Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 131–140 of 176

131

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًۭا

اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے

(آیت) ” 131 تا 134۔

قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔

(آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131)

(آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو)

واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔

(آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133)

(لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ )

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔

اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔

یہ آیات …

An-Nisaa 4:131Listen in Qur'an →
132

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

اور (پھر سن رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا کارساز کافی ہے

(آیت) ” 131 تا 134۔

قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔

(آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131)

(آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو)

واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔

(آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133)

(لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ )

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔

اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔

یہ آیات …

An-Nisaa 4:132Listen in Qur'an →
133

إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا ٱلنَّاسُ وَيَأْتِ بِـَٔاخَرِينَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًۭا

لوگو! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔اور خدا اس بات پر قادر ہے

(آیت) ” 131 تا 134۔

قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔

(آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131)

(آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو)

واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔

(آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133)

(لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ )

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔

اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔

یہ آیات …

An-Nisaa 4:133Listen in Qur'an →
134

مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ ثَوَابُ ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًۭا

جو شخص دنیا (میں عملوں) کی جزا کا طالب ہو تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت (دونوں) کے لئے اجر (موجود) ہیں۔ اور خدا سنتا دیکھتا ہے

(آیت) ” 131 تا 134۔

قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔

(آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131)

(آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو)

واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔

(آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133)

(لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ )

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔

اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔

یہ آیات …

An-Nisaa 4:134Listen in Qur'an →
135

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ بِٱلْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَوِ ٱلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًۭا فَٱللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلْهَوَىٰٓ أَن تَعْدِلُوا۟ ۚ وَإِن تَلْوُۥٓا۟ أَوْ تُعْرِضُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمہارا یا تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدا شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

درس نمبر 24 ایک نظر میں :

یہ سبق بھی امت مسلمہ کے لئے دست قدرت کی تربیت کا ایک نمونہ ہے جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہ ایک اچھی امت ہے اور جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے ۔ یہ سبق بھی اس اسلامی نظام زندگی کی ایک اہم کڑی ہے جو نہایت ہی مستحکم نظام ہے ۔ جس کے مقاصد اور اہداف متعین ہیں اور یہ نظام نفس انسانی کی بہتری کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔ اس کے ذریعے نفس انسانی کا اس طرح علاج کیا گیا ہے کہ جس دست قدرت نے ذات انسان کو بنایا ہے ‘ وہی اس کی کمزوریوں کا علاج بھی کر رہا ہے ۔ یہ علاج اس لئے کامیاب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس ممتاز مخلوق اور صنعت کے پرزے پرزے سے واقف ہے ‘ یہ اس کی حقیقت اور ماہیت کو اچھی طرح جانتا ہے اس کے رجحانات ومیلانات سے واقف ہے اور اس کی ضروریات اور اس کے اندر پوشیدہ ترین صلاحیتوں اور کمزوریوں سے بھی آگاہی رکھتا ہے ۔

اس سبق میں اسلامی نظام حیات کے اصول ‘ نہایت ہی اٹل اصول بتائے گئے ہیں جو مستقل ہیں ۔ ہر دور ‘ ہر جگہ اور ہر زمانے کے لئے ہیں تاکہ انسانیت کو جاہلیت کی پستیوں سے بلند کر کے نہایت اونچی بلندیوں تک پہنچائے اور جہان تک انسان ترقی کرچکا ہو اس سے اسے مزید آگے بڑھائے ۔ ان اصولوں کے ساتھ ساتھ اس سبق میں پہلی جماعت مسلمہ کے بھی کچھ خدوخال بیان کئے گئے ہیں جو اس قرآن کی پہلی مخاطب جماعت تھی ۔ ان آیات کے آئینے کے اندر پہلی تحریک اسلامی نہایت ہی خوبصرتی کے ساتھ بحیثیت ایک انسانی جماعت نظر آتی ہے ۔ اس میں بشری کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں اور اعلی پاکیزگی کا میعار بھی نظر آتا ہے ۔ اس جماعت کے اندر جاہلی دور کی باقیات اور فطری کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ قرآن کریم اس جماعت کی تربیت کرتے ہوئے ایک ایک کمزوری کو لیتا ہے اور ان کا علاج کرتا ہے ‘ پھر اس جماعت کو تقویت دے کر اسے ایک مثالی جماعت بنا رہا ہے ۔ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ سچائی پر جم جائیں اور راہ حق میں جدوجہد کریں اور قربانیاں دیں ۔

