Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 71–80 of 200

71

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَلْبِسُونَ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَٰطِلِ وَتَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اے اہلِ کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو

اس مقام پر اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سختی سے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ اپنے اس مشکوک اور کمزور موقف پر ذرا نظر ثانی کریں۔

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ

” اے اہل کتاب ! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ؟ اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو۔ “

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی اور آج بھی اہل کتاب حق اور سچائی کا مشاہدہ کررہے ہیں اور واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ دین ‘ دین حق ہے ۔ ان میں سے بعض تو وہ تھے جو اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی کتابوں میں رسول آخرالزمان ﷺ کی بابت بشارتیں اور اشارے موجود ہیں ‘ ان میں سے بعض ایسے تھے جو ان اشارات کے بارے میں بالصراحت بتلاتے تھے ۔ اور کچھ لوگ ایسے تھے کہ وہ ان بشارتوں کی بناء پر شہادت حق بھی دیتے تھے لیکن بعض دوسرے ایسے تھے کہ وہ اگرچہ اپنی کتابوں سے کچھ نہ جانتے تھے لیکن رسول اکرم ﷺ اور آپ کے دین کو دیکھ کر واضح طور یقین کئے ہوئے تھے کہ یہ دین ‘ دین حق ہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ کفر پر کمربستہ تھے ۔ اس لئے نہیں کہ دلیل وبرہان میں کوئی کمی تھی بلکہ محض خواہشات نفسانیہ ‘ ذاتی مصلحتوں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر وہ کفر کررہے تھے ۔ قرآن کریم اہل کتاب کہہ کر انہیں کو پکارتا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی اس صفت اہل کتاب کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اللہ کی اس کتاب جدید کو سینہ سے لگائیں۔

ایک بار پھر اللہ انہیں پکارتے ہیں تاکہ انہیں ان کے اس فعل پر اچھا شرمندہ کریں کہ وہ حق پر باطل کا رنگ چڑھاتے ہیں ‘ حق کو چھپاتے ہیں ‘ حق کو ضائع کرتے ہیں ‘ اور وہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کرتے ہیں اور یہ ان کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔ یہ ان کی نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت …………اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے اہل کتاب پر جو تنقید فرمائی ہے ‘ اس پر وہ اس وقت سے لے کر آج تک قائم ہیں ۔ پوری اسلامی تاریخ میں ان کا کردار یہی رہا ہے۔ سب سے پہلے اس کا آغاز یہودیوں نے کیا اور یہودیوں کے بعد یہی منصب صلیبیوں نے سنبھال لیا ۔ اور اس پوری تاریخ میں انہوں نے اسلامی علوم میں بعض ایسے افکار شامل کردئیے کہ ان کی تنقیح صرف قرآن کریم کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے تمام اسلامی علوم میں حق کے ساتھ باطل ملادیا ہے ۔ ہاں ان کی ان خفیہ سازشوں سے صرف قرآن کریم محفوظ رہا ہے اس لئے کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ابدالابد تک وہ قرآن کریم کو محفوظ رکھے گا ۔ انہوں نے تاریخ اسلامی میں دسیسہ کاری کی ۔ اسلامی تاریخ کے واقعات میں ملاوٹ کی ۔ انہوں نے ذخیرہ احادیث کے اندر احادیث گھڑ کر جعلی احادیث ملانے کی کوشش کی ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے اس کے مقابلے کے لئے بعض ایسے رجال پیدا کئے جنہوں نے اس میدان میں داد تحقیق دی اور ذخیرہ احادیث کو ان کی جعل سازیوں سے پاک کیا ۔ الا یہ کہ انسان کے محدود جدوجہد کی وجہ سے کوئی چیز بچ گئی ۔ لیکن وہ شاذ اور محدود ہوگئی ۔ انہوں نے قرآن کے ذخیرہ تفاسیر میں بھی ملمع کاری کی اور اسے ایک ایسا صحرائے بےآب وگیا بنادیا جس میں سے انسان کے لئے نشان راہ پانا مشکل ہوگیا ۔ انہوں نے اسلام کے بعض لیڈروں میں اپنے آدمی داخل کئے ۔ سینکڑوں لوگ ایسے تھے جو مسلمان بن کر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہے ۔ اور آج دیکھئے کہ مستشرقین اور مستشرقین کے شاگردوں کی شکل میں اور بیسیوں ایسے لیڈر ہیں جو یہودیوں اور صلیبیوں نے ہمارے لئے لیڈر بنائے تاکہ وہ اس نام نہاد عالم اسلام میں یہودیوں اور صلیبیوں کے مفادات کا تحفظ کریں ۔ اس لئے کہ اسلام کے یہ دشمن اگر کھل کر آئیں تو وہ یہ مفادات حاصل نہیں کرسکتے۔

یہ سازشیں مسلسل روبعمل ہیں ۔ اور آج بھی اگر ہم …

Aal-i-Imraan 3:71Listen in Qur'an →
72

وَقَالَت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ ءَامِنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَجْهَ ٱلنَّهَارِ وَٱكْفُرُوٓا۟ ءَاخِرَهُۥ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

اور اہلِ کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کر دیا کرو تاکہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہو جائیں

