Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 171–180 of 200

171

۞ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضْلٍۢ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

اس کے بعد یہ خصوصیت کہ ان کے دل ان لوگوں کے حالات کے اندر مشغول ہیں اور دلچسپی لے رہے ہیں جو اس دنیا میں زندہ رہ رہے ہیں اور ان کے زندہ رہنے والوں کے انجام کے بارے میں بہت ہی مطمئن ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ راضی ہے ۔

يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ

” اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ‘ ان کے لئے بھی کسی رنج وخوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں اور فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔ “

وہ اپنے بھائیوں سے منقطع نہیں ہوگئے ‘ جو ابھی وہاں نہیں پہنچے اور ان سے جدا ہوگئے ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کے ساتھ ہیں اور دنیا اور آخرت میں پیچھے آنے والوں سے جو کچھ ملنے والا ہے ‘ اس پر وہ بہت ہی خوش ہیں اور وہ اس لئے شاداں وفرحاں ہیں کہ ان آنے والوں کے لئے بھی کسی رنج اور خوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اپنے رب کے ہاں جو اعلیٰ درجے کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس سے انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ آنے والوں کے بھی مزے ہیں ۔ اس لئے کہ ان پر بےبہا فضل وکرم ہورہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین صادقین کے ساتھ یہی تعلق ہوتا ہے کہ وہ ان کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

سوال یہ ہے کہ زندگی کے خصائص میں سے کون ساوہ خاصہ ہے جو ان شہداء فی سبیل اللہ کو حاصل نہیں ہے ؟ اور وہ کیا چیز ہے جو آنے والے مومنین سے ان کو ممتاز کرتی ہے اور یہ کہ ان کے اس انتقال کی وجہ سے پھر حسرت ‘ فقدان اور وحشت اور افسوس کا کیا موقعہ ہے ؟ یعنی پسماندگان کے لئے افسوس کا کیا موقع ہے کہ وہ افسوس کرتے ہیں ۔ یہ تو نہایت خوشی کا موقعہ ہے ۔ یہ تو رضامندی اور محبت کا موقعہ ہے کہ ایک شخص ہم سے جدا ہوکر اللہ کے ہاں پہنچ گیا۔ اور اس انتقال کے ساتھ ساتھ ہم سے ملحق بھی ہے ۔

اگر موت فی سبیل اللہ ہے ‘ تو وہ موت نہیں ہے اور خود مجاہدین کے اپنے شعور کے مطابق بھی وہ موت نہیں ہے ۔ ان لوگوں کے لئے بھی موت نہیں ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ یہ زندگی کے میدان کی وسعت ہے ۔ اس کے شعور کی وسعت ہے ‘ اس کی صورتوں کی وسعت ہے ۔ یہ حیات ‘ شہید کی حیات ‘ زندگی کی سرحدوں کے آگے چلی جاتی ہے ۔ اسی طرح اس زندگی کے مظاہر بدل جاتے ہیں۔ یہ زندگی دنیا کی تنگ دامانی سے نکل کر ایک وسیع میدان میں داخل ہوجاتی ہے ۔ اس کے سامنے وہ پردے اور رکاوٹیں نہیں ہوتیں جو ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں ۔ گویا زندگی اپنی شکل و صورت سے منتقل ہوکر دوسری شکل و صورت میں داخل ہوجاتی ہے ۔ ایک زندگی ختم ہوتی اور دوسری شروع ہوتی ہے ۔

اس آیت نے زندگی کو جو نیا مفہوم دیا ہے ‘ یا قرآن کریم کی اس جیسی دوسری آیات شہداء کی زندگی کو جو مفہوم عطا کرتی ہیں ‘ اس کے اثرات یہ ہوئے کہ مجاہدین کرام کے قدم طلب شہادت میں ہر وقت رواں دواں رہے ۔ اور ان کی ایک مثال وہ نمونے ہیں جو ہم نے جنگ احد کے بیان کے آغاز میں دئیے ہیں ۔

اس حقیقت اور عظیم حقیقت کے بیان کے بعد کہ اہل ایمان کے لئے جو کچھ اللہ کے ہاں تیار کیا ہوا ہے ‘ اس پر شہداء خوشیاں منا رہے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ یہاں وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ اہل ایمان ہیں ‘ کون ہیں اور ان کا ان کے رب کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟

Aal-i-Imraan 3:171Listen in Qur'an →
172

ٱلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ مِنۢ بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ ٱلْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ مِنْهُمْ وَٱتَّقَوْا۟ أَجْرٌ عَظِيمٌ

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

یہ وہ لوگ تھے جنہیں جنگ احد کی دوسری صبح رسول اللہ ﷺ نے پکارا نکلو کہ ابھی تلخ معرکہ ختم نہیں ہے اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے زخموں سے ابھی تک خون جاری ہے ۔ اور وہ کل ہی جان لڑا کر موت کے منہ سے نکلے تھے ۔ اور ابھی تک انہوں نے کل کے معرکہ کی ہولناکیوں کو بھولانہ تھا۔ ہزیمت کی تلخی ان کے منہ میں باقی تھی ‘ درد کی شدت میں ابھی تک کمی نہ آئی تھی ۔ مزید یہ کہ انہوں نے اعزہ و اقارب کی قیمتی جانوں کا نذرانہ کل ہی تو پیش کیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کی اکثریت بری طرح زخمی تھی ۔

رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکارا تھا اور صرف انہیں پکارا تھا اور یہ دعوت اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی طرف سے لبیک کہنا ‘ ایک ایسافعل تھا جس کے اندر گہرے اشارات پائے جاتے ہیں ۔ اور یہ بڑے حقائق پر مشتمل ہے ۔ اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ تھی ۔

ممکن ہے رسول اللہ ﷺ یہ چاہتے ہوں کہ اس معرکے میں اہل ایمان کی آخری بات اور ان کا آخری شعور یہ نہ ہو کہ انہیں ہزیمت ہوئی ہے ۔ اور وہ شکست کھاچکے ہیں اور اس زخموں کی حالت میں کراہ رہے ہیں ۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ کپڑے جھاڑیں اور قریش کا تعاقب کریں ۔ ان کا پیچھا کریں تاکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ یہ تو ایک ابتلاتھی ‘ ایک تجربہ تھا اور یہ اس معرکے کا کوئی آخری فیصلہ نہ تھا ۔ اور اس کے بعد بھی مسلمانوں کی قوت اپنی جگہ موجود ہے ۔ اور یہ کہ دشمن ابھی تک ضعیف ہیں ۔ یہ تو ایک بار تھی جس میں اچانک شکست ہوگئی ۔ اور ہم اس کا بدلہ لیں گے ۔ اگر ہم نے کمزوری اور بےاتفاقی کو دور کردیا اور اللہ اور رسول کے حکم کو تسلیم کیا۔

یہ بھی ممکن تھا کہ رسول اللہ قریش کے ذہنوں سے یہ بات نکالنا چاہتے ہوں کہ وہ فتح کے پھریرے اڑاتے ہوئے مکہ میں داخل ہورہے ہیں۔ اس لئے آپ نے اس معرکے میں شریک ہونے والوں کی معیت میں ان کا تعاقب کیا۔ اور اس سے قریش کو یہ جتلانا مقصود تھا کہ انہوں نے ابھی تک مسلمانوں کی قوت کو توڑا نہیں ہے ۔ اور یہ کہ ابھی تک ان میں تعاقب یا دوسری جنگ کی قوت باقی ہے ۔ جس طرح سیرت کی روایات میں آتا ہے اس تعاقب سے یہ دونوں مقاصد پورے ہوگئے۔

شاید رسول اکرم ﷺ مسلمانوں اور پوری دنیا کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ اس دنیا میں ایک نئی حقیقت کا ظہور ہوچکا ہے اور وہ نئی حقیقت جو اپنے ظہور کے بعد اب قائم ہوچکی ہے وہ یہ ہے کہ اس نئی تحریک کا اصل سرمایہ اس کا عقیدہ ہے ۔ یہی اس کا نصب العین ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی مقصد حیات نہیں ہے اور اس کے سوا اس کو زندگی میں کوئی اور ترجیح نہیں ہے ۔ مسلمان اس نظریہ حیات ہی کے لئے زندہ ہیں ‘ اس لئے اس نظریہ حیات کے بعد ان کے نفوس کی کوئی اور تمنا نہیں ہے ۔ اور وہ اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

اس وقت اس کرہ ارض پر یہ ایک بالکل نئی بات تھی ۔ لہٰذا یہ بات ضروری تھی کہ پوری دنیا کو معلوم ہوجائے اور خود مسلمانوں کو بھی اس کا شعور ہوجائے ‘ کہ یہ جدید نظریہ اب قائم ہوچکا ہے اور اب یہ اس کرہ ارض پر ایک انمٹ حقیقت ہے ۔ اور اس حقیقت کا اس سے بڑا اظہار نہ ہوسکتا تھا کہ احد میں اس قدر زخم کھانے کے بعد فدایان اسلام اپنے رستے زخموں کے ساتھ ایک غالب قوت کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوں ۔ ان کی جانب سے یہ اقدام ایک واضح روشن اور بالکل ایک خوفناک اقدام تھا ۔ اس میں توکل علی اللہ کی روشن مثال پائی جاتی تھی ۔ اور لوگ ان جانبازوں کو جو ڈرا رہے تھے کہ قریش پھر سے جمع ہورہے ہیں ‘ جس طرح ابوسفیان کے نمائندوں نے انہیں یہ بات پہنچائی تھی اور منافقین نے بھی قریش کے اس منصوبے کو خوفناک انداز میں پیش کیا کہ وہ ایسا کرنے والے ہیں ۔

الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ……………” جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف …

Aal-i-Imraan 3:172Listen in Qur'an →
173

ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدْ جَمَعُوا۟ لَكُمْ فَٱخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَٰنًۭا وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ وَنِعْمَ ٱلْوَكِيلُ

(جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

محمد بن اسحاق نے عبداللہ ابن جارحہ ‘ ابوالسائب سے روایت کی ہے کہ رسول ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب جو بنو عبدالاشہل سے تعلق رکھتے تھے ‘ وہ احد میں شریک تھے ۔ اس نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احد میں شریک ہوئے تھے ۔ میں تھا ‘ میرا بھائی تھا ‘ ہم لوٹے دونوں زخمی تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے موذن نے اعلان کیا کہ نکلو ‘ دشمن کا تعاقب کرنا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا یا بھائی نے مجھ سے کہا کیا اب ہم سے رسول اللہ ﷺ کی یہ جنگ رہ جائے گی ۔ ہمارے پاس کوئی سواری نہیں ہے اور ہم دونوں شدید زخمی بھی ہیں ۔ ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکل پڑے ۔ میرا زخم بھائی سے ذرا کم تھا۔ جب اس کی طبیعت خراب ہوتی تو میں اسے پیچھے سے تھامتا ‘ یہاں تک کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچ گئے ۔

محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ احد کی جنگ بروز ہفتہ 15 شوال کو ہوئی تھی ۔ دوسرے دن 16 شوال کو رسول ﷺ کے موذن نے اذان دی ۔ اور حکم دیا کہ دشمن کا تعاقب کرنا ہے ۔ اور موذن نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہمارے ساتھ صرف وہ لوگ جائیں گے جو کل کے معرکے میں شریک ہوئے تھے ۔ آپ کے ساتھی جابر ابن عبدللہ ابن عمرو ابن حرام نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے اپنی بہنوں کی نگرانی کے لئے چھوڑدیا تھا۔ میری سات بہنیں تھیں ۔ میرے باپ نے مجھ سے کہا کہ ” برخوردار نہ یہ میرے لئے مناسب ہے اور نہ آپ کے لئے مناسب ہے کہ آپ ان سات عورتوں کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکلیں ۔ “ اور میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کا شرف تمہیں دے دوں۔ اس لئے تم بہنوں کے پاس رہو ۔ صرف ان کو رسول ﷺ نے اجازت دے دی اور وہ آپ کے ساتھ نکلے ۔

جب اس عظیم حقیقت کا اعلان ہوا ‘ تو اس قسم کے عظیم اور بےمثال واقعات ظہور پذیر ہوئے ۔ لوگوں کی ذہنی دنیا میں انقلاب آیا۔ ایسے تربیت یافتہ نفوس قدسیہ تیار ہوئے جو صرف اللہ کو اپنا وکیل و مددگار سمجھتے تھے۔ وہ صرف ذات باری پر راضی تھے ‘ ذات باری ہی کو کافی سمجھتے تھے ۔ وہ ذات باری ہی کو یاد کرتے تھے اور جب سخت سے سخت حالات پیش آتے تو ان کا ایمان اور پختہ ہوجاتا اور جب لوگ انہیں مشکلات سے ڈراتے تو ان کا جواب یہ ہوتا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ” ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ “

Aal-i-Imraan 3:173Listen in Qur'an →
174

فَٱنقَلَبُوا۟ بِنِعْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضْلٍۢ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوٓءٌۭ وَٱتَّبَعُوا۟ رِضْوَٰنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

اور پھر انجام کیا ہوگا ؟ وہی جو اللہ نے متوکلین کے لئے لکھ دیا ہے جو اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں اور جن کے لئے بس اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔

فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ

” آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ‘ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضاپر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ‘ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “

وہ مشکلات سے بچ کر بغیر کسی تکلیف کے واپس ہوگئے ۔ اللہ کی رضامندی کے ساتھ واپس ہوئے اور کامیابی اور خوشی سے واپس ہوئے ۔ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ……………” اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ ۔ “ اللہ تعالیٰ یہاں پھر ان کی توجہ جود اور بخشش کے سبب اول کی طرف مبذول کراتے ہیں ‘ کہ سبب اول اللہ کی نعمت اور اس کا فضل ہوا کرتا ہے ۔ اور اس میں یہ اشارہ بھی مقصود ہے کہ صحابہ کرام کا موقف قابل تعریف تھا۔ کیونکہ ان کا یہ موقف تھا کہ وہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی نعمت کی تلاش میں تھے ۔ تمام نعمتوں کا سرچشمہ یہی ہے کہ اللہ کا فضل ہوجائے اور ان کا موقف بھی ایسا تھا جہاں فضل خداوندی کی بارش تھی ۔ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ……………” اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔ “ اس طرح ‘ اللہ اپنی ابدی کتاب میں یہ ثبت کردیتے ہیں اور اپنے کلام میں ان کی یہ تصویر کھینچتے ہیں ‘ ان کا یہ موقف پیش فرماتے ہیں اور اللہ کا کلام وہ کلام ہے جس کے ساتھ یہ پوری کائنات ہم آہنگ ہے ۔ غرض ان کا موقف نہایت ہی شریفانہ ہے اور ان کی یہ تصویر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔

جب انسان کے اس موقف اور ان کے اس نظارے پر غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوجاتا ہے کہ صرف ایک ہی رات میں ان لوگوں کا نقطہ نظر یکسر بدل گیا ہے ‘ وہ پختہ کار ہوگئے ‘ باہم متناسق ہوگئے ‘ وہ جہاں کھڑے تھے وہاں مطمئن ہوکر جم گئے ۔ ان کے خیالات سے تمام دھند اور میل دور ہوگئی اور ان کی صورت حال بالکل نئی ہوگئی ۔ کل ان کے تصورات میں اور ان کی صفوں کے اندر جو خلجان اور جو تذبذب پایا جاتا تھا ‘ آج اس کا نام ونشان نہیں ہے ۔ صرف ایک رات ہی گزری تھی کہ ان کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہوگیا ۔ عظیم فرق اور میلوں کی مسافت ایک لحظہ میں طے ہوگئی۔ اس تلخ تجربے نے ان کے نفوس کے اندر اپنا کام کردکھایا ۔ اس حادثہ نے انہیں خوب جھنجھوڑا جس کی وجہ سے ان کے تصورات سے ہر قسم کے غبار چھٹ گئے ‘ ان کے دل از سر نو جاگ اٹھے ‘ ان کے قدم جم گئے اور ان کے دل از سر نو عزم صمیم سے مالا مال ہوگئے ۔ بالکل درست ہے یہ کہنا کہ اس ابتلا میں بھی اللہ فضل پوشیدہ تھا۔

اس پیراگراف کے آخر میں اس وقت کے موجودہ جزع وفزع اور خوف وہراس کی علت بھی بتادی گئی ۔ بتایا گیا کہ یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں کا ڈر اور رعب تمہارے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کو رعب وبدبہ کے لباس میں پیش کرتا ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو شیطان کی اس چال سے خوب خبردار رہنا چاہئے ۔ اور اس کے اس مکر کو بےاثر بنانے کی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔ اس لئے وہ اہل قریش سے نہ ڈریں کیونکہ وہ اس وقت شیطان کے ساتھی ہیں ۔ وہ شیطان ہے دوستوں سے خائف ہونے کے بجائے اللہ سے ڈریں کیونکہ صرف وہی قوی قادر مطلق اور جبار ہے اور وہی اس بات کا مستحق کہ اس سے خوف کیا جائے۔

” اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا ‘ جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہا تھا لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا ‘ مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں ایمان لانے والے ہو۔ “

شیطان اپنے دوستوں کو بہت بڑا کرکے اور پھولا کر پیش کرتا ہے ۔ وہ انہیں ایسے لباس میں پیش کرتا ہے جس میں وہ قوی اور طاقتور نظر آئیں ۔ وہ دلوں میں یہ رعب بٹھاتا ہے کہ شیطان کے ساتھی سب کچھ اپنے حق میں پھیر سکتے ہیں اور ان کے ہاتھ لمبے ہیں ۔ وہ نفع بھی دے سکتے …

Aal-i-Imraan 3:174Listen in Qur'an →
175

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

اور پھر انجام کیا ہوگا ؟ وہی جو اللہ نے متوکلین کے لئے لکھ دیا ہے جو اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں اور جن کے لئے بس اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔

فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ

” آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ‘ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضاپر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ‘ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “

وہ مشکلات سے بچ کر بغیر کسی تکلیف کے واپس ہوگئے ۔ اللہ کی رضامندی کے ساتھ واپس ہوئے اور کامیابی اور خوشی سے واپس ہوئے ۔ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ……………” اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ ۔ “ اللہ تعالیٰ یہاں پھر ان کی توجہ جود اور بخشش کے سبب اول کی طرف مبذول کراتے ہیں ‘ کہ سبب اول اللہ کی نعمت اور اس کا فضل ہوا کرتا ہے ۔ اور اس میں یہ اشارہ بھی مقصود ہے کہ صحابہ کرام کا موقف قابل تعریف تھا۔ کیونکہ ان کا یہ موقف تھا کہ وہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی نعمت کی تلاش میں تھے ۔ تمام نعمتوں کا سرچشمہ یہی ہے کہ اللہ کا فضل ہوجائے اور ان کا موقف بھی ایسا تھا جہاں فضل خداوندی کی بارش تھی ۔ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ……………” اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔ “ اس طرح ‘ اللہ اپنی ابدی کتاب میں یہ ثبت کردیتے ہیں اور اپنے کلام میں ان کی یہ تصویر کھینچتے ہیں ‘ ان کا یہ موقف پیش فرماتے ہیں اور اللہ کا کلام وہ کلام ہے جس کے ساتھ یہ پوری کائنات ہم آہنگ ہے ۔ غرض ان کا موقف نہایت ہی شریفانہ ہے اور ان کی یہ تصویر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔

جب انسان کے اس موقف اور ان کے اس نظارے پر غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوجاتا ہے کہ صرف ایک ہی رات میں ان لوگوں کا نقطہ نظر یکسر بدل گیا ہے ‘ وہ پختہ کار ہوگئے ‘ باہم متناسق ہوگئے ‘ وہ جہاں کھڑے تھے وہاں مطمئن ہوکر جم گئے ۔ ان کے خیالات سے تمام دھند اور میل دور ہوگئی اور ان کی صورت حال بالکل نئی ہوگئی ۔ کل ان کے تصورات میں اور ان کی صفوں کے اندر جو خلجان اور جو تذبذب پایا جاتا تھا ‘ آج اس کا نام ونشان نہیں ہے ۔ صرف ایک رات ہی گزری تھی کہ ان کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہوگیا ۔ عظیم فرق اور میلوں کی مسافت ایک لحظہ میں طے ہوگئی۔ اس تلخ تجربے نے ان کے نفوس کے اندر اپنا کام کردکھایا ۔ اس حادثہ نے انہیں خوب جھنجھوڑا جس کی وجہ سے ان کے تصورات سے ہر قسم کے غبار چھٹ گئے ‘ ان کے دل از سر نو جاگ اٹھے ‘ ان کے قدم جم گئے اور ان کے دل از سر نو عزم صمیم سے مالا مال ہوگئے ۔ بالکل درست ہے یہ کہنا کہ اس ابتلا میں بھی اللہ فضل پوشیدہ تھا۔

اس پیراگراف کے آخر میں اس وقت کے موجودہ جزع وفزع اور خوف وہراس کی علت بھی بتادی گئی ۔ بتایا گیا کہ یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں کا ڈر اور رعب تمہارے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کو رعب وبدبہ کے لباس میں پیش کرتا ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو شیطان کی اس چال سے خوب خبردار رہنا چاہئے ۔ اور اس کے اس مکر کو بےاثر بنانے کی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔ اس لئے وہ اہل قریش سے نہ ڈریں کیونکہ وہ اس وقت شیطان کے ساتھی ہیں ۔ وہ شیطان ہے دوستوں سے خائف ہونے کے بجائے اللہ سے ڈریں کیونکہ صرف وہی قوی قادر مطلق اور جبار ہے اور وہی اس بات کا مستحق کہ اس سے خوف کیا جائے۔

” اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا ‘ جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہا تھا لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا ‘ مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں ایمان لانے والے ہو۔ “

شیطان اپنے دوستوں کو بہت بڑا کرکے اور پھولا کر پیش کرتا ہے ۔ وہ انہیں ایسے لباس میں پیش کرتا ہے جس میں وہ قوی اور طاقتور نظر آئیں ۔ وہ دلوں میں یہ رعب بٹھاتا ہے کہ شیطان کے ساتھی سب کچھ اپنے حق میں پھیر سکتے ہیں اور ان کے ہاتھ لمبے ہیں ۔ وہ نفع بھی دے سکتے …

Aal-i-Imraan 3:175Listen in Qur'an →
176

وَلَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ ۚ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا ۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّۭا فِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا۔ یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے

غزوہ احد کے واقعات کا یہ بہترین اختتامیہ ہے ۔ اس لئے کہ اس غزوہ میں مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے تھے اور اس جنگ میں کفار کو فتح اور غلبہ نصیب ہوا تھا ۔ حق و باطل کی کشمکش میں ہمیشہ یہ شبہ پیدا ہوجاتا ہے اور اہل حق کے دلوں میں یہ بات ہمیشہ کھٹکتی ہے یا بعض اوقات کامیابی کی خواہش دلوں میں ابھرتی رہتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں حق کو کامیاب ہی ہونا چاہئے اور اگر کسی جگہ حق کو شکست ہو جس طرح احد میں اور کفر و باطل کو فتح وظفر نصیب ہو تو یہ کیوں ہوتی ہے ؟

یہ جھوٹا شبہ ہوتا ہے اور ہمیشہ دلوں میں اٹھتا رہتا ہے۔ اور انسان کی خواہش کامیابی اسے مسلسل دبارہی ہوتی ہے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اے رب ! حق کو شکست اور باطل کو فتح کیوں ہوتی ہے ؟ اہل حق مصائب میں مبتلاہو رہے ہیں اور اہل باطل نجات پا رہے ہیں اور کامیاب ہورہے ہیں اور اس طرح کیوں نہیں ہوتا کہ جب بھی حق و باطل کی باہم کشمکش ہو تو حق کو فتح نصیب ہو اور وہ غلبہ اور غنیمت لے کر واپس ہو ؟ کیا حق اور سچائی اس بات کی مستحق نہیں ہے کہ اسے فتح نصیب ہو اور باطل کے لئے یہ قوت اور یہ رعب کیوں ہے کہ حق کے ساتھ ٹکراؤ میں اسے ایسی کامیابیاں ہوتی ہیں جس سے اہل حق کے دلوں میں فتنے پیدا ہوتے ہیں اور ان کے دل متزلزل ہوجاتے ہیں۔

اور یہ سوالات عملاً اس وقت سامنے آئے جب احد کے دن اہل ایمان نے نہایت ہی تعجب اور سراسیمگی میں یہ سوال کیا کہ اَنّٰی ھٰذَا ؟…………… ” یہ کیسے ہوگیا “………لہٰذا اس آخری اختتامیہ میں اس کا آخری جواب دیا جاتا ہے ۔ آخری اور فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پریشان دلوں کو سکون فراہم فرمادیتے ہیں اور اس پہلو سے جو بڑا وسوسہ بھی دلوں کے اندر راہ پاتا ہے ‘ اسے صاف کردیا جاتا ہے ۔ اللہ کی سنت کا بیان ہوتا ہے ۔ اللہ کی سنت کے تحت اس کی تقدیروں کا بیان ہوتا ہے اور پھر ان تمام سنن اور تقدیروں کے پیچھے جو اس کی وسیع تر تدبیر اور حکمت کارفرماہوتی ہے ‘ وہ بھی بتادی جاتی ہے اور یہ حکمت کل بھی تھی ‘ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ اور ہر اس جگہ ہوگی جہاں حق و باطل کی کشمکش ہو اور احد جیسے نتائج نکلیں۔

دنیا کے کسی معرکے سے باطل کا فتح مندی کے ساتھ نکل کر چلاجانا اور ایک وقت کے لئے اس کا پھول جانا اور طاقتور نظر آنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ بس اللہ تعالیٰ نے اسے کھلی چھٹی دے دی ہے ۔ یا یہ کہ وہ اس قدر طاقتور ہوگیا ہے کہ اس پر اب غلبہ نہیں پایا جاسکے گا یا یہ کہ باطل ہمیشہ کے لئے حق کے لئے مضر ہی رہے گا ۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔

اسی طرح کسی معرکے میں سچائی کا شکست اور مصائب میں مبتلا ہوکر نکلنا یا سچائی کا کسی دور میں ضعف کا شکار ہوجانا ‘ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کوئی انصاف فرما رہے ہیں یا اللہ نے حق کو بھلادیا یا اس نے باطل کو آزاد چھوڑدیا کہ وہ سچائی کو بیخ وبن سے اکھاڑکر تباہ کردے۔

یوں ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ یہ تو اللہ کی گہری حکمت اور تدبیر ہوتی ہے جو ہر جگہ اپنا کام کررہی ہوتی ہے ۔ کبھی حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ باطل کو مہلت دی جائے اور وہ اپنی آخری سرحد تک پہنچ جائیں ۔ وہ اپنے تمام برے نتائج ظاہر کریں ‘ وہ لوگوں پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیں اور آخر کار وہ اس بات کے مستحق ہوجائیں کہ ان پر سخت سے سخت حملہ کیا جائے اور پھر حق کو آزمائش میں اس لئے ڈالا جاتا ہے کہ حق و باطل کے درمیان فرق ہوجائے ۔ طیب اور خبیث کے اندر امتیاز ہوجائے ‘ اور ان آزمائشوں میں جو لوگ ثابت قدم رہیں انہیں عظیم اجر ملے اور وہ ممتاز مقام کے مستحق ہوجائیں ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ صورت حال سچائی کے لئے کمائی ہے اور باطل کے لئے خسارہ ہے ۔ ادہر یہ کمائی زیادہ سے زیادہ ہورہی ہو تو ادہر خسارہ زیادہ سے زیادہ ہورہا ہے۔

وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا …

Aal-i-Imraan 3:176Listen in Qur'an →
177

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلْكُفْرَ بِٱلْإِيمَٰنِ لَن يَضُرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالإيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ……………” جو لوگ ایمان چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے ہیں ۔ ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے ۔ “ ایمان تک ان کے ہاتھ پہنچ سکتے تھے ۔ ایمان کے دلائل اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ۔ خود انسانی فطرت اور نفس کے اندر دلائل ایمان موجود ہیں ۔ خود انسان کے عجیب و غریب جسم کے منصوبے کے اندر ‘ اس میں باہم مکمل ہم آہنگی کے اندر ‘ اس میں ودیعت کردہ فطرت انسانی کے اندر ‘ پھر انسانی فطرت اور اس کے اس طبیعی وجود میں پائی جانے والی ہم آہنگی کے اندر ‘ پھر اس میں اس کے خالق اور صانع کے وجود کا فطری شعور ودیعت کئے جانے کے اندر اور پھر اس شعور کی بہترین نفسیاتی اور طبیعی مزاج کے اندر دلائل ہی دلائل ہیں ۔ اور ان دلائل کے علاوہ رسولوں کی دعوت بھی تو موجود رہی ہے اور ہے ۔ یہ دعوت اپنی اس فطری حالت میں موجود ہے جسے انسانی فطرت قبول کرتی ہے ۔ اور اس فطرت اور اس دعوت رسل کے اندر پھر حسین ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور یہ دعوت لوگوں کی ضروریات اور ان کی زندگی کے لئے مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔

ہاں ‘ ایمان ان کے سامنے مکمل طور پر موجود تھا ‘ ان کی دسترست میں تھا ‘ انہوں نے اور انہوں ہی نے راہ ایمان کو چھوڑ کر کفر کی راہ خرید لی ۔ اور یہ کام انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے کیا۔ اس لئے وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ اللہ انہیں اس حال میں چھوڑ دے کہ وہ کفر کی راہ پر سرپٹ دوڑیں تاکہ وہ اپنا پورا سرمایہ حیات اس راہ میں لگادیں اور ان کے لئے ثواب آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ اللہ کو کوئی نقصان دے سکیں ۔ اس لئے کہ وہ مکمل طور پر گمراہ ہوگئے ہیں اور ان کے پاس سچائی کی معمولی مقدار بھی نہیں رہی ہے ۔ اور گمراہی کے حق میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل اور کوئی طاقت نازل ہی نہیں کی ہے ۔ اس لئے اپنی حقیقت کے اعتبار سے باطل کے پاس کوئی قوت نہیں ہوتی ۔ لہٰذا وہ اہل حق اور دعوت اسلامی کو کبھی کوئی مضرت نہیں پہنچاسکتے ۔ کیونکہ ان کے پاس اگر کوئی قوت ہے بھی تو وہ بہت ہی کمزور اور نحیف ہے ۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو پھولاکر دکھائے ‘ اور وقتی طور پر مسلمانوں کو کسی شکست کی وجہ سے رنج والم پہنچ جائے۔

وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ…………” ان کے لئے درناک عذاب ہے ۔ “ یہ اس قدر المناک ہوگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اس قدر رنج والم وہ اس دنیا میں اہل اسلام کو نہیں دے سکتے ۔

Aal-i-Imraan 3:177Listen in Qur'an →
178

وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌۭ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُوٓا۟ إِثْمًۭا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ

” جو ڈھیل ہم انہیں دے رہے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں ‘ ہم تو انہیں اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں پھر ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے ۔ “

یہاں آکر اب بات اس عقدے پر پہنچ جاتی ہے جو بعض دلوں میں خلجان کا باعث بنا ہوا تھا۔ بعض دلوں میں یہ سوال پیدا ہورہا تھا اور وہ خلجان جسے بعض لوگوں کی روح محسوس کررہی تھی ‘ وہ دیکھ رہے تھے کہ بعض اللہ کے دشمن اور بعض سچائی کے دشمن مہلت پا رہے ہیں اور وہ عذاب الٰہی کی گرفت میں نہیں آرہے ہیں۔ بظاہر خوب کھاتے پیتے ہیں ‘ قوت ‘ حکومت اور مال و مرتبے سے بہرہ ور ہیں اور خود بھی فتنے میں مبتلاہو رہے ہیں ۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی دنیا میں بھی فتنہ سامانیاں کررہے ہیں اور وہ اہل ایمان جن کے ایمان ضعیف ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں زمانہ جاہلیت کی طرح غیر مناسب تصورات اور خیالات رکھتے ہیں ۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید اللہ تعالیٰ باطل ‘ شر ‘ انکارحق ‘ کفر اور طغیان پر خوش ہوتا ہے ‘ نعوذباللہ ۔ اس لئے وہ اسے مہلت دیتا ہے اور ان کے لئے رسی ڈھیلی چھوڑتا ہے۔ وہ یہ بھی گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ معرکہ حق و باطل میں کوئی مداخلت نہیں کرتے ‘ اس لئے وہ باطل کو اس کے لئے آزاد چھوڑتے ہیں کہ وہ حق کا سرچھوڑدے اور اللہ اس کی نصرت وامداد کے لئے کچھ نہ کریں ‘ یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل ہی حق ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اسے پنپنے ‘ بڑھنے اور غالب ہونے نہ دیتے ۔ یا وہ سمجھتے تھے کہ باطل کا حق یہ ہے کہ وہ حق پر غالب آجائے اور جزیرۃ العرب کی پوزیشن یہی رہے ۔ اور سچائی کے حق میں غلبہ نہیں ہے ورنہ کیوں اللہ اہل باطل ‘ ظالموں ‘ باغیوں اور مفسدوں کو یوں چھوڑ دے کہ وہ باطل میں سرگرم رہیں ‘ کفر کی طرف شتابی سے بڑھیں ‘ طغیان میں سرگرداں رہیں اور یہ سمجھیں کہ وہ مستحکم ہوگئے ہیں اور اب کوئی قوت ان کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی ۔

یہ سب افکار باطلہ تھے ۔ اللہ کے حق میں سوچ بری تھی ۔ معاملہ ایسا نہ تھا اس لئے خود اللہ تعالیٰ اہل کفر کو متنبہ کرتے ہیں کہ ایسا ہرگز گمان نہ کرو ۔ یہ جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ تمہیں گھیرتی نہیں ہے حالانکہ وہ کفر میں تیزی دکھا رہے ہیں ‘ اور یہ کہ انہیں جو اس دنیا میں حظ وافر دیا جارہا ہے جس سے وہ لطف اندوز ہورہے ہیں اور گمراہی میں آگے بڑھ رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے لئے مزیدفتنہ ہے ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط اسکیم ہے اور یہ ان کے لئے سخت آزمائش ہے کہ ان کی رسی ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہے ۔

وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا……………” یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں ‘ ہم تو انہیں اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں ۔ پھر ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے ۔ “

اگر وہ اس بات کے مستحق ہوتے کہ اللہ انہیں ان انعامات سے نکالے ‘ انہیں ایسی ابتلا میں ڈالے جو ان کی آنکھیں کھولنے والی ہو تو ضرور اللہ انہیں ایسی ابتلا میں ڈال دیتے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان کے لئے کوئی بھلائی نہیں چاہتے ۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر خرید لیا ہے ۔ پھر وہ کفر کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اس میں جدوجہد کررہے ہیں ۔ اس لئے اب وہ اس بات کے مستحق ہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس غفلت اور خواب خرگوش سے جگائے اور ابتلا میں ڈالے ۔ یہ انعامات الٰہی اور سلطنت وقوت کے غرے میں ڈوبے ہوئے ہی بہتر ہیں ۔ اس لئے لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ……………” ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ “ اہانت آمیز …

Aal-i-Imraan 3:178Listen in Qur'an →
179

مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى ٱلْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۚ وَإِن تُؤْمِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

(لوگو) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور الله تم کوغیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گاالبتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا

یہاں یہ آیت قطعی طور پر فیصلہ کردیتی ہے کہ اللہ کی شان یہ نہیں ہے ‘ اس کی الوہیت کا تقاضا یہ نہیں ہے اور اس کی کائنات میں مروجہ سنت یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں منافقین کو اسی طرح چھپے ہوئے چھوڑدے ۔ حالت یہ ہے کہ منافقین بس دعوائے ایمان کریں ‘ اسلام کا اظہار کریں اور اسلامی صفوں میں چھپے رہیں حالانکہ ان کے دل ایمان کی تروتازگی سے خالی ہوں ‘ اور ان میں اسلام کی روح سرے سے نہ ہو۔ اس امت کو اللہ نے اس لئے برپا کیا ہے کہ وہ اس کائنات میں ایک عظیم کردار ادا کرے ۔ ایک عظیم نظام زندگی کا علم لے کر اٹھے ‘ اس زمین پر ایک منفرد صورت حال پیدا کردے ۔ ایک جدید نظام وجود میں آجائے ۔ اس مشن اور عظیم نصب العین کا تقاضایہ تھا کہ وہ پوری یکسوئی ‘ پوری صفائی اور پوری تمیز کے ساتھ اس نصب العین کو پختہ طریقے سے پکڑے اور یہ تقاضا بھی تھا کہ اس کی صفوں کے اندر کوئی خلل اور کوئی کمزوری نہ ہو ‘ اس کی بنیادوں میں کوئی کمزوری نہ ہو اور مختصر الفاظ میں یوں کہ ان مقاصد کا تقاضا تھا کہ یہ امت اس قدر عظیم ہو جس قدر اس کا یہ نصب العین عظیم ہے ۔ جس نصب العین اور جس ٹارگٹ تک اسے اس کائنات میں پہنچنا ہے ۔ اور آخرت کا بلند مقام و مرتبہ تو بہرحال ان کے لئے اللہ نے تیار کیا ہوا ہے ۔

ان سب باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی صف ہر وقت جاگتی رہے تاکہ اس سے خبیث عناصر نکل جائیں ۔ وہ کارکنوں پر اس قدر دباؤ رکھے کہ جو اینٹ کچی ہو ‘ وہ پہلے دن ہی بیٹھ جائے ۔ اور ان پر ہر وقت روشنی پڑتی رہے تاکہ اندرونی کمزوریاں اور ضمیر کے اندر برے خیالات کی تطہیر ہوتی رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی ان کی صفوں کو صاف کرنے کے لئے ان کی امداد فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ کی شان کے یہ لائق نہ تھا کہ وہ اپنے دوستوں کی صفوں میں ایسے ناپاک لوگوں کو رہنے دے ۔

نیز اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ بھی نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو غائبانہ باتوں کا براہ راست علم دے دے ۔ اس لئے کہ غیب کا علم تو صرف اللہ کے شایان شان ہے ۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے جس پر انہیں پیدا کیا گیا ہے ‘ اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ غیبی اطلاعات کا ادراک کرسکیں ۔ انسانی جسم کی مشینری جو ان کے اندر تخلیق ہوئی ہے وہ اس اسکیم کے مطابق تیار ہی نہیں کی گئی کہ وہ غائبانہ امور کا ادراک کرسکے ۔ الا یہ کہ کوئی خاص مقدار اللہ کسی کو دے دے ۔ اور یہ بھی خصوصی حکمت کے تحت ہوا کرتا ہے یعنی اس قدر جس قدر اس دنیا میں ان کی خلافت فی الارض کے مقاصد کے لئے ضروری ہو۔ اور اس مقصد یعنی انسان کے وظیفہ خلافت فی الارض کے لئے علم غیب کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی اس موجودہ مشینری پر علم غیب کے دروازے کھول دے تو یہ مشینری ختم ہوکر رہ جائے ‘ اس لئے کہ وہ علوم غیب کے اخذ کے لئے سرے سے تیار ہی نہیں ہے ۔ صرف اس قدر غیب کا علم اسے درکار ہوتا ہے جس میں اس کی روح کاملاپ اس کے خالق کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کا وجود ‘ وجود کائنات سے مل جاتا ہے ۔ علم غیب پر اطلاع پانے کا کم سے کم نقصان تو یہ ہوگا وہ ہاتھ پاؤں ہلانا چھوڑدے گا ‘ ہر وقت ان نتائج کے بارے میں سوچتا رہے گا جو واقع ہونے والے ہیں ‘ اور وہ اس زمین میں کسی قسم کی ترقی کے لئے سوچ بھی نہ سکے گا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ بات اللہ کی شایان شان نہ تھی کہ وہ لوگوں کو علم غیب کی اطلاع دے دے اور نہ یہ اس حکمت اور اسکیم کے مطابق تھی جس کے مطابق وہ اس زمین کو چلارہا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ پس اللہ خبیث کو طیب سے کیسے جدا کرتا ہے ؟ اور اس کی سنت اور اس کی شان اس تطہیر کے عمل میں کس طرح کام کرتی ہے ؟ اور کس طرح اسے چھانٹ کر رکھ دیتی ہے ؟ وہ کس طرح غبار اور دھند کو دور کرتا ہے ؟ کس طرح منافقین کو الگ کرکے اسلامی صفوں کو پاک کرتا ہے تاکہ مسلمان اس کرہ ارض پر اپنا کردار ادا کرسکیں جس کے لئے مسلمانوں کو بطور امت برپا کیا گیا ہے ۔ …

Aal-i-Imraan 3:179Listen in Qur'an →
180

وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ هُوَ خَيْرًۭا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّۭ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا۟ بِهِۦ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے

درس 28 ایک نظر میں

یہاں تک معرکہ احد کا بیان ختم ہوجاتا ہے لیکن جماعت مسلمہ اور اس کے اردگرد نواح میں پھیلے ہوئے دشمنان اسلام کے ساتھ معرکہ آرائی ابھی ختم نہ ہوئی تھی ۔ خصوصاً یہودیوں نے مباحثے اور مجادلے شروع کر رکھے تھے ‘ تشکیک اور بےچینی پیدا کرنا ‘ سازشیں اور کینہ پروری اور گھات میں بیٹھ کر وار کرنے کے مواقع تلاش کرنا ۔ اس معرکے کے اردگرد یہ اس سورت کے اکثر مباحث پھیلے ہوئے ہیں اور گھومتے ہیں ۔

رسول اکرم ﷺ نے قبیلہ بنی قینقاع کو مدینہ کے قرب و جوار سے جلاوطن کردیا تھا کیونکہ غزوہ بدر کے بعد وہ سخت بوکھلا گئے تھے اور انہوں نے سازشیں شروع کردی تھیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی تھی اور جو عہد و پیمان ان کے ساتھ ہوئے تھے ان کو وہ کھلے بندوں توڑتے تھے ۔ یہ عہد ان کے ساتھ رسول ﷺ کے مدینہ طیبہ میں ہجرت کرنے کے متصلاً بعد ہوئے تھے ۔ اور اس وقت ہوئے تھے کہ اوس وکذرج کی اکثریت اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوگئی تھی ۔ لیکن مدینہ کے اردگرد بنی النضیر ‘ بنوقریظہ ابھی موجود تھے ۔ اس کے علاوہ خیبر کے یہودی اور ان کے علاوہ جزیرۃ العرب کے دوسرے یہودی بھی موجود تھے ۔ یہ سب لوگ باہم مراسلت کرتے تھے ‘ فوجیں جمع کررہے تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ رابطے قائم کررہے تھے اور مدینہ اور مدینہ کے اردگرد کے کفار کے ساتھ اور مکہ کے مشرکین کے ساتھ کے روابط قائم تھے ۔ اور مسلمانوں کے خلاف انہوں نے نہ ختم ہونے والی سازشوں کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔

قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (12) قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لأولِي الأبْصَارِ (13)

” تمہارے لئے ان دوگروہوں میں نشان عبرت تھا ‘ جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبردآزما ہوئے ۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند ہے ۔ (مگر نتیجے نے ثابت کردیا کہ ) اللہ اپنی فتح ونصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔ دیدہ بینا رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ۔ “

جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو اللہ کی جانب سے آیا ہوایہ ڈراوا پہنچایا ‘ جو اس لئے نازل ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تھیں وہ تمام سرگرمیاں جو وہ ان دنوں دکھا رہے تھے اور جس غصے کا اظہار ان کی جانب سے ہورہا ہے اور بدر کے بعد تو وہ مسلسل سازشوں میں لگے ہوئے تھے تو انہوں نے اس ڈراوے کو بہت ہی برے اور حقارت آمیز طریقے سے رد کردیا ۔ انہوں نے کہا :” محمد ! اپنے آپ کو غرور میں نہ ڈالو ‘ تم نے بیشک قریش کے بعض لوگوں کو قتل کردیا ۔ یہ لوگ ناتجربہ کار تھے ۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر تم نے کبھی ہم سے جنگ لڑی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم لوگ کچھ ہیں ۔ یقیناً تم ہم جیسے لوگ نہ پاؤگے ۔ “ اس جواب کے بعد وہ سازشوں میں شریک ہوگئے ۔ اس سورت میں ان کی سازشوں کے کچھ رنگ نقل کئے گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے جو عہد و پیمان کیا تھا ‘ اسے انہوں نے توڑدیا ۔ رسول ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا ۔ چناچہ وہ رسول ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔ رسول ﷺ نے انہیں مدینہ سے جلاوطن کرکے ” اذرعات “ بھیج دیا ۔ یہودیوں کے مدینہ میں صرف دو گروہ رہ گئے بنوقریظہ اور بنو النضیر جو عہد کی پابندی بظاہر کررہے تھے لیکن خفیہ طور پر یہ بھی سازشوں ‘ مکاریوں ‘ دھوکہ بازی ‘ فتنہ بازی اور افواہیں پھیلانے میں مصروف تھے ۔ غرض یہ لوگ وہ تمام کام کرنے لگے جو یہود اپنی پوری تاریخ …

Aal-i-Imraan 3:180Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.