سبق کا آغاز اس پکار سے کیا جاتا ہے جو جماعت مسلمہ کے نام ہے اسے کہا جاتا ہے کہ تم خیر امت ہو اور اس دنیا میں تمہارا ایک مقرر کردار ہے ‘ اسے ادا کرنے کے لئے کمر باندھو اور دنیا میں عدل و انصاف کا وہ معیار قائم کرو جو انسانیات کی تاریخ کا سب سے اونچا معیار اور مثالی عدل ہو ۔ اور عدل قائم کرنے میں تمہارا مطح نظر اور نصب العین ذات باری کی رضا کا حصول ہو ‘ اور اس معاملے میں کسی اور جذبے ‘ کسی اور خواہش اور کسی اور مصلحت کو پیش نظر مت رکھو ۔ اس معاملے میں خود اپنی جماعت ‘ اپنی حکومت اور اپنی امت (NAtion) کے مفادات کو بھی پیش نظر نہ رکھو ۔ اس میں خدا ترسی اور رضائے الہی کے سوا تمہارے پیش نظر کوئی اور جذبہ نہ ہو ۔ امت نے فی الواقعہ ایسا کیا اور اس کا ایک نمونہ ایک یہودی کے اوپر جھوٹے الزام کے واقعہ کی شکل میں خود قرآن کریم نے ریکارڈ کیا اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو بذریعہ وحی انصاف کرنے کی تنبیہ اور تاکید کی جس کا تذکرہ ہم تفصیلا کر آئے ہیں ۔

سبق کا آغاز اس حکم سے ہوتا ہے کہ عدل کرو ‘ مطلق اور خالص عدل کرو۔ مطلق اور خالص عدل کس قدر مشکل کام ہے ‘ اس کو رب کائنات ہی جانتا ہے ۔ جس نے انسان کو پیدا کیا ۔ رب کو معلوم ہے کہ اس راہ میں کیا کیا مشکلات پیش آتی ہیں ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان میں کمزوری کے کیا کیا پہلو ہیں ۔ انسان کے جذبات اس کی ذات کے لئے اور اقارب کے لئے کمزوروں اور زبردستوں کے لئے خصوصا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے ‘ فقراء اور اغنیاء کے لئے ‘ دوست اور دشمن کے لئے کیسے ہیں ۔ اس کے علاوہ دوسرے بیشمار جذبات اور یہ سب کے سب یا ان میں کوئی ایک بات عدل کے معاملے میں اثرانداز ہو سکتی ہے اور ان کو نظر انداز کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے ۔ یہ کام اسی طرح مشکل ہے جس طرح ایک آدمی نہایت ہی عمودی چڑھائی پر چڑھ رہا ہو اور اس …

An-Nisaa 4:135Listen in Qur'an →
136

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلَّذِى نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

مومنو! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنی پیغمبر (آخرالزماں) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ۔ اور جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روزقیامت سے انکار کرے وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑا

(آیت) ” نمبر 136۔

یہ ایک دوسری پکار ہے ‘ جو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور یہاں اس صفت اور لقب کے ساتھ ان کو آواز دی گئی ہے جو ان کو ان کے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیت سے ممتاز کرتی ہے ۔ یہ صفت ان کے واجبات وفرائض کا تعین کرتی ہے اور ان کو اس منبع اور ذریعے سے مربوط کرتی ہے جو ان کی قوت اور برتری کا اصل ماخذ (Source) ہے جس ماخذ سے وہ تمام قوتیں اور ہمتیں حاصل کرتے ہیں ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ والکتب الذی انزل من قبل (4 : 136) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کرچکا ہے ۔ )

یہاں ایمان کے عناصر ترکیبی کو بیان کیا گیا ہے ۔ یہ وہ امور ہیں جن کا ہر شخص کے ایمان اور عقیدے میں موجود ہونا ضروری ہے ۔ گویا یہ وہ اساس ہے جس پر ایمان کے اعتقادی تصورات قائم ہوتے ہیں ۔ اللہ پر ایمان اور رسولوں پر ایمان انسان کو اس ذات سے مربوط کردیتا ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اللہ نے پھر رسول کو بھیجا ہے تاکہ وہ انسان کو ہدایت دے ایمان بالرسالت میں یہ امر شامل ہے کہ رسول اللہ نے اللہ کی جانب سے جو پیغام دیا ہے وہ صحیح دیا ہے ۔

ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت کا لازمی نتیجہ صدق ایمانی ہے ۔ اللہ نے جو کتاب رسول کے ذریعہ ارسال کی ہے وہ بالکل سچی ہے ۔ اس کتاب کے اندر اللہ نے انسانوں کو زندگی بسر کرنے کے تمام طریقے بتائے ہیں اور یہ کتاب تمام اہل ایمان کے درمیان ایک مشترکہ رابطہ ہے اور انسانوں کے اس پوری کتاب کو بطور ہدایت لینا ہے ۔ یہ جائز نہیں کہ اس میں سے بعض امور کو لے لیا جائے اور نافذ کیا جائے اور اس کے بعض حصوں کو چھوڑ دیا جائے ۔

