Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 121–130 of 176

121

أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًۭا

ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے

آیت 121 اُولٰٓءِکَ مَاْوٰٹہُمْ جَہَنَّمُز وَلاَ یَجِدُوْنَ عَنْہَا مَحِیْصًا ۔وہاں سے بھاگنے کا انہیں کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ دوسری طرف اہل ایمان کی شان کیا ہوگی ‘ اگلی آیت میں اس کی تفصیل ہے۔ دو گروہوں یا دو پہلوؤں کے درمیان فوری تقابل simultaneous contrast کا یہ انداز قرآن میں ہمیں جگہ جگہ نظر آتا ہے۔

An-Nisaa 4:121Listen in Qur'an →
122

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّۭا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِيلًۭا

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے

آیت 122 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔

An-Nisaa 4:122Listen in Qur'an →
123

لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَآ أَمَانِىِّ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوٓءًۭا يُجْزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدْ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا

(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار

آیت 123 لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ ط۔تنبیہہ آگئی کہ تمہارے اندر بھی بلا جواز اور بےبنیاد خواہشات پیدا ہوجائیں گی۔ یہود و نصاریٰ کی طرح تم لوگ بھی بڑی دل خوش کن آرزوؤں wishful thinkings کے عادی ہوجاؤ گے ‘ شفاعت کی امید پر تم بھی حرام خوریاں کرو گے ‘ اللہ کی نا فرمانیاں جیسی کچھ انہوں نے کی تھیں تم بھی کرو گے۔ لیکن جان لو کہ اللہ کا قانون اٹل ہے ‘ بدلے گا نہیں۔ تمہاری خواہشات سے ‘ تمہاری آرزوؤں سے اور تمہاری تمناؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اہل کتاب کی خواہشات سے کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ :مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَ بِہٖلا اگرچہ اللہ کے ہاں اس قانون میں نرمی کا ایک پہلو موجود ہے ‘ لیکن اپنی جگہ یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ بعض اوقات بدی کی جگہ پر نیکی اس کے منفی اثرات کو دھو دیتی ہے ‘ لیکن اس آیت کی رو سے برائی کا حساب تو ہو کر رہنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان سے جس بدی کا ارتکاب ہوتا ہے وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے ‘ اس کا احتساب ہو کر رہے گا۔ اگر کسی کی نیکی نے اس کی بدی کو چھپا بھی لیا ‘ کسی نے غلطی کی اور پھر صدق دل سے توبہ کرلی تو اس کے سبب اس کی بدی کے اثرات جاتے رہے ‘ لیکن معاملہ account for ضرور ہوگا۔ توبہ کو دیکھا جائے گا ‘ کہ آیا توبہ واقعتا سچی تھی ؟ توبہ کرنے والا اپنے کیے پر نادم ہوا تھا ؟ واقعی اس نے عادت بد کو چھوڑ دیا تھا ؟ یا صرف زبان سے اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِکی گردان ہو رہی تھی اور ساتھ نافرمانی اور حرام خوری بھی جوں کی توں چل رہی تھی۔ تو احتساب کے کٹہرے میں ہر شخص اور ہر معاملے کو لایا جائے گا اور کھرا کھوٹا دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر جو مجرم پایا گیا ‘ اسے اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔

An-Nisaa 4:123Listen in Qur'an →
124

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًۭا

اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

آیت 123 لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ ط۔تنبیہہ آگئی کہ تمہارے اندر بھی بلا جواز اور بےبنیاد خواہشات پیدا ہوجائیں گی۔ یہود و نصاریٰ کی طرح تم لوگ بھی بڑی دل خوش کن آرزوؤں wishful thinkings کے عادی ہوجاؤ گے ‘ شفاعت کی امید پر تم بھی حرام خوریاں کرو گے ‘ اللہ کی نا فرمانیاں جیسی کچھ انہوں نے کی تھیں تم بھی کرو گے۔ لیکن جان لو کہ اللہ کا قانون اٹل ہے ‘ بدلے گا نہیں۔ تمہاری خواہشات سے ‘ تمہاری آرزوؤں سے اور تمہاری تمناؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اہل کتاب کی خواہشات سے کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ :مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَ بِہٖلا اگرچہ اللہ کے ہاں اس قانون میں نرمی کا ایک پہلو موجود ہے ‘ لیکن اپنی جگہ یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ بعض اوقات بدی کی جگہ پر نیکی اس کے منفی اثرات کو دھو دیتی ہے ‘ لیکن اس آیت کی رو سے برائی کا حساب تو ہو کر رہنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان سے جس بدی کا ارتکاب ہوتا ہے وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے ‘ اس کا احتساب ہو کر رہے گا۔ اگر کسی کی نیکی نے اس کی بدی کو چھپا بھی لیا ‘ کسی نے غلطی کی اور پھر صدق دل سے توبہ کرلی تو اس کے سبب اس کی بدی کے اثرات جاتے رہے ‘ لیکن معاملہ account for ضرور ہوگا۔ توبہ کو دیکھا جائے گا ‘ کہ آیا توبہ واقعتا سچی تھی ؟ توبہ کرنے والا اپنے کیے پر نادم ہوا تھا ؟ واقعی اس نے عادت بد کو چھوڑ دیا تھا ؟ یا صرف زبان سے اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِکی گردان ہو رہی تھی اور ساتھ نافرمانی اور حرام خوری بھی جوں کی توں چل رہی تھی۔ تو احتساب کے کٹہرے میں ہر شخص اور ہر معاملے کو لایا جائے گا اور کھرا کھوٹا دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر جو مجرم پایا گیا ‘ اسے اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔

An-Nisaa 4:124Listen in Qur'an →
125

وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًۭا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌۭ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۗ وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبْرَٰهِيمَ خَلِيلًۭا

اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا

آیت 125 وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ اللہ کی بندگی میں خوبصورتی لا کر ‘ خلوص اور للہیت کے ساتھ ‘ پورے دین کا اتباع کر کے ‘ تفریق بین الدّین سے بچ کر اور Total submission کے ذریعے سے اس نے احسان کے درجے تک رسائی حاصل کرلی۔ ِ ّ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط اور اس نے پیروی کی دین ابراہیم علیہ السلام کی یکسو ہو کر یا پیروی کی اس ابراہیم علیہ السلام کے دین کی ‘ جو یکسو تھا۔

An-Nisaa 4:125Listen in Qur'an →
126

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍۢ مُّحِيطًۭا

اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے

آیت 125 وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ اللہ کی بندگی میں خوبصورتی لا کر ‘ خلوص اور للہیت کے ساتھ ‘ پورے دین کا اتباع کر کے ‘ تفریق بین الدّین سے بچ کر اور Total submission کے ذریعے سے اس نے احسان کے درجے تک رسائی حاصل کرلی۔ ِ ّ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط اور اس نے پیروی کی دین ابراہیم علیہ السلام کی یکسو ہو کر یا پیروی کی اس ابراہیم علیہ السلام کے دین کی ‘ جو یکسو تھا۔

An-Nisaa 4:126Listen in Qur'an →
127

وَيَسْتَفْتُونَكَ فِى ٱلنِّسَآءِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَٰبِ فِى يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّٰتِى لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلْوِلْدَٰنِ وَأَن تَقُومُوا۟ لِلْيَتَٰمَىٰ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمًۭا

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

اب جو آیات آرہی ہیں ان میں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے لیکن ان کی حیثیت استدراک کی ہے اور ان کا تعلق اس سورة کی ابتدائی آیات کے ساتھ ہے۔ سورة النساء کے آغاز میں خواتین کے مسائل کے بارے میں کچھ احکام نازل ہوئے تھے ‘ جن میں یتیم بچیوں سے نکاح کے بارے میں بھی معاملات زیر بحث آئے تھے اور کچھ طلاق وغیرہ کے مسائل تھے۔ اس میں کچھ نکات لوگوں کے لیے وضاحت طلب تھے ‘ لہٰذا ایسے نکات کے بارے میں مسلمانوں کی طرف سے کچھ سوالات کیے گئے اور حضور ﷺ سے کچھ وضاحتیں طلب کی گئیں۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحتیں نازل کی ہیں اور اس سوال کا حوالہ دے کر بات شروع کی گئی ہے جس کا جواب دیا جانا مقصود ہے۔آیت 127 وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآءِ ط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّلا وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآءِ یہ اسی سورة کی آیت 3 کی طرف اشارہ ہے۔ آیت زیر نظر کے ساتھ مل کر اس آیت کی تشریح بھی بالکل واضح ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ وہاں جو فرمایا گیا تھا وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْْیَتٰمٰی تو اس سے اصل مراد یَتٰمَی النِّسَآءِتھا۔ یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کرو گے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکو گے اس لیے کہ ان کی طرف سے کوئی نہیں جو ان کے حقوق کا پاسدار ہو اور تم سے باز پرس کرسکے تو پھر ان سے شادی مت کرو ‘ بلکہ دوسری عورتوں سے شادی کرلو۔ اگر ایک سے زائد نکاح کرنا چاہتے ہو تو اپنی پسند کی دوسری عورتوں سے ‘ دو دو ‘ تین تین یا چار چار سے کرلو فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ج الّٰتِیْ لاَ تُؤْتُوْنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ یتیم سمجھ کر مہر ادا کیے بغیر ان سے نکاح کرنے کے خواہش مند رہتے ہو۔وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ لا وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی بالْقِسْطِ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا وہ تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔ اس نے شریعت کے احکام نازل کردیے ہیں ‘ بنیادی ہدایات تمہیں دے دی گئی ہیں۔ اب اضافی چیز تو بس یہی ہے کہ تمہاری نیّت صاف ہونی چاہیے۔ کیونکہ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط البقرۃ : 220 اللہ جانتا ہے کہ کون حقیقت میں شرارتی ہے اور کس کی نیت صحیح ہے۔

An-Nisaa 4:127Listen in Qur'an →
128

وَإِنِ ٱمْرَأَةٌ خَافَتْ مِنۢ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًۭا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًۭا ۚ وَٱلصُّلْحُ خَيْرٌۭ ۗ وَأُحْضِرَتِ ٱلْأَنفُسُ ٱلشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

