Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 121–130 of 176

121

أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًۭا

ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے

(آیت) ” نمبر 121 تا 122۔

اور وہ جہنم جس سے اولیاء الشیطان کو بھی چھٹکارا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب جنت ہے جس میں خدا دوست ہمیشہ رہیں گے (۔۔۔۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4 : 122) (اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوگی)

اللہ کی بات مطلقا سچی ہوتی ہے جس کے مقابلے میں شیطان کی بات فریب اور جھوٹ ہوتی ہے اور جو لوگ شیطان کے جھوٹے وعدوں میں آجاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے سچے وعدے پر یقین کرتے ہیں ان دونوں کے موقف میں بہت ہی بڑا فرق ہے ۔

اس کے بعد قرآن کریم عمل اور جزائے عمل کے بارے میں اللہ کے عظیم اور ناقابل تغیر اصول کو بیان کرتا ہے کہ ثواب و عقاب کا دارومدار محض خواہشات نفس اور تمناؤں پر نہیں ہوتا ۔ ثواب و عقاب ایک مستقل سنت اور دائمی اصول پر مبنی ہوتا ہے اور وہ ایک نہایت ہی مثبت قانون ہے ۔ اس قانون کا اطلاق تمام امتوں میں رہا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا نہ نسب ملتا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ اللہ کی رشتہ داری ہے اور دنیا میں کوئی نہیں ہے کہ اس کے لئے اس اصول میں کوئی نرمی کی جائے یا اس کیوجہ سے سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی یا تخلف ہوگا ۔ یا اس کے مفاد میں قانون بدل جائے گا ۔ جو برا کرے گا وہ جزائے بد سے دو چار ہوگا اور جو اچھائی کرے گا وہ جزائے خیر پائے گا ‘ غرض جیسا کرو گے ویسا بھرو گے اس میں نہ دوستی ہے اور نہ لحاظ ۔

An-Nisaa 4:121Listen in Qur'an →
122

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّۭا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِيلًۭا

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے

(آیت) ” نمبر 121 تا 122۔

اور وہ جہنم جس سے اولیاء الشیطان کو بھی چھٹکارا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب جنت ہے جس میں خدا دوست ہمیشہ رہیں گے (۔۔۔۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4 : 122) (اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوگی)

اللہ کی بات مطلقا سچی ہوتی ہے جس کے مقابلے میں شیطان کی بات فریب اور جھوٹ ہوتی ہے اور جو لوگ شیطان کے جھوٹے وعدوں میں آجاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے سچے وعدے پر یقین کرتے ہیں ان دونوں کے موقف میں بہت ہی بڑا فرق ہے ۔

اس کے بعد قرآن کریم عمل اور جزائے عمل کے بارے میں اللہ کے عظیم اور ناقابل تغیر اصول کو بیان کرتا ہے کہ ثواب و عقاب کا دارومدار محض خواہشات نفس اور تمناؤں پر نہیں ہوتا ۔ ثواب و عقاب ایک مستقل سنت اور دائمی اصول پر مبنی ہوتا ہے اور وہ ایک نہایت ہی مثبت قانون ہے ۔ اس قانون کا اطلاق تمام امتوں میں رہا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا نہ نسب ملتا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ اللہ کی رشتہ داری ہے اور دنیا میں کوئی نہیں ہے کہ اس کے لئے اس اصول میں کوئی نرمی کی جائے یا اس کیوجہ سے سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی یا تخلف ہوگا ۔ یا اس کے مفاد میں قانون بدل جائے گا ۔ جو برا کرے گا وہ جزائے بد سے دو چار ہوگا اور جو اچھائی کرے گا وہ جزائے خیر پائے گا ‘ غرض جیسا کرو گے ویسا بھرو گے اس میں نہ دوستی ہے اور نہ لحاظ ۔

An-Nisaa 4:122Listen in Qur'an →
123

لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَآ أَمَانِىِّ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوٓءًۭا يُجْزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدْ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا

(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار

(آیت) ” 123 تا 125۔

یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔

چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔

بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔

(آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی)

یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔

یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔

دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں …

An-Nisaa 4:123Listen in Qur'an →
124

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًۭا

اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

(آیت) ” 123 تا 125۔

یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔

چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔

بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔

(آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی)

یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔

یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔

دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں …

An-Nisaa 4:124Listen in Qur'an →
125

وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًۭا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌۭ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۗ وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبْرَٰهِيمَ خَلِيلًۭا

اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا

(آیت) ” 123 تا 125۔

یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔

چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔

بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔

(آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی)

یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔

یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔

دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں …

An-Nisaa 4:125Listen in Qur'an →
126

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍۢ مُّحِيطًۭا

اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے

(آیت) ” نمبر 126۔

قرآن کریم میں جہاں یہ بات آتی ہے کہ اللہ ایک ہے اور وہی الہ ہے تو اس کے ساتھ یہ بات بھی آتی ہے کہ وہی مالک اور نگہبان بھی ہے ۔ (ملک ۔ مہیمن) یعنی وہی بادشاہ اور کنٹرول کرنے والا ہے ۔ پس اسلام کا نظریہ توحید صرف یہ نہیں ہے کہ ذات میں اللہ وحدہ لا شریک ہے بلکہ وہ مثبت توحید ہے اور اس کائنات میں فاعل اور موثر بھی وہی ہے اور حکومت اور نگہبانی بھی اسی کی ہے ۔

جب نفس انسانی کے اندر یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے کہ زمین وآسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اور وہ ہر چیز کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے ۔ کوئی چیز خدا کے علم اور اس کی سلطنت سے باہر نہیں ہے ‘ تو اس طرح ایک انسان اس امر پر بسہولت آمادہ ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کو ایک الہ اور حاکم تسلیم کرے اور صرف اسی کی بندگی کرے اور پھر اللہ کو راضی کرنے کی سعی کرے اور اللہ کے احکام کو تسلیم کرے ۔ اس لئے کہ سب کچھ اس کا ہے ‘ اس کے قبضے میں ہے اور وہ ہر چیز پر محیط ہے ۔

بعض فلسفے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو واحد مانتے ہیں ‘ لیکن اس عقیدہ توحید کے بعد یہ فلسفے اس گمراہی میں مبتلا ہو اجاتے ہیں کہ اللہ صاحب ارادہ نہیں ہے ۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا علم نہیں ہوتا ۔ بعض اللہ کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ‘ بعض اللہ کی ملکیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ (تفصیلات کیلئے دیکھئے فلاسفہ کے خرافات) چناچہ فلاسفہ کے نزدیک خدا کا تصور ایک منفی تصور ہے ۔ اس تصور میں لوگوں کی زندگی کے ساتھ اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نہ ان کے طرز عمل اور انکے اخلاق پر اس کا کوئی تصرف ہے ‘ فلاسفہ کی توحید محض کلام ہی کلام ہے ۔ لیکن اسلام میں ‘ اللہ وہ ذات ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے ‘ لہذا وہ ہر چیز کا مالک ہے اور وہ ہر چیز پر محیط ہے اور وہ نگہبان ہے ۔ لہذا اس تصور کے زیر سایہ ضمیر کی اصلاح ‘ طرز عمل کی اصلاح اور پوری زندگی کی اصلاح کی جاسکتی ہے ۔

An-Nisaa 4:126Listen in Qur'an →
127

وَيَسْتَفْتُونَكَ فِى ٱلنِّسَآءِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَٰبِ فِى يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّٰتِى لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلْوِلْدَٰنِ وَأَن تَقُومُوا۟ لِلْيَتَٰمَىٰ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمًۭا

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

درس نمبر 41 ایک نظر میں :