ایمان کے اساسی عناصر میں تمام کتب سابقہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ اس لئے کہ سابقہ انبیاء بھی اللہ کے رسول تھے اور وہ کتب بھی اللہ کی کتابیں تھیں اور ان سب میں جو نظام زندگی تجویز ہوا تھا وہ اسلام ہی تھا ۔ سب کی تعلیم یہ تھی کہ اللہ ہی الہ ہے الوہیت کے تمام خصائص کے اندر اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے اور سب کی تعلیم یہ تھی کہ اس نظام زندگی کی اطاعت اور نفاذ واجب ہے اور اللہ کی وحدانیت کے عقیدے کا یہ تقاضا بھی ہے کہ یہ کتب اپنی تحریف سے قبل سب کی سب اللہ کی طرف سے تھیں ۔ ان میں ایک ہی نظام درج تھا اور بشر کے بارے میں سب کے اندر اللہ ہی کا ارادہ درج تھا ۔ ایک ہی راستہ تھا جو صراط مستقیم تھا اور باقی تمام راستے اس کے اردگرد ناقص اور ٹیڑھے تھے ۔

تمام کتابوں پر ایمان لانے کا مقصد یہ ہے کہ دراصل تمام کتب ایک ہی کتاب ہے جو الکتاب ہے ۔ اور یہ وحدت فکر صرف امت مسلمہ کی خصوصیت ہے ۔ اس کا تصور یہ ہے کہ تمام کتب سماوی ایک کتاب ہے ‘ تمام ادیان سماوی ایک دین ہے ان کے اندر بیان کردہ بابطہ ایک نظام ہے اور طریق کار بھی ایک ہے ۔ یہی تصور حقیقت الوہیت کے ساتھ حقیقی لگا کھاتا ہے اور یہی بشریت کے لئے بھی درست ہے ۔ یہ تصورثابت کرتا ہے کہ سچائی ایک ہوتی ہے اور سچائی میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ گمراہی ہے ۔ (آیت) ” (فما ذا بعدالحق الا الضلال) ایمان لانے کا حکم دینے کے بعد ایک سخت تنبیہ آتی ہے یہ کہ ان عناصر ایمان میں سے کسی کا انکار ہر گز قابل برداشت نہیں ہے اور منفی بیان کے اندر بھی عناصر ایمان کی پوری تفصیل دے دی گئی ۔

(آیت) ” ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضلا بعیدا (4 : 136) (جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا اور گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا) پہلی آیت میں ایمان باللہ اور ایمان بالکتب اور ایمان بالرسل کا ذکر کیا گیا اور ملائکہ کا ذکر نہ تھا ۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی کتابوں میں …

An-Nisaa 4:136Listen in Qur'an →
137

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًۭا لَّمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًۢا

جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا

(آیت) ” نمبر 137۔

وہ کفر جو ایمان سے پہلے ہو ‘ اس کے آثار کو ایمان بالکل مٹا دیتا ہے جس شخص نے کبھی روشنی دیکھی ہی نہ ہو وہ اگر اندھیرے میں رہتا ہے تو وہ معذور ہے ۔ لیکن ایمان کے بعد کفر کا رویہ اختیار کرنا اور بار بار ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے ‘ اس قدر بڑا گناہ کہ اللہ تعالیٰ ہر گز اس کی مغفرت نہ کرے گا اور نہ اس حرکت کا کوئی عذر ہو سکتا ہے ۔ کفر تو ایک حجاب ہے ‘ جب پردہ ہٹ جائے تو فطرت اپنے خالق کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے اور گمراہ شخص پھر سے ساتھ مل جاتا ہے ۔ پودا اپنی نرسری میں آجاتا ہے اور روح ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیتی ہے اس لئے جو لوگ ایمان کے بعد بار بار مرتد ہوتے ہیں گویا وہ فطرت سے بھاگتے ہیں ‘ علم سے بھاگتے ہیں اور عمدا جہالت میں گرتے ہیں اور وہ عمدا راہ ضلالت اور گم شدگی پر چل نکلتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس راہ پر اس قدر دور نکل جاتے ہیں کہ آگے سے راہ ہی ختم ہوجاتی ہے ۔

یہ وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ اب وہ انہیں معاف نہ کرے گا اور اب وہ انہیں دوبارہ لوٹا کر راہ ہدایت پر نہ لائے گا اس لئے کہ انہوں نے قصدا راہ حق کو چھوڑا پہلے وہ اس راہ پر چل چکے تھے اور منزل پا چکے تھے ۔ انہوں نے قصدا اندھے پن اور برائی کو اختیار کیا جبکہ پہلے وہ صاحب نظر تھے اور صراط مستقیم کے راہ رو تھے ۔

