Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 101–110 of 176

101

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلْكَٰفِرِينَ كَانُوا۟ لَكُمْ عَدُوًّۭا مُّبِينًۭا

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

(آیت) ” نمبر 101۔

جو شخص مسافر ہو ‘ اسے اپنے رب کے ساتھ دائمی تعلق کی ضرورت ہے ‘ تاکہ اللہ اس پر سفر کی مشکلات میں آسانیاں پیدا کر دے ۔ اس کی تیاریوں میں اس کی مداد ہو ‘ سامان سفر فراہم ہو اور راستے کی مشکلات اللہ اس کے لئے آسان کر دے ۔ نماز تعلق باللہ کا موثر ترین ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکلات اور تکالیف میں نماز سے امداد حاصل کریں ۔ جب خوف کا مقام ہو اور جب زندگی کی مشقتوں کا سامنا ہو تو حکم ہے کہ نماز سے معاونت حاصل کرو۔ (آیت) ” واستعنوا بالصبر والصلوۃ) (نماز اور صبر کے ذریعے اللہ کی امداد طلب کرو)

یہی وجہ ہے کہ سفر و جہاد کے اس موضوع کے متصلا بعد اللہ تعالیٰ نے نماز کا ذکر کیا ۔ ایسے حالات میں نماز ایک مومن کا نہایت ضروری ہتھیار ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو راستے میں خوف اور خطرے کے حالات درپیش ہوں تو ایسے حالات میں اسے صرف اللہ کی یاد سے اطمینان ہوتا ہے ۔ جو شخص اپنے ملک کو چھوڑتا ہے اس کے لئے اللہ کی درگاہ میں پہنچ جانا ہی باعث اطمینان ہوتا ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ ہے کہ کامل نماز اور پورے رکوع اور سجود کے ساتھ نماز کی وجہ سے کبھی ہو سکتا ہے کہ ایک مومن پر دشمن حملہ آور ہوجائیں جو کہیں قریب ہی چھپے ہوں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن اسے پہچان لیں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ طویل رکوع اور سجود میں اسے پکڑ لیں ‘ چناچہ جو لوگ جہاد کے لئے نکلیں ان کے لئے جائز ہے کہ وہ خوف کے وقت نماز کو مختصر کردیں ۔

یہاں قصر کے مفہوم اور تفسیر میں ہم اسی بات کو ترجیح دیتے ہیں جسے جصاص نے لیا ہے کہ اس قصر سے مراد رکعات میں قصر نہیں ہے اس لئے کہ یہ تو مطلق مسافر کے لئے جائز ہے خواہ حالت خوف ہو یا نہ ہو ‘ بلکہ سفر میں تو قصر لازمی ہے ۔ جس طرح حضور اکرم ﷺ نے قصر فرمائی اور ہر سفر میں فرمائی اس لئے کہ سفر میں راجح اقوال کے مطابق پوری رکعات پڑھنا جائز ہی نہیں ہے ۔

لہذا یہاں حالت خوف میں قصر سے مراد بالکل دوسری ہوگی اور یہ قصر مسافر کی قصر سے مختلف ہوگی ۔ یہ قصر نماز کی کیفیت میں ہوگی مثلا رکوع ‘ سجود اور قیام میں نہایت ہی سکون سے یہ ارکان سرانجام دینے میں قصر ہوگی ۔ یوں حالت خوف میں مسافر کے لئے چلتے ہوئے ‘ سواری کی حالت میں اور صرف اشارے سے بھی نماز جائز ہوگی اور اس طرح وہ اپنے رب کے ساتھ جڑا ہوا رہے گا ۔ حالت خوف اور حالت فتنہ میں بھی وہ اس ضروری ہتھیار سے مسلح ہوگا اور دشمن کے مقابلے میں محتاج بھی ہوگا اس لئے کہ

(آیت) ” ان الکفرین کانوا لکم عدوامبینا “۔ (4 : 101) (بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں)

مسافر اور مجاہد کی نماز میں حالت خوف میں قصر کے حکم کے بعد اور اسی مناسبت سے معرکہ کارزار میں اب صلوۃ الخوف کا حکم بھی یہاں دیا جاتا ہے ۔ اس خالص فقہی حکم کے اندر بھی نفسیاتی اور تربیتی اشارات کا وافر ذخیرہ دستیاب اور موجود ہے ۔

