Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 111–120 of 176

111

وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًۭا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113)

[105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے …

An-Nisaa 4:111Listen in Qur'an →
112

وَمَن يَكْسِبْ خَطِيٓـَٔةً أَوْ إِثْمًۭا ثُمَّ يَرْمِ بِهِۦ بَرِيٓـًۭٔا فَقَدِ ٱحْتَمَلَ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113)

[105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے …

An-Nisaa 4:112Listen in Qur'an →
113

وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُۥ لَهَمَّت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَىْءٍۢ ۚ وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًۭا

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113)

[105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے …

An-Nisaa 4:113Listen in Qur'an →
114

۞ لَّا خَيْرَ فِى كَثِيرٍۢ مِّن نَّجْوَىٰهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَٰحٍۭ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

نہیں ہے کوئی بھلائی اکثر میں ان کی سرگوشیوں سے مگر جو شخص حکم دے صدقے کا یا نیکی کا یا صلح کرانے کا درمیان لوگوں کےاور جو شخص کرے یہ تلاش کرنے کے لیے رضامندی اللہ کی تو عنقریب ہم دیں گے اس کو اجر بہت بڑا(114)

[114] یعنی بہت سی ایسی سرگوشیاں جو لوگ آپس میں کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں ان میں کوئی بھلائی نہیں۔ اور جس کلام میں کوئی بھلائی نہ ہو تو وہ یا تو بے فائدہ کلام ہوتا ہے مثلاً فضول مگر مباح بات چیت۔ یا وہ محض شر ہوتا ہے مثلاً محرم کلام کی تمام اقسام۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ ﴾ ’’ہاں وہ شخص جو صدقہ کا حکم دے۔‘‘ یعنی اس میں سے وہ شخص مستثنی ہے جو مال، علم یا کسی اور منفعت میں صدقہ کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ شاید بعض چھوٹی عبادات بھی اس زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔ مثلاً تسبیح و تحمید وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی کے پاس جانا بھی صدقہ ہے۔‘‘ الحدیث۔ (صحیح مسلم، الزکاۃ، حدیث:1006 ،صحیح مسلم، الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف، ح: 1006)﴿ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ ﴾’’یا نیک بات‘‘ معروف سے مراد بھلائی اور نیکی ہے اور ہر وہ کام، جسے شریعت نے نیکی قرار دیا اور عقل نے اس کی تحسین کی، معروف کے زمرے میں آتا ہے جب ’’اَمَر بِالْمَعْرُوف‘‘ کا لفظ ’’نَہْیِ عَنِ الْمُنْکَر‘‘ کے ساتھ ملائے بغیر استعمال کیا جائے تو برائی سے روکنا اس میں شامل ہوتا ہے کیونکہ منہیات کو ترک کرنا بھی نیکی ہے، نیز بھلائی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ برائی کو ترک نہ کر دیا جائے اور جب ’’امر بالمعروف‘‘ اور ’’نہی عن المنکر‘‘ کا ایک ساتھ ذکر ہو تو، ’’معروف‘‘ سے مراد ہر وہ کام ہے جس کا شریعت میں حکم دیا گیا ہو ’’منکر‘‘ سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے شریعت میں روکا گیا ہو۔﴿ اَوۡ اِصۡلَاحٍ ۭ بَيۡنَ النَّاسِ ﴾ ’’یا لوگوں کے مابین صلح کرانے کا حکم کرے‘‘ اور اصلاح صرف دو جھگڑنے والوں کے درمیان ہی ہوتی ہے۔ نزاع، جھگڑا، مخاصمت اور آپس میں ناراضی اس قدر شر اور تفرقہ کا باعث بنتے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پس اسی لیے شارع نے لوگوں کو ان کے قتل، مال، اور عزت ناموس کے جھگڑوں میں اصلاح کی ترغیب دی ہے بلکہ تمام ادیان میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا ﴾(آل عمران : 3؍103) ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ فرمایا ﴿ وَاِنۡ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا١ۚ فَاِنۢۡ بَغَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيۡ تَبۡغِيۡ حَتّٰى تَفِيۡٓءَ اِلٰۤى اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾(الحجرات : 49؍9) ’’اگر مومنوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ ﴾(النساء: 4؍128) ’’اور صلح اچھی چیز ہے۔‘‘لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا اس شخص سے بہتر ہے جو کثرت سے (نفلی) نماز روزے اور صدقہ کا اہتمام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح نہیں کرتا اور نہ اس کا مقصد پورا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾(یونس : 10؍81) ’’اللہ فساد کرنے والوں کے کام کی اصلاح نہیں کرتا۔‘‘یہ تمام افعال جہاں کہیں بھی بجا لائے جائیں گے۔ بھلائی کے …

An-Nisaa 4:114Listen in Qur'an →
115

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

اور جو شخص مخالفت کرے رسول کی، بعد اس کے کہ واضح ہو گئی اس کے لیے ہدایت اور پیروی کرے سوائے راستے کے مسلمانوں کے تو پھیر دیں گے ہم اسے جدھر ، پھرتا ہے اور داخل کریں گے اس کو جہنم میں اور بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(115) یقیناً اللہ نہیں بخشے گا یہ کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دے گا جو علاوہ ہے اس کے، جس کے لیے چاہے گا اور جو شخص شریک ٹھہرائے اللہ کے ساتھ پس تحقیق گمراہ ہوگیا وہ گمراہ ہونا دور کا(116)

[115] یعنی جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد‘‘ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبوی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ﴿ وَيَتَّبِـعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے‘‘ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں ﴿ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى ﴾ ’’ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے‘‘ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لیے اختیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیق سے محروم کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جزا عدل و انصاف پر مبنی ہے کہ وہ اسے اس کی گمراہی میں حیران و پریشان چھوڑ دیتا ہے۔ اور وہ اپنی گمراہی میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف : 61؍5) ’’جب انھوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام : 6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہ لائے تھے (اب بھی ایمان نہ لائیں گے)۔‘‘اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت نہیں کرتا اور مومنین کے راستے کی اتباع کرتا ہے۔ اس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، رسول اللہﷺکی اتباع، اور مسلمانوں کی جماعت کی معیت کا التزام کرنا ہے۔ تب اگر اس سے کوئی گناہ صادر ہوتا ہے یا نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غلبے کی بنا پر گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا تدارک کر دیتا ہے اور اسے برائی سے بچا کر اس پر احسان کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفuکے بارے میں فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّوۡٓءَ وَالۡفَحۡشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(یوسف : 12؍24)’’تاکہ ہم اس طرح اس سے برائی اور بے حیائی کو روک دیں بلاشبہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔‘‘ یعنی یوسفuکے اخلاص کے سبب سے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر چنے ہوئے بندے کے ساتھ یونہی کرتا ہے۔ جیسا کہ علت کی عمومیت اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ وَنُصۡلِهٖ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم جہنم میں اسے بہت بڑے عذاب سے دوچار کریں گے ﴿ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ یعنی انجام کار یہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

[116] یہ وعید، جو رسول اللہﷺاور مومنین کی مخالفت پر مرتب ہوتی ہے گناہ کے چھوٹا بڑا ہونے کے اعتبار سے اس کے بہت سے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ ان میں سے بعض مراتب ایسے ہیں جو جہنم میں خلود کا باعث ہوں گے۔ باقی تمام اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور دوری کا موجب ہیں۔بعض گناہوں کا مرتبہ کمتر ہے۔ شاید دوسری آیت اس آیت کریمہ کے اطلاق کی تفصیل کی طرح ہے۔ یعنی شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا کیونکہ شرک اللہ رب العالمین، اور اس کی …

An-Nisaa 4:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا

اور جو شخص مخالفت کرے رسول کی، بعد اس کے کہ واضح ہو گئی اس کے لیے ہدایت اور پیروی کرے سوائے راستے کے مسلمانوں کے تو پھیر دیں گے ہم اسے جدھر ، پھرتا ہے اور داخل کریں گے اس کو جہنم میں اور بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(115) یقیناً اللہ نہیں بخشے گا یہ کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دے گا جو علاوہ ہے اس کے، جس کے لیے چاہے گا اور جو شخص شریک ٹھہرائے اللہ کے ساتھ پس تحقیق گمراہ ہوگیا وہ گمراہ ہونا دور کا(116)

[115] یعنی جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد‘‘ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبوی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ﴿ وَيَتَّبِـعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے‘‘ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں ﴿ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى ﴾ ’’ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے‘‘ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لیے اختیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیق سے محروم کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جزا عدل و انصاف پر مبنی ہے کہ وہ اسے اس کی گمراہی میں حیران و پریشان چھوڑ دیتا ہے۔ اور وہ اپنی گمراہی میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف : 61؍5) ’’جب انھوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام : 6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہ لائے تھے (اب بھی ایمان نہ لائیں گے)۔‘‘اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت نہیں کرتا اور مومنین کے راستے کی اتباع کرتا ہے۔ اس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، رسول اللہﷺکی اتباع، اور مسلمانوں کی جماعت کی معیت کا التزام کرنا ہے۔ تب اگر اس سے کوئی گناہ صادر ہوتا ہے یا نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غلبے کی بنا پر گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا تدارک کر دیتا ہے اور اسے برائی سے بچا کر اس پر احسان کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفuکے بارے میں فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّوۡٓءَ وَالۡفَحۡشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(یوسف : 12؍24)’’تاکہ ہم اس طرح اس سے برائی اور بے حیائی کو روک دیں بلاشبہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔‘‘ یعنی یوسفuکے اخلاص کے سبب سے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر چنے ہوئے بندے کے ساتھ یونہی کرتا ہے۔ جیسا کہ علت کی عمومیت اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ وَنُصۡلِهٖ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم جہنم میں اسے بہت بڑے عذاب سے دوچار کریں گے ﴿ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ یعنی انجام کار یہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

[116] یہ وعید، جو رسول اللہﷺاور مومنین کی مخالفت پر مرتب ہوتی ہے گناہ کے چھوٹا بڑا ہونے کے اعتبار سے اس کے بہت سے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ ان میں سے بعض مراتب ایسے ہیں جو جہنم میں خلود کا باعث ہوں گے۔ باقی تمام اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور دوری کا موجب ہیں۔بعض گناہوں کا مرتبہ کمتر ہے۔ شاید دوسری آیت اس آیت کریمہ کے اطلاق کی تفصیل کی طرح ہے۔ یعنی شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا کیونکہ شرک اللہ رب العالمین، اور اس کی …

An-Nisaa 4:116Listen in Qur'an →
117

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثًۭا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَٰنًۭا مَّرِيدًۭا

یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں کی اور پکارتے ہیں تو شیطان کی سرکش ہی کو

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121)

[118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ …

An-Nisaa 4:117Listen in Qur'an →
118

لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا

جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121)

[118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ …

An-Nisaa 4:118Listen in Qur'an →
119

وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَٰمِ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَٰنَ وَلِيًّۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًۭا مُّبِينًۭا

اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121)

[118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ …

An-Nisaa 4:119Listen in Qur'an →
120

يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا

وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121)

[118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ …

An-Nisaa 4:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.