جب تک نفس انسانی اللہ کے لئے خالص نہ ہوجائے ‘ اس وقت تک وہ اوضاع واقدار اور مصالح اور مفادات کے دباؤ سے آزاد نہیں ہو سکتا ۔ نہ وہ حرص اور لالچ سے پاک ہو سکتا ہے اور نہ وہ مصلحتوں اور امیدوں سے پاک ہو سکتا ہے ۔ اور یہ نفس کبھی بھی عزت نفس ‘ بلندی ‘ ہمت اور آزادی سے سرشار نہیں ہوسکتا جس طرح وہ نفس ہوتا ہے جو محبت الہی سے بھرا ہوا ہو ۔ جب کوئی دل محبت الہی سے بھر جائے تو وہ دنیاوی اقدار ‘ دنیاوی طور طریقوں ‘ دنیا کے واقعات ‘ دنیا کے لوگوں ‘ دنیا میں پائے جانے والی تمام قوتوں ‘ حکومتوں اور ان کے اہالی وموالی کے مقابلے میں برتر ہوتا ہے ۔

یہاں سے پھر نفاق کا پودا پھوٹتا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ نفاق کی حقیقت کیا ہے ؟ نفاق صرف یہ ہے کہ انسان سچائی پر بظاہر تو ثابت ہوجائے مگر اس کے لئے لڑنے اور باطل کے ساتھ مقابلہ کرنے میں ضعیف ہو ۔ یہ ضعف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں خوف اور لالچ پیدا ہوجاتا ہے اور یہ خوف اور لالچ دونوں اللہ سے نہیں ہوتے بلکہ غیر اللہ سے ہوتے ہیں ۔ انسان پھر زمین کے حالات اور زمین کی شخصیات کا قیدی بن جاتا ہے اور اسلامی نظام سے دور ہوجاتا ہے ۔

لہذا اس سبق میں ایمان کی بات بھی ہونی ہے ‘ قیام شہادت اور عدل کی بات بھی ہوئی اور نفاق کی بات بھی ہوئی اور تینوں کے درمیان گہرا ربط ہے ۔ عمومی مناسبت تو یہ ہے کہ یہی اس سورة کے اصل موضوعات ہیں یعنی جماعت مسلمہ کی اسلامی نظام حیات میں تربیت اور اس کی اجتماعی زندگی سے جاہلیت کے آثار کو مٹانا ‘ جماعت کے افراد کے نفوس کو بشری فطری کمزوریوں کے مقابلے میں تیار کرنا اور پھر اسے اردگرد پھیلے ہوئے مشرکین اور منافقین کے ساتھ ہونے والے معرکے کے اندر اتارنا ۔ اس پوری سورة کے اندر یہی مرکزی مضمون ہے جس کے اردگرد یہ سورة گھومتی ہے ’ اول سے آخر تک ۔

یہی وجہ ہے کہ اس سبق کے باقی ماندہ حصے میں بات منافقین تک محدود ہے اور اس پر یہ پارہ بھی ختم ہوتا ہے جبکہ اس سے قبل منافقین کی ایک خاص جماعت کا تذکرہ ہوا کہ وہ بار بار اعلان اسلام کرتے ہیں اور پھر کفر کرتے ہیں ۔ چناچہ اب یہاں سے منافقین پر تنقید شروع ہوتی ہے جن کے بارے میں قرآن نے تفصیلات بیان کردی ہیں اور مختلف انداز میں ان کی بیماری کا مطالعہ کیا ہے تاکہ اسلامی نظام کا مزاج اچھی طرح سامنے آجائے فطرت کے مطابق اس پر عمل ہو اور دلوں میں اور عمل میں اسلامی نظام واضح طور پر نظر آئے ۔

An-Nisaa 4:137Listen in Qur'an →
138

بَشِّرِ ٱلْمُنَٰفِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

(اے پیغمبر) منافقوں (یعنی دو رخے لوگوں) کو بشارت سناد دو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

(آیت) ” 138 تا 143۔

منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔

(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)

(جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ )

یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔

اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔

یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟

کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ …

An-Nisaa 4:138Listen in Qur'an →
139

ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلْكَٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلْعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًۭا

جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے

(آیت) ” 138 تا 143۔

منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔

(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)

(جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ )

یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔

اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔

یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟

کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ …

An-Nisaa 4:139Listen in Qur'an →
140

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَٰبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا۟ مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦٓ ۚ إِنَّكُمْ إِذًۭا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلْمُنَٰفِقِينَ وَٱلْكَٰفِرِينَ فِى جَهَنَّمَ جَمِيعًا

اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے

(آیت) ” 138 تا 143۔

منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔

(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)

(جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ )

یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔

اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔

یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟

کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ …

An-Nisaa 4:140Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.