وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًۭا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا
اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
” کسب “ کا لفظ کسی شخص کے اس فعل پر بولا جاتا ہے جس سے اسے کوئی نفع یا نقصان حاصل ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ نفع نقصان سے غنی ہے اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی طرف ” کسب “ کی نسبت نہیں ہوسکتی۔ (قرطبی) یعنی جو گناہ کرے گا وہی اس کی سزا بھگتے گا، کوئی دوسرا اس گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا، دوسری جگہ فرمایا : ( وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ ) ” اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھاتی۔ “ [ بنی إسرائیل : ١٥ ]