وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًۭا
اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے
آیت 131 وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَاِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ ط احکام شریعت کی تعمیل کے سلسلے میں اصل جذبۂ محرکہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے بغیر شریعت بھی مذاق بن جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کے ایک خطبہ کے یہ الفاظ بہت مشہور ہیں اور خطبات جمعہ میں بھی اکثر انہیں شامل کیا جاتا ہے : اُوْصِیْکُمْ وَنَفْسِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ 1 مسلمانو ! میں تمہیں بھی اور اپنے نفس کو بھی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیّت کرتا ہوں۔ قرآن حکیم میں جابجا اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سورة التحریم میں ارشاد ہے : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا آیت : 6 اے ایمان والو ‘ بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے۔ یہاں بھی تقویٰ کا حکم انتہائی تاکید کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