Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 101–110 of 176

101

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلْكَٰفِرِينَ كَانُوا۟ لَكُمْ عَدُوًّۭا مُّبِينًۭا

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ ۔۔ : قصر کا معنی کمی ہے، یہ کمی رکعات کی تعداد میں بھی مسنون ہے اور اگر خوف زیادہ ہو تو نماز کی ہیئت و شکل میں بھی کمی ہوسکتی ہے، مثلاً پیدل جاتے جاتے نماز پڑھ لینا۔ ظاہر ہے اس میں سجدہ اور رکوع تو پوری طرح ممکن نہیں، یا سواری پر اشارے سے نماز پڑھ لینا۔ (دیکھیے سورة بقرہ (٢٣٩) ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن انیس (رض) کو خالد بن سفیان کے قتل کے لیے بھیجا تو عصر کا وقت قریب تھا، انھوں نے جاتے جاتے ہی نماز پڑھ لی۔ [ أبو داوٗد، صلاۃ السفر، باب صلاۃ الطالب : ١٢٤٩ ] حافظ ابن حجر (رض) نے فتح الباری میں اس کی سند کو حسن اور ابن کثیر نے جید کہا ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر ] عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان سے حضر میں چار، سفر میں دو اور خوف میں ایک رکعت فرض کی ہے۔ “ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین و قصرھا : ٦٨٧ ]- عام سفر میں مغرب اور صبح کی نماز کے علاوہ دوسری نمازوں میں چار کے بجائے دو رکعت پڑھنا قصر ہے۔ ” تم پر کچھ گناہ نہیں “ کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ حالت سفر میں قصر واجب نہیں، اس کی صرف اجازت ہے اور یہی اکثر علمائے سلف کا مسلک ہے، مگر چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ سفر میں قصر پڑھی ہے، لہٰذا آپ کی سنت کو دیکھتے ہوئے امام شافعی، امام احمد ابن حنبل اور اکثر محدثین (رح) کے نزدیک قصر افضل ہے۔ - 2 سفر سے مراد بظاہر تو عام سفر ہے، جسے عرف میں سفر کہا جاتا ہو، اب رہی میلوں یا دنوں کی مقدار کی تعیین تو نہ قرآن کی کسی آیت میں اس کا صاف ذکر ہے اور نہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی صریح حدیث میں۔ اس بنا پر جن ائمہ اور علماء نے کسی مقدار کی تعیین کی ہے، انھوں نے عموماً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سفروں کو دیکھتے ہوئے اپنے اجتہاد سے کی ہے، تاہم سب سے قوی دلیل سفر کی مقدار کی تعیین میں صحیح مسلم (٦٩١) میں مروی حدیث انس ہے، جس کی رو سے تین فرسخ ( ٩ کوس) تقریباً اکیس کلو میٹر سفر کرنا ہو تو شہر سے نکل کر قصر کرسکتے ہیں۔- 3 کسی صحیح حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ثابت نہیں کہ آپ نے کسی سفر میں فرض نماز سے پہلے یا بعد میں سنتیں ادا کی ہوں، ہاں رات کے وتر اور صبح کی سنتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سفر میں پڑھا کرتے تھے اور کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ (زاد المعاد : ١؍٤٥٦) صحابہ میں سے ابو بکر، عمر اور ابن عمر (رض) کا اسی پر عمل تھا۔ [ بخاری،- التقصیر، باب من لم یتطوع فی السفر دبر الصلاۃ : ١١٠١ ]- 4 مسافر اگر مقیم کے پیچھے نماز پڑھے گا تو قصر نہیں کرے گا۔ موسیٰ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم ابن عباس کے ساتھ مکہ میں تھے تو میں نے کہا جب ہم آپ کے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں جب اپنی رہائش کی جگہوں میں جاتے ہیں تو دو رکعت پڑھتے ہیں تو انھوں نے فرمایا یہ ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔ [ أحمد ٢١٦؍١، ح : ١٨٦٧ ] اس کی ہم معنی روایت صحیح ابی عوانہ (٣٤٠؍٢) میں ہے۔ ارواء الغلیل تحت حدیث (٥٧١)- اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ ۔۔ : یہ آیت چونکہ جہاد کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، اس لیے اس میں نماز قصر کی اجازت کے ساتھ ” اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے “ کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ باقی رہا عام سفر، جس میں دشمن کا خوف نہ ہو تو اس میں قصر کے حکم کے بارے میں یہ آیت خاموش ہے، اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قول و فعل سے واضح فرمایا ہے۔ عمر (رض) سے ایک شخص نے سوال کیا : ” کیا وجہ ہے کہ لوگ ہر سفر میں قصر کر رہے ہیں، حالانکہ قرآن مجید میں یہ حکم خوف کے ساتھ مقید ہے ؟ “ تو عمر (رض) نے فرمایا : ” خود مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا اور میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے …

An-Nisaa 4:101Listen in Qur'an →
102

وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوٓا۟ أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا۟ فَلْيَكُونُوا۟ مِن وَرَآئِكُمْ وَلْتَأْتِ طَآئِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا۟ فَلْيُصَلُّوا۟ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا۟ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًۭى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَن تَضَعُوٓا۟ أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا۟ حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

اور (اے پیغمبر) جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہو جائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ ۔۔ : اس آیت میں صلاۃ الخوف کی اجازت بلکہ حکم دیا جا رہا ہے۔ یہ خوف کی نماز کا وہ موقع ہے کہ جب دشمن موجود ہو اور اس کے حملے کا خطرہ ہو، عملاً جنگ نہ ہو رہی ہو، لیکن ذرا سی غفلت بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہو، ایسے حالات میں اگر نماز کا وقت ہوجائے تو صلاۃ الخوف پڑھنے کا حکم ہے، جس کی مختلف صورتیں حدیث میں بیان کی گئی ہیں، مثلاً فوج دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، ایک حصہ (گروہ) دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا، تاکہ کافروں کو حملہ کرنے کی جسارت نہ ہو اور ایک حصے نے آ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی، جب یہ حصہ نماز سے فارغ ہوگیا تو یہ پہلے کی جگہ مورچہ زن ہوگیا اور مورچہ زن حصہ نماز کے لیے آگیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں حصوں کو ایک ایک رکعت پڑھائی، اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو رکعت اور باقی فوجیوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ دو ، دو رکعات پڑھائیں، اس طرح آپ کی چار رکعت اور فوجیوں کی دو ، دو رکعت ہوئیں۔ نیز بعض میں آتا ہے کہ ایک رکعت پڑھ کر التحیات کی طرح بیٹھے رہے، فوجیوں نے کھڑے ہو کر اپنے طور پر ایک رکعت اور پڑھ کر دو رکعات پوری کیں اور دشمن کے سامنے ڈٹ گئے، دوسرے حصے (گروہ) نے آ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور التحیات میں بیٹھ گئے اور اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک فوجیوں نے دوسری رکعت پوری نہیں کرلی، پھر ان کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیر دیا، اس طرح آپ کی بھی دو رکعت اور فوج کے دونوں حصوں کی بھی دو رکعات ہوئیں۔ - 2 ابن العربی (رض) لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چودہ مرتبہ صلاۃ الخوف پڑھی ہے اور امام احمد ابن حنبل (رح) فرماتے ہیں کہ پس صلاۃ الخوف میں تمام احادیث صحیح اور ثابت ہیں، لہٰذا جس صورت میں نماز ادا کرلی جائے جائز ہے۔ حافظ ابن القیم (رض) فرماتے ہیں کہ سب احادیث کا مرجع چھ سات صورتوں کی طرف ہے، جن میں سے ہر صورت پر حسب موقع عمل کیا جاسکتا ہے۔ ( زاد المعاد : ١؍٥١٢) امام ابو داؤد (رح) نے صلاۃ الخوف کی صورتیں صحیح سندوں کے ساتھ بہت تفصیل سے ذکر فرمائی ہیں۔ یہ تمام صورتیں اس وقت ہیں کہ جب جماعت ممکن ہو، اگر ممکن نہ ہو تو اکیلا پڑھ لے، پیادہ یا سوار یا اشارے سے، جس طرح ہو سکے (فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا ) [ البقرۃ : ٢٣٩ ] ” پھر اگر تم ڈرو تو پیدل پڑھ لو یا سوار۔ “ اگر جنگ جاری ہو اور اشارے سے بھی نہ پڑھ سکے تو بعد میں قضا کر کے پڑھ لے۔ صحیح بخاری میں ہے، انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں تستر قلعے کی فتح کے وقت موجود تھا، جب فجر روشن ہو رہی تھی اور لڑائی شدید بھڑک اٹھی تھی تو نماز پڑھ ہی نہیں سکے، چناچہ دن بلند ہونے کے بعد ہی نماز پڑھی۔ ہم نے وہ نماز ابو موسیٰ (رض) کے ساتھ پڑھی، اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔ انس (رض) نے فرمایا کہ مجھے دنیا ومافیہا مل جائے تب بھی اتنی خوشی نہ ہو، جتنی اس نماز سے ہوئی۔ “ [ بخاری، صلاۃ الخوف، باب الصلاۃ عند مناھضۃ الحصون ولقاء العدو، قبل ح : ٩٤٥ ]

An-Nisaa 4:102Listen in Qur'an →
103

فَإِذَا قَضَيْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ قِيَٰمًۭا وَقُعُودًۭا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا ٱطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتْ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ كِتَٰبًۭا مَّوْقُوتًۭا

پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے

فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ : یعنی صلاۃ الخوف میں نماز کی حالت میں اذکار پورے نہیں ہوسکتے، اس لیے نماز پوری ہونے پر کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرو، تاکہ تلافی ہوجائے، اس کے علاوہ ہر حال ہی میں ذکر کی کثرت ہونی چاہیے۔ جنگ کے موقع پر تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا خاص حکم دیا، فرمایا : ( اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) [ الأنفال : ٤٥ ] ” جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ “- فَاِذَا اطْمَاْنَـنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ۚ: یعنی جب خوف کی حالت ختم ہوجائے اور دشمن کا کوئی خطرہ نہ رہے تو نماز کو اس کے پورے ارکان و شرائط اور حدود کے ساتھ مقررہ اوقات پر ادا کرو۔ ہاں سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھی ہیں، جیسا کہ عرفات، مزدلفہ اور دوسرے سفروں میں جمع کیا ہے، تو سفر میں جمع کرنے کی رعایت بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے پاس سے تو وقت مقرر کرنے کا اختیار ہی نہ تھا۔ اس لیے اس کا وقت وہی ہے۔

An-Nisaa 4:103Listen in Qur'an →
104

وَلَا تَهِنُوا۟ فِى ٱبْتِغَآءِ ٱلْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا۟ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

اور کفار کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا اور (بڑی) حکمت والا ہے

وَلَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَاۗءِ الْقَوْمِ ۭ : یہ آیت اس آیت سے ملتی جلتی ہے : ( اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ ) [ آل عمران : ١٤٠ ] ” اگر تمہیں کوئی زخم پہنچے تو یقیناً ان لوگوں کو بھی اس جیسا زخم پہنچا ہے۔ “ قرطبی نے جنگ احد میں زخم کھانے کے باوجود کفار کا پیچھا کرنے کو اس آیت کی شان نزول بتایا ہے، مگر الفاظ عام ہیں، اس لیے اس واقعے کے علاوہ ہر ایسے موقع پر یہی حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمت افزائی ہے کہ درد و الم میں تو تم یکساں ہو مگر اللہ سے اجر کی امید میں تو تمہارا اور ان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں، تو پھر ان کا پیچھا کرنے میں کیوں ہمت ہارتے ہو ؟

An-Nisaa 4:104Listen in Qur'an →
105

إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَىٰكَ ٱللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَآئِنِينَ خَصِيمًۭا

(اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ ۔۔ : جمہور مفسرین نے ان آیات (١٠٤ سے ١١٣ تک) کی شان نزول چوری کا ایک واقعہ بتایا ہے، جو ترمذی میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور شیخ ناصر الدین البانی (رض) نے اسے حسن کہا ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ بشر، بشیر اور مبشر تین بھائی تھے، جو ابیرق یا طعمہ بن ابیرق کے بیٹے تھے۔ بعض نے کہا کہ ان میں سے بشیر کی کنیت ابو طعمہ تھی، یہ لوگ مدینہ کے قبیلہ بنو ظفر سے تھے۔ ان میں بشیر سب سے بدتر تھا، یہ شخص منافق تھا اور مسلمانوں کی ہجو کر کے وہ شعر دوسروں کے نام لگا دیتا تھا۔ یہ غریب فاقہ زدہ لوگ تھے اور رفاعہ بن زید کے ہمسائے تھے۔ ایک دفعہ شام سے ایک قافلہ میدہ لے کر آیا تو رفاعہ بن زید نے اس میں سے ایک بوری خرید لی۔ مدینہ کے لوگ آٹا کھاتے تھے، رہا میدہ تو وہ گھر کے بڑے آدمیوں کے لیے سنبھال کر رکھ لیا جاتا تھا۔ رفاعہ نے وہ میدہ اپنے اسلحہ کے سٹور میں اسلحہ کے ساتھ محفوظ کردیا۔ ابیرق کے بیٹوں نے سٹور میں نقب لگا کر میدہ اور اسلحہ چرا لیا۔ صبح ہوئی تو رفاعہ نے اپنا اسلحہ اور میدہ نقب لگا کر چرانے کی بات اپنے بھتیجے قتادہ بن نعمان کے ساتھ کی۔ اب اس نے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ اس رات ابیرق کے بیٹوں نے آگ جلائی تھی اور شاید انھوں نے رفاعہ کے میوہ ہی سے کھانا تیار کیا ہو۔ جب ابیرق کے بیٹوں کا راز فاش ہوگیا تو انھوں نے چوری کا وہ اسلحہ وغیرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دیا اور ان کے قبیلے بنو ظفر کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہلے ہی آ کر شکایت کردی کہ رفاعہ بن زید اور اس کے بھتیجے نے ہمارے ایک گھر والوں پر، جو ایمان دار اور نیک لوگ ہیں، چوری کا الزام لگا دیا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے بلا دلیل ایمان دار نیک لوگوں پر چوری کا الزام لگا دیا ہے۔ “ ان لوگوں نے مشہور کردیا کہ مسروقہ سامان یہودی کے گھر سے نکلا ہے، تو اس پر یہ آیات اتریں۔ [ ترمذی، التفسیر، باب ومن سورة النساء : ٣٠٣٦ ] اللہ تعالیٰ نے معاملے کی حقیقت کھول دی، تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ جرم تو بنو ابیرق کا تھا، مگر مجرم یہودی کو بنادیا گیا، کیونکہ وہ اپنا نہیں تھا۔ اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انصاف پر بہت بڑا دھبا آسکتا تھا۔ - وَلَا تَكُنْ لِّلْخَاۗىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا : اس سے مراد ابیرق کے بیٹے ہیں کہ آپ ان کی حمایت نہ کریں، اس سے معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو یہ فرمانے کی ضرورت نہ تھی کہ ” آپ ان خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کریں۔ “

An-Nisaa 4:105Listen in Qur'an →
106

وَٱسْتَغْفِرِ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور خدا سے بخشش مانگنا بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰهَ : یعنی جو حمایت آپ نے کی اس کی مغفرت طلب کریں۔ ایک معنی مفسرین نے یہ بھی کیا ہے کہ ان گناہ گاروں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات قاضی ایک فریق کی چرب زبانی کی وجہ سے اس کے حق میں فیصلہ دے دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صحیح نہیں ہوجائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” خبر دار میں ایک انسان ہی ہوں اور جس طرح سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کردیتا ہوں، ممکن ہے ایک شخص اپنی دلیل و حجت پیش کرنے میں تیز طرار اور ہوشیار ہو اور میں اس کی گفتگو سے متاثر ہو کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، حالانکہ وہ حق پر نہ ہو اور اس طرح میں دوسرے مسلمان کا حق اسے دے دوں، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ آگ کا ٹکڑا ہے، اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اسے لے لے یا چھوڑ دے۔ “ [ بخاری، المظالم، باب إثم من خاصم۔۔ : ٢٤٥٨ ]

An-Nisaa 4:106Listen in Qur'an →
107

وَلَا تُجَٰدِلْ عَنِ ٱلَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًۭا

اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا

وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِيْنَ... مطلب یہ کہ یہ لوگ جنھوں نے دوسروں کی خیانت کی ہے، در حقیقت سب سے پہلے انھوں نے اپنی جانوں سے خیانت کی ہے، کیونکہ دوسروں سے دغا کرنے والا پہلے اپنے آپ سے دغا کرتا ہے۔

An-Nisaa 4:107Listen in Qur'an →
108

يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ ٱلْقَوْلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے

يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ : یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ گناہوں کا ارتکاب کرنے میں لوگوں سے چھپاؤ تو کرتے، ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے چھپاؤ نہیں کرتے جو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کی گھڑیوں میں نا مناسب کاموں کے مشورے کر رہے ہوتے ہیں، وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، اس سے بچ کر کہاں جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کے مطلب کے لیے دیکھیے سورة حدید (٤) اور سورة مجادلہ (٧) ۔

An-Nisaa 4:108Listen in Qur'an →
109

هَٰٓأَنتُمْ هَٰٓؤُلَآءِ جَٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فَمَن يُجَٰدِلُ ٱللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًۭا

بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کر لیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کے ساتھ کون جھگڑے گا اور کون ان کا وکیل بنے گا؟

ھٰٓاَنْتُمْ هٰٓؤُلَاۗءِ جٰدَلْتُمْ ۔۔ : یہ ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے جو ابیرق کے بیٹوں کی طرف سے وکالت اور بحث کرتے تھے۔

An-Nisaa 4:109Listen in Qur'an →
110

وَمَن يَعْمَلْ سُوٓءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُۥ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا

وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ ۔۔ : مزید آیات دیکھیے سورة زمر (٥٣، ٥٤) سورة فرقان (٦٨ تا ٧١) اور سورة آل عمران (١٣٥) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کوئی آدمی جب جو کوئی گناہ کرے، پھر اٹھ کر اچھی طرح وضو کرے، پھر اللہ سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : ( وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ ) [ آل عمران : ١٣٥ ] ” اور وہ لوگ جب کوئی بےحیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہ کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون بخشتا ہے۔ “ [ ترمذی، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء فی الصلاۃ عند التوبۃ : ٤٠٦ ]- اس آیت میں ہر قسم کے گناہوں کے نتائج بد سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کی جائے۔ ” السوء “ وہ گناہ جن سے انسان اپنے علاوہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جیسے جھوٹی شہادت اور بےگناہ کو متہم کرنا اور ” اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ “ سے ان گناہوں کی طرف اشارہ ہے جن سے انسان صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسے نماز چھوڑنا اور شراب پینا وغیرہ۔

An-Nisaa 4:110Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.