وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
اس کے بعد بات نبوت اور خصائص نبوت کی طرف چلی جاتی ہے تاکہ اس موضوع کے بعد امانت ودیانت کے بارے میں کچھ ہدایات دی جائیں ‘ مثلاً یہ کہ مال غنیمت میں کسی قسم کی بددیانتی اور چوری سخت معیوب چیز ہے ۔ اور یہ کہ جو شخص بھی اجتماعی امانتوں میں بددیانتی کرے گا وہ اس کا حساب دے گا۔ اور ہر شخص کا حق اسے پورا پورا دیا جائے گا۔
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ
” کسی نبی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرجائے ……اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورابدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “
احد کی پہاڑی اور گھاٹی سے تیراندازوں نے حکم عدولی کرتے ہوئے اپنی جگہ اس لئے چھوڑ دی تھی کہ انہیں یہ خوف دامن گیر ہوگیا تھا کہ شاید بعد میں رسول اللہ ﷺ انہیں کوئی حصہ نہ دیں۔ اس طرح جنگ بدر کے اموال غنیمت میں بعض منافقین نے یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ غنیمت میں سے کچھ چیزیں غائب ہوگئی ہیں ۔ اور اس سلسلے میں انہیں یہ حیا بھی نہ آئی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا نام لینے سے تو احتراز کریں۔
اس لئے اس آیت میں یہ حکم اور قاطع فیصلہ آگیا کہ حضرت محمد کیا کوئی نبی بھی ہرگز یہ نہیں کرسکتا کہ وہ اموال غنیمت میں سے کوئی چیز ادہر ادہر کردے۔ یعنی مال غنیمت میں سے کوئی چیز علیحدہ رکھ لیں اور یہ کہ وہ بعض فوجیوں کو زیادہ حصہ دیں یا غرض وہ کسی طرح کی کوئی خیانت کریں۔ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ……………” نبی کا یہ کام نہیں کہ وہ مال غنیمت میں کوئی خیانت کرے۔ “
یہ اس کی شان کے خلاف ہے ۔ وہ اس کے مزاج اور طبیعت نبوت کے خلاف ہے۔ وہ اس کے اخلاق کے خلاف ہے کہ ایسا کرے۔ گویا ذات نبوت سے اس فعل کا وقوع ہی ممکن نہیں ہے ۔ یہاں یہ نفی حلت اور حرمت کی نفی نہیں ہے۔ اس لئے کہ نبی کی امانت دار ‘ منصف مزاج اور پاک طبیعت اور مزاج ہی کے خلاف ہے کہ اس سے اس قسم کی کوئی بات وقوع پذیر ہو۔ بعض قرأتوں لفظ یَغُلَّ ہے۔ یعنی مجہول کا فیصلہ آیا ہے ۔ یعنی یہ بات جائز نہیں کہ نبی کے ساتھ خیانت کا برتاؤ کیا جائے ۔ اور اس کے متبعین اس سے کوئی چیز چھپائیں ۔ اس صورت میں یہاں اس بات کی ممانعت ہوگی کہ رسول ﷺ کے ساتھ اس کے پیروکار خیانت نہ کریں اور یہ قرأت آیت کے آخری حصے کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ حسن بصری (رح) کی تلاوت ایسی ہی تھی ۔
اس کے بعد ان لوگوں کو سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ جس نے خیانت کی مال غنیمت میں یا اور حکومتی اموال میں تو ان کا انجام یہ ہوگا۔
مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ……………” اور جو خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “
امام احمد نے ‘ سفیان ‘ زہری ‘ عروہ ‘ ابواحمد ساعدی کی روایت نقل کی ہے ۔ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص ابن لتبیہ نامی کو زکوٰۃ کا تحصلیدار مقرر فرمایا۔ وہ جب واپس آیا تو کہا یہ مال آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے ۔ اس پر رسول ﷺ ممبرپر کھڑے ہوئے اور یہ تقریر فرمائی :” ان تحصیلداروں کا کیا حال ہے کہ ہم انہیں کام پر لگاتے ہیں اور واپس آکر وہ کہتا ہے کہ یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا اور انتطار کرتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا یا نہیں۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو شخص بھی اس مال سے کوئی چیز لے گا ‘ قیامت کے دن وہ اس کے کاندھے پر ہوگی ۔ اونٹ ہوگا اور وہ آواز دے رہا ہوگا ‘ گائے ہوگی اور وہ آواز دے رہی ہوگی اور بکری ہوگی تو بھی وہ ممیا رہی ہوگی ۔ (بخاری مسلم)
اور امام احمد نے اپنی سند کے ذریعہ حضرت …