An-Nisaa 4:101Listen in Qur'an →
102

وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوٓا۟ أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا۟ فَلْيَكُونُوا۟ مِن وَرَآئِكُمْ وَلْتَأْتِ طَآئِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا۟ فَلْيُصَلُّوا۟ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا۟ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًۭى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَن تَضَعُوٓا۟ أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا۟ حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

اور (اے پیغمبر) جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہو جائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

(آیت) ” نمبر 102 تا 103۔

جو شخص قرآن کے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے اور جو شخص ربانی منہاج تربیت میں فکر کرتا ہے خصوصا اس سبق پر تو اس پر عجیب اسرار و رموز کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اس سبق کے اندر ایسے لمحات فکر واحساس آتے ہیں جن کا اثر انسان کی روح کی گہرائیوں تک جا اترتا ہے ۔ ذرا میدان معرکہ کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں :

قرآن کریم کی یہ آیت محض ایک فقہی اور قانونی مسئلہ نہیں بیان کرتی کہ صلوۃ الخوف اس طرح ہوگی اس کے اندر تعلیم وتربیت کا بیشمار سامان ہے جس کے ذریعے ایک انقلابی جماعت کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اسے انقلابی عمل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے ۔

آیت سے جو پہلی بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں نماز کی اس قدر اہمیت ہے کہ میدان کارزار کے اندر بھی نماز کو نہیں چھوڑا جاتا اور یہ بات ایمانی نقطہ نظر سے بالکل واضح ہے کہ نماز میدان کار زار کے اندر ایک بہترین ہتھیار ہے بلکہ یہ سب ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے اور ہر معرکے کے اندر اس ہتھیار سے فائدہ اٹھانا بہت ہی ضروری ہے ۔ اس معرکے کے مزاج اور اس کی فضا کے ساتھ نماز کا گہرا تعلق ہے ۔

یہ ابتدائی دور کے اسلامی دستے جن کی تربیت ربانی اور قرآنی منہاج کے ساتھ کی گئی تھی ‘ وہ اپنے دشمن کا مقابلہ اس اسلحہ کے ساتھ کرتے تھے جس میں وہ دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ وہ اپنے دشمنوں پر یہ فوقیت رکھتے تھے کہ وہ صرف ایک الہ وحدہ لاشریک کو مانتے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب کو اچھی طرح پہچان لیا تھا اور ان کو یہ احساس پوری طرح حاصل ہوتا تھا کہ ان کا وہ الہ پوری طرح ان کے ساتھ شریک جنگ ہے ۔ وہ مقصدیت کے اعتبار سے بھی دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ ان کا نصب العین بلند تھا اور وہ بھی اسے سب سے اونچا ہدف سمجھتے تھے ۔ ان کا تصور کائنات ‘ تصور حیات اور تصور غایت وجود انسانی ہر دشمن کے مقابلے میں بلند تھا ۔ اس برتر نظام زندگی کے تحت ان کی جو تنظیم وجود میں آئی تھی اس میں بھی وہ دشمن کے مقابلے میں برتر تھے ۔ میدان جگن میں نماز ان تمام برتریوں کا اشارہ تھی اور ہر وقت ان کو یہ سبق اور شعور یاد دلاتی تھی کہ وہ برتر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نماز میدان کار زار میں ان کے لئے ایک اعلی ترین اسلحہ تھی بلکہ ان کا انحصار ہی اس اسلحہ پر تھا ۔

دوسری بات جو ان آیات کے ضمن میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان روحانی طور پر تیار اور بیدار ہیں اور دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ دشمن بھی گھات میں بیٹھا ہے اور اہل ایمان کی طرف سے غفلت کی ایک مختصر سی گھڑی کے انتظار میں ہے کہ ذرا وہ غافل ہو اور وہ ان کا اسلحہ اور سازو سامان سب پر قبضہ کر کے اچانک حملہ آور ہوجائے ۔ اس تنبیہ ڈراوے اور ثابت قدمی اور اطمینان کی تلقین کے ساتھ ہی بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک توہین آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ایک طرف سے سخت حکم ہے کہ حالت بیداری اور تیاری میں رہو اور دوسری طرف یہ یقین دہانی ہے کہ مطمئن رہو ‘ ایک طرف سخت حساس اور چوکنا رہنے کی ہدایت اور دوسری جانب سے پورا اطمینان ۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تربیت دیتے ہیں اس لئے کہ دشمن سخت مکار ہے اور وہ اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرسکتا ہے ۔

صلوۃ الخوف کی کیفیت میں فقہاء کا اختلاف ہے ۔ یہ مسائل انہوں نے اسی آیت سے لئے ہیں ۔ ہم صرف عام کیفیت بیان کریں گے اور فقہی تفصیلات میں نہیں جائیں گے ۔

(آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ فلتقم طائفۃ منھم معک ولیاخذوا اسلحتھم فاذا سجدوا فلیکونوا من ورآء کم ولیات طائفۃ اخری لم یصلوا فلیصلوا معک ولیاخذوا حذرھم اسلحتھم “۔ (4 : 102)

(اور اے نبی ‘ جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہو تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے اسلحہ لئے رہے ‘ پھر جب وہ سجدہ کرلے تو …

An-Nisaa 4:102Listen in Qur'an →
103

فَإِذَا قَضَيْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ قِيَٰمًۭا وَقُعُودًۭا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا ٱطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتْ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ كِتَٰبًۭا مَّوْقُوتًۭا

پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے

(آیت) ” نمبر 102 تا 103۔

جو شخص قرآن کے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے اور جو شخص ربانی منہاج تربیت میں فکر کرتا ہے خصوصا اس سبق پر تو اس پر عجیب اسرار و رموز کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اس سبق کے اندر ایسے لمحات فکر واحساس آتے ہیں جن کا اثر انسان کی روح کی گہرائیوں تک جا اترتا ہے ۔ ذرا میدان معرکہ کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں :

قرآن کریم کی یہ آیت محض ایک فقہی اور قانونی مسئلہ نہیں بیان کرتی کہ صلوۃ الخوف اس طرح ہوگی اس کے اندر تعلیم وتربیت کا بیشمار سامان ہے جس کے ذریعے ایک انقلابی جماعت کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اسے انقلابی عمل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے ۔

آیت سے جو پہلی بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں نماز کی اس قدر اہمیت ہے کہ میدان کارزار کے اندر بھی نماز کو نہیں چھوڑا جاتا اور یہ بات ایمانی نقطہ نظر سے بالکل واضح ہے کہ نماز میدان کار زار کے اندر ایک بہترین ہتھیار ہے بلکہ یہ سب ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے اور ہر معرکے کے اندر اس ہتھیار سے فائدہ اٹھانا بہت ہی ضروری ہے ۔ اس معرکے کے مزاج اور اس کی فضا کے ساتھ نماز کا گہرا تعلق ہے ۔

یہ ابتدائی دور کے اسلامی دستے جن کی تربیت ربانی اور قرآنی منہاج کے ساتھ کی گئی تھی ‘ وہ اپنے دشمن کا مقابلہ اس اسلحہ کے ساتھ کرتے تھے جس میں وہ دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ وہ اپنے دشمنوں پر یہ فوقیت رکھتے تھے کہ وہ صرف ایک الہ وحدہ لاشریک کو مانتے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب کو اچھی طرح پہچان لیا تھا اور ان کو یہ احساس پوری طرح حاصل ہوتا تھا کہ ان کا وہ الہ پوری طرح ان کے ساتھ شریک جنگ ہے ۔ وہ مقصدیت کے اعتبار سے بھی دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ ان کا نصب العین بلند تھا اور وہ بھی اسے سب سے اونچا ہدف سمجھتے تھے ۔ ان کا تصور کائنات ‘ تصور حیات اور تصور غایت وجود انسانی ہر دشمن کے مقابلے میں بلند تھا ۔ اس برتر نظام زندگی کے تحت ان کی جو تنظیم وجود میں آئی تھی اس میں بھی وہ دشمن کے مقابلے میں برتر تھے ۔ میدان جگن میں نماز ان تمام برتریوں کا اشارہ تھی اور ہر وقت ان کو یہ سبق اور شعور یاد دلاتی تھی کہ وہ برتر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نماز میدان کار زار میں ان کے لئے ایک اعلی ترین اسلحہ تھی بلکہ ان کا انحصار ہی اس اسلحہ پر تھا ۔

دوسری بات جو ان آیات کے ضمن میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان روحانی طور پر تیار اور بیدار ہیں اور دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ دشمن بھی گھات میں بیٹھا ہے اور اہل ایمان کی طرف سے غفلت کی ایک مختصر سی گھڑی کے انتظار میں ہے کہ ذرا وہ غافل ہو اور وہ ان کا اسلحہ اور سازو سامان سب پر قبضہ کر کے اچانک حملہ آور ہوجائے ۔ اس تنبیہ ڈراوے اور ثابت قدمی اور اطمینان کی تلقین کے ساتھ ہی بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک توہین آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ایک طرف سے سخت حکم ہے کہ حالت بیداری اور تیاری میں رہو اور دوسری طرف یہ یقین دہانی ہے کہ مطمئن رہو ‘ ایک طرف سخت حساس اور چوکنا رہنے کی ہدایت اور دوسری جانب سے پورا اطمینان ۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تربیت دیتے ہیں اس لئے کہ دشمن سخت مکار ہے اور وہ اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرسکتا ہے ۔

صلوۃ الخوف کی کیفیت میں فقہاء کا اختلاف ہے ۔ یہ مسائل انہوں نے اسی آیت سے لئے ہیں ۔ ہم صرف عام کیفیت بیان کریں گے اور فقہی تفصیلات میں نہیں جائیں گے ۔

(آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ فلتقم طائفۃ منھم معک ولیاخذوا اسلحتھم فاذا سجدوا فلیکونوا من ورآء کم ولیات طائفۃ اخری لم یصلوا فلیصلوا معک ولیاخذوا حذرھم اسلحتھم “۔ (4 : 102)

(اور اے نبی ‘ جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہو تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے اسلحہ لئے رہے ‘ پھر جب وہ سجدہ کرلے تو …

An-Nisaa 4:103Listen in Qur'an →
104

وَلَا تَهِنُوا۟ فِى ٱبْتِغَآءِ ٱلْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا۟ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

اور کفار کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا اور (بڑی) حکمت والا ہے

(آیت) ” نمبر 104۔

یہ معدودے چند الفاظ ہیں ‘ جن میں دو ٹوک اور واضح خطوط کھینچ دیے گئے ہیں ‘ یہ بتاتے ہیں کہ ایک مومن کی راہ کس قدر طویل اور پر مشقت ہے ۔ مومنین ہمیشہ چکی کے دو پاٹوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ بیشک اس دائمی معرکے میں وہ رنج والم اور گہرے زخم پاتے ہیں لیکن وہ یہ سوچیں کہ کیا یہ تکالیف صرف ان پر ہی آئی ہیں یا دشمنوں کو بھی انہیں جیس تکالیف سے سابقہ درپیش ہے ۔ دشمن بھی تو رنج والم سے دوچار ہوتے ہیں ۔ انہیں بھی تو زخم آتے ہیں۔ لیکن تم دونوں میں فرق یہ ہے کہ اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور اللہ سے شاندار جزا کے امیدوار ہیں اور ان کے دشمنوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بےمقصد اور بےفائدہ جنگ لڑ رہے ہیں ‘ وہ اللہ کے سامنے تو کچھ لے کر جانے والے نہیں ‘ نہ انہیں اس دنیا میں اللہ کی جانب سے کوئی امید ہے اور نہ آخرت میں کوئی توقع ہے ۔۔۔۔۔۔ پس اگر کفار اس معرکے پر مصر ہیں تو مسلمانوں کے لئے تو مناسب ہے کہ وہ اس سے زیادہ اصرار کریں ۔ اگر کفار اس معرکے میں گہرے زخم برداشت کرتے ہیں تو اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ ان سے زیادہ زخم کھاتے جائیں اور صبر کریں ۔ اور ان کو چاہئے کہ وہ ان اہل کفار کا پیچھا کریں ‘ جہاد و قتال جاری رکھیں اور انہیں اس حالت تک پہنچا دیں کہ ان کی قوت ٹوٹ جائے اور وہ کسی مسلمان کے دین اور جان ومال کے لئے فتنہ نہ رہیں ۔

ہر جدوجہد میں نظریہ حیات برتر رہتا ہے بعض ایسے لمحات بھی آتے ہیں کہ مصائب انسان کی قوت برداشت سے بڑھ جاتے ہیں ۔ درد ناقابل برداشت ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں مومن کو خاص زاد وعتاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس کا فیضان سرچشمہ ایمان اور نظریہ سے ہوتا ہے اور یہ اللہ کی یاد ہوتی ہے جو ہر زخم کے لئے بہتر مرہم ہوتی ہے ۔

یہ ہدایات ‘ اس وقت ایک متوازن اور برابری کی جنگ کے اندر دی جارہی تھیں ۔ اس میں فریقین برسرپیکار تھے دونوں کا رنج والم سے سابقہ تھا اور دونوں اسلحہ بند تھے ۔۔۔۔۔ لیکن اہل ایمان پر ایسا وقت بھی آسکتا ہے جس میں معرکہ متوازن نہ ہو ‘ کھلی جنگ نہ ہو رہی ہو ‘ ایسے حالات میں بھی یہی اصول ہے ۔ باطل اہل اسلام کو کبھی بھی برداشت نہیں کرتا اگرچہ باطل غالب ہو اور اسلامی عقیدہ مغلوب ہو اس لئے کہ باطل کے اندر ایک تضاد پایا جاتا ہے ۔ اس داخلی تضاد کی وجہ سے وہ بےچین ہوتا ہے ۔ وہ خود اپنے اندرون کی کشمکش سے دو چار ہوتا ہے پھر وہ فطرت انسانی اور فطرت اشیاء کے ساتھ بھی برسرپیکار ہوتا ہے ۔

گروہ مومن کی راہ ایسے حالات میں بھی یہی ہے کہ وہ برداشت کرے اور ہمت نہ ہارے ۔ اسے یہ حقیقت پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگرچہ وہ مصائب کا شکار ہے لیکن اس کا دشمن اندرونی تضاد کے روگ کا بیمار ہے ۔ روگ کی بھی تو قسمیں ہیں دلی چرکے بدن کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں اور دشمن کو ایسے زخم آتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے ۔ (آیت) ” وترجون من اللہ مالا یرجون ‘ (4 : 104) (اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں) اور یہ وہ مرہم ہے جو دشمن کو میسر نہیں ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سے دونوں فریقوں کی راہیں جدا ہوتی ہیں اور اس بات کو اچھی طرح اللہ جانتا ہے ۔ (آیت) ” وکان اللہ علیما حکیما “۔ (4 : 104) اللہ کو معلوم ہے کہ دلوں اور جذبوں کا مداوا کیا ہے اور ان کے ساتھ ڈیلنگ کس طرح ہوتی ہے اور دلوں کے زخموں کا علاج کیا ہے ‘ روح کی مرہم کیا ہے ؟ جس سے اہل کفر بیخبر اور محروم ہیں۔

An-Nisaa 4:104Listen in Qur'an →
105

إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَىٰكَ ٱللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَآئِنِينَ خَصِيمًۭا

(اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا

درس نمبر 39 ایک نظر میں :

ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔

ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔

رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔

وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو …

An-Nisaa 4:105Listen in Qur'an →
106

وَٱسْتَغْفِرِ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور خدا سے بخشش مانگنا بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

درس نمبر 39 ایک نظر میں :

ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔

ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔

رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔

وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو …

An-Nisaa 4:106Listen in Qur'an →
107

وَلَا تُجَٰدِلْ عَنِ ٱلَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًۭا

اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا

درس نمبر 39 ایک نظر میں :

ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔

ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔

رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔

وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو …

An-Nisaa 4:107Listen in Qur'an →
108

يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ ٱلْقَوْلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے

درس نمبر 39 ایک نظر میں :

ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔

ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔

رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔

وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو …

An-Nisaa 4:108Listen in Qur'an →
109

هَٰٓأَنتُمْ هَٰٓؤُلَآءِ جَٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فَمَن يُجَٰدِلُ ٱللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًۭا

بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کر لیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کے ساتھ کون جھگڑے گا اور کون ان کا وکیل بنے گا؟

درس نمبر 39 ایک نظر میں :

ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔

ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔

رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔

وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو …

An-Nisaa 4:109Listen in Qur'an →
110

وَمَن يَعْمَلْ سُوٓءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُۥ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا

(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔

یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔

پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔

(آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110)

(اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا)

اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔

دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔

(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (4 : 112) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔

تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (4 : 112) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔

بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو …

An-Nisaa 4:110Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.