Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 141–150 of 176

141

ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَٰفِرِينَ نَصِيبٌۭ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ ٱللَّهُ لِلْكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

عمل میں صفر دعویٰ میں اصلی مسلمان منافقوں کی بد باطنی کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کی بربادی اس کی پستی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ٹوہ لیتے رہتے ہیں، اگر کسی جہاد میں مسلمان کامیاب و کامران ہوگئے اللہ کی مدد سے یہ غالب آگئے تو ان کے پیٹ میں گھسنے کے لئے آ آ کر کہتے ہیں کیوں جی ہم بھی تو تمہارے ساتھی ہیں اور اگر کسی وقت مسلمانوں کی آزمائش کے لئے اللہ جل شانہ نے کافروں کو غلبہ دے دیا جیسے احد میں ہوا تھا گو انجام کار حق ہی غالب رہا تو یہ ان کی طرف لپکتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو پوشیدہ طور پر تو ہم تمہاری تائید ہی کرتے رہے اور انہیں نقصان پہنچاتے رہے یہ ہماری ہی چالاکی تھی جس کی بدولت آج تم نے ان پر فتح پا لی۔ یہ ہیں ان کے کرتوت کہ دو کشتیوں میں پاؤں رکھ چھوڑتے ہیں " دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا " گو یہ اپنی اس مکاری کو اپنے لئے باعث فخر جانتے ہوں لیکن دراصل یہ سرا ان کی بےایمانی اور کم یقینی کی دلیل ہے بھلا کچا رنگ کب تک رہتا ہے ؟ گاجر کی پونگی کب تک بجے گی ؟ کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی ؟ وقت آ رہا ہے کہ اپنے کئے پر نادم ہوں گے اپنی بیوقوفی پر ہاتھ ملیں گے اپنے شرمناک کرتوت پر ٹسوے بہائیں گے اللہ کا سچا فیصلہ سن لیں گے اور تمام بھلائیوں سے ناامید ہوجائیں گے۔ بھرم کھل جائے گا ہر راز فاش ہوجائے گا اندر کا باہر آجائے گا یہ پالیسی اور حکمت عملی یہ مصلحت وقت اور مقتضائے موقعہ نہایت ڈراؤنی صورت سے سامنے آجائے گا اور عالم الغیب کے بےپناہ عذابوں کا شکار بن جائیں گے ناممکن ہے کہ کافروں کو اللہ تعالیٰ مومنوں پر غالب کر دے، حضرت علی سے ایک شخص نے اس کا مطلب پوچھا تو آپ نے اول جملے کے ساتھ ملا کر پڑھ دیا۔ مطلب یہ تھا کہ قیامت کے دن ایسا نہ ہوگا، یہ بھی مروی ہے کہ سبیل سے مراد حجت ہے، لیکن تاہم اس کے ظاہری معنی مراد لینے میں بھی کوئی مانع نہیں یعنی یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اب سے لے کر قیامت تک کوئی ایسا وقت لائے کہ کافر اس قدر غلبہ حاصل کرلیں کہ مسلمانوں کا نام مٹا دیں یہ اور بات ہے کہ کسی جگہ کسی وقت دنیاوی طور پر انہیں غلبہ مل جائے لیکن انجام کار مسلمانوں کے حق میں ہی مفید ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی فرمان الٰہی ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) 40۔ غافر :51) ہم اپنے رسولوں اور ایماندار بندوں کو مدد دنیا میں بھی ضرور دیں گے اور یہ معنی لینے میں ایک لطافت یہ بھی ہے کہ منافقوں کے دلوں میں مسلمانوں کو ذلت اور بربادی کا شکار دیکھنے کا جو انتظار تھا مایوس کردیا گیا کہ کفار کو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ اس طرح غالب نہیں کرے گا کہ تم پھولے نہ سماؤ اور کچھ لوگ جس ڈر سے مسلمانوں کا ساتھ کھلے طور پر نہ دیتے تھے ان کے ڈر کو بھی زائل کردیا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ کسی وقت بھی مسلمان مٹ جائیں گے اسی مطلب کی وضاحت (فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ) 5۔ المائدہ :52) میں کردی ہے۔ اس آیت کریمہ سے حضرات علماء کرام نے اس امر پر بھی استدلال کیا ہے کہ مسلمان غلام کو کافر کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں ایک کافر کو ایک مسلمان پر غالب کردینا ہے اور اس میں مسلمان کی ذلت ہے جن بعض ذی علم حضرات نے اس سودے کو جائز رکھا ہے ان کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنی ملک سے اس کو اسی وقت آزاد کر دے۔

An-Nisaa 4:141Listen in Qur'an →
142

إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوٓا۟ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُوا۟ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلًۭا

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم

دو ریوڑ کے درمیان کی بکری سورة بقرہ کے شروع میں بھی (يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ) 2۔ البقرۃ :9) اسی مضمون کی گذر چکی ہے، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ یہ کم سمجھ منافق اس اللہ تعالیٰ کے سامنے چالیں چلتے ہیں جو سینوں میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے پوشیدہ رازوں سے آگاہ ہے۔ کم فہمی سے یہ خیال کئے بیٹھے ہیں کہ جس طرح ان کی منافقت اس دنیا میں چل گئی اور مسلمانوں میں ملے جلے رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پاس بھی یہ مکاری چل جائے گی۔ چناچہ قرآن میں ہے کہ قیامت کے دن بھی یہ لوگ اللہ خبیر وعلیم کے سامنے اپنی یک رنگی کی قسمیں کھائیں گے جیسے یہاں کھاتے ہیں لیکن اس عالم الغیب کے سامنے یہ ناکارہ قسمیں ہرگز کارآمد نہیں ہوسکتیں۔ اللہ بھی انہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے وہ ڈھیل دیتا ہے حوصلہ افزائی کرتا ہے یہ پھولے نہیں سماتے خوش ہوتے ہیں اور اپنے لئے اسے اچھائی سمجھتے ہیں، قیامت میں بھی ان کا یہی حال ہوگا مسلمانوں کے نور کے سہارے میں ہوں گے وہ آگے نکل جائیں گے یہ آوازیں دیں گے کہ ٹھہرو ہم بھی تمہاری روشنی میں چلیں جواب ملے گا کہ پیچھے مڑ جاؤ اور روشنی تلاش کر لاؤ یہ مڑیں گے ادھر حجاب حائل ہوجائے گا۔ مسلمانوں کی جانب رحمت اور ان کے لئے زحمت، حدیث شریف میں ہے جو سنائے گا اللہ بھی اسے سنائے گا اور جو ریا کاری کرے گا اللہ بھی اسے ویسا ہی دکھائے گا۔ ایک اور حدیث میں ہے ان منافقوں میں وہ بھی ہوں گے کہ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرمائے گا کہ انہیں جنت میں لے جاؤ فرشتے لے جا کر دوزخ میں ڈال دیں گے اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ پھر ان منافقوں کی بد ذوقی کا حال بیان ہو رہا ہے کہ انہیں نماز جیسی بہترین عبادت میں بھی یکسوئی اور خشوع و خضوع نصیب نہیں ہوتا کیونکہ نیک نیتی حسن عمل، حقیقی ایمان، سچا یقین، ان میں ہے ہی نہیں حضرت ابن عباس تھکے ماندے بدن سے کسما کر نماز پڑھنا مکروہ جانتے تھے اور فرماتے تھے نمازی کو چاہئے کہ ذوق و شوق سے راضی خوشی پوری رغبت اور انتہائی توجہ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہو اور یقین مانے کہ اس کی آواز پر اللہ تعالیٰ کے کان ہیں، اسکی طلب پوری کرنے کو اللہ تعالیٰ تیار ہے، یہ تو ہوئی ان منافقوں کی ظاہری حالت کہ تھکے ہارے تنگ دلی کے ساتھ بطور بیگار ٹالنے کے نماز کے لئے آئے پھر اندرونی حالت یہ ہے کہ اخلاص سے کوسوں دور ہیں رب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے نمازی مشہور ہونے کے لئے لوگوں میں اپنے ایمان کو ظاہر کرنے کے لئے نماز پڑھ رہے ہیں، بھلا ان صنم آشنا دل والوں کو نماز میں کیا ملے گا ؟ یہی وجہ ہے کہ ان نمازوں میں جن میں لوگ ایک دوسرے کو کم دیکھ سکیں یہ غیر حاضر رہتے ہیں مثلاً عشاء کی نماز اور فجر کی نماز، بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے زیادہ بوجھل نماز منافقوں پر عشاء اور فجر کی ہے، اگر دراصل یہ ان نمازوں کے فضائل کے دل سے قائل ہوتے تو گھٹنوں کے بل بھی چل کر آنا پڑتا یہ ضرور آجاتے ہیں تو ارادہ کر رہا ہوں کہ تکبیر کہلوا کر کسی کو اپنی امامت کی جگہ کھڑا کر کے نماز شروع کرا کر کچھ لوگوں سے لکڑیاں اٹھوا کر ان کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور لکڑیاں ان کے گھروں کے اردگرد لگا کر حکم دوں کہ آگ لگا دو اور ان کے گھروں کو جلا دو ، ایک روایت میں ہے اللہ تعالیٰ کی قسم اگر انہیں ایک چرب ہڈی یا دو اچھے کھر ملنے کی امید ہو تو دوڑے چلے آئیں لیکن آخرت کی اور اللہ کے ثوابوں کی انہیں اتنی بھی قدر نہیں۔ اگر بال بچوں اور عورتوں کا جو گھروں میں رہتی ہیں مجھے خیال نہ ہوتا تو قطعاً میں ان کے گھر جلا دیتا، ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کی موجودگی میں نماز کو سنوار کر ٹھہر ٹھہر کر ادا کرے لیکن جب کوئی نہ ہو تو بری طرح نماز پڑھ لے یہ وہ ہے جس نے اپنے رب کی اہانت کی۔ …

An-Nisaa 4:142Listen in Qur'an →
143

مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ وَلَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًۭا

بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہ پاؤ گے

دو ریوڑ کے درمیان کی بکری سورة بقرہ کے شروع میں بھی (يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ) 2۔ البقرۃ :9) اسی مضمون کی گذر چکی ہے، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ یہ کم سمجھ منافق اس اللہ تعالیٰ کے سامنے چالیں چلتے ہیں جو سینوں میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے پوشیدہ رازوں سے آگاہ ہے۔ کم فہمی سے یہ خیال کئے بیٹھے ہیں کہ جس طرح ان کی منافقت اس دنیا میں چل گئی اور مسلمانوں میں ملے جلے رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پاس بھی یہ مکاری چل جائے گی۔ چناچہ قرآن میں ہے کہ قیامت کے دن بھی یہ لوگ اللہ خبیر وعلیم کے سامنے اپنی یک رنگی کی قسمیں کھائیں گے جیسے یہاں کھاتے ہیں لیکن اس عالم الغیب کے سامنے یہ ناکارہ قسمیں ہرگز کارآمد نہیں ہوسکتیں۔ اللہ بھی انہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے وہ ڈھیل دیتا ہے حوصلہ افزائی کرتا ہے یہ پھولے نہیں سماتے خوش ہوتے ہیں اور اپنے لئے اسے اچھائی سمجھتے ہیں، قیامت میں بھی ان کا یہی حال ہوگا مسلمانوں کے نور کے سہارے میں ہوں گے وہ آگے نکل جائیں گے یہ آوازیں دیں گے کہ ٹھہرو ہم بھی تمہاری روشنی میں چلیں جواب ملے گا کہ پیچھے مڑ جاؤ اور روشنی تلاش کر لاؤ یہ مڑیں گے ادھر حجاب حائل ہوجائے گا۔ مسلمانوں کی جانب رحمت اور ان کے لئے زحمت، حدیث شریف میں ہے جو سنائے گا اللہ بھی اسے سنائے گا اور جو ریا کاری کرے گا اللہ بھی اسے ویسا ہی دکھائے گا۔ ایک اور حدیث میں ہے ان منافقوں میں وہ بھی ہوں گے کہ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرمائے گا کہ انہیں جنت میں لے جاؤ فرشتے لے جا کر دوزخ میں ڈال دیں گے اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ پھر ان منافقوں کی بد ذوقی کا حال بیان ہو رہا ہے کہ انہیں نماز جیسی بہترین عبادت میں بھی یکسوئی اور خشوع و خضوع نصیب نہیں ہوتا کیونکہ نیک نیتی حسن عمل، حقیقی ایمان، سچا یقین، ان میں ہے ہی نہیں حضرت ابن عباس تھکے ماندے بدن سے کسما کر نماز پڑھنا مکروہ جانتے تھے اور فرماتے تھے نمازی کو چاہئے کہ ذوق و شوق سے راضی خوشی پوری رغبت اور انتہائی توجہ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہو اور یقین مانے کہ اس کی آواز پر اللہ تعالیٰ کے کان ہیں، اسکی طلب پوری کرنے کو اللہ تعالیٰ تیار ہے، یہ تو ہوئی ان منافقوں کی ظاہری حالت کہ تھکے ہارے تنگ دلی کے ساتھ بطور بیگار ٹالنے کے نماز کے لئے آئے پھر اندرونی حالت یہ ہے کہ اخلاص سے کوسوں دور ہیں رب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے نمازی مشہور ہونے کے لئے لوگوں میں اپنے ایمان کو ظاہر کرنے کے لئے نماز پڑھ رہے ہیں، بھلا ان صنم آشنا دل والوں کو نماز میں کیا ملے گا ؟ یہی وجہ ہے کہ ان نمازوں میں جن میں لوگ ایک دوسرے کو کم دیکھ سکیں یہ غیر حاضر رہتے ہیں مثلاً عشاء کی نماز اور فجر کی نماز، بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے زیادہ بوجھل نماز منافقوں پر عشاء اور فجر کی ہے، اگر دراصل یہ ان نمازوں کے فضائل کے دل سے قائل ہوتے تو گھٹنوں کے بل بھی چل کر آنا پڑتا یہ ضرور آجاتے ہیں تو ارادہ کر رہا ہوں کہ تکبیر کہلوا کر کسی کو اپنی امامت کی جگہ کھڑا کر کے نماز شروع کرا کر کچھ لوگوں سے لکڑیاں اٹھوا کر ان کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور لکڑیاں ان کے گھروں کے اردگرد لگا کر حکم دوں کہ آگ لگا دو اور ان کے گھروں کو جلا دو ، ایک روایت میں ہے اللہ تعالیٰ کی قسم اگر انہیں ایک چرب ہڈی یا دو اچھے کھر ملنے کی امید ہو تو دوڑے چلے آئیں لیکن آخرت کی اور اللہ کے ثوابوں کی انہیں اتنی بھی قدر نہیں۔ اگر بال بچوں اور عورتوں کا جو گھروں میں رہتی ہیں مجھے خیال نہ ہوتا تو قطعاً میں ان کے گھر جلا دیتا، ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کی موجودگی میں نماز کو سنوار کر ٹھہر ٹھہر کر ادا کرے لیکن جب کوئی نہ ہو تو بری طرح نماز پڑھ لے یہ وہ ہے جس نے اپنے رب کی اہانت کی۔ …

An-Nisaa 4:143Listen in Qur'an →
144

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْكَٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا۟ لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًا

اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟

کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) 3۔ آل عمران :28) مومنوں کو چاہئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہئے، ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہوگا اور پوری دلیل ہوگی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے درک درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں درک ہیں ایک سے ایک پست۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہوجائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہوگا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کرلیں نادم ہوجائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لئے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کرلو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوجائے گا، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بےنیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہوجائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے الا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کونسا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھر پور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر وثواب سے نہال کرے آمین)الحمد اللہ ! تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عالم بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر …

An-Nisaa 4:144Listen in Qur'an →
145

إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِى ٱلدَّرْكِ ٱلْأَسْفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا

کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے۔ اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) 3۔ آل عمران :28) مومنوں کو چاہئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہئے، ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہوگا اور پوری دلیل ہوگی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے درک درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں درک ہیں ایک سے ایک پست۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہوجائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہوگا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کرلیں نادم ہوجائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لئے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کرلو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوجائے گا، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بےنیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہوجائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے الا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کونسا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھر پور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر وثواب سے نہال کرے آمین)الحمد اللہ ! تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عالم بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر …

An-Nisaa 4:145Listen in Qur'an →
146

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِٱللَّهِ وَأَخْلَصُوا۟ دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًۭا

ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمانبردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا

کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) 3۔ آل عمران :28) مومنوں کو چاہئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہئے، ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہوگا اور پوری دلیل ہوگی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے درک درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں درک ہیں ایک سے ایک پست۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہوجائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہوگا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کرلیں نادم ہوجائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لئے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کرلو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوجائے گا، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بےنیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہوجائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے الا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کونسا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھر پور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر وثواب سے نہال کرے آمین)الحمد اللہ ! تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عالم بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر …

An-Nisaa 4:146Listen in Qur'an →
147

مَّا يَفْعَلُ ٱللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَءَامَنتُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًۭا

اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اور خدا تو قدرشناس اور دانا ہے

کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) 3۔ آل عمران :28) مومنوں کو چاہئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہئے، ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہوگا اور پوری دلیل ہوگی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے درک درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں درک ہیں ایک سے ایک پست۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہوجائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہوگا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کرلیں نادم ہوجائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لئے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کرلو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوجائے گا، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بےنیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہوجائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے الا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کونسا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھر پور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر وثواب سے نہال کرے آمین)الحمد اللہ ! تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عالم بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر …

An-Nisaa 4:147Listen in Qur'an →
148

۞ لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلْجَهْرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

مظلوم کو فریاد کا حق ہے حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کرلے تو افضل یہی ہے۔ ابو داؤد میں ہے " حضرت عائشہ صدیقہ کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول ﷺ نے یہ سن کر فرمایا ! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو ؟ " حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے دعا (اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ) یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے، آپ سے ایک اور روایت میں مروی ہے کہ اگرچہ مظلوم کے ظالم کو کو سنے کی رخصت ہے مگر یہ خیال رہے کہ حد سے نہ بڑھ جائے۔ عبدالکریم بن مالک جزری ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں " گالی دینے والے کو یعنی برا کہنے والے کو برا تو کہہ سکتے ہیں لیکن بہتان باندھنے والے پر بہتان نہیں باندھ سکتے۔ " ایک اور آیت میں ہے (وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ) 42۔ الشوری :41) جو مظلوم اپنے ظالم سے اس کے ظلم کا انتقام لے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " دو گالیاں دینے والوں کا وبال اس پر ہے، جس نے گالیاں دینا شروع کیا۔ ہاں اگر مظلوم حد سے بڑھ جائے تو اور بات ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جو شخص کسی کے ہاں مہمان بن کر جائے اور میزبان اس کا حق مہمانی ادا نہ کرے تو اسے جائز ہے کہ لوگوں کے سامنے اپنے میزبان کی شکایت کرے، جب تک کہ وہ حق ضیافت ادا نہ کرے۔ ابو داؤد، ابن ماجہ وغیرہ میں ہے " صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ آپ ہمیں ادھر ادھر بھیجتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ ہماری مہمانداری نہیں کرتے " آپ نے فرمایا " اگر وہ میزبانی کریں تو درست، ورنہ تم ان سے لوازمات میزبانی خود لے لیا کرو۔ مسند احمد کی روایت میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " جو مسلمان کسی اہل قبلہ کے ہاں مہمان بن کر جائے اور ساری رات گذر جائے لیکن وہ لوگ اس کی مہمانداری نہ کریں تو ہر مسلمان پر اس مہمان کی نصرت ضروری ہے تاکہ میزبان کے مال سے اس کی کھیتی سے بقدر مہمانی دلائیں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے " ضیافت کی رات ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر کوئی مسافر صبح تک محروم رہ جائے تو یہ اس میزبان کے ذمہ قرض ہے، خواہ ادا کرے خواہ باقی رکھے " ان احادیث کی وجہ سے امام احمد ؒ وغیرہ کا مذہب ہے کہ ضیافت واجب ہے، ابو داؤد شریف وغیرہ میں ہے " ایک شخص سرکار رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے میرا پڑوسی بہت ایذاء پہنچاتا ہے، آپ نے فرمایا ایک کام کرو، اپنا کل مال اسباب گھر سے نکال کر باہر رکھ دو۔ اس نے ایسا ہی کیا راستے پر اسباب ڈال کر وہیں بیٹھ گیا، اب جو گذرتا وہ پوچھتا کیا بات ہے ؟ یہ کہتا میرا پڑوسی مجھے ستاتا ہے میں تنگ آگیا ہوں، راہ گزر اسے برا بھلا کہتا، کوئی کہتا رب کی مار اس پڑوسی پر۔ کوئی کہتا اللہ غارت کرے اس پڑوسی کو، جب پڑوسی کو اپنی اس طرح کی رسوائی کا حال معلوم ہوا تو اس کے پاس آیا، منتیں کر کے کہا " اپنے گھر چلو اللہ کی قسم اب مرتے دم تک تم کو کسی طرح نہ ستاؤں گا۔ " پھر ارشاد ہے کہ اے لوگو تم کسی نیکی کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو تم پر کسی نے ظلم کیا ہو اور تم اس سے درگزر کرو تو اللہ کے پاس تمہارے لئے بڑا ثواب، پورا اجر اور اعلیٰ درجے ہیں۔ خود وہ بھی معاف کرنے والا ہے اور بندوں کی بھی یہ عادت اسے پسند ہے، وہ انتقام کی قدرت کے باوجود معاف فرماتا رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ " عرش کو اٹھانے والے فرشتے اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ " بعض تو کہتے ہیں " دعا (سبحانک علی حلمک بعد علمک) یا اللہ تیری ذات پاک ہے کہ تو باوجود جاننے کے پھر بھی برد باری …

An-Nisaa 4:148Listen in Qur'an →
149

إِن تُبْدُوا۟ خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا۟ عَن سُوٓءٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّۭا قَدِيرًا

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنے والا (اور) صاحب قدرت ہے

مظلوم کو فریاد کا حق ہے حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کرلے تو افضل یہی ہے۔ ابو داؤد میں ہے " حضرت عائشہ صدیقہ کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول ﷺ نے یہ سن کر فرمایا ! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو ؟ " حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے دعا (اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ) یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے، آپ سے ایک اور روایت میں مروی ہے کہ اگرچہ مظلوم کے ظالم کو کو سنے کی رخصت ہے مگر یہ خیال رہے کہ حد سے نہ بڑھ جائے۔ عبدالکریم بن مالک جزری ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں " گالی دینے والے کو یعنی برا کہنے والے کو برا تو کہہ سکتے ہیں لیکن بہتان باندھنے والے پر بہتان نہیں باندھ سکتے۔ " ایک اور آیت میں ہے (وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ) 42۔ الشوری :41) جو مظلوم اپنے ظالم سے اس کے ظلم کا انتقام لے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " دو گالیاں دینے والوں کا وبال اس پر ہے، جس نے گالیاں دینا شروع کیا۔ ہاں اگر مظلوم حد سے بڑھ جائے تو اور بات ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جو شخص کسی کے ہاں مہمان بن کر جائے اور میزبان اس کا حق مہمانی ادا نہ کرے تو اسے جائز ہے کہ لوگوں کے سامنے اپنے میزبان کی شکایت کرے، جب تک کہ وہ حق ضیافت ادا نہ کرے۔ ابو داؤد، ابن ماجہ وغیرہ میں ہے " صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ آپ ہمیں ادھر ادھر بھیجتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ ہماری مہمانداری نہیں کرتے " آپ نے فرمایا " اگر وہ میزبانی کریں تو درست، ورنہ تم ان سے لوازمات میزبانی خود لے لیا کرو۔ مسند احمد کی روایت میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " جو مسلمان کسی اہل قبلہ کے ہاں مہمان بن کر جائے اور ساری رات گذر جائے لیکن وہ لوگ اس کی مہمانداری نہ کریں تو ہر مسلمان پر اس مہمان کی نصرت ضروری ہے تاکہ میزبان کے مال سے اس کی کھیتی سے بقدر مہمانی دلائیں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے " ضیافت کی رات ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر کوئی مسافر صبح تک محروم رہ جائے تو یہ اس میزبان کے ذمہ قرض ہے، خواہ ادا کرے خواہ باقی رکھے " ان احادیث کی وجہ سے امام احمد ؒ وغیرہ کا مذہب ہے کہ ضیافت واجب ہے، ابو داؤد شریف وغیرہ میں ہے " ایک شخص سرکار رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے میرا پڑوسی بہت ایذاء پہنچاتا ہے، آپ نے فرمایا ایک کام کرو، اپنا کل مال اسباب گھر سے نکال کر باہر رکھ دو۔ اس نے ایسا ہی کیا راستے پر اسباب ڈال کر وہیں بیٹھ گیا، اب جو گذرتا وہ پوچھتا کیا بات ہے ؟ یہ کہتا میرا پڑوسی مجھے ستاتا ہے میں تنگ آگیا ہوں، راہ گزر اسے برا بھلا کہتا، کوئی کہتا رب کی مار اس پڑوسی پر۔ کوئی کہتا اللہ غارت کرے اس پڑوسی کو، جب پڑوسی کو اپنی اس طرح کی رسوائی کا حال معلوم ہوا تو اس کے پاس آیا، منتیں کر کے کہا " اپنے گھر چلو اللہ کی قسم اب مرتے دم تک تم کو کسی طرح نہ ستاؤں گا۔ " پھر ارشاد ہے کہ اے لوگو تم کسی نیکی کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو تم پر کسی نے ظلم کیا ہو اور تم اس سے درگزر کرو تو اللہ کے پاس تمہارے لئے بڑا ثواب، پورا اجر اور اعلیٰ درجے ہیں۔ خود وہ بھی معاف کرنے والا ہے اور بندوں کی بھی یہ عادت اسے پسند ہے، وہ انتقام کی قدرت کے باوجود معاف فرماتا رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ " عرش کو اٹھانے والے فرشتے اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ " بعض تو کہتے ہیں " دعا (سبحانک علی حلمک بعد علمک) یا اللہ تیری ذات پاک ہے کہ تو باوجود جاننے کے پھر بھی برد باری …

An-Nisaa 4:149Listen in Qur'an →
150

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍۢ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍۢ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا۟ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے ! اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہما کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع ؑ کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، حضرت یوشع حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کے خلیفہ تھے، مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ واللہ اعلم۔ پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی کسی نبی کو مانا، کسی سے انکار کردیا۔ کسی ربانی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی نفسانی خواہش جوش تعصب اور تقلید آبائی کی وجہ سے، اس سے یہ بھی معلم ہوا کہ ایک نبی کو نہ ماننے والا اللہ کے نزدیک تمام نبیوں کا منکر ہے، اس لئے کہ اگر اور انبیاء کو بوجہ نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اسپر ضروری تھا، جب وہ ایک کو نہیں مانتا تو معلوم ہوا کہ جنہیں وہ مانتا ہے انہیں بھی کسی دنیاوی غرض اور ہواؤں کی وجہ سے مانتا ہے، ان کا شریعت ماننا یا نہ ماننا دونوں بےمعنی ہے، ایسے لوگ حتماً اور یقینا کافر ہیں، کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں، پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی آمیز عذاب کئے جائیں گے۔ کیونکہ جن پر یہ ایمان نہ لا کر ان کی توہین کرتے تھے اس کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی توہین ہو اور انہیں ذلت والے عذاب میں ڈالا جائے گا، ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ خواہ غور و فکر کے بغیر نبوت کی تصدیق نہ کرنا ہو، خواہ حق واضح ہو چکنے کے بعد دنیوی وجہ سے منہ موڑ کر نبوت سے انکار کرنا ہو، جیسے اکثر یہودی علماء کا شیوہ حضور ﷺ کے بارے میں تھا کہ محض حسد کی وجہ سے آپ کی عظیم الشان نبوت کے منکر تھے اور آپ کی مخالفت اور عداوت میں آ کر مقابلے پر تل گئے، پس اللہ نے ان پر دنیا کی ذلت بھی مسلط کردی اور آخرت کی ذلت کی مار بھی ان کے لئے تیار کر رکھی۔ پھر امت محمد ﷺ کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء (علیہم السلام) کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی الہامی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے (کل امن باللہ) پھر ان کے لئے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر وثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سر زد ہوگیا تو اللہ معاف فرما دے گا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے۔

An-Nisaa 4:150Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.