Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 151–160 of 200

151

سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا ۖ وَمَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى ٱلظَّٰلِمِينَ

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے

سَـنُلْقِيْ ۔۔ : یہ آیت اپنے سیاق کے اعتبار سے اوپر کے بیان کو مکمل کر رہی ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مختلف وجوہ سے جہاد کی ترغیب دی ہے اور کفار کے خوف کو دلوں سے نکالا ہے۔ یہاں فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھو گے اور اسی سے مدد مانگو گے تو اللہ تعالیٰ کفار کے دلوں میں تمہارا خوف ڈال دے گا، اس طرح تمہیں ان پر غلبہ حاصل ہوجائے گا، کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں، لہٰذا ” بِمَآ اَشْرَكُوْا “ میں باء برائے سببیت ہے۔ (قرطبی) - 2 شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” مشرک اللہ تعالیٰ کے چور ہیں اور چور کے دل میں ڈر ہوتا ہے۔ “ (موضح) چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ سچا ہوا اور کافر احد میں باوجود غالب ہونے کے چپکے سے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ واپسی کے وقت راستے میں انھوں نے دوبارہ مدینہ پر حملے کا ارادہ کیا مگر مرعوب ہوگئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پانچ چیزوں میں مجھے پہلے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن کے دل میں میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔ “ [ بخاری، التیمم، بابٌ : ٣٣٣٥۔ مسلم : ٥٢١، عن جابر بن عبد اللہ (رض) ] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار کے دل میں رعب ڈالنے کا وعدہ احد کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عام ہے۔ - 3 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کی امت، یعنی مسلمانوں کا رعب بھی مشرکوں پر ڈال دیا گیا ہے اور اس کی وجہ ان کا شرک ہے، گویا شرک کرنے والوں کا دل دوسروں کی ہیبت سے ڈرتا اور لرزتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کی بڑی تعداد مشرکانہ عقائد و اعمال میں گرفتار ہوئی، تقریباً ہر شہر اور محلہ میں پختہ قبریں اور غیر اللہ کے آستانے بن گئے اور غیر اللہ سے استغاثہ اور مدد مانگنا شروع ہوگئے۔ تو وہی رعب جو شرک کی وجہ سے کفار کے دل میں تھا، ڈیڑھ ارب کے قریب تعداد ہونے کے باوجود مسلمانوں کے دلوں میں پڑگیا۔ ہاں، توحید والے اس رعب سے محفوظ ہیں اور قیامت تک کفار سے جہاد جاری رکھیں گے اور ان کا رعب کفار کے دلوں میں کفار کے مشرکانہ عقائد و اعمال کی وجہ سے رہے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَنْ یَّبْرَحَ ھٰذَا الدِّیْنُ قَاءِمًا یُقَاتِلُ عَلَیْہِ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ ) [ مسلم، الأمارۃ، باب قولہ (رض) : لا تزال من أمتی۔۔ : ١٩٢٢، عن جابر بن سمرۃ (رض) ] ” یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی، حتیٰ کہ قیامت قائم ہو۔ “

Aal-i-Imraan 3:151Listen in Qur'an →
152

وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥٓ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس وقت جبکہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور خدا مومنو پر بڑا فضل کرنے والا ہے

وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ ۔۔ : جنگ احد میں پہلے پہل اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال رہی اور وہ مشرکین کو اللہ کے حکم سے خوب کاٹتے رہے، حتیٰ کہ جب فتح کے آثار نظر آنے لگے اور مشرکین اور ان کی عورتوں نے بھاگنا شروع کردیا تو پچاس تیر انداز، جنھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن جبیر (رض) کی سرکردگی میں ایک پہاڑی پر متعین کیا تھا، تاکہ ادھر سے مشرک حملہ آور نہ ہوں، انھوں نے مال غنیمت دیکھ کر باہم جھگڑنا شروع کردیا۔ پچاس آدمیوں میں سے اکثر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی نافرمانی کر کے اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طرف دوڑ پڑے، اس سبب سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ (ابن کثیر) - جنگ کے بعد جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ واپس آئے تو بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ مصیبت ہم پر کیسے آگئی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت کا وعدہ فرمایا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تو اپنا وعدہ پورا کردیا تھا، پھر جو کچھ ہوا یہ تمہارے ہمت ہارنے اور آپس میں جھگڑنے اور تمہاری نافرمانی کا نتیجہ تھا۔ (قرطبی) - 2 ثُمَّ صَرَفَكُمْ ۔۔ : یعنی غلبہ کے بعد ان کے مقابلہ میں تمہیں پسپائی دلائی، تاکہ تمہاری آزمائش ہو کہ کون سچا مسلمان ہے اور کون کمزور ایمان والا اور جھوٹا۔ (قرطبی) - 3 وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ ۭ : یعنی گو تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی اور جنگ سے فرار کی راہ اختیار کر کے نہایت سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا، جس کی تمہیں سخت سزا دی جاسکتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارا سارا قصور معاف فرما دیا۔ اس میں صحابہ کرام (رض) کے اس شرف کا اظہار ہے جو ان کی کوتاہیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان پر فرمایا، یعنی ان کی غلطیوں کی وضاحت کر کے، تاکہ آئندہ ان کا اعادہ نہ کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے معافی کا عام اعلان فرما دیا تو اب کسی کے لیے ان پر طعن و تشنیع کی کیا گنجائش رہ گئی۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) کے پاس عثمان (رض) پر بعض اعتراضات کیے، ایک ان میں سے یہ تھا کہ وہ احد کے دن فرار ہوگئے تھے، تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : ” میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف فرما دیا۔ “ [ بخاری، المغازی، - باب قول اللہ تعالیٰ ( إن الذین تولوا منکم۔۔ ) : ٤٠٦٦ ]

Aal-i-Imraan 3:152Listen in Qur'an →
153

۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِىٓ أُخْرَىٰكُمْ فَأَثَٰبَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّۢ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ أَصَٰبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

اِذْ تُصْعِدُوْنَ ۔۔ : یہ بھاگتے ہوئے مسلمانوں کی کیفیت کا ذکر ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری پچھلی جماعت میں، جو ثابت قدم رہی تھی، تمہیں پکار رہے تھے کہ ( اے اللہ کے بندو میری طرف آؤ، میں یہاں ہوں، مگر تم دور دوڑے جا رہے تھے اور کسی کو نہ مڑ کر دیکھتے تھے، نہ کسی کی سنتے تھے۔ - فَاَثَابَكُمْ غَمًّـۢا بِغَمٍّ : یعنی تمہاری کوتاہی کے بدلے میں تمہیں غم پر غم پہنچایا، ایک شکست کا غم اور دوسرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی افواہ کا صدمہ، جو پہلے غم سے زیادہ سخت تھا، پس ” بغم “ کے معنی ” عَلٰی غَمٍّ “ ہیں اور بعض نے باء کو سببیت کے لیے مانا ہے، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغموم کرنے کی وجہ سے تمہیں غم پہنچایا، مگر پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ ( ابن کثیر۔ شوکانی)- لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا یعنی تمہیں دوہرے غم میں مبتلا کردیا، تاکہ نہ تو تمہیں مال غنیمت کے ہاتھ سے نکل جانے کا غم ہو اور نہ زخمی و شہید ہونے اور شکست کا غم ہو، کیونکہ متواتر غم خصوصاً بڑے غم کے آنے کے ساتھ پہلے غم ہلکے ہوجاتے ہیں اور انسان سختیاں برداشت کرنے کا عادی ہوجاتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:153Listen in Qur'an →
154

ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنۢ بَعْدِ ٱلْغَمِّ أَمَنَةًۭ نُّعَاسًۭا يَغْشَىٰ طَآئِفَةًۭ مِّنكُمْ ۖ وَطَآئِفَةٌۭ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ ظَنَّ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ مِن شَىْءٍۢ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْأَمْرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِىٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌۭ مَّا قُتِلْنَا هَٰهُنَا ۗ قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِىَ ٱللَّهُ مَا فِى صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ ۔۔ : ان پے درپے صدموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں موجود مسلمانوں پر اپنا خاص فضل فرمایا کہ ان پر اونگھ مسلط کردی، جس سے انھیں امن و اطمینان حاصل ہوگیا۔ ابو طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں : ” ہم پر اونگھ چھا گئی، جب کہ ہم احد کے دن اپنی صفوں میں کھڑے تھے، حالت یہ تھی کہ میری تلوار میرے ہاتھ سے گری جاتی تھی، میں اسے اٹھا لیتا تھا، وہ پھر گرجاتی تھی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا تھا۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ ( أمنۃ نعاسًا ) : ٤٥٦٢ ] ابو طلحہ (رض) ہی بیان فرماتے ہیں : ” میں نے احد کے دن اپنا سر بلند کیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا تو ( کیا دیکھتا ہوں کہ) ہر شخص اونگھ کی وجہ سے اپنے سر کو ڈھال کے نیچے جھکائے ہوئے ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلب ہے : ( ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا ) [ ترمذی، أبواب التفسیر، باب ومن سورة آل عمران : ٣٠٠٧ ]- 2 ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ : اس سے مراد منافقین اور ضعیف ایمان والے مسلمان ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں انھیں تو اپنی جانوں ہی کی فکر تھی۔ ابو طلحہ (رض) بیان فرماتے ہیں : ” دوسرا گروہ منافقین کا تھا، انھیں اپنی جانوں کے سوا اور کوئی دوسری فکر نہ تھی، وہ قوم میں سے سب سے زیادہ بزدل، سب سے زیادہ مرعوب اور حق کی حمایت سے سب سے زیادہ گریز کرنے والے تھے۔ “ [ ترمذی، أبواب التفسیر، ، باب و من سورة آل عمران : ٣٠٠٨ ]- 3 يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ۔۔ : ” ِ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ“ یہ ” غیر الحق “ سے بدل ہے، یعنی وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ دین اسلام اور اس کے حاملین بس اب ہلاک ہوگئے، مسلمانوں کی کبھی مدد نہیں ہوگی اور یہ دعوت حق پروان نہیں چڑھے گی۔ - 4 يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ : یہ جملہ ” يَظُنُّوْنَ “ سے بدل ہے اور ” من الامر “ سے مراد فتح و نصرت ہے، یعنی بالکل مایوسی کا اظہار کرنے لگے اور یہ کہنا شروع کردیا کہ ہمیں کبھی فتح بھی نصیب ہوگی اور کچھ ملے گا بھی ؟ یا ” من الامر “ سے مراد معاملے کا فیصلہ ہے کہ اس معاملے میں ہماری بات تو مانی ہی نہیں گئی، ہمیں مجبوراً ساتھ دینا پڑا، ورنہ ہم تو شہر سے باہر نکل کر لڑنے کے حق میں نہیں تھے۔ بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ ہم تو مجبور محض ہیں، ہمارا تو کچھ بھی اختیار نہیں۔ (فتح القدیر)- 5 مَّا قُتِلْنَا ھٰهُنَا ۔۔ : مطلب یہ کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی کہ شہر کے اندر رہ کر ہی جنگ لڑی جائے تو آج ہمارا یہ جانی نقصان نہ ہوتا، مگر ہماری کسی نے نہ سنی۔ یہ بات یا تو ان منافقین نے کہی جو جنگ میں شریک تھے، جیسا کہ زبیر (رض) فرماتے ہیں : ” اللہ کی قسم میں معتب بن بشیر، جو بنو عمرو بن عوف سے تھا، اس کی بات سن رہا تھا، جب کہ اونگھ مجھے ڈھانپ رہی تھی، میں خواب کی طرح اس کی بات سن رہا تھا، جب وہ کہہ رہا تھا، اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ “ [ المختارۃ، ح : ٨٦٤، ٨٦٥ ] اسے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں بھی حسن سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ - یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات ان منافقین نے کہی ہو جو عبداللہ بن ابی کے ساتھ مدینہ لوٹ آئے تھے، اس صورت میں ” ھٰھُنَا “ ( یہاں) کا اشارہ مدینہ کے قریب احد کی طرف ہوگا۔ (قرطبی، شوکانی) - 6 قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ ۔۔ : اس سے ان کے خیال کی تردید مقصود ہے، یعنی اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے تب بھی جن لوگوں کی قسمت میں قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنے گھروں سے نکلتے اور جہاں اب مارے گئے ہیں، وہیں مارے جاتے، کیونکہ اللہ کی تقدیر سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ - 7 وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ ۔۔ : یہ جملہ محذوف کی علت ہے، یعنی جنگ احد میں جو کچھ …

Aal-i-Imraan 3:154Listen in Qur'an →
155

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَلَّوْا۟ مِنكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ إِنَّمَا ٱسْتَزَلَّهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا۟ ۖ وَلَقَدْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا ۔۔ : یعنی احد کے دن جو مسلمان میدان جنگ سے ہٹ گئے، وہ شیطان کے پھسلانے کے سبب ہٹے، مگر شیطان کو انھیں پھسلانے کا موقع انہی کے کچھ گزشتہ گناہوں کی وجہ سے ملا۔ جن میں سے بعض کا ایک گناہ یہ بھی تھا کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی مخالفت کی تھی۔ سلف سے مروی ہے کہ ایک نیک کام کرنے سے دوسرے نیک کام کی توفیق ملتی ہے اور ایک گناہ دوسرے گناہ کے ارتکاب کا سبب بنتا ہے۔ (ابن کثیر) مقصد یہ کہ بعض مخلص مسلمان جو اس دن بھاگ کھڑے ہوئے وہ اس وجہ سے نہیں بھاگے کہ وہ اسلام سے پھرگئے تھے، یا منافق تھے، بلکہ شامت نفس اور سیئات اعمال کی وجہ سے شیطان کو انھیں بہکانے کا موقع ملا۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے : ( وَ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّءَاتِ أَعْمَالِنَا ) ” ہم اپنے نفس کے شر اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ “ [ ابن ماجہ، النکاح، باب خطبۃ النکاح : ١٨٩٢ وصححہ الألبانی ] یہ بھی معلوم ہوا کہ نفس کا شر ہو یا اعمال کی شامت، ان کے ساتھ شیطان کا گمراہ کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ - 2 وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ ۭ : اس سے تین آیات پہلے بھی ( وَلَقَدْ عَفَا عَنکُم ) کہہ کر ان کی معافی کی نوید سنائی گئی ہے۔ اب پھر مزید اطمینان اور تسلی کے لیے دوبارہ خوش خبری سنائی جا رہی ہے کہ بلاشبہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے، یعنی جو واقعی دل میں اخلاص رکھتے تھے ان کی توبہ اور معذرت کے سبب اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا، اب نہ ان پر کوئی گناہ ہے اور نہ کسی کو طعن کا حق ہے۔ مزید تفصیل دیکھیے آل عمران (١٥٢) کے فوائد ۔

Aal-i-Imraan 3:155Listen in Qur'an →
156

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَقَالُوا۟ لِإِخْوَٰنِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ كَانُوا۟ غُزًّۭى لَّوْ كَانُوا۟ عِندَنَا مَا مَاتُوا۟ وَمَا قُتِلُوا۟ لِيَجْعَلَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ حَسْرَةًۭ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا۔۔ : غُزًّى : یہ ” غَازٍ “ کی جمع ہے، جو ” غَزَا یَغْزُ “ سے اسم فاعل ہے، بمعنی لڑنے والے، جیسے ” رَاکِعٌ“ کی جمع ” رُکَّعٌ“ آتی ہے۔ مسلمانوں کو تاکید فرمائی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اپنے نفاق کی وجہ سے کافر ہیں اور یہ گندہ عقیدہ صرف دل ہی میں نہیں رکھتے بلکہ برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہمارے جو بھائی جہاد کے سفر میں فوت ہوگئے یا لڑتے ہوئے مارے گئے، اگر ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے، نہ قتل ہوتے۔ ان کا یہ عقیدہ اور قول اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں میں حسرت و افسوس کا باعث بنائے رکھے گا۔ مسلمانوں کو اس عقیدہ سے اس لیے روکا کہ غلط ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بزدلی کا باعث بنتا ہے، جب کہ موت و حیات تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کا وقت مقرر ہے۔ یہی عقیدہ مسلمان کی قوت کا باعث ہے، اس لیے حکم دیا کہ دل مضبوط رکھو، موت اپنے وقت سے ایک لمحہ بھی پہلے نہیں آسکتی۔ اگر مگر کے الفاظ شیطان کو دخل اندازی کا موقع دیتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قوی مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ضعیف سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں کوئی نہ کوئی بھلائی ہے، اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز مت ہوجاؤ اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو، اگر میں ایسا اور ایسا کرتا (تو مجھے یہ مصیبت نہ پہنچتی) بلکہ یوں کہو کہ اللہ نے جو مقدر کیا اور جو چاہا کردیا، اس لیے کہ ” لَوْ “ (اگر کا لفظ) شیطان کے کام (کا راستہ) کھول دیتا ہے۔ “ [ مسلم، القدر، باب الإیمان بالقدر والاذعان لہ : ٢٦٦٤، عن أبی ہریرۃ (رض) ]

Aal-i-Imraan 3:156Listen in Qur'an →
157

وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

اور اگر تم خدا کے رستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

یعنی اگر تمہارا مرنا یا قتل ہونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے تو یہ یقیناً تمہارے لیے مغفرت اور رحمت کا سبب بنے گا اور یہ مغفرت و رحمت اس مال و متاع سے بہتر ہے جس کے جمع کرنے کی فکر میں یہ کفار اور منافقین ہر آن لگے رہتے ہیں، یہ ان کے شبہ کا دوسرا جواب ہے۔

Aal-i-Imraan 3:157Listen in Qur'an →
158

وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحْشَرُونَ

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے

وَلَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ ۔۔ الخ : اوپر کی آیت میں خاص قسم کے قتل اور موت، یعنی فی سبیل اللہ کا ذکر تھا، جس پر رحمت و مغفرت کی خوش خبری تھی، اب یہاں عمومی موت اور قتل کا ذکر ہے ( جس طرح بھی واقع ہو) مطلب یہ کہ تمہیں مر کر بہر حال ہمارے پاس آنا اور اپنے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ پانا ہے، اگر تمہاری زندگی اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر ہو اور اسی کی راہ میں موت ہو تو تم اپنے اعمال کا خوش کن بدلہ پاؤ گے۔

Aal-i-Imraan 3:158Listen in Qur'an →
159

فَبِمَا رَحْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلْقَلْبِ لَٱنفَضُّوا۟ مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى ٱلْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَوَكِّلِينَ

(اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ : یہاں جار مجرور ” بِرَحْمَۃٍ “ پہلے آنے سے ہی تاکید پیدا ہوگئی تھی، پھر ” مَا “ لا کر ” فَبِمَا رَحْمَةٍ “ میں تاکید مزید ہوگئی۔ ’ رَحْمَةٍ “ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ” بڑی رحمت “ کیا ہے۔ - 2 وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ ) احد کے دن مسلمانوں نے خوف ناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا، پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت سے دوبارہ جمع ہوئے تو آپ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی، بلکہ حسن اخلاق سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” آپ کا یہ حسن خلق اور طبیعت کی نرمی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے، ورنہ مسلمانوں کا جمع ہونا ممکن نہ تھا۔ (قرطبی) معلوم ہوا دعوت دین کے لیے نرمی اور حسن اخلاق نہایت ضروری چیزیں ہیں، بدخلقی، درشتی اور سخت دلی سے لوگ کبھی قریب نہیں آسکتے۔ - 3 فَاعْفُ عَنْھُمْ ۔۔ : یعنی جنگ میں ان سے جو غلطیاں ہوئیں وہ انھیں معاف کردیں، اللہ سے بھی ان کے لیے استغفار کریں اور مشورے سے محروم نہ کریں بلکہ برابر مشورہ کرتے رہیں۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” شاید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل مسلمانوں سے خفا ہوا ہوگا اور چاہا ہوگا کہ اب ان سے مشورہ نہ پوچھیے، سو حق تعالیٰ نے تلقین فرمائی کہ اول مشورہ کرلینا بہتر ہے، جب ایک بات طے ہوجائے پھر پس و پیش نہ کرے۔ “ (موضح) اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب کبھی جنگ یا انتظامی قسم کا کوئی ایسا معاملہ در پیش ہو، جس میں ہماری طرف سے بذریعہ وحی کوئی متعین حکم نہ دیا جائے تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرلیا کرو، تاکہ ان کی دل جوئی ہو اور انھیں بعد میں باہمی مشورہ سے مل کر کام کرنے کی تربیت بھی حاصل ہو۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکثر اہم امور میں صحابہ کرام (رض) سے مشورے فرمائے اور ان پر عمل بھی ہوا۔ (دیکھیے ابن کثیر زیر بحث آیت) اس کے بعد خلفائے راشدین بھی اس سنت پر پوری طرح کار بند رہے۔ پھر اگر مشورے کے بعد کسی چیز کا فیصلہ کرلیا جائے تو اسے پوری دل جمعی سے کر گزرنے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے کا نام توکل ہے۔ چناچہ مذکور ہے کہ جنگ احد کے موقع پر کھلے میدان میں لڑائی کرنے کے فیصلے کے بعد جب آپ مسلح ہو کر تشریف لے آئے اور صحابہ کرام (رض) نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے آپ کی رائے کے مطابق شہر ہی میں رہ کر مقابلہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَا یَنْبَغِیْ لِنَبِیٍّ إِذَا لَبِسَ سَلاَحَہٗ اَنْ یَضَعَہَا حَتّٰی یُقَاتِلَ ) ” کسی نبی کے لائق نہیں کہ جب اپنا اسلحہ نہیں لے کر لڑنے سے پہلے اسے اتار دے۔ “ (قرطبی، تفسیر ثعالبی) یہ آیت اور آیت : ( وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ ۠ ) [ الشوریٰ : ٣٨ ] اسلامی طرز حکومت کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔ چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی زندگی میں صحابہ کرام (رض) سے بہت سے معاملات میں مشورہ کرتے تھے۔ انس (رض) بیان کرتے ہیں : ”(جنگ بدر کے موقع پر) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا۔ ابوبکر و عمر (رض) نے بات کی تو آپ نے ان سے اعراض کیا۔ سعد بن عبادہ (رض) نے کھڑے ہو کر کہا : ” شاید آپ ہم ( انصار) سے پوچھنا چاہتے ہیں، اے اللہ کے رسول اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ڈال دیں گے اور اگر آپ حکم دیں کہ گھوڑوں کو برک الغماد (مدینہ سے بہت دور ایک جگہ) تک لے جائیں تو ہم ضرور لے جائیں گے۔ “ [ مسلم، الجہاد والسیر، باب غزوۃ بدر : ١٧٧٩ ] امام بخاری (رض) فرماتے ہیں : ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد خلفاء برابر دیانت دار اہل علم سے مشورہ …

Aal-i-Imraan 3:159Listen in Qur'an →
160

إِن يَنصُرْكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا ٱلَّذِى يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعْدِهِۦ ۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

Explained together with ayah 159

Aal-i-Imraan 3:160Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.