اس سورة کے آغاز میں اسلام نے جاہلی معاشرے کی اصلاح کے جس کام کا آغاز کیا تھا یہ سبق اسی کا ایک حصہ ہے ۔ اس اصلاح کا تعلق عورتوں کے حقوق اور خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ ایک خاندان کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان میں سے بعض یتیم رہ جاتے ہیں ۔ ان کے مسائل اس میں لے گئے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ان مسائل کے اندر جاہلیت کے دور کی جو ناہمواریاں رہ گئی ہیں انہیں دور کیا جائے اور ایک گھرانے کو اس اساس پر اٹھایا جائے کہ اس کے اندر مرد اور عورت دونوں کا احترام ہو ‘ دونوں کی مصلحتوں کا خیال رکھا جائے ۔ خاندان کے اندر جو اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ان کی اصلاح کی تدابیر اس سبق کا موضوع ہے ۔ یعنی اگر اختلافات ہوں تو معاملات کے بگاڑ سے پہلے ان کی اصلاح کی جائے تاکہ گھرانے ٹوٹنے نہ پائیں ۔ خصوصا وہ بچے جو ان گھرانوں میں پیدا ہوچکے ہوتے ہیں اور خاندان ان کے لئے نرسری ہوتا ہے ان کی صحیح ترتیب ہو سکے ۔ نیز عام معاشرے کے اندر زیردست لوگوں کی دیکھ بھال کی جائے تاکہ یہ نہ ہو کہ غالب اور زور آور لوگوں کا قانون چلے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا دور دورہ ہو ۔

یہ سبق بعض معاملات کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ انہیں نظام کائنات کے ساتھ مربوط کرتا ہے ۔ جس سے مخاطب کو یہ تصور دینا مطلوب ہے کہ عورتوں ‘ گھرانوں ‘ خاندانوں اور معاشرے کے اندر کمزوروں کے مسائل معمولی مسائل نہیں ہیں ۔ ان کی بہت بڑی اہمیت ہے جس کی تفصیلات ہم اس پارے میں دے چکے ہیں ۔ پارہ چہارم کے مقدمے میں ‘ ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ اسلام میں خاندانی نظام کو کتنی عظیم اہمیت دی گئی ہے ۔ اور یہ کہ اسلامی نظام نے خاندانی ادارے کو جاہلیت کی رسوم بد سے پاک کرنے کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی ہے اور کس قدر کوشش کی ہے کہ معاشرے کے اندر لوگوں کی اخلاقی ‘ نفسیاتی اور اجتماعی سطح کو بلند کیا جائے تاکہ اسلامی معاشرہ ان تمام معاشروں پر فوقیت حاصل کرلے جو اس وقت اس کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے ۔ جو دین اسلام کو قبول نہ کرتے تھے اور جن کی تربیت اسلامی منہاج کے مطابق نہ تھی اور جو اسلامی نظام کے زیر حکومت نہ تھے ۔

اب ذرا تفصیلات کے ساتھ زیر بحث آیات کو لیجئے ۔

درس نمبر 41 تشریح آیات :

127۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 134

(آیت) ” نمبر 127۔

سورة نساء کے ابتدا میں جو آیات نازل ہوئی تھیں ان کی وجہ سے کئی سوالات پیدا ہوگئے تھے اور لوگ سوالات کیا کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی جانب سے ’ اسلامی معاشرے کی تشکیل کے ابتدائی دور میں مختلف مسائل کے بارے میں سوالات کرنا ایک عام پریکٹس تھی اور اس کی تہ میں یہ جذبہ کار فرما تھا کہ وہ اسلامی نظام زندگی سے متعلق احکام معلوم کرنا چاہتے تھے اس لئے کہ جاہلیت سے اسلام کی طرف منتقل ہونے کا عمل دراصل ان کی زندگیوں میں ایک گہرا انقلاب تھا ۔ اس کی وجہ سے ان کے شعور میں جاہلیت کے دور میں ہونے والے تمام افعال اور رسول کے بارے میں شک پیدا ہوگیا تھا ۔ وہ ہر وقت یہ محسوس کرتے تھے کہ کسی پیش آمدہ معاملے میں اسلام نے سابق پریکٹس کو منسوخ نہ کردیا ہو ۔ یہ بیداری اور اسلامی احکام کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کا جذبہ ان حضرات کی ایک عام صفت تھی ۔ اس کے باوجود بعض آثار جاہلیت ان کی زندگیوں میں باقی تھے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انکے اندر ایک قومی جذبہ موجود تھا ‘ جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کے تمام حالات کو اسلام کے مطابق ڈھالتے تھے اور اس روح کے ساتھ وہ بعض احکام کے بارے میں استفسارات کرتے تھے یہ کام وہ محض علم و ثقافت اور محض سوال کی خاطر نہ کرتے تھے جیسا کہ آج کل مفتی حضرات کے پاس اکثر سوالات محض حصول علم و ثقافت کے لئے ہوتے ہیں کوئی عمل کرنے کے لئے نہیں پوچھتا ۔

اس وقت مسلمانوں کو دینی مسائل کے پوچھنے کی حقیقی ضرورت بھی تھی ‘ اس لئے کہ یہ دین ان کے لئے زندگی کا نظام تھا اور …

An-Nisaa 4:127Listen in Qur'an →
128

وَإِنِ ٱمْرَأَةٌ خَافَتْ مِنۢ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًۭا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًۭا ۚ وَٱلصُّلْحُ خَيْرٌۭ ۗ وَأُحْضِرَتِ ٱلْأَنفُسُ ٱلشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

(آیت) ” نمبر 128 تا 130۔

اسلامی نظام نے اس سے قبل عورت کی طرف سے بدسلوکی اور نافرمانی کے بارے میں قانون سازی کردی تھی ۔ اور وہ تمام انتظامات کردیئے تھے کہ اس پہلو میں نقصان پیدا ہونے کے خلاف تدابیر اختیار کی جائیں گی ۔ (ملاحظہ ہو اس پارہ کی ابتدائی آیات) ۔ یہاں سے بےرخی اور نافرمانی کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ جو خاوند کی طرف سے ہو ‘ اور جس کی وجہ سے عورت کے احترام اور عزت نفس کو خطرہ ہو اور اس کے نتیجے میں خاندان کے تباہ ہونے کا خدشہ ہو اس لئے کہ دل بدل سکتے ہیں اور میلانات اور رجحانات کے اندر تبدیلی آسکتی ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو معاشرتی معاملات کے اندر زندگی کے تمام اجزاء کا احاطہ کرتا ہے اور جو مشکلات اور خطرات پیش آسکتے ہیں ان کو حل کرتا ہے ۔ اسلام ان تمام مسائل کو اپنے رجحانات اور اصول کے مطابق حل کرتا ہے اور اپنی اسکیم کے مطابق تمام اقدامات کرتا ہے ۔

اگر عورت اور مرد کے اند باہم تعلقات میں کشیدگی سی پیدا ہوجائے اور طلاق کا خطرہ ہو ‘ یا یہ خطرہ ہو کہ خاوند بیوی کو معطل اور معلق چھوڑ دے گا ۔ نہ وہ بیوی ہوگی اور نہ وہ مطلقہ ہوگی تو اس صورت میں دونوں کے لئے اس امر میں ممانعت نہیں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف مالی اور دوسرے حقوق کے اندر کچھ دو کی پالیسی اختیار کرلیں ۔ مثلا یہ کہ عورت اپنے مالی اخراجات میں سے کچھ معاف کر دے یا سب معاف کر دے ۔ یا یہ کہ اگر زیادہ عورتیں ہوں تو بیوی اپنی باری وغیرہ سے دست بردار ہوجائے ۔ مثلا اگر کوئی دوسری بیوی مرد کو زیادہ پسند ہو تو اس کے حق میں کوئی بیوی دست بردار ہوجائے یا مثلا اس صورت میں کہ معاف کرنے والی بیوی کو بعض حقوق کے اندر زیادہ دلچسپی نہ رہی ہو ۔ یہ اس صورت میں کہ عورت تمام احوال اور معاملات کو دیکھ کر ‘ سوچ کر کامل آزادی کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ اس کے لئے یہ حالت طلاق سے بہتر ہے ۔

(آیت) ” وان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا اواعراضا فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحا “۔ (4 : 127)

(اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں)

یہ وہی صلح ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ۔

اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ مقدمہ بازی سے صلح ہر صورت میں بہتر ہوتی ہے ۔ بےرخی ‘ خشک تعلقات اور طلاق ‘ سب حالات کے مقابلے میں صلح خیر ہے ۔ (والصلح خیر (4 : 127)

(صلح بہرحال بہتر ہے) صلح کی وجہ سے خشک اور جفا پیشہ دلوں کے اوپر بادنسیم کے ٹھنڈے جھونکے چلنے لگتے ہیں ۔ انس و محبت کی شبنم سے باہم تعلقات کو طراوت نصیب ہوتی ہے اور ازدواجی تعلقات کو باقی رکھنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور اگر ختم ہوچکے ہوں تو ازدواجی تعلقات پھر سے استوار ہو سکتے ہیں ۔

اسلام نفس انسانی کے ساتھ حقیقت پسندانہ معاملہ کرتا ہے ۔ وہ تمام ذرائع اور وسائل کو کام میں لا کر نفس انسانی کو ایک ایسی سطح تک سربلند کرتا ہے جس کے لئے اس نے اس کے مزاج اور فطرت کو تیار کیا ہے ۔ لیکن اسلام ان تمام وسائل کو کام میں لاتے ہوئے یہ بھی پیش نظر رکھتا ہے کہ انسانی فطرت کے بھی کچھ حدود وقیود ہوتے ہیں ۔ اسلام فطرت انسانی اور انسانی مزاج کو ایسے کاموں پر مجبور نہیں کرتا جو اس کی قدرت اور وسعت سے باہر ہوں اسلام لوگوں کو یہ حکم نہیں دیتا کہ تم اپنے سروں کو دیواروں سے ٹکڑاؤ اور یہ ہے میرا حکم بس اسلام علیکم ! یہ کرو چاہے قدرت ہے یا نہیں ہے۔

اسلامی نظام نفس انسانی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ضعیفی کی حالت پر رہے یا تقصیرات پر راضی ہو ۔ وہ یہ بھی نہیں کرتا کہ انسانی گندگی کے دلدل میں کانوں تک ڈوبا ہو ‘ اور وہ اس کی تعریف وتمجید کرے اور اس کے لئے جواز یہ ڈھونڈے کہ انسان بطور حقیقت واقعہ اسی طرح ہے ۔ وہ اس طرح بھی نہیں کرتا کہ اسے عالم بالا کے ساتھ بذریعہ رسی باندھ کر لٹکا دے اور پھر وہ …

An-Nisaa 4:128Listen in Qur'an →
129

وَلَن تَسْتَطِيعُوٓا۟ أَن تَعْدِلُوا۟ بَيْنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا۟ كُلَّ ٱلْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور تم خوا کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ وان تصلحوا وتتقوا افان اللہ کان غفورا رحیما (129) وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما “۔ (130)

بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے ۔ لہذا (قانون الہی کا منشا پورا کرنیکے لئے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ‘ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاج سے بےنیاز کر دے گا ۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا وبینا ہے ۔ )

اللہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور وہ اپنی پیدا اور وہ اپنی پیدا کردہ مخلوقات کے بارے میں یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے بعد میلانات ایسے ہیں جن پر اس کے لئے قابو پانا ممکن نہیں ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہاتھ میں نکیل دے دی کہ وہ ان میلانات کو قابو میں رکھے ‘ ان میلانات کی حرکت کو حدود میں رکھے لیکن انہیں بالکل ختم کرنے کی کوشش بھی نہ کرے ۔

ان میلانات میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی متعدد بیویوں میں سے کسی ایک کی طرف زیادہ مائل ہو ۔ یہ میلان ایسا ہوتا ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہوتا ہے ۔ انسان اسے ختم نہیں کرسکتا تو اس کا حل کیا ہے ؟ اسلام کسی شخص سے اس بات پر مواخذہ نہیں کرتا جو اس کی وسعت سے باہر ہو ۔ نہ اسے گناہ قرار دیتا ہے اور نہ اس پر سزا دیتا ہے ۔ اس بات کو اسلام اس کھاتے میں ڈالتا ہے جو اس کی قدرت سے ہی باہر ہو۔ چناچہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم اپنی بیویوں کے درمیان ہر گز مکمل عدل نہیں کرسکتے اگرچہ تم ایسا کرنے کی کوشش کرو ۔ اس لئے کہ یہ تمہاری قدرت سے باہر ہے ۔ تمہارے ارادے میں جو چیز داخل ہے وہ یہ ہے کہ تم معاملہ کرنے میں انصاف کرو ‘ تقسیم میں انصاف کرو ‘ خرچہ دینے میں انصاف کرو ‘ حقوق زنا شوئی میں انصاف کرو ‘ یہاں تک کہ مسکرانے میں بھی انصاف کرو ‘ زبانی الفاظ کہنے میں بھی انصاف کرو ۔ یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ یہ ہے وہ نکیل جو ان میلانات کو کنٹرول میں رکھے گی ۔ ضبط مطلوب ہے ‘ میلانات کا قتل مطلوب نہیں ہے ۔ (آیت) ” فلا تمیلوا کل المیل فتذورھا کالمعلقۃ “۔ (4 : 129) (ایک بیوی کی طرف اس طرح مائل نہ ہوجاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو )

یہ ہے وہ بات جس سے کیا گیا ہے ۔ یعنی ظاہری معاملات میں ایک طرف جھک جانا ۔ اس طرح جھکنا کہ دوسری کے حقوق مارے جائیں کہ نہ بیوی ہو اور نہ مطلقہ ۔ اس کے ساتھ ہی اہل ایمان کو ایک نہایت ہی موثر آواز سے پکارا جاتا ہے ۔

(آیت) ” وان تصلحوا وتتقوا فان اللہ کان غفورا رحیما “۔ (4 : 129) (اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)

اسلام انسانی نفس کے ساتھ اس طرح معاملہ کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی ذات ہے جو ایک مٹھی بھرمٹی اور اس میں نفخ روح سے پیدا کی گی ہے اور اس کے اندر جو قوتیں اور صلاحیتیں ہیں ان کے بالکل مطابق ۔ نیز وہ انسان کے ساتھ ایک مثالی حقیقت پسندی یا حقیقی مثالیت کے مطابق اس کے ساتھ ڈیلنگ کرتا ہے کہ وہ ایک انسان ہو ‘ جس کے قدم زمین پر ہوں اور اسے روحانی بلندی حاصل ہو جس میں نہ تو تناقض ہو اور نہ ٹوٹ پھوٹ ہو۔

یہی ہے اسلام ‘ حضور اکرم ﷺ انسانی اعتبار سے اوج کمال پر تھے ۔ آپ کے اندر تمام قوتیں متوازن تھیں ‘ باہم متناسق تھیں اور انسان کی حدود و فطرت کے اندر تھیں ۔

حضور اکرم ﷺ ازواج مطہرات کے درمیان تقسیم اور منصفانہ تقسیم پرتو قادر تھے ایک بیوی کو دوسری بیوی پر ترجیح نہ دیتے تھے ۔ لیکن دلی جذبات پر کنٹرول کسی کی طاقت …

An-Nisaa 4:129Listen in Qur'an →
130

وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ ٱللَّهُ كُلًّۭا مِّن سَعَتِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ وَٰسِعًا حَكِيمًۭا

اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے

(آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما (3 : 130) (اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاج سے بےنیاز کر دے گا ۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا وبینا ہے ۔ )

اللہ تعالیٰ دونوں سے وعدہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے فضل اور رحمت سے دونوں کو غنی بنا دے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی وسعت کرنے والے ہیں اور اپنے حدود و حکمت کے اندر اور بندوں کی مصحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے کشادگی کی حد مقرر فرماتے ہیں ہر شخص کے حالات کے مطابق ۔

اسلام انسانی شعور اور نفس کے پوشیدہ میلانات کے ساتھ جس طرح برتاؤ کرتا ہے اور جس طرح زندگی کے طور طریقوں کو حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھتا ہے وہ اس قدر حیران کن ہے کہ اگر لوگ رات دن اللہ کا شکر ادا کریں تو بھی ان کے لئے اس کا حق ادا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں انسانی سہولت کا بہت ہی خیال رکھا گیا اور نظر آتا ہے کہ یہ نظام انسانوں کے لئے تجویز ہوا ہے ۔ وہ انسانوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو نہایت ہی گری ہوئی حالت سے اٹھاتا ہے اور انہیں نہایت ہی سربلندی تک لے جاتا ہے اور یہ عمل انسان کی فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے ۔ وہ ان کے لئے بلندی اور رفعت کا کوئی ٹارگٹ اس وقت تک تجویز نہیں کرتا جب تک ان کی فطرت میں اس کے حصول کے لئے داعیہ نہ ہو اور ان کے مزاج میں اس کی کوئی نہ کوئی جڑ موجود نہ ہو ۔ اس طرح اسلام ان کو پھر اس بلند مقام تک لے جاتا ہے جہاں تک انہیں کوئی دوسرا نظام نہیں لے جاسکتا ۔ یہ کام وہ اس طرح مثالی واقعیت پسندی یا ایسی واقعیت کے ساتھ کرتا ہے جس کی کوئی مثال نہ ہو اور پھر ایسی صورت میں کہ اس عجیب مخلوق انسانی کی اصل طبیعت اور مزاج کے مطابق ۔

خاندانی نظم کے یہ احکام جن کا تعلق خاص زوجین کی ازدواجی زندگی سے ہے اسلامی نظام حیات کا ایک حصہ ہیں اور اسلامی نظام حیات اس کائنات کے ناموس اکبر کا ایک حصہ ہے جو اللہ نے اس پوری کائنات کے اندر جاری فرمایا ہے ۔ اس لئے اسلامی نظام بھی اس کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے جب کہ دوسری طرف وہ انسانی فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اس لئے کہ انسانی بھی اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہے اور یہ اسلامی نظام زندگی کا نہایت ہی گہرا راز ہے اس لئے عائلی اور خاندانی نظام کے مسائل کے متصلا بعد اللہ تعالیٰ کائنات کا ذکر فرماتے ہیں جس سے یہ عائلی احکام پوری کائنات کے نظام فطرت کے ساتھ مربوط ہوجاتے ہیں ۔ گویا جس طرح انسانی زندگی میں اللہ کی حاکمیت ہے ‘ اسی طرح اس کائنات میں بھی وہی حاکم ہے ۔ وہی ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے اور یہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں یہ احکام دیئے ہیں ۔ وہی ہے جس نے تم سے پہلی امتوں کو یہ احکام دیئے تھے اور یہ تمام احکام اور وصایا ایک ہیں اور ایک ہی منبع سے ہیں اور اسلامی نظام اس پر قائم ہے کہ اس نے نتیجے میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی نصیب ہوتی ہے اور یہ وہ اصول ہیں جو سچائی ‘ عدل اور خدا ترسی پر استوار ہیں۔

An-Nisaa 4:130Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.