آیت 128 وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْم بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا ایک نشوز تو وہ تھا جس کا تذکرہ اسی سورة کی آیت 34 میں عورت کے لیے ہوا تھا : وَالّٰتِی تَخَافُوْنَ نَشُوْزَھُنَّ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو۔ یعنی وہ عورتیں ‘ وہ بیویاں جو خاوندوں سے سر کشی کرتی ہیں ‘ ان کے احکام نہیں مانتیں ‘ ان کی اطاعت نہیں کرتیں ‘ اپنی ضد پر اڑی رہتی ہیں ‘ ان کے بارے میں حکم تھا کہ ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا جائے۔ اب یہاں ذکر ہے اس نشوزکا جس کا اظہار خاوند کی طرف سے ہوسکتا ہے۔ یعنی یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ خاوند اپنی بیوی پر ظلم کر رہا ہو ‘ اس کے حقوق ادا کرنے میں پہلو تہی کر رہا ہو ‘ اپنی قوّ امیت کے حق کو غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہو ‘ بےجا رعب ڈالتا ہو ‘ دھونس دیتا ہو ‘ یا بلاوجہ ستاتا ہو ‘ تنگ کرتا ہو ‘ اور تنگ کر کے مہر معاف کروانا چاہتا ہو ‘ یا اگر بیوی کے والدین اچھے کھاتے پیتے ہوں تو ہوسکتا ہے اسے بلیک میل کر کے اس کے والدین سے دولت ہتھیانا چاہتا ہو۔ یہ ساری خباثتیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور عورتیں بیچاری ظلم و ستم کی اس چکی میں پستی رہتی ہیں۔ آیت زیر نظر میں اس مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے اندیشہ ہوجائے کہ وہ زیادتی کرے گا ‘ یا اگر شوہر زیادتی کر رہا ہو اور وہ بیوی کے حقوق ادا نہ کر رہا ہو ‘ یا اس کی طرف میلان ہی نہ رکھتا ہو ‘ کوئی نئی شادی رچا لی ہو اور اب ساری توجہ نئی دلہن کی طرف ہو۔فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا ط یہاں صلح سے مراد یہ ہے کہ سارے معاملات باہم طے کر کے عورت خلع لے لے۔ لیکن خلع لینے میں ‘ جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں جبکہ عورت کو مہر چھوڑنا پڑے گا ‘ اور اگر لیا تھا تو کچھ واپس کرنا پڑے گا۔وَالصُّلْحُ خَیْرٌط وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ط مردچا ہے گا کہ میرا پورا مہر واپس کیا جائے جبکہ عورت چاہے گی کہ مجھے کچھ بھی واپس نہ کرنا پڑے۔ یہ مضامین سورة البقرۃ میں بیان ہوچکے ہیں۔ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا تم مرد ہو ‘ مردانگی کا ثبوت دو ‘ اس معاملے میں اپنے اندر نرمی پیدا کرو ‘ بیوی کا حق فراخ دلی سے ادا کرو۔

An-Nisaa 4:128Listen in Qur'an →
129

وَلَن تَسْتَطِيعُوٓا۟ أَن تَعْدِلُوا۟ بَيْنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا۟ كُلَّ ٱلْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور تم خوا کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت 129 وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ سورۃ کے آغاز آیت 3 میں فرمایا گیا تھا : فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم اپنی بیویوں میں اگر ایک سے زائد ہیں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک پر ہی اکتفا کرو ‘ دوسری شادی مت کرو۔ اگر تمہیں کلی طور پر اطمینان ہے ‘ اپنے اوپر اعتماد ہے کہ تم عدل کرسکتے ہو تب دوسری شادی کرو ‘ ورنہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ چیزیں تو گنتی اور ناپ تول کی ہوتی ہیں ‘ ان میں تو عدل کرنا ممکن ہے ‘ لیکن جو قلبی میلان ہے یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی تمام ازواج کے لیے ہرچیز گِن گِن کر طے کی ہوئی تھی۔ شب بسری کے لیے سب کی باریاں مقرر تھیں۔ دن میں بھی آپ ﷺ ہر گھر میں چکر لگاتے تھے۔ عصر اور مغرب کے درمیان تھوڑی تھوڑی دیر ہر زوجہ محترمہ کے پاس ٹھہرتے تھے۔ اگر کہیں زیادہ دیر ہوجاتی تو گویا کھلبلی مچ جاتی تھی کہ آج وہاں زیادہ دیرکیوں ٹھہر گئے ؟ یہ چیزیں انسانی معاشرے میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کا آپس کا معاملہ بہت اچھا تھا ‘ لیکن سوکناپے کے اثرات کچھ نہ کچھ تو ہوتے ہیں ‘ یہ عورت کی فطرت ہے ‘ جو اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ تو اس لیے فرمایا کہ مکمل انصاف کرنا تمہارے بس میں نہیں۔ اس سے مراد دراصل قلبی میلان ہے۔ ایک حدیث میں بھی اس کی وضاحت ملتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ میں نے ظاہری چیزوں میں پورا پورا عدل کیا ہے ‘ باقی جہاں تک میرے دل کے میلان کا تعلق ہے تو مجھے امید ہے کہ اس بارے میں تو مجھ سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ تم چاہو بھی تو عدل نہیں کرسکتے۔فَلاَ تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ط۔دوسری بیوی اس طرح معلّق ہو کر نہ رہ جائے کہ اب وہ نہ شوہر والی ہے اور نہ آزاد ہے۔ اس سے خاوند کا گویا کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا اب اگلی آیت میں طلاق کے معاملے میں ایک اہم نکتہ بیان ہو رہا ہے۔ طلاق یقیناً ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے ‘ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی الطَّلَاقُ 1 حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ‘ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس کو بسا اوقات کفر تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ لڑائیاں ہو رہی ہیں ‘ مقدمات چل رہے ہیں ‘ مزاجوں میں موافقت نہیں ہے ‘ ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں ‘ دن رات کا جھگڑا ہے ‘ لیکن طلاق نہیں دینی۔ یہ طرز عمل نہایت احمقانہ ہے اور شریعت کی منشاء کے بالکل خلاف بھی۔ اس آیت میں آپ دیکھیں گے کہ ایک طرح سے طلاق کی ترغیب دی گئی ہے۔

