Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 111–120 of 176

111

وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًۭا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

آیت 110 وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا اس سلسلے میں سیدھی روش یہی ہے کہ غلطی یا خطا ہوگئی ہے تو اس کا اعتراف کرلو ‘ اس جرم کی جو دنیوی سزا ہے وہ بھگت لو اور اللہ سے استغفار کرو۔ اس طرح آخرت کی سزا سے چھٹکارا مل جائے گا۔

An-Nisaa 4:111Listen in Qur'an →
112

وَمَن يَكْسِبْ خَطِيٓـَٔةً أَوْ إِثْمًۭا ثُمَّ يَرْمِ بِهِۦ بَرِيٓـًۭٔا فَقَدِ ٱحْتَمَلَ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

آیت 112 وَمَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْٓءَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓءًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا کسی نے کوئی گناہ کمایا ‘ کوئی خطا کی ‘ کوئی غلطی کی ‘ کوئی جرم کیا ‘ پھر اس کی تہمت کسی بےقصور شخص پر لگا دی تو بہت بڑے بہتان اور کھلم کھلا گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ مذکورہ معاملے میں یہودی تو بےقصور تھا ‘ جو لوگ اس کو سزا دلوانے کے لیے تل گئے تو ان کا یہ فعل یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓءًا کے زمرے میں آگیا۔ کسی بےگناہ پر اس طرح کا بہتان لگانا اللہ کے نزدیک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس کے بعد اب اس یہودی اور منافق کے مقدمے کے کچھ مزید پہلوؤں کے بارے میں حضور ﷺ سے خطاب ہو رہا ہے۔

An-Nisaa 4:112Listen in Qur'an →
113

وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُۥ لَهَمَّت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَىْءٍۢ ۚ وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًۭا

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے

آیت 113 وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہٗ لَہَمَّتْ طَّآءِفَۃٌ مِّنْہُمْ اَنْ یُّضِلُّوْکَ ط۔ وہ لوگ تو اس پر کمر بستہ تھے کہ آپ ﷺ کو غلط فہمی میں مبتلا کر کے آپ ﷺ سے غلط فیصلہ کروائیں ‘ عدالت محمدی ﷺ سے ظلم پر مبنی فیصلہ صادر ہوجائے ‘ گنا ہگار چھوٹ جائے اور جو اصل مجرم نہیں تھا ‘ بالکل بےگناہ تھا ‘ اس کو پکڑلیا جائے۔وَمَا یُضِلُّوْنَ الاّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَضُرُّوْنَکَ مِنْ شَیْءٍ ط۔ہم ایسے مواقع پر بر وقت آپ ﷺ کو مطلع کرتے رہیں گے۔

An-Nisaa 4:113Listen in Qur'an →
114

۞ لَّا خَيْرَ فِى كَثِيرٍۢ مِّن نَّجْوَىٰهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَٰحٍۭ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

آیت 114 لاَ خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰٹہُمْ منافقین کی منفی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ علیحدہ بیٹھ کر سرگوشیاں کرنا ‘ دوسروں کو دیکھ کر مسکرانا اور ساتھ اشارے بھی کرنا تاکہ دیکھنے والے کے دل میں خلجان پیدا ہو کہ میرے بارے میں بات ہو رہی ہے ‘ آج بھی ہماری مجلسوں میں یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ سارے معاملات جوں کے توں انسانی معاشرے کے اندر ویسے ہی آج بھی موجود ہیں۔ مگر اللہ کا فرمان ہے کہ اس انداز کی خفیہ سرگوشیوں کا زیادہ حصہ ایسا ہوتا ہے جس میں کوئی خیر نہیں ہوتی۔اِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلاَحٍم بَیْنَ النَّاسِ ط۔خیر والی سرگوشی یہ ہوسکتی ہے کہ خاموشی سے کسی کو علیحدگی میں لے جا کر اس کو صدقہ و خیرات کی تلقین کی جائے کہ بھائی دیکھو آپ کو اللہ نے غنی کیا ہے ‘ فلاں شخص محتاج ہے ‘ میں اس کو جانتا ہوں ‘ آپ کو اس کی مدد کرنی چاہیے ‘ وغیرہ۔ پھر معروف اور بھلائی کے امور میں خفیہ صلاح مشورے اگر کیے جائیں تو اس میں بھی حرج نہیں۔ اسی طرح کسی غلط فہمی یا جھگڑے کی صورت میں فریقین میں صلح صفائی کرانے کی غرض سے بھی خفیہ مذاکرات کسی سازش کے زمرے میں نہیں آتے۔ مثلاً دو بھائی جھگڑ پڑے ہیں ‘ اب آپ ایک کی بات علیحدگی میں سنیں اور دوسرے کے پاس جا کر اس بات کو بہتر انداز میں پیش کریں کہ آپ کو مغالطہ ہوا ہے ‘ انہوں نے یہ بات یوں نہیں ‘ یوں کہی تھی۔ اس طرح کی علیحدہ علیحدہ گفتگو جو نیک نیتی سے کی جا رہی ہو ‘ یہ یقینا نیکی اور بھلائی کی بات ہے ‘ جو باعث اجر وثواب ہے۔

An-Nisaa 4:114Listen in Qur'an →
115

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

آیت 115 وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی یعنی جو کوئی خفیہ سازشوں اور چوری چھپے کی لگائی بجھائی کے ذریعے لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ کے خلاف بھڑکاتا ہے کہ دیکھو جی یہ اپنے لوگوں کو نواز رہے ہیں۔ جیسا کہ غزوۂ حنین میں ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ کے ان مسلمانوں کو جو فتح مکہّ کے بعد مسلمان ہوئے تھے ‘ مال غنیمت میں سے ان کی دلجوئی کے لیے جسے قرآن میں تالیف قلوب کہا گیا ہے ذرا زیادہ مال دے دیاتو اس پر بعض لوگوں نے شور مچا دیا کہ دیکھ لیا ‘ جب کڑا وقت تھا ‘ مشکل وقت تھا تو اسے ہم جھیلتے رہے ‘ اب یہ اچھا وقت آیا ہے تو اپنے رشتہ دار یاد آگئے ہیں۔ ظاہر ہے مکہ والے حضور ﷺ کے رشتہ دار تھے ‘ قریش کا قبیلہ حضور ﷺ کا اپنا قبیلہ تھا۔ تو طرح طرح کی باتیں جو آج کے دور میں بھی ہوتی ہیں ویسی ہی باتیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں۔ یہ انسان کی فطرت ہے جو ہمیشہ ایک سی رہی ہے ‘ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوا۔ ّ وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ ط وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا یہ آیت اس اعتبار سے بڑی اہم ہے کہ امام شافعی رح کے نزدیک اجماعِ اُمتّ کی سند اس آیت میں ہے۔ یہ بات تو بہت واضح ہے کہ اسلامی قوانین کے لیے بنیادی ماخذ قرآن ہے ‘ پھر حدیث و سنت ہے۔ اسی طرح اجتہاد کا معاملہ بھی سمجھ میں آتا ہے ‘ مگر اجماع کس چیز کا نام ہے ؟ اس کا ذکر قرآن میں کہاں ہے ؟ امام شافعی رح فرماتے ہیں کہ میں نے اجماع کی دلیل قرآن سے تلاش کرنے کی کوشش کی اور قرآن کو شروع سے آخر تک تین سو مرتبہ پڑھا مگر مجھے اجماع کی کوئی دلیل نہیں ملی۔ پھر بالآخر تین سو ایک مرتبہ پڑھنے پر میری نظر جا کر اس آیت پر جم گئی : وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ ۔ گویا اہل ایمان کا جو راستہ ہے ‘ جس پر اجماع ہوگیا ہو اہل ایمان کا ‘ وہ خود اپنی جگہ بہت بڑی سند ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : اِنَّ اُمَّتِیْ لاَ تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ 1 میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔

An-Nisaa 4:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا

آیت 116 اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ط۔گویا یہ بھی کوئی فری لائسنس نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ آیت اس سورة مبارکہ میں دوسری بار آرہی ہے۔

An-Nisaa 4:116Listen in Qur'an →
117

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثًۭا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَٰنًۭا مَّرِيدًۭا

یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں کی اور پکارتے ہیں تو شیطان کی سرکش ہی کو

آیت 117 اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰثًاج وَاِنْ یَّدْعُوْنَ الاَّ شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا rُیہاں پہلی مرتبہ مشرکین مکہ کی بات بھی ہو رہی ہے۔ مشرکین مکہ نے اپنی دیویوں کے مؤنث نام رکھے ہوئے تھے ‘ جیسے لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ۔ لیکن اصل میں نہ لات کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی منات کی کچھ حقیقت ہے۔ البتہ شیطان ضرور موجود ہے جو ان کی پکار سن رہا ہے

An-Nisaa 4:117Listen in Qur'an →
118

لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا

جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔

آیت 118 لَّعَنَہُ اللّٰہُ 7 وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا ان لوگوں کو میں اپنے ساتھ جہنم میں پہنچا کر رہوں گا۔ گویا : ع ہم تو ڈوبے ہیں صنم ‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے !

An-Nisaa 4:118Listen in Qur'an →
119

وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَٰمِ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَٰنَ وَلِيًّۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًۭا مُّبِينًۭا

اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا

آیت 119 وَّلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ ان کے دلوں میں بڑی امیدوں کے چراغ روشن کروں گا کہ یہ بہت تابناک کیریئر ہے ‘ لگے رہو اسی کام میں ‘ اس میں بڑا فائدہ ہے ‘ ناجائز ہے تو خیر ہے ‘ اللہ بخش ہی دے گا۔ ہم تو اللہ کے پیارے رسول ﷺ کے امتی ہیں ‘ ہمیں خوف کس بات کا ہے ؟ جس طرح یہودیوں کو یہ زعم ہوگیا تھا کہ ہم تو اللہ کے بیٹے ہیں ‘ ہم اس کے بڑے چہیتے ہیں ‘ وغیرہ۔ ان کو میں اس طرح کی لمبی لمبی امیدوں اور لمبے لمبے منصوبوں میں الجھا دوں گا۔ اسی کو ’ طول امل ‘ کہتے ہیں۔ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ اس کی تفصیل سورة الانعام میں آئے گی کہ فلاں بت یا فلاں دیوی کے نام پر کسی جانور کے کان چیر کر اسے آزاد کردیا گیا ہے ‘ اب اس کو کوئی چھیڑ نہیں سکتا ‘ اس کا گوشت نہیں کھایا جاسکتا ‘ اس پر سواری نہیں ہوسکتی۔وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ط۔جیسے آج جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مردوں میں عورتوں کے سے انداز اپنائے جا رہے ہیں اور عورتوں میں مردوں کے سے طور طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ لیکن سائنس کے میدان میں ‘ خاص طور پر Genetics میں جو کچھ آج ہورہا ہے وہ تو بہت ہی نازک صورت حال ہے۔ سائنسی ترقی کے سبب انسان آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ وہ اپنا اختیار استعمال کر کے جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے سے اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبدّل کر رہا ہے۔

An-Nisaa 4:119Listen in Qur'an →
120

يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا

وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے

آیت 120 یَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیْہِمْط وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطٰنُ الاَّ غُرُوْرًا ۔شیطان ان کو وعدوں کے بہلاوے دیتا ہے اور آرزوؤں میں پھنساتا ہے ‘ سبز باغ دکھاتا ہے ‘ مگر شیطان کے دعوے سراسر فریب ہیں۔

An-Nisaa 4:120Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.