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔

ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔

(آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (4 : 145) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے)

درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔

دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔

ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔

(آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا)

دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔

(آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (4 : 146) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو …

An-Nisaa 4:147Listen in Qur'an →
148

۞ لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلْجَهْرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

پارہ نمبر 6 ایک نظر میں :

پارہ ششم دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ سورة النساء کے بقیہ حصہ پر مشتمل ہے ۔ سورة النساء کا آغاز پارہ چہارم کے آخر سے ہوا تھا پورا پارہ پنجم بھی اس پر مشتمل ہے اور پارہ ششم میں بھی اس کا کچھ آگیا ہے ۔ اس پارے کا دوسرا حصہ ‘ جو اس کا تقریبا تین چوتھائی حصہ ہے سورة مائدہ پر مشتمل ہے ۔

یہاں ہم اپنی بات کو صرف اس پارے کے حصہ اول ہی تک محدود رکھیں گے ۔ حصہ دوئم یعنی سورة مائدہ پر بحث سورة مائدہ کے موقع پر ہو گی ۔ جہاں ہم سورة مائدہ کی اہمیت اور اس کے موضوعات پر اسی طرح بحث کریں گے جس طرح ہم اس سے پہلے کی سورتوں پر کرچکے ہیں ۔ اگر اللہ کا تعاون شامل حال رہا ۔

سورة نساء پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے اس سورة کے جس منہاج بحث کے سلسلے میں کچھ کہا تھا اس حصے میں بھی وہی منہاج چل رہا ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ نہایت ہی مختصر الفاظ میں اسے دو بار قارئین کے پیش نظر رکھ دیا جائے ۔

یہ سورة اسلامی تصور حیات سے بحث کرتی ہے اور اسے اس نوخیز اسلامی جماعت کے ذہن نشین کرنے کے درپے ہے جسے اس نے جاہلیت کی گہری اور تنگ وادیوں سے اٹھایا اور اسے بتدریج بام عروج تک پہنچا دیا ۔ انتہائی بلندیوں تک اور اس جماعت کے ضمیر کو جاہلیت کے افکار کے ڈھیروں کے نیچے سے نکالا اور اس کے ان افکار کو چھانٹ کر رکھ دیا جن کی وجہ سے اس کے ضمیر کے خدوخال دھندلے پڑگئے تھے ۔ اس صفائی کے ساتھ ساتھ جس طرح ہم نے اوپر کہا اسلامی فکر و شعور سے جاہلیت کے خدوخال مٹا کر انکی جگہ اسلامی رنگ بھرے گئے ۔

اس کے بعد اس جدید تصور حیات کی روشنی میں ‘ یہ سورة امت مسلمہ کے ضمیر اس کے اخلاق اور اس کی اجتماعی عادات کو لیتی ہے اور ان کو جاہلی اخلاق و عادات سے ایک ایک کرکے چھانٹتی چلی جاتی ہے ۔ بعینہ اسی طرح جس طرح افکار و تصورات کے اعتبار سے اس کی تطہیر کی گئی ۔ نیز فکری اور اخلاقی تطہیر کے علاوہ اس سورة نے امت کی اجتماعی زندگی اور اس کے عائلی روابط کو اسلام کے مضبوط ربانی نظام زندگی کی اساس پر استوار کیا ۔

اس تربیت اور تطہیر کے دوران ‘ اس سورة میں منحرف اور غلط عقائد کو بھی لیا گیا ہے ۔ غلط عقائد و تصورات کے حاملین پر بھی تنقید کی گئی ہے اور اصلاح کی کوشش کی گئی ہے ۔ چاہے یہ لوگ مشرکین میں سے ہوں یا یہود ونصاری یعنی اہل کتاب ہوں ۔ ان کے عقائد کی تصحیح اور اصلاح کی گئی ہے ۔ حق اور سچائی کو نکھارا گیا ہے جسے ان انحرافات نے بگاڑ دیا تھا ۔ جو ان لوگوں نے اپنی کتب میں اور عقائد میں داخل کئے ہوئے تھے ۔

اس کے بعد مضامین سورة اس معرکے میں داخل ہوجاتے ہیں جو اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کے درمیان مسلسل برپا تھا ‘ خصوصا یہودیوں کے ساتھ ۔ اس لئے کہ جب سے حضور اکرم ﷺ اپنی جماعت کو لیکر مدینہ پہنچے تھے ‘ ان لوگوں نے دعوت اسلامی کا بڑی شدت کے ساتھ مقابلہ شروع کردیا تھا ‘ اس لئے کہ تحریک اسلامی کا مرکز مدینہ منتقل ہوتے ہیں یہودیوں کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اب مدینہ کے معاشرے میں ان کی سابقہ ممتاز حیثیت قائم نہیں رہ سکتی انکے ملی وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا حتی کہ ان کا یہ ادعا بھی ختم ہو رہا تھا کہ وہ واحد ممتاز لوگ ہیں جنہیں اللہ کی قربت حاصل ہے اور وہ ایسی قوم ہیں جو اللہ کے ہاں برگزیدہ ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر وہ تحریک اسلامی کے مقابلے میں ہر قسم کے ہتھیار لیکر اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ چناچہ اس سورة نے ان کی ذہنیت ‘ ان کے وسائل حرب اور خود ان کے اپنے انبیاء کے ساتھ ان کاتاریخی رویہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا تاکہ معلوم ہو کہ انہوں نے ہمیشہ ہر دعوت حق کے ساتھ یہی برتاؤ کیا چاہے اس کا پیش کرنے والا کوئی بھی ہو اگرچہ وہ پیش کرنے والا خود ان کا اپنا نبی ‘ ان کا اپنا قائد اور ان کا اپنا نجات دہندہ ہو۔

اس کے بعد یہ سورة خود امت مسلمہ کو بتاتی ہے کہ اس کے کاندھوں پر جو بوجھ ڈال دیا گیا ہے ‘ اس کی ذمہ داریاں کیا …

An-Nisaa 4:148Listen in Qur'an →
149

إِن تُبْدُوا۟ خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا۟ عَن سُوٓءٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّۭا قَدِيرًا

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنے والا (اور) صاحب قدرت ہے

(آیت) ” ان تبدوا خیرا اوتخفوہ اوتعفوا عن سوء فان اللہ کان عفوا قدیرا (4 : 149) (لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کئے جاؤ ‘ یا کم از کم برائی سے درگزرکو ‘ تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ )

یوں اسلام کا منہاج تربیت نفس مومن اور جماعت مسلمہ کو ایک قدم اور بلند کردیتا ہے پہلا مرحلے میں کہا جاتا ہے کہ کسی شریف انسان کیلئے بدگوئی کے ساتھ منہ کھولنا اچھا نہیں ہے۔ اس مرحلے میں ایک استثنائی صورت یہ رکھی جاتی ہے کہ مظلوم بدگوئی کرکے بدلہ بھی لے سکتا ہے اور حصول انصاف کو بھی ممکن بنا سکتا ہے ۔ دوسرے مرحلے پر اہل ایمان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ سب کے سب بھلائی کیلئے ہر وقت کوشاں رہیں اور جس شخص پر ظلم کیا گیا ہے اور وہ بدگوئی کرکے اپنا بدلہ لے سکتا ہے اسے بھی یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ معاف کر دے اور صرف نظر کرے تو یہ نہایت ہی اچھا فعل ہے۔ یہ نہایت ہی بلند اخلاقی ہے ‘ بشرطیکہ وہ انتقام پر قادر ہو اور وہ انتقام کے بجائے عفو و درگزر کو ترجیح دے ۔ کیونکہ قدرت انتقام کے بغیر عفو کیا معنی ؟ گدا گر تواضع کند خوائے اوست۔

اگر عفو و درگزر کی نیکی کھل کر کریں تو معاشرہ میں عفو و درگزر کی رسم چلے گی اور نیکی پھیلے گی اور اگر وہ یہ نیکی خفیہ طور پر کریں گے تو بھی تزکیہ نفوس کا کام ہوگا ۔ بھلائی اگر اعلانیہ کی جائے تو بھی مفید ہے اور اگر خفیہ کی جائے تو بھی مفید ہے ۔ جب لوگوں کے درمیان عفو و درگزر عام ہوگا تو بدگوئی کرنے کے مواقع خود ہی کم ہوتے چلے جائیں گے بشرطیکہ یہ عفو و درگزر وہ شخص کرے جو انتقام پر قدرت رکھتا ہو ۔ لیکن اگر کسی شخص کی کمزوری اسے عفو پر مجبور کر رہی ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ یہ عفو و درگزر اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپناتے ہوئے ہونا چاہئے ۔ اللہ قدرت کے باوجود عفو سے کام لیتا ہے ۔ (آیت) ”(فان اللہ کان عفوا قدیرا) (4 : 149) (اللہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ وہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے)

اس کے بعد بات کا رخ اہل کتاب کی طرف پھرجاتا ہے ۔ پہلے تمام اہل کتاب کے حوالے سے بات ہوتی ہے ۔ اس کے بعد خصوصا یہودیوں کے بعض کارناموں کا تذکرہ ہوتا ہے اور آخر میں نصاری پر تنقید ہوتی ہے ۔ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں سخت بدگوئی کرتے تھے اور ان کی ذات کے بارے میں بہتان باندھتے تھے ۔ اس حصہ کلام میں ان کی ان بدگویوں کا ذکر بھی ہوتا ہے ۔ اس طرح یہودیوں پر کی جانے والی تنقید کا رابطہ دو سابقہ آیات سے بھی واضح ہوجاتا ہے جن میں بدگوئی کی ممانعت کی گئی ہے ۔