An-Nisaa 4:129Listen in Qur'an →
130

وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ ٱللَّهُ كُلًّۭا مِّن سَعَتِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ وَٰسِعًا حَكِيمًۭا

اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے

آیت 130 وَاِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلاًّ مِّنْ سَعَتِہٖ ط۔ہو سکتا ہے کہ اس عورت کو بھی کوئی بہتر رشتہ مل جائے جو اس کے ساتھ مزاجی موافقت رکھنے والاہو اور اس شوہر کو بھی اللہ تعالیٰ کوئی بہتر بیوی دے دے۔ میاں بیوی کا ہر وقت لڑتے رہنا ‘ دنگا فساد کرنا اور عدم موافقت کے باوجود طلاق کا اختیار option استعمال نہ کرنا ‘ یہ سوچ ہمارے ہاں ہندو معاشرت اور عیسائیت کے اثرات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ہندومت کی طرح عیسائیت میں بھی طلاق حرام ہے۔ در اصل انجیل میں تو شریعت اور قانون ہے ہی نہیں ‘ صرف اخلاقی تعلیمات ہیں۔ چناچہ جس طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ ایسی ہی کوئی بات حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی فرمائی تھی کہ کوئی شخص بلاوجہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے کہ معاشرے میں اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ طلاق شدہ عورت کی دوسری شادی نہ ہونے کی صورت میں اس کے آوارہ ہوجانے کا امکان ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس کا وبال اسے بلاوجہ طلاق دینے والے کے سر جائے گا۔ لیکن یہ محض اخلاقی تعلیم تھی ‘ کوئی قانونی شق نہیں تھی۔ عیسائیت کا قانون تو وہی ہے جو تورات کے اندر ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام فرما گئے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ میں قانون کو ختم کرنے آیا ہوں ‘ بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت تم پر بد ستور نافذ رہے گی۔ قانون بہر حال قانون ہے ‘ اخلاقی ہدایات کو قانون کا درجہ تو نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن عیسائیت میں اس طرح کی اخلاقی تعلیمات کو قانون بنا دیا گیا ‘ جس کی وجہ سے بلا جواز پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ چناچہ ان کے ہاں کوئی شخص اپنی بیوی کو اس وقت تک طلاق نہیں دے سکتا جب تک اس پر بدکاری کا جرم ثابت نہ کرے۔ لہٰذا وہ طلاق دینے کے لیے طرح طرح کے طریقے استعمال کر کے بیوی کو پہلے بدکردار بناتے ہیں ‘ پھر اس کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ‘ تب جا کر اس سے جان چھڑاتے ہیں۔ تو شریعت کے درست اور آسان راستے اگر چھوڑ دیے جائیں تو پھر اسی طرح غلط اور مشکل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں عدم موافقت کی صورت میں طلاق کے بارے میں ایک طرح کی ترغیب نظر آتی ہے۔وَکَان اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیْمًا اللہ کے خزانے بڑے وسیع ہیں اور اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔

An-Nisaa 4:130Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.