Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 141–150 of 200

141

وَلِيُمَحِّصَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَيَمْحَقَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے

اس کے بعد اب مضمون اس طرف جاتا ہے کہاں حادثات فاجعہ کے پس پشت کیا حکمت پوشیدہ ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ذریعہ امت کی تربیت مقصود تھی ‘ اسے پاک کرکے اس کے اعلیٰ کردار کے لئے تیار کرنا مقصود تھا ‘ تاکہ وہ اللہ کی تقدیر اور ہتھیار بن کر کافروں کو نیست ونابود کرے اور مکذبین کو سزا دینے کے لئے دست قدرت کے لئے پردہ بن جائے ۔ وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ……………” اور وہ آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ “ تمحیص علیحدہ اور ممتاز کرنے کے بعد کا درجہ ہے ۔ اور یہ وہ کاروائی ہے جو انسان کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے ۔ ضمیر کے اندر اس کی تکمیل ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہوتا ہے جس سے شخصیت کے خفیہ گوشے کھل کر سامنے آجائیں ۔ ان خفیہ گوشوں پر لائٹ فوکس ہوجاتی ہے تاکہ ان گوشوں سے میل ‘ کھوٹ اور ملاوٹ دور ہوجائے ۔ وہ واضح اور صاف نظر آجائیں اور یہ شخصیت سچائی پر خوبی کے ساتھ جم جائے ۔

بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنی شخصیت کے بارے میں صحیح جائزہ نہیں لے سکتا۔ وہ اپنی خفی کمزوریوں اور اپنے نفس کے نشیب و فراز سے واقف نہیں ہوتا ۔ اور یوں اسے نہ اپنی قوت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے اور نہ اپنی کمزوریوں کا صحیح پتہ ہوتا ہے۔ اس کی بعض ایسی خفیہ کمزوریاں ہوتی ہیں جن کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ان کو ابھارا جائے۔

چھانٹی کے اس عمل کا انتظام اللہ جل شانہ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا ۔ اور یہ چھانٹی اسی طرح کی جارہی تھی کہ مسلمانوں کو زندگی کے نشیب و فراز سے دوچار کیا جائے ‘ انہیں فتح بھی ہو اور شکست بھی ہو ‘ سختی بھی آئے اور اچھے حالات بھی درپیش ہوں۔ انہیں خوب رگڑا دیا جائے ۔ اور اس تلخ رگڑ کے بعد اہل ایمان اپنے بارