Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 191–200 of 200

191

ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمًۭا وَقُعُودًۭا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَٰطِلًۭا سُبْحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو

الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ : پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے خالق اور رب ہونے کا ذکر تھا، اب اس اکیلے کی عبادت کا ذکر ہے، یعنی وہ ” اولوالالباب “ دل، زبان اور دوسرے سب اعضاء سے کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے ہر حالت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ روزی کماتے وقت اللہ کے حکم کا خیال رکھنا بھی اس کی یاد ہے، عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر اسے نہ بھولنا بھی یاد ہے، نظر کو بےلگام نہ ہونے دینا بھی اس کا ذکر ہے، اسلام کی سر بلندی کے لیے جہاد کی تیاری میں مصروف ہونا بھی اس کی یاد ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے صرف نماز اور تسبیح و تحمید کو ذکر سمجھ لیا اور اللہ کی جس یاد اور ملاقات کے شوق سے صحابہ و تابعین کے سینے روشن تھے اور وہ موت کو موت کی جگہوں میں ڈھونڈتے پھرتے تھے، اس کو اپنے شب و روز سے نکال دیا، حالانکہ یہ ذکر اسلام کے بنیادی ارکان کے بعد تمام اذکار سے کہیں افضل ہے۔ فرمایا : ( اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ) [ التوبۃ : ١٩ ] ” کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنادیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں۔ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَوْقِفُ سَاعَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ قِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الْاَسْوَدِ ) ” ایک گھڑی اللہ کے راستے ( جہاد) میں رہنا حجر اسود کے پاس لیلۃ القدر کے قیام سے افضل ہے۔ “ [ ابن حبان : ٤٦٠٣ ]- وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ : یعنی زمین و آسمان کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے جو حکمت رکھی ہے وہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ علوم ہیئت فلکیات اور ریاضی کو اگر دینی نقطۂ نظر سے پڑھا جائے تو فی الجملہ عبادت میں داخل ہے۔- رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ : بےمقصد نہیں بنایا، بلکہ اس عالم کی انتہا دوسرے عالم میں ہو رہی ہے، جس میں حساب کتاب ہوگا۔ (موضح) اس میں مادہ پرستوں اور دہریوں کا رد ہے جو کائنات کو محض اتفاق کا نتیجہ سمجھتے ہیں، یعنی غور و فکر سے ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ کائنات کا یہ سارا نظام یونہی پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ انسان دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اجر و ثواب پائے اور نافرمانی کرے تو آخرت میں عذاب بھگتے، اس لیے وہ آگ سے محفوظ رہنے کی دعا کرتے رہتے ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:191Listen in Qur'an →
192

رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُۥ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ

اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

Explained together with ayah 191

Aal-i-Imraan 3:192Listen in Qur'an →
193

رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًۭا يُنَادِى لِلْإِيمَٰنِ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِرَبِّكُمْ فَـَٔامَنَّا ۚ رَبَّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلْأَبْرَارِ

اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا

رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا ۔۔ : اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں یا قرآن یا پھر ہر وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دعوت حق پیش کرے۔ - رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا : اس میں اپنے ایمان لانے کے عمل کے وسیلے سے گناہوں کی مغفرت کی دعا ہے اور یہ مسنون ہے۔

Aal-i-Imraan 3:193Listen in Qur'an →
194

رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا : یعنی تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے ان کی تصدیق اور اتباع کرنے پر دنیا اور آخرت میں جس نصرت اور اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے، وہ ہمیں عطا فرما۔ - 2ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ : یعنی ہمیں یہ ڈر تو نہیں کہ تو وعدہ خلافی کرے گا، بلکہ ہمیں ڈر اپنے ہی اعمال سے ہے کہ یہ اچھے نہیں ہیں، کہیں ہماری رسوائی کا باعث نہ بنیں، اگر تو اپنی رحیمی و کریمی اور غفاری سے ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما دے اور ہمیں رسوائی سے بچا لے تو ہماری عین سرفرازی اور تیری بندۂ نوازی ہے۔ پس کلمہ ( ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ) سے مقصد عاجزی، خشوع اور بندگی کا اظہار ہے نہ کہ اس کا مطالبہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ خلافی تو محال ہے، پھر مومن کوئی تصور کیسے کرسکتے ہیں۔ (رازی) دعا اور اس کی قبولیت کا یہ وعدہ ایمان اور عمل صالح پر ہے، دعا میں اس کا وسیلہ بھی پیش کرسکتے ہیں، جیسا کہ غار، میں پھنس جانے والے تین آدمیوں نے کیا تھا، البتہ دعا کی قبولیت کے لیے کسی نیک ہستی کو وسیلہ بنانا کہ یا اللہ فلاں کے طفیل میری یہ مشکل حل فرما دے، قرآن و حدیث میں مذکور دعاؤں کے خلاف ہے۔ ہاں، کسی زندہ آدمی سے دعا کروائی جاسکتی ہے اور یہ سنت سے ثابت ہے۔

Aal-i-Imraan 3:194Listen in Qur'an →
195

فَٱسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٍۢ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۖ فَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ وَأُخْرِجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِمْ وَأُوذُوا۟ فِى سَبِيلِى وَقَٰتَلُوا۟ وَقُتِلُوا۟ لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ثَوَابًۭا مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلثَّوَابِ

تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کردوں گا اور ان کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (یہ) خدا کے ہاں سے بدلہ ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے

فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ ۔۔ : یعنی انھوں نے اس طرح دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی۔ پھر ان کی دعا کی قبولیت کی صورت اور کیفیت کا بھی ذکر فرما دیا کہ باری تعالیٰ کسی عامل کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ اس میں مرد و عورت کا بھی کوئی فرق نہیں، کیونکہ ان کا بعض بعض سے ہے، وہ کوئی الگ الگ مخلوق نہیں ہیں۔ اخروی نجات اور اللہ کے ہاں درجات حاصل کرنے میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں، ہاں، مرد و عورت کی جداگانہ ذمہ داریوں کے اعتبار سے فطرتاً ان کی صلاحیتوں میں فرق ہے۔ [ دیکھیے النساء : ٣٢، ٣٤ ]- 2 فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا ۔۔ : یعنی جنھوں نے دین کی خاطر اپنی خوشی سے ہجرت کی، اپنے وطن اور مال و منال کو خیر باد کہہ کر مرکز اسلامی میں پہنچ گئے اور وہ لوگ جن پر کفار نے ظلم و ستم ڈھائے، انھیں سخت اذیتیں دے کر گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا، انھیں کسی طرح چین سے نہ بیٹھنے دیا اور انھیں محض اس لیے تکالیف کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے دین اسلام کی راہ اختیار کی، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ( يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ ) [ الممتحنۃ : ١ ] ” یہ کافر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور تمہیں گھروں سے محض اس جرم کی پاداش میں نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔ “ نیز فرمایا : ( وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْد) [ البروج : ٨ ] ” اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے ہر تعریف کے لائق ہے۔ “

Aal-i-Imraan 3:195Listen in Qur'an →
196

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى ٱلْبِلَٰدِ

(اے پیغمبر) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِي الْبِلَادِ ۔۔ : اوپر کی آیات میں مومنوں کے گناہ بخشنے اور ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا، حالانکہ وہ فقر و فاقہ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان کے بالمقابل کفار نہایت عیش و نعمت میں تھے، انھیں دیکھ کر بعض اوقات مسلمان غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتے اور مختلف خیالات کی دنیا میں چلے جاتے، لہٰذا ان آیات میں مسلمانوں کا ذہن صاف کرنے کے لیے کفار کا انجام بیان فرمایا اور مسلمانوں کو تسلی دی ہے۔ انس بن مالک (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نیکی کے معاملہ میں مومن کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا، اسے اس نیکی کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی اور کافر جو نیکیاں اللہ کے لیے کرتا ہے اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں پورا دے دیا جاتا ہے، پھر جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی باقی نہیں ہوگی کہ اس کا بدلہ اسے دیا جائے۔ “ [ مسلم، صفات المنافقین، باب جزاء المؤمنین۔۔ : ٢٨٠٨ ] مقصد یہ ہے کہ شہروں میں کفار کے تجارتی کاروبار، ان کی خوش حالی اور مال و دولت کی فراوانی کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں کسی قسم کا حزن و غم نہیں آنا چاہیے، نہ ان کو نا امیدی کا شکار ہونا چاہیے، نہ منافقین کا سا طرز عمل اختیار کرنچا چاہیے۔ جو سختی اور خوف کے وقت پکار اٹھتے ہیں : ( مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا ) [ الأحزاب : ١٢ ] ” پیغمبر نے تو ہم سے محض فریب اور دھوکے کا وعدہ کیا ہے۔ “ کفار کی دنیوی خوشحالی سے کفر کے حق ہونے پر استدلال کرنا چاہیے، یہ چند روزہ زندگی کا قلیل سا سامان اور عارضی بہار ہے، مرنے کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس کے مخاطب بظاہر تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں مگر مراد امت ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں مومنین کی جزا کا ذکر فرمایا، تاکہ مزید تشفی حاصل ہو اور یہ چونکہ کفار کے مقابلے میں بیان کی جا رہی ہے، اس لیے ” لکن “ کا لفظ بطور استدارک ذکر فرمایا۔ (المنار)

Aal-i-Imraan 3:196Listen in Qur'an →
197

مَتَٰعٌۭ قَلِيلٌۭ ثُمَّ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

Explained together with ayah 196

Aal-i-Imraan 3:197Listen in Qur'an →
198

لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا نُزُلًۭا مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لِّلْأَبْرَارِ

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے

Explained together with ayah 196

Aal-i-Imraan 3:198Listen in Qur'an →
199

وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ لَمَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

اور بعض اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے

وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ ۔۔ : اس آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کے اس گروہ کا ذکر ہے جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے، ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے انھیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز فرما دیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، پہلی کتابوں اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرنے والے ہیں، اللہ کی آیات کے بدلے دنیاوی مفاد حاصل نہیں کرتے، ان کے لیے اللہ کے ہاں ان کا اجر محفوظ ہے، بلکہ دوہرا اجر ہے، جیسا کہ سورة حدید (٢٨) میں ہے۔ یہ صفات یہود میں بہت کم تھیں۔ علمائے یہود میں سے عبداللہ بن سلام (رض) جیسے ان صفات کے حامل چند لوگ اور تھے، جن کی تعداد دس سے زیادہ نہ تھی، البتہ نصرانیوں میں سے بہت سے لوگوں نے ایمان قبول کیا، جن میں حبشہ کے بادشاہ اصحمہ نجاشی بھی شامل تھے، ان کی موت کی خبر آنے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ان پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔ [ بخاری، مناقب، باب موت النجاشی : ٣٨٧٧، عن جابر (رض) ]

Aal-i-Imraan 3:199Listen in Qur'an →
200

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱصْبِرُوا۟ وَصَابِرُوا۟ وَرَابِطُوا۟ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے اہل ایمان (کفار کے مقابلے میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو

” اصْبِرُوْا “ یعنی دین اسلام پر ثابت قدمی سے جمے رہو۔ ” صابروا “ یہ باب مفاعلہ سے ہے جس میں مقابلہ کا معنی پایا جاتا ہے، یعنی کافروں کے مقابلے میں ان سے بڑھ کر پامردی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ ” ورابطوا “ یعنی دشمنوں سے جہاد کے مورچوں پر ڈٹے رہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں ایک دن (سرحدوں پر) پہرا دینا دنیا اور دنیا میں جو کچھ موجود ہے، اس سب سے بہتر ہے۔ “ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ : ٢٨٩٢، عن سہل بن سعد (رض) ]- اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا پہرا دینا ایک مہینے کے قیام اور صیام سے بہت رہے اور اگر اس حالت میں مجاہد فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور اس کے مطابق اس کا رزق بھی جاری رہے گا، نیز وہ آزمائش سے بھی محفوظ رہے گا۔ “ [ مسلم، - الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عز وجل : ١٩١٣، عن سلمان الفارسی (رض) ]

Aal-i-Imraan 3:200Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.