ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَٰفِرِينَ نَصِيبٌۭ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ ٱللَّهُ لِلْكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا
جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا
(آیت) ” 138 تا 143۔
منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔
(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)
(جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ )
یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔
اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔
اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔
یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟
کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ …