Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 111–120 of 176

111

وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًۭا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

” کسب “ کا لفظ کسی شخص کے اس فعل پر بولا جاتا ہے جس سے اسے کوئی نفع یا نقصان حاصل ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ نفع نقصان سے غنی ہے اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی طرف ” کسب “ کی نسبت نہیں ہوسکتی۔ (قرطبی) یعنی جو گناہ کرے گا وہی اس کی سزا بھگتے گا، کوئی دوسرا اس گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا، دوسری جگہ فرمایا : ( وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ ) ” اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھاتی۔ “ [ بنی إسرائیل : ١٥ ]

An-Nisaa 4:111Listen in Qur'an →
112

وَمَن يَكْسِبْ خَطِيٓـَٔةً أَوْ إِثْمًۭا ثُمَّ يَرْمِ بِهِۦ بَرِيٓـًۭٔا فَقَدِ ٱحْتَمَلَ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

خَطِيْۗئَةً “ کا لفظ غیر ارادی گناہ پر بولا جاتا ہے اور اس کے برعکس ” اِثْمًا “ وہ گناہ ہے جو ارادی طور پر کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ خود گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد کسی بےقصور آدمی کو اس میں ملوث کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور کسی بےگناہ شخص پر تہمت لگانے کو بہتان کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)

An-Nisaa 4:112Listen in Qur'an →
113

وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُۥ لَهَمَّت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَىْءٍۢ ۚ وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًۭا

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے

وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ ۔ : اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر یہ تھی کہ آپ کو وحی کے ذریعے سے اصل واقع کی حقیقت سے آگاہ کردیا۔ ورنہ وہ طائفہ جو بنو ابیرق کا حامی تھا، آپ کو قائل کر کے انھیں بری کرانے ہی والا تھا، اس کا نتیجہ صرف یہی نہ تھا کہ ایک مجرم بچ جاتا اور ایک بےگناہ مجرم بن جاتا، بلکہ اس کے نتائج بہت دور رس تھے، جس سے مسلمانوں کی ساکھ اور کردار مجروح ہوجاتا۔ فرمایا ایسے لوگ درحقیقت اپنی عاقبت برباد کر کے اپنا ہی نقصان کر رہے تھے، آپ کا محافظ خود اللہ تعالیٰ تھا، آپ کو وہ نہ دھوکا دے سکتے تھے نہ آپ کا کچھ نقصان کرسکتے تھے۔ - وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۭ : یعنی آپ کو وحی کے ذریعے سے وہ کچھ سکھایا جو آپ جانتے نہ تھے، بلکہ جس کی آپ امید بھی نہ رکھتے تھے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (٤٨، ٤٩) ، سورة قصص (٨٦) ، سورة شوریٰ (٥٢) اور سورة ہود (٤٩) یہ ہے اللہ کا آپ پر فضل عظیم۔ بعض لوگ اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عالم الغیب ہونے کی دلیل پکڑتے ہیں حالانکہ یہی الفاظ اللہ نے ہر انسان کے متعلق ارشاد فرمائے ہیں (عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ) [ العلق : ٥ ] ” پھر ہر انسان کا عالم الغیب ہونا بھی ثابت ہوجائے گا۔ “

An-Nisaa 4:113Listen in Qur'an →
114

۞ لَّا خَيْرَ فِى كَثِيرٍۢ مِّن نَّجْوَىٰهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَٰحٍۭ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ ۔۔ : ” نَجْوَی “ کچھ لوگوں سے علیحدہ ہو کر صلاح مشورہ کو کہتے ہیں، یہ مصدر ہے اور مبالغہ کے طور پر ” عَدْلٌ“ اور ” رِضًی “ کی طرح جمع پر بھی بولا جاتا ہے۔ اور ” اِلاَّ “ کے بعد ” نَجْوَی “ محذوف ہے، یعنی ” اِلاَّ نَجْوَی مَنْ اَمْرُ بِصَدَقَۃٍ “ یعنی ان کی بہت سی سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں، سوائے اس شخص کی سر گوشی کے جو صدقے کا حکم دے۔ - ” بصدقۃ “ صدقہ اس مال کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے کے لیے خرچ کیا جائے۔ یہ اصل میں نفل پر بولا جاتا ہے لیکن بعض اوقات فرض پر بھی بول دیتے ہیں، جیسے : ( اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ ) [ التوبۃ : ٦٠ ] مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل دل کے صدق سے ادا ہو رہا ہے۔ (راغب) ” معروف “ یہ لفظ نیکی کے تمام کاموں کو شامل ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارا اپنے بھائی کو کھلے چہرے سے ملنا بھی معروف میں سے ہے۔ “ [ ترمذی، البر والصلۃ، باب ما جاء فی طلاقۃ الوجہ ۔۔ : ١٩٧٠، عن جابر (رض) و صححہ الألبانی ]- ” اصلاح بین الناس “ کے الفاظ مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کے اختلافات ختم کرنے کو شامل ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ) [ الأنفال : ١ ] ” سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ “- ام کلثوم (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : ” وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے اور ( اس مقصد کے لیے) کوئی اچھی بات دوسرے تک پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔ “ [ بخاری، الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس : ٢٦٩٢ ] - 2 منافق لوگ جو راتوں کو الگ بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں، وہ اکثر اوقات بری باتیں ہی سوچتے ہیں، جو خیر سے خالی ہوتی ہیں، کیونکہ بھلائی کی بات اور صاف ستھری بات کو چھپانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ البتہ کچھ کام چھپا کر کرنے بہتر ہوتے ہیں، مثلاً کسی کو صدقہ دے تو چھپا کر دے، تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو یا صدقہ دینے سے متعلق الگ مشورہ بھی اچھا کام ہے۔ اسی طرح بھلائی کے کاموں اور بالخصوص لوگوں کے درمیان صلح کرانے سے متعلق اگر خفیہ مشورہ بھی کیا جائے تو یہ بھی ایک نیکی کا عمل ہے، لیکن افسوس ہے کہ یہ لوگ ان امور میں سے تو کسی بات کا مشورہ نہیں کرتے، اور ایسے مشورے کرتے ہیں جن سے شر پیدا ہو اور دوسروں کو نقصان پہنچے اور جو شخص مذکورہ بالا امور سے متعلق محض اللہ کی رضا کے لیے مشورہ کرے تو یہ بڑی نیکی کے کام ہیں۔

An-Nisaa 4:114Listen in Qur'an →
115

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ : ” یشاقق “ ” شَقَّ “ سے باب مفاعلہ کا فعل مضارع معلوم ہے۔ ” شَقَّ “ کا معنی طرف، کنارہ ہے، یعنی جو شخص یا گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس طرح مخالفت کرے کہ آپ کے مقابلے میں آجائے، ایک طرف اللہ کے رسول ہوں دوسری طرف یہ شخص یا گروہ ہو اور حق معلوم ہوجانے کے باوجود مومنوں کے سیدھے اور صاف راستے سے ( جو ہر حال میں اتباع رسول ہے) ہٹ جائے، تو ہم بھی اسے اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ پھرے گا اور اسی ٹیڑھی راہ پر جانے دیں گے جو اسے جہنم میں لے جا کر ڈال دے گی اور وہ بہت برا راستہ ہے۔ - 2 ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی کرنا در حقیقت دین اسلام ہی سے نکل جانا ہے، جس پر یہاں جہنم کی وعید بیان فرمائی گئی ہے۔ مومنین سے مراد صحابہ کرام (رض) ہیں جو دین اسلام کے سب سے پہلے پیرو کار اور اس کی تعلیم کا مکمل نمونہ تھے اور ان آیات کے نزول کے وقت جن کے سوا کوئی اور گروہ مومنین کا موجود نہ تھا، جو یہاں مراد ہو سکے۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور غیر سبیل المومنین کی پیروی دونوں حقیقت میں ایک ہی چیز کا نام ہے، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجات پانے والے گروہ کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا : ( مَا اَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ ) ” یہ وہ لوگ ہیں جو اس راستے پر چلیں گے جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔ “ [ ترمذی، الایمان، باب ما جاء فی افتراق۔۔ : ٢٦٤٠ ]- اس لیے صحابہ کرام (رض) کے راستے سے ہٹنا بھی کفر اور گمراہی ہے۔ بعض علماء نے سبیل المومنین سے مراد اجماع امت لیا ہے، یعنی پوری امت کے اجماع سے انحراف بھی کفر ہے۔ اجماع امت کا مطلب ہے کسی مسئلے میں امت کے تمام علماء و فقہاء کا اتفاق، یا کسی مسئلے پر صحابہ کرام (رض) کا اتفاق ہو، یہ دونوں صورتیں اجماع امت کی ہیں۔ صحابہ کرام (رض) کا اتفاق تو بہت سے مسائل میں ملتا ہے، یعنی اجماع کی یہ صورت تو ملتی ہے لیکن اجماع صحابہ کے بعد کسی مسئلے میں پوری امت کے اجماع و اتفاق کے دعوے تو بہت مسائل میں کیے گئے ہیں، لیکن ایسے اجماعی مسائل بہت کم ہیں جن میں فی الواقع امت کے تمام علماء و فقہاء میں اتفاق ہو، پھر ایسے مسائل پر سب علماء و فقہاء کے اتفاق کا پتا چلانا اور بھی مشکل ہے۔ پھر امت میں بہت سے فرقوں کے بن جانے نے یہ نتیجہ دکھایا ہے کہ ہر گروہ اپنی بات کو مضبوط بنانے کے لیے اجماع کا دعویٰ کردیتا ہے، خواہ وہ صریحاً قرآن و حدیث کے خلاف ہو، مثلاً قبروں پر عمارت بنانا، ان پر غلاف چڑھانا، چراغ جلانا، غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا، تعزیہ نکالنا، انبیاء کو انسان نہ سمجھنا، انھیں خدائی اوصاف دینا، میلاد، گیا رھویں، تیجہ، ساتواں، دسواں، چالیسواں، عرس میلے، پیر کا تصور باندھنا، اس کی ہر صحیح غلط بات ماننا، الغرض صریح شرک و بدعت کے کاموں کو اجماع کا نام دے دیا گیا ہے۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مسائل جن پر فی الواقع پوری امت کے علماء و فقہاء کا اجماع ہو ان کا انکار بھی صحابہ کے اجماع کے انکار کی طرح کفر ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا اور جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ “ [ ترمذی، الفتن، باب ما جاء فی - لزوم الجماعۃ : ٢١٦٧ ]- وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا : اس آیت میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور سلف صالحین کے مسلک سے منہ موڑ کر دوسروں کی پیروی کرتے ہیں اور آئے دن نئی بدعات ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تقلید کی ایجاد بھی بعد کی صدیوں میں ہوئی، سلف صالحین کے دور میں اس کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ کتاب و سنت کی دلیل سے …

An-Nisaa 4:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ : پچھلی آیت میں اس شخص کا ذکر ہے جو رسول کی مخالفت کرتا ہے اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرتا ہے۔ ایسا ہی شخص ہوسکتا ہے جو اپنے کفر پر اصرار کرے اور دین اسلام قبول نہ کرے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے کفر پر اڑنے کو شرک قرار دیا اور صراحت قرار دیا اور صراحت فرما دی کہ اس کی بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص دین سلام قبول کرلے اللہ کی توحید اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی شہادت دے اس کا عملی ثبوت دے اور ایسے فعل سے بچا رہے جس سے آدمی ملت اسلام سے خارج ہوجاتا ہے پھر کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے چاہے تو ویسے ہی معاف کر دے یا سزا دے کر جنت میں داخل کر دے مگر جو شخص اسلام ہی قبول نہ کرے یا اسلام لا کر صریح ارتداد والے اعمال کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی نہیں کیونکہ اسے معافی دینے کا مقصد باغی اور غدار کو معافی دینا ہے جو اپنی بغاوت اور عذر پر قائم ہو۔ بغاوت کو کوئی معمولی سے معمولی بادشاہ بھی برداشت نہیں کرتا تو بادشاہوں کا بادشاہ جس کی غیرت بےپناہ ہے بغاوت کو کیسے معاف کرسکتا ہے ؟ معلوم ہوا ابدی جہنمی صرف کفار و مشرکین ہوں گے مسلمان گناہ گار ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے۔ اس سے ان لوگوں کا رد نکلتا ہے جو کبیرہ گناہ کے مرتکب مسلم کو دائمی جہنمی کہتے ہیں۔ مزید دیکھیے اسی سورة کی آیت (٤٨)- 2 اوپر سے منافقوں کا ذکر آ رہا ہے جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلوں کو پسند نہ کرتے اور جدا راستے پر چلتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشتا، تو معلوم ہوا کہ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین ( طریقہ) کو محبوب رکھا جائے اور اس کو معمول بنایا جائے تو یہ شرک ہے، کیونکہ اسلام کے سوا جو دین بھی ہے شرک ہے، اگرچہ پرستش کا شرک نہ بھی کیا جائے۔ (موضح)

An-Nisaa 4:116Listen in Qur'an →
117

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثًۭا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَٰنًۭا مَّرِيدًۭا

یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں کی اور پکارتے ہیں تو شیطان کی سرکش ہی کو

” اناثا “ یہ ” أُنْثَی “ کی جمع ہے، یعنی مونث۔ ان سے مراد یا تو بت ہیں جن کے اکثر نام (لات، مناۃ، عزیٰ وغیرہ) مؤنث تھے۔ یونانیوں اور ہندوؤں نے بھی عبادت کے لیے دیویاں بنا رکھی ہیں۔ مسلمانوں نے ان کی دیکھا دیکھی ایسی ہستیوں میں ایسے اوصاف مشہور کر رکھے ہیں جیسے وہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی محبوبائیں ہوں، بلکہ ان کے خیال میں جو پہنچ چکے ہیں وہ اپنی وضع قطع بھی عورتوں والی بنا کر رکھتے ہیں، وہی چوڑیاں وہی زیور وغیرہ۔ ” اناثا “ سے مراد فرشتے بھی ہیں، کیونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور ان کی مائیں جنوں کی سردارنیوں کو مانتے تھے۔ - 2 اِنْ يَّدْعُوْنَ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی وضاحت اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارنے کے ساتھ کی ہے، کیونکہ عبادت میں اصل ہے ہی پکارنا، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلدُّعَاءُ ہُوَ الْعِبَادَۃُ ) ” پکارنا ہی تو عبادت ہے “ [ ترمذی، الدعوات، باب ما جاء فی فضل الدعاء : ٣٣٧٠۔ أبوداؤد : ١٤٧٩ ] اور دیکھیے سورة مومن (٦٠) ” جو شخص بھی غیبی مدد کے لیے کسی کو اللہ کے سوا پکارتا ہے وہ مشرک ہے، کیونکہ عبادت اسی پکارنے ہی کا نام ہے، بلکہ عبادت کی جتنی بھی صورتیں ہیں، یعنی قیام، رکوع، سجدہ، نذرو نیاز اور پکارنا وغیرہ، ان سب کا اصل مقصد اسے غیبی قوتوں کا مالک جان کر مانگنا ہی ہوتا ہے، کوئی اللہ کے ساتھ یہ معاملہ کرتا ہے تو اس سے مانگتا ہے، غیر اللہ کے ساتھ کرتا ہے تو اس سے مانگتا ہے۔ - شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا : بتوں، فرشتوں، دیوی دیوتاؤں اور دوسری ہستیوں کی عبادت کرنے والے اپنے خیال میں جس کی بھی عبادت کرتے رہیں حقیقت میں وہ سرکش شیطان ہی کی عبادت کر رہے ہیں، کیونکہ شیطان ہی انھیں اللہ کے دروازے سے ہٹا کر دوسروں کے آستانوں اور چوکھٹوں پر جھکاتا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔ جن لوگوں کی یہ پوجا کرتے ہیں، انھیں تو خبر ہی نہیں کہ کوئی ہمیں پکار رہا ہے۔ [ دیکھیے الأحقاف : ٥، ٦۔ یونس : ٢٨، ٢٩ ] یہ لوگ صرف شیطان کے کہنے پر اپنے وہم و گمان سے بنائی ہوئی ہستیوں کو پوج رہے ہیں۔ [ دیکھیے النجم : ٢٣۔ یونس : ٦٦ ]

An-Nisaa 4:117Listen in Qur'an →
118

لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا

جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔

آیت ١١٨ : نصیباً مفروضا یعنی تیرے بندوں میں سے ایک گروہ کو اپنی راہ پر ڈال لوں گا، وہ اپنے مال میں میرا حصہ مقرر رکھیں گے جیسے بتوں اور قبروں کے نام کی نذر و نیاز نکالی جاتی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (١٣٦ تا ١٤٠) جتنے گمراہ دوزخی ہیں سب نصیب شیطان (شیطان کے حصے) میں شامل ہیں۔ (قرطبی) شیطان ملعون اپنی سرکشی سے خود بھی گمراہ ہوا اور انسانوں کو گمراہ کرنے پر بھی ایسی کمر باندھی کہ نہ دشمنی چھپاتا ہے اور نہ دشمنی سے باز آتا ہے۔

An-Nisaa 4:118Listen in Qur'an →
119

وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَٰمِ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَٰنَ وَلِيًّۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًۭا مُّبِينًۭا

اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا

وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ ۔۔ : یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ گناہ کرتے رہو اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے، ایمان مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے، نماز پڑھنے اور دوسرے نیک اعمال کی کیا ضرورت ہے، یا ابھی جلدی کیا ہے، مرتے وقت توبہ کرلیں گے، یا جن بزرگوں اور پیروں کا تم دم بھرتے ہو ان کا اللہ پر بڑا زور ہے، تم ان کا دامن تھام لینا وہ تمہیں سیدھے جنت میں لے جائیں گے وغیرہ۔ اس قسم کے تمام خیالات اور گمان شیطانی آرزوؤں میں داخل ہیں۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) - 3 فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ ۔۔ : ” بَتَّکَ “ کا معنی قطع کرنا ہے، یعنی غیر اللہ کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر ان پر سواری کرنا حرام سمجھیں گے، جنھیں بحیرہ و سائبہ وغیرہ کہتے تھے۔ [ دیکھیے المائدۃ : ١٠٣ ]- 3 فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کی شکل و صورت تبدیل کریں گے اور ان کے حلال و حرام ہونے کے احکام بھی بدل دیں گے۔ اس میں رہبانیت ( دنیا میں اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرکے جنگل میں جا رہنا) ، قوم لوط کا عمل، مردوں کا خصی ہو کر ہیجڑا بن جانا، عورتوں کو بانجھ بنانا، برتھ کنٹرول کے نام پر مردوں کی نس بندی اور عورتوں کے آپریشن کر کے بچے پیدا ہونے میں رکاوٹیں ڈالنا، عورتوں کو گھروں سے نکال کر ان کے فطری فرائض سے سبکدوش کر کے مردوں کی صف میں کھڑا کردینا، عورتوں کو مملکت کی سربراہ بنادینا، خوب صورتی کے لیے ابروؤں کے بال اکھاڑنا، جلد میں نیل وغیرہ بھر کر نقش و نگار بنانا، دانت باریک کروانا، سر پر مصنوعی بال لگوانا، مردوں کا داڑھی منڈوانا، عورتوں کا لباس کم از کم کر کے انھیں ننگا کرنے کی کوشش کرنا، یہ سب شیطانی کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہیں۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر، (جلد میں نیل یا سرمہ بھر کر نقش بنوانے والیوں) اور چہرے کے بال صاف کرنے والیوں اور کروانے والیوں پر، حسن کے لیے دانتوں میں فاصلہ کروانے والیوں پر جو اللہ عزوجل کی خلق (پیدائش) کو بدلتی ہیں۔ “ پھر فرمایا : ” میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی اور وہ اللہ کی کتاب میں بھی ہے “ اور یہ آیت پڑھی : (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ ) [ الحشر : ٧ ] ” جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو، جس سے منع کر دے اس سے باز آجاؤ۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ) : ٤٨٨٦ ]

An-Nisaa 4:119Listen in Qur'an →
120

يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا

وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے

ابلیس کے پاس جھوٹے وعدوں، غلط آرزوؤں اور وسوسوں کے سوا کچھ نہیں، حالانکہ اس کے سب وعدے جھوٹے اور سراسر دھوکا ہیں، بظاہر خوش نما، اندر سے مہلک ہیں۔ دیکھیے سورة فاطر (٥، ٦) اور سورة ابراہیم (٢٣) اور ظاہر ہے کہ اپنے دشمن کو پہچانتے ہوئے پھر اس کے وعدوں پر اعتبار اور غلط آرزوؤں کو سچ سمجھنے کا نتیجہ جہنم کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔

An-Nisaa 4:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.