کس قدر مکارانہ طریق کار ہے یہ ؟ جیسا کہ ہم نے کہا یہ لوگ ایسے اوچھے ہتھیار بھی استعمال کرتے تھے ۔ اس لئے کہ اسلام لانا اور پھر اسلام سے پھرجانا ‘ اس لئے ممکن تھا کہ بعض کمزور طبع لوگ ‘ کم فہم لوگ ‘ ایسے لوگ جو زیادہ ثابت قدم نہ تھے ۔ اور جنہیں اپنے دین کی حقیقت کا بھی اچھی طرح علم نہ تھا ‘ وہ متاثر ہوسکتے تھے ۔ ان کے دل میں خلجان پیدا ہوسکتا تھا۔ خصوصاً عرب جو امی تھے ۔ اور ان میں یہ بات عام تھی کہ دین اور کتب سماوی کے بارے میں اہل کتاب ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ایمان لاتے ہیں اور پھر مرتد ہوجاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خفیہ کمزوری یا نقص پکڑلیا ہوگا۔ یا یہ کہ خود مرتد ہونے والے شک میں پڑگئے کہ وہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ وہ کدھر جائیں اور ان کو کسی حال میں ثابت حاصل نہیں ہے ۔ اور اہل کتاب کی جانب سے یہ دھوکہ آج تک جاری ہے ۔ ہاں اس کی شکل و صورت اور طور طریقے حالات زمانہ کے مطابقت سے بدل گئے ہیں ۔

ہاں آج کے دور میں مسلمانوں کے دشمنوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اب ان پرانی سازشوں پر ملمع کاری کرکے اہل اسلام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اس لئے تمام دشمنوں نے اسی پرانے اسلوب پر کچھ جدید طریقے وضع کئے ہیں اور ان کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اب ان لوگوں نے عالم اسلام میں اساتذہ ‘ فلاسفہ ‘ محققین اور پی ایچ ڈی کے حاملین کی ایک جرار فوج چھوڑی ہوئی ہے ۔ یہ سب لوگ درپردہ ان دشمنان اسلام کے ایجنٹ ہیں ۔ پھر ان دشمنوں نے ہمارے مصنفین ‘ شعراء ‘ فن کاروں اور صحافیوں کو بھی اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے ۔ ان لوگوں کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ مسلمانوں کی اولاد ہیں اور بعض تو مسلمانوں کے علماء ہیں ۔

ایجنٹ کی اس فوج کا کام صرف یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں شکوک و شبہات پھیلائے ۔ اور اس کے لئے مختلف اسلوب اختیار کرے ۔ کبھی وہ علم وادب کے دروازے سے کام کرتے ہیں ۔ کبھی وہ صحافی اور فنکار کے روپ میں کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی اصول حیات کی قدر و قیمت کم کرنے ‘ اسلامی نظریہ حیات کا مزاح اڑانے ‘ اسلامی اصولوں اور نصوص میں ایسی تاویلیں کرنے میں لگے ہوتے ہیں ‘ جن تاویلوں کے وہ نصوص متحمل ہی نہیں ہوسکتے ۔ یہ مسلسل ڈھول پیٹتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات رجعت پسندی ہے ۔ اور وہ ہر وقت اس تبلیغ میں لگے رہتے ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات کو ترک کردیا جائے ۔ اور اسے انسان کی عملی زندگی سے خارج کردیاجائے ۔ گویا کہ انسانی زندگی کو اس سے خطرہ ہے اور اس کو زندگی سے خطرہ ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے شعور اور طرز عمل میں ایسے تصورات اور ایسی روایات اور ایسے اصول کو رواج دیتے ہیں جو اسلامی تصورات کے متضاد ہوتے ہیں اور جن سے اسلامی طرز عمل اور اسلامی روایات کی خوش شکست وریخت ہوتی ہے ۔ یہ ایجنٹ ان جدیدجاہلی تصورات کو مسلمانوں کے نظریات میں جس قدر جاذب بناتے ہیں ۔ اسی قدر ایمانی روایات کا حلیہ بگاڑتے ہیں ۔ مزید برآں یہ کہ یہ ایجنٹ جنسیت کو ہر قید وبند سے آزاد کرتے ہیں ۔ اور اساسوں کو بنیاد سے اکھاڑ تے ہیں ۔ جن کے اوپر پاکیزہ اخلاق استوار ہوتے ہیں اور معاشرے کو اس گندگی کے اندر گراتے ہیں جسے وہ جگہ جگہ پھیلاتے پھرتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ایجنٹ اسلامی تاریخ کا بعینہ اسی طرح حلیہ بگاڑتے ہیں ‘ جس طرح انہوں نے اپنی کتب سماوی کا حلیہ بگاڑا اور اس میں تحریف کی ۔

لیکن آپ حیران ہوں گے یہ ایجنٹ ان سب کارناموں کے ساتھ پھر بھی مسلمان ہیں ! کیوں مسلمان نہ ہوں ‘ کیا ان کے نام مسلمانوں کی طرح نہیں ؟ اور وہ ان ناموں کے ساتھ ساتھ روز دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار واقرار بھی کرتے ہیں لیکن وہ مذکورہ بالا کارنامے کرکے گویا شام کے وقت وہ اسلام کا انکار کردیتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ ایجنٹ وہ کردار ادا کرتے ہیں جو پرانے اہل کتاب کرتے تھے ۔ فرق …

Aal-i-Imraan 3:72Listen in Qur'an →
73

وَلَا تُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ ٱلْهُدَىٰ هُدَى ٱللَّهِ أَن يُؤْتَىٰٓ أَحَدٌۭ مِّثْلَ مَآ أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْفَضْلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے

اہل کتاب آپس میں طے کرتے تھے کہ تم لوگ دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار کرو اور شام تک اعلان کردو کہ ہم نے اسلام کا اعلان کیا تھا لیکن اب ہم نے اسے ترک کردیا ہے ۔ تاکہ اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں شک پیدا ہوجائے اور وہ بھی اسلام سے لوٹ آئیں ۔ لیکن یہ بات راز میں رہے ۔ اس کا افشا بھی نہ کرو اور اپنے دین والوں کے علاوہ کسی اور اس راز سے خبردار بھی نہ کرو ۔ وَلا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ……………” اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات پر اعتماد نہ کرو ۔ “

فعل ” اسلام “ کا فاصلہ اگر لام متعدی ہو تو اس کا مفہوم اعتبار اور اعتماد کرنا ہوتا ہے۔ یعنی اعتمادصرف اس پر کرو جو تمہارے دین کو ماننے والا ہے ۔ مسلمانوں کے مقابلے میں صرف اپنے ہم مذہب لوگوں کے سامنے اپنے بھید کھولو۔ مسلمانوں کو ان باتوں کی خبر نہ ہونے پائے ۔

آج صہیونیت اور صلیبیت کے ساتھیوں کا طرز بھی یہی ہے ۔ یہ لوگ آپس میں ایک بات میں باہم مفاہمت کرلیتے ہیں ۔ وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے بسمل کو موقعہ پاتے ہی قتل کردیا جائے ۔ اس کے لئے ایسے مواقع شاید میسر نہ ہوں ۔ اور ہوسکتا ہے کہ صہیونیوں اور صلیبیوں کے ان ایجنٹوں کے درمیان اس جو مکمل مفاہمت پائی جاتی ہے وہ پھر نہ پائی جائے ۔ لیکن یہ مفاہمت ایک طرف ایک (کلائنٹ ) (Client) کے درمیان ہے اور دوسری جانب اس کے ایجنٹ کے درمیان ہے ۔ اس میں یہ موکلین بعض اوقات پنے ایجنٹ کو اپنے اصل راز بھی بتادیتے ہیں ۔ جبکہ انہیں یقین ہو کہ وہ ان رازوں کو افشاء نہ کریں گے ۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو دوسرے روپ میں ظاہر کرتے ہیں اور اس رنگ میں نہیں آتے جس میں انہوں نے ان سازشوں کو تیار کیا ہوتا ہے۔ ان ایجنٹوں کے لئے پہلے سے حالات درست کرکے ماحول کو ان کے لئے سازگار بنادیا جاتا ہے ۔ تمام سہولتیں انہیں مہیا کردی جاتی ہیں ۔ اور جو لوگ اس کرہ ارض پر اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ نظروں سے اوجھل ہیں یا معاشروں میں دھتکارے ہوئے ہیں ۔ اس لئے وہ کہتے ہیں ولا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ…………… اور اپنا راز انہی لوگوں کو بتاؤ جو تمہارے دین کے ماننے والے ہیں ۔ “

یہاں آکر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ اعلان کردیں کہ ہدایت تو سرف اللہ وحدہ کی ہدایت ہے ۔ اور جو شخص اللہ کی ہدایت کو تسلیم نہیں کرتا وہ کبھی بھی ہدایت پا نہیں سکتا ۔ کسی صورت میں بھی اور کسی طریقے سے بھی قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ ” اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے ۔ “

اور یہ فیصلہ ان کے اس قول کے جواب میں آتا ہے ۔” اہل ایمان پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ ‘ اور شام کے وقت اس کا انکار کردو ‘ امید ہے کہ اس طرح وہ پلٹ آئیں ۔ “ مسلمانوں کو ان کے اس مذموم منصوبے کے روبعمل آنے کے خلاف متنبہ کیا جاتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو گویا وہ دوبارہ کفر میں داخل ہوجائیں گے ۔ اس لئے ہدایت صرف اللہ کی ہدایت ہے ۔ اور یہ مکار جو تدابیر اختیار کرتے ہیں وہ خالص کفر ہے ۔ اور یہ فیصلہ بیچ میں آتا ہے ۔ یعنی بطور جملہ ” معترضہ “ ابھی تک اہل کتاب کی بات ختم نہیں ہوتی ۔

أَنْ يُؤْتَى أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْاور یہ کہ کوئی دوسرا اس بات کو جان لے جو تمہیں معلوم ہے اور وہ تمہارے رب کے ہاں تمہارے خلاف حجت پیش کریں۔ “ یہ فقرہ ان کے اس موقف پر دلیل ہے کہ ” اور اپنا راز انہیں لوگوں کو بتاؤ جو تمہارے دین کے ماننے والے ہیں ۔ یہ لوگ اس بغض اور حسد میں مبتلا تھے کہ کسی دوسرے شخص کو بھی اسی طرح نبوت اور کتاب سے سرفراز کیا جائے جس طرح تم نبوت اور کتاب سے سرفراز ہوئے تھے ‘ انہیں یہ خوف دامن گیر تھا کہ اہل اسلام کو دین اور اسلام پر اطمینان نصیب نہ ہوجائے ۔ اور وہ اس حقیقت پر مطلع نہ ہوجائیں جسے اہل کتاب نے چھپارکھا ہے ۔ حالانکہ وہ اسے جانتے ہیں اور نیز قیامت کے دن …

Aal-i-Imraan 3:73Listen in Qur'an →
74

يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

جب اہل اسلام نے یہ سنا تو ان کے دل میں اللہ کے فضل وکرم کا احساس پیدا ہوا ۔ انہوں نے یہ جان لیا کہ انہیں ایک عظیم ڈیوٹی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اور انہیں مخصوص طور پر یہ اعزاز دیا گیا ہے ۔ تو انہوں نے اپنے اس اعزاز کو بڑی دلچسپی کے ساتھ قائم رکھا۔ بڑی مضبوطی اور عزم سے اسے تھام لیا ۔ بڑی قوت اور ثابت قدمی سے اس کی مدافعت کی ۔ وہ حاسدوں اور مکاروں کی سازشوں کے مقابلے میں چوکنے ہوگئے ۔ قرآن کریم کا یہی انداز تربیت تھا ۔ اس لئے کہ یہ حکیم ودانا کا کلام ہے ۔ اور آج بھی امت مسلمہ کے لئے یہی عنصر موجب اصلاح وتربیت ہوسکتا ہے ۔ ہر زمانے اور ہر نسل میں ۔

آگے بڑھ کر مزیدحالات اہل کتاب کی بابت بیان ہوتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے طرز عمل میں کس قدر تناقص پایا جاتا ہے ۔ اور قطعی طور پر بتادیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا دین یعنی اسلام کن صحیح اور سچے اقدار پر استوار ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے اندر باہمی معاملات میں کس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔

Aal-i-Imraan 3:74Listen in Qur'an →
75

۞ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍۢ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍۢ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَآئِمًۭا ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا۟ لَيْسَ عَلَيْنَا فِى ٱلْأُمِّيِّۦنَ سَبِيلٌۭ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں

جو اہل کتاب اس وقت اہل ایمان اور جماعت مسلمہ کے مقابلے میں اترے ہوئے تھے اور بحث و تکرار کررہے تھے ‘ ان کے بارے میں قرآن کریم کا تبصرہ نہایت ہی منصفانہ سچائی پر مبنی ہے ۔ اور ان کے اوصاف بےکم وکاست بیان کئے گئے ہیں ۔ اور جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں ‘ آج تک اہل کتاب کا یہی حال ہے ۔ غرض اہل کتاب اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جو دشمنی کررہے تھے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف وہ جس قدر گہری اور مذموم سازشیں کررہے تھے اور جماعت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف وہ جس قدر شدید شر و فساد کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے ۔ ان سب حقائق کے باوجود ان میں سے جو لوگ اچھے تھے نہ ان کے فضائل چھپاتا ہے اور نہ ان کے بیان میں کمی کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اس وقت وہ اہل اسلام کے ساتھ مقابلہ ومناظرہ کی حالت میں تھے ۔ اس لئے قرآن مجید کہتا ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ میں لوگوں کے عظیم حقوق بھی آجائیں تو وہ انہیں تلف نہیں کرتے ۔

وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ……………” اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کرے گا۔ “ لیکن ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو پرلے درجے کے خائن ‘ لالچی ‘ اور ملمع کار ہیں جو کسی کا حق نہیں لوٹاتے ۔ اگرچہ وہ بہت ہی حقیر کیوں نہ ہوں ‘ ہاں صرف وہ اس صورت میں ادا کریں گے کہ تم ان سے اصرار سے مطالبہ کرو اور ان کے سر پر سوار ہوجاؤ اور یہ حق مارنے کے لئے وہ ایک ایسا فلسفہ بھی گڑھتے ہیں جس میں سوچے سمجھے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

وَمِنْهُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الأمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملے میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادانہ کرے گا الا یہ کہ تم اس کے سر پر سوارہوجاؤ ‘ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ” امیوں (غیر یہودیوں کے معاملے میں ) ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ “ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے کوئی ایسی بات نہیں فرمائی۔ “

اور یہ بھی یہودیوں کی ایک خاص صفت ہے ۔ صرف یہودی یہ بات کہتے تھے ۔ ان کے ہاں اخلاق وآداب کے مختلف پیمانے تھے ۔ امانت ودیانت تو صرف ایک یہودی اور دوسری یہودی کے درمیان معاملات کے لئے ہے ۔ رہے غیر یہودی جنہیں وہ امی کہتے تھے ۔ اور ان سے مراد ان کی صرف عربوں ہی سے تھی ۔ تو ان کے اموال تلف کرنے اور ناجائز ہڑپ کرجانے میں وہ کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے ۔ وہ بڑی بےتکلفی کے ساتھ غیر یہود کے ساتھ دھوکہ ‘ فریب ‘ ملمع کاری ‘ استحصال جیسے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے ۔ بغیر کسی جھجھک کے وہ ان کے خلاف اوچھے ہتھیار استعمال کرتے اور مذموم حرکات کا ارتکاب کرتے۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان کا کہنا یہ تھا کہ ان کا خدا اور ان کا دین انہیں اس بات کا حکم دیتا ہے۔ لیکن دراصل وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کسی فحش بات کا حکم نہیں دیتا ۔ مثلاً یہ کہ وہ کسی گروہ کو حکم دے کہ وہ دوسرے گروہ کی دولت ناجائز اور ظالمانہ طور پرکھائے ۔ اور اس کے ساتھ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی نہ کرے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے ۔ اور ان کو بغیر کسی کراہیت اور حرج کے نقصان پہنچاتا چلاجائے ۔ لیکن وہ یہودی تھے ۔ وہ یہودی جنہوں نے انسانوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی کو اپنا دین بنارکھا ہے۔ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ……………” وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ‘ جانتے ہوئے۔ “

Aal-i-Imraan 3:75Listen in Qur'an →
76

بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ وَٱتَّقَىٰ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اس مقام پر قرآن کریم انسانوں کے لئے اپنا واحد اخلاقی اصول طے کردیتا ہے ۔ یہ اس کا واحد اخلاقی معیار ہے ۔ اور وہ اپنے اخلاقی نقطہ نظر کو خدا اور خدا خوفی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

غرض یہ ایک اخلاقی اصول ہے ‘ جس نے اس کا لحاظ رکھا ‘ اللہ کے عہد کا پاس کرتے ہوئے اللہ خوفی کا شعور رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت رکھے گا ‘ اسے اعزاز اور اکرام نصیب ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد کو دنیا کے ثمن قلیل کی وجہ سے توڑا ‘ چاہے اسے یہ پوری دنیا کیوں نہ مل رہی ہو ‘ تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ یہ پوری دنیا بھی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے ۔ اللہ کے ہاں ایسا شخص ہرگز مقبول نہ ہوگا اور ایسے شخص کے لئے کوئی نرمی نہ ہوگی ۔ نہ وہ صاف ہوگا اور نہ پاک ‘ اس کی یہ حالت ہوگی وہ عذاب الیم میں مبتلا ہوگا۔

یہاں اشارتاً یہ کہا گیا ہے کہ وفائے عہد کا تعلق اللہ خوفی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے وفائے عہد میں کسی حالت میں بھی فرق نہیں آنا چاہئے ۔ وہ دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ ہو ۔ وفائے عہد مصلحتوں پر موقوف نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ وفائے عہد کا معاملہ اللہ کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔ اس کا ربط اور تعلق اس شخص کے ساتھ نہیں ہوتا جس کے ساتھ عہد کیا گیا ہو۔

یہ ہے اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ‘ ایفائے عہد میں بھی اور عمومی اجتماعی اخلاق میں بھی ۔ یہ کہ اجتماعی معاملات میں سب سے پہلا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ایک مسلمان سب سے پہلے ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے ۔ اور اس کی رضامندی کا طلب گار ہوتا ہے۔ اسلام میں اخلاقیات کی تہہ میں محرک مصلحت نہیں ہوتی ‘ نہ اس کا سبب اجتماعی عادت ہوتی ہے اور نہ اخلاقیات سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے رائج ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ سوسائٹی کبھی راہ راست پر ہوتی ہے اور کبھی گمراہ ہوتی ہے ۔ اور اس میں گمراہ کن اقدار اور پیمانے رائج ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اخلاقیات کے لئے ایسے ناقابل تغیر پیمانے وضع ہونا ضروری ہیں جن کے مطابق ایک فرد بھی اپنے اخلاق کو ناپے اور ایک سوسائٹی بھی ان کے معیار کو سمجھے ۔ اور ناقابل تغیر ہونے اور مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی پیمانوں کا تعلق عالم بالا سے بھی ہو ‘ جہاں سے پیمانے لئے جائیں ۔ یہ پیمانے اور ان کا ماخذ انسانی اصطلاحات اور انسانی ضروریات سے بالاہو ‘ اس لئے کہ انسانی ضروریات اور مصلحتیں روز بدلتی رہتی ہیں ۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ اصول اور پیمانے ذات باری سے اخذ کئے جائیں اور وہ اس طرح کہ سب سے پہلے معلوم کیا جائے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ۔ اس کی رضامندی پیش نظر ہو ‘ اس کا خوف دل میں ہو ‘ یوں اسلام انسانیت کو ایک ایسا اخلاقی نظام دیتا ہے جس کی جڑیں اس دنیا کی بجائے عالم بالا میں ہوتی ہیں اور وہ اسی روشن مستحکم اور سربلند سرچشمے سے اپنے اخلاقی پیمانے اور اخلاقی اصول اخذ کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور امانت میں بددیانتی کرتے ہیں ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ۔ لہٰذا عہد و پیمان کا پہلا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان ہے اور بعد میں اس کا تعلق ایک انسان اور دوسرے انسان کے ساتھ ہے ۔ لہٰذا جہاں تک اللہ کا تعلق ہے ایسے عہد شکن لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ہاں اگر وہ اس عہد شکنی اور قسم توڑنے کے عوض کوئی دنیاوی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ مصالح دنیا آخرت کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتے ۔ اس لئے ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے روز آخرت میں ان کے لئے کوئی جزا نہ ہوگی اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ جو عہد کیا تھا وہ اللہ کے ساتھ بھی عہد تھا۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ فنی اعتبار سے قرآن کریم کا اسلوب تعبیر نہایت ہی مصورانہ ہے ۔ یہاں اس حقیقت کہ اللہ ان پر کوئی …

Aal-i-Imraan 3:76Listen in Qur'an →
77

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَٰنِهِمْ ثَمَنًۭا قَلِيلًا أُو۟لَٰٓئِكَ لَا خَلَٰقَ لَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

اس مقام پر قرآن کریم انسانوں کے لئے اپنا واحد اخلاقی اصول طے کردیتا ہے ۔ یہ اس کا واحد اخلاقی معیار ہے ۔ اور وہ اپنے اخلاقی نقطہ نظر کو خدا اور خدا خوفی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

غرض یہ ایک اخلاقی اصول ہے ‘ جس نے اس کا لحاظ رکھا ‘ اللہ کے عہد کا پاس کرتے ہوئے اللہ خوفی کا شعور رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت رکھے گا ‘ اسے اعزاز اور اکرام نصیب ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد کو دنیا کے ثمن قلیل کی وجہ سے توڑا ‘ چاہے اسے یہ پوری دنیا کیوں نہ مل رہی ہو ‘ تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ یہ پوری دنیا بھی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے ۔ اللہ کے ہاں ایسا شخص ہرگز مقبول نہ ہوگا اور ایسے شخص کے لئے کوئی نرمی نہ ہوگی ۔ نہ وہ صاف ہوگا اور نہ پاک ‘ اس کی یہ حالت ہوگی وہ عذاب الیم میں مبتلا ہوگا۔

یہاں اشارتاً یہ کہا گیا ہے کہ وفائے عہد کا تعلق اللہ خوفی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے وفائے عہد میں کسی حالت میں بھی فرق نہیں آنا چاہئے ۔ وہ دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ ہو ۔ وفائے عہد مصلحتوں پر موقوف نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ وفائے عہد کا معاملہ اللہ کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔ اس کا ربط اور تعلق اس شخص کے ساتھ نہیں ہوتا جس کے ساتھ عہد کیا گیا ہو۔

یہ ہے اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ‘ ایفائے عہد میں بھی اور عمومی اجتماعی اخلاق میں بھی ۔ یہ کہ اجتماعی معاملات میں سب سے پہلا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ایک مسلمان سب سے پہلے ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے ۔ اور اس کی رضامندی کا طلب گار ہوتا ہے۔ اسلام میں اخلاقیات کی تہہ میں محرک مصلحت نہیں ہوتی ‘ نہ اس کا سبب اجتماعی عادت ہوتی ہے اور نہ اخلاقیات سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے رائج ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ سوسائٹی کبھی راہ راست پر ہوتی ہے اور کبھی گمراہ ہوتی ہے ۔ اور اس میں گمراہ کن اقدار اور پیمانے رائج ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اخلاقیات کے لئے ایسے ناقابل تغیر پیمانے وضع ہونا ضروری ہیں جن کے مطابق ایک فرد بھی اپنے اخلاق کو ناپے اور ایک سوسائٹی بھی ان کے معیار کو سمجھے ۔ اور ناقابل تغیر ہونے اور مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی پیمانوں کا تعلق عالم بالا سے بھی ہو ‘ جہاں سے پیمانے لئے جائیں ۔ یہ پیمانے اور ان کا ماخذ انسانی اصطلاحات اور انسانی ضروریات سے بالاہو ‘ اس لئے کہ انسانی ضروریات اور مصلحتیں روز بدلتی رہتی ہیں ۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ اصول اور پیمانے ذات باری سے اخذ کئے جائیں اور وہ اس طرح کہ سب سے پہلے معلوم کیا جائے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ۔ اس کی رضامندی پیش نظر ہو ‘ اس کا خوف دل میں ہو ‘ یوں اسلام انسانیت کو ایک ایسا اخلاقی نظام دیتا ہے جس کی جڑیں اس دنیا کی بجائے عالم بالا میں ہوتی ہیں اور وہ اسی روشن مستحکم اور سربلند سرچشمے سے اپنے اخلاقی پیمانے اور اخلاقی اصول اخذ کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور امانت میں بددیانتی کرتے ہیں ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ۔ لہٰذا عہد و پیمان کا پہلا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان ہے اور بعد میں اس کا تعلق ایک انسان اور دوسرے انسان کے ساتھ ہے ۔ لہٰذا جہاں تک اللہ کا تعلق ہے ایسے عہد شکن لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ہاں اگر وہ اس عہد شکنی اور قسم توڑنے کے عوض کوئی دنیاوی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ مصالح دنیا آخرت کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتے ۔ اس لئے ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے روز آخرت میں ان کے لئے کوئی جزا نہ ہوگی اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ جو عہد کیا تھا وہ اللہ کے ساتھ بھی عہد تھا۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ فنی اعتبار سے قرآن کریم کا اسلوب تعبیر نہایت ہی مصورانہ ہے ۔ یہاں اس حقیقت کہ اللہ ان پر کوئی …

Aal-i-Imraan 3:77Listen in Qur'an →
78

وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًۭا يَلْوُۥنَ أَلْسِنَتَهُم بِٱلْكِتَٰبِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں

جب اہل دین اخلاقی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو وہ دینی حقائق میں ملاوٹ کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ کام وہ علمائے دین کے لباس میں کرتے ہیں ۔ قرآن کریم یہاں اہل کتاب میں ایک گروہ کے جو حالات بیان کررہا ہے ‘ ان سے ہم اپنے زمانے میں اچھی طرح واقف ہیں ‘ اہل کتاب نصوص کتاب میں تاویلات کرتے تھے ۔ زبان کے ہیر پھیر سے مفہوم تبدیل کرتے تھے ۔ اور اس طرح وہ طے شدہ نتائج اخذ کرتے تھے ۔ اور ان کا یقین یہ ہوتا تھا کہ کتاب اللہ کا مفہوم یہی ہے ۔ اور یہی مفہوم ارادہ الٰہی کا اظہار ہے ۔ حالانکہ جو نتائج وہ اخذ کرتے تھے وہ اصول دین سے متصادم تھے ۔ ان کو یہ اعتماد تھا اکثر سامعین ان پڑھ اور بےعلم ہیں اور وہ ان کے خودساختہ نتائج اور آیات کے حقیقی مفہوم کے درمیان کوئی فرق اور امتیاز نہیں کرسکتے ۔ حالانکہ ان کے نتائج جعلی اور جھوٹے تھے اور ان نتائج تک وہ آیات کو زبردستی کھینچ کر لاتے تھے ۔

اہل کتاب کا یہ نمونہ ہمارے دور میں بعض دینی راہنماؤں میں پوری طرح پایا جاتا ہے ‘ جو بطور ظلم اپنے آپ کو دین کے حوالے سے پیش کرتے ہیں ۔ جو دین میں تحریف کرتے ہیں ۔ اور جو اپنی خواہشات نفسانیہ میں سے مزاح بناتے ہیں ۔ وہ اپنے کاندھوں پر آیات الٰہی کو اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں اور جہاں بھی انہیں کوئی مفاد نظرآئے اسی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں ‘ جہاں بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی بھی مفاد ملتا ہے ۔ ان آیات کے ذریعہ وہ اسے حاصل کرتے ہیں ۔ غرض آیات الٰہی کو اٹھائے یہ لوگ اغراض دنیاوی کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں ۔ اور پھر ان آیات کی گردن توڑ کر اور انہیں خوب مروڑ کر ان مفادات پر فٹ کرتے ہیں ۔ وہ الفاظ کے مفہوم میں ایسی تبدیلی کرتے ہیں کہ وہ ان کے مقاصد اور رجحانات سے موافق ہوجائیں ۔ اگرچہ یہ رجحانات دین کے اساسی تصورات اور اصول دین کے ساتھ متصادم ہوں ۔ وہ اس میدان میں سہ گانہ جدوجہد کرتے ہیں اور ہر قسم کی بہتان تراشی کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر وقت اسی گھات میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کسی طرح قرآن مجید کے کسی لفظ کا وہ مفہوم نکال لیں جو ان کی خواہشات نفسانیہ کے مطابق ہو ‘ اور جس سے یہ رائج اور صاید خواہشات ثابت ہوجائیں ۔

وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ

” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “

قرآن کریم نے اہل کتاب کے ایک گروہ کا جو حال بیان کیا ہے ‘ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ اس میں ہر وہ قوم مبتلا ہوجاتی ہے جو دین کا کام ایسے لوگوں کے سپرد کردیتی ہے جو نام نہاد دیندار ہوتے ہیں اور جن کے نزدیک دین اس قدر ارزاں ہوجاتا ہے کہ اس کی قدر و قیمت ان کی اغراض دنیاوی میں سے ادنی کے غرض کے برابر بھی نہیں ہوتی ۔ اور ان کی ذمہ داری کی حس اس قدر مانگ پڑجاتی ہے کہ ان کا دل اللہ پر جھوٹ باندھنے سے بھی نہیں چوکتا۔ وہ لوگوں اور بندوں کی چاپلوسی کی خاطر آیات الٰہی میں تبدیلی کرتے ہیں ۔ اور اپنی غیر صحت مندخواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ اللہ کے دین میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو اس خطرناک مقام سے آگاہ کرتے ہیں جہاں قدم پھسل جاتے ہیں اور جس کی وجہ سے بنی اسرائیل نے اپنے مقام قیادت کو کھودیا۔

ان آیات کے مجموعی تاثر کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ گروہ کتاب اللہ میں سے مجازی تعبیرات پر مشتمل بعض جملے تلاش کرلیتا تھا اور پھر ان آیات کو توڑ مروڑ کر ان سے ایسے معانی نکال لیتا تھا ‘ جن کی متحمل وہ آیات نہ تھیں ۔ یوں وہ اپنی تاویلات کے ذریعہ عجیب معانی نکالتے اور ان پڑھ لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہ مفاہم کتاب اللہ کے مدلولات ہیں ۔ حالانکہ وہ خود ان کے ایجاد کردہ تھے …

Aal-i-Imraan 3:78Listen in Qur'an →
79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا۟ عِبَادًۭا لِّى مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن كُونُوا۟ رَبَّٰنِيِّۦنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ ٱلْكِتَٰبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ

کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو

حضرت نبی ﷺ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک رب ہے اور تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں ۔ اس لئے اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے مقام ربوبیت کو مخصوص کریں ۔ کیونکہ مقام الوہیت کا تو پھر تقاضایہ ہے لوگ عبادت بھی نبی کی کریں ۔ اس لئے کوئی نبی لوگوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کُونُوا عِبَادًا لِّی مِن دُونِ اللّٰہِ……………” تم اللہ کے سوا میرے بندے بن جاؤ۔ “ نبی کی دعوت تو یہ ہوتی ہے کہ کُونُوا رَبَّانِینَ……………” تم سب ربانی بن جاؤ۔ “ اس لئے کہ جس کتاب کا تم نے علم حاصل کیا ہے ۔ اس کی تعلیمات یہی ہیں ۔ اور جس کی تم تدریس کرتے ہو اس کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ اس لئے علم کتاب اور تدریس کا یہ تقاضا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی ہو ‘ پس نبی کیسے لوگوں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ وہ نبیوں اور فرشتوں کو اللہ کے علاوہ رب بنالیں ۔ اس لئے کہ نبی اسلام لانے کے بعد لوگوں کو کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے ۔ حالانکہ اس کا مقام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے ۔ یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پانے کے بعد گمراہ کردے ۔ وہ اسلام کی طرف ان کا قائد ہے ‘ اسلام سے نکالنے کے لئے ان کا قائد نہیں ہے۔

اس فارمولے کے مطابق وہ بات محال ہوجاتی ہے ۔ جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ نیز ان کا یہ جھوٹ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تمام آیات وروایات جو وہ پڑھتے ہیں اللہ اور رسول کی طرف سے ہوسکتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ جو بات کہتے ہیں اس کی حیثیت ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور وہ دعویٰ بےاعتبار ہوجاتا ہے جسے وہ بابار اسلامی صفوف میں شبہات اور خلجان پیدا کرنے کے لئے دہراتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن کریم نے انہیں اچھی طرح ننگا کرکے رکھ دیا ہے ۔ اور وہ جماعت مسلمہ کے سامنے کھلے میدان میں ننگے ہوگئے ہیں ۔

ان لوگوں کی مثال بھی بعینہ ان اہل کتاب جیسی ہے جو علم دین کے مدعی ہیں جیسا کہ ہم اس سے پہلے بالتفصیل بیان کر آئے ہیں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیات ان کے سامنے پیش کی جائیں ۔ کیونکہ یہ لوگ بھی قرآنی نصوص کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور انہوں نے بھی اللہ کے سوا کئی ارباب قائم کر رکھے ہیں اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ آیات کو توڑ موڑ کر ان سے وہ مفاہیم نکالیں جو خود انہوں نے گھڑرکھے ہیں ۔

وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ

” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “ اس کے بعد تمام رسولوں اور رسالتوں کے قافلہ ایمانی کے درمیان ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کے حوالے سے ‘ ایک مضبوط رابطے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق وہ تمام لوگ اس عہد کو توڑنے والے اور فاسق قرار پاتے ہیں جو نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ اللہ سے کئے ہوئے عہد سے منحرف ہوتے ہیں ‘ بلکہ وہ اس پوری کائنات کے ناموس اعظم سے بھی خارج ہوجاتے ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:79Listen in Qur'an →
80

وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا۟ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَٱلنَّبِيِّۦنَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِٱلْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ

اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہو چکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے

حضرت نبی ﷺ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک رب ہے اور تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں ۔ اس لئے اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے مقام ربوبیت کو مخصوص کریں ۔ کیونکہ مقام الوہیت کا تو پھر تقاضایہ ہے لوگ عبادت بھی نبی کی کریں ۔ اس لئے کوئی نبی لوگوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کُونُوا عِبَادًا لِّی مِن دُونِ اللّٰہِ……………” تم اللہ کے سوا میرے بندے بن جاؤ۔ “ نبی کی دعوت تو یہ ہوتی ہے کہ کُونُوا رَبَّانِینَ……………” تم سب ربانی بن جاؤ۔ “ اس لئے کہ جس کتاب کا تم نے علم حاصل کیا ہے ۔ اس کی تعلیمات یہی ہیں ۔ اور جس کی تم تدریس کرتے ہو اس کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ اس لئے علم کتاب اور تدریس کا یہ تقاضا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی ہو ‘ پس نبی کیسے لوگوں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ وہ نبیوں اور فرشتوں کو اللہ کے علاوہ رب بنالیں ۔ اس لئے کہ نبی اسلام لانے کے بعد لوگوں کو کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے ۔ حالانکہ اس کا مقام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے ۔ یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پانے کے بعد گمراہ کردے ۔ وہ اسلام کی طرف ان کا قائد ہے ‘ اسلام سے نکالنے کے لئے ان کا قائد نہیں ہے۔

اس فارمولے کے مطابق وہ بات محال ہوجاتی ہے ۔ جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ نیز ان کا یہ جھوٹ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تمام آیات وروایات جو وہ پڑھتے ہیں اللہ اور رسول کی طرف سے ہوسکتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ جو بات کہتے ہیں اس کی حیثیت ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور وہ دعویٰ بےاعتبار ہوجاتا ہے جسے وہ بابار اسلامی صفوف میں شبہات اور خلجان پیدا کرنے کے لئے دہراتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن کریم نے انہیں اچھی طرح ننگا کرکے رکھ دیا ہے ۔ اور وہ جماعت مسلمہ کے سامنے کھلے میدان میں ننگے ہوگئے ہیں ۔

ان لوگوں کی مثال بھی بعینہ ان اہل کتاب جیسی ہے جو علم دین کے مدعی ہیں جیسا کہ ہم اس سے پہلے بالتفصیل بیان کر آئے ہیں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیات ان کے سامنے پیش کی جائیں ۔ کیونکہ یہ لوگ بھی قرآنی نصوص کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور انہوں نے بھی اللہ کے سوا کئی ارباب قائم کر رکھے ہیں اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ آیات کو توڑ موڑ کر ان سے وہ مفاہیم نکالیں جو خود انہوں نے گھڑرکھے ہیں ۔

وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ

” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “ اس کے بعد تمام رسولوں اور رسالتوں کے قافلہ ایمانی کے درمیان ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کے حوالے سے ‘ ایک مضبوط رابطے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق وہ تمام لوگ اس عہد کو توڑنے والے اور فاسق قرار پاتے ہیں جو نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ اللہ سے کئے ہوئے عہد سے منحرف ہوتے ہیں ‘ بلکہ وہ اس پوری کائنات کے ناموس اعظم سے بھی خارج ہوجاتے ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:80Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.