اہل کتاب اور یہود ونصاری پر یہ تنقید بھی اس معرکے کا حصہ ہے جو مدینہ میں جماعت مسلمہ کو اس کے دشمنوں کے ساتھ درپیش تھا جس کا ایک بہت بڑا حصہ اس سورة میں اور سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں تفصیلا بیان ہوا ہے ۔ اس معرکے کی تفصیلات قرآنی ترتیب کے مطابق ملاحظہ ہوں ۔

An-Nisaa 4:149Listen in Qur'an →
150

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍۢ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍۢ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا۟ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

یہودیوں کا دعوی یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی رسالتوں کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ نصاری کا موقف یہ تھا کہ وہ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لاتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے وہ بھی منکر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ بھی سمجھتے تھے ۔

قرآن کریم نے ان دونوں کے موقف پر سخت گرفت کی ۔ اور اللہ اور اس کے انبیاء ورسل پر ایمان لانے کا جامع تصور پیش فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا بھی غلط ہے اور خود اللہ کے تمام رسولوں کے درمیان فرق کرکے بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنا بھی غلط ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے تمام رسولوں پر بلا امتیاز ایمان لانا ضروری ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے اللہ کو اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہے کیونکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے تقاضوں کو صرف اسی صورت میں پورا کیا جاسکتا ہے ۔

اللہ کی وحدانیت مطلقہ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کا دین بھی ایک ہو ‘ جس کے حامل وہ تمام رسول قرار دیئے جائیں جو انسان کی ہدایت کیلئے کسی بھی وقت بھیجے گئے ہوں اور جن جن رسولوں کو یہ امانت سپرد کی گئی ان کا درجہ اور مقام بھی ایک ہونا ضروری ہے ۔ رسولوں کے ایک ہی منصب اور ایک ہی مقام کا جو بھی انکار کرے گا وہ اللہ کی توحید کا انکار تصور ہوگا ۔ اس سے اللہ کی وحدانیت کا ایک بڑا تصور سامنے آئے گا اس لئے کہ انسانوں کیلئے اللہ کا پسندیدہ دین بہرحال وہی ایک ہے ‘ اس کی بنیاد ایک ہے ‘ اور اس کا مصدر ومنبع ایک ہے ‘ لہذا اس کے نمائندوں کے درمیان تفریق کس طرح معقول ہو سکتی ہے ۔

قرآن کریم نے اللہ اور رسولوں کے درمیان تفریق کرنے کو ان الفاظ میں بیان کیا ۔ ” کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں کا انکار کرتے ہیں ۔ “ اور رسولوں کے درمیان تفریق کو یوں بیان کیا ۔ ” ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے ۔ “ اور ان دونوں فریقوں کے بارے میں کہا۔ (آیت) ” ان الذین یکفرون باللہ ورسولہ “۔ (4 : 150) (جو لوگ اللہ اور رسولوں سے کفر کرتے ہیں) اس طرح قرآن کے نزدیک اللہ اور رسولوں میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا بھی کفر ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک مستقل اکائی ہے اور اسکے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے جاسکتے ایمان کا پہلا قدم اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے ۔ اللہ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرنے کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کیلئے جو نظام زندگی اور جو دین پسند فرمایا ہے وہ بھی ایک ہے جو عقیدہ توحید کی اساس پر ہے ۔ جو رسول اس دین کو لیکر آتے رہے ہیں وہ بھی ایک ہیں اس لئے کہ یہ سب اسی کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ خود سے نہیں آئے نہ وہ اللہ کے ارادے اور اس کی وحی سے علیحدہ رہے ہیں ۔ ان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اس لئے ایک پوری اکائی کی تحلیل اور تجزیہ نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی ایمان کی اس وحدت اور اکائی میں فرق کرے گا وہ کفر مطلق کا ارتکاب کرے گا اگرچہ وہ یہ خیال کرتا ہو کہ بعض اجزاء پر ایمان لایا ہے اور بعض سے کفر کیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی جزاء اللہ کے نزدیک یہ ہوگی کہ انہیں تو ہیں آمیز عذاب دیا جائے گا ایسے سب لوگوں کو ۔

(آیت) ” اولئک ھم الکفرون حقا ، واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 151) (وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کیلئے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کردینے والی ہوگی ۔ ) کسی قسم کا تفرقہ جائز نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے ہاں تمام رسولوں کی عقیدت اور احترام پایا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے نزدیک تمام سماوی ادیان برحق ہیں ‘ ہاں اگر انکے اندر تحریف کردی جائے تو پھر وہ دین نہ رہیں گے اگرچہ ان ادیان کے بعض حصے اپنی اصل شکل میں موجود ہوں ‘ اس لئے کہ دین ایک ہی وحدت ہے اور اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ دین میں ایک …

An-Nisaa 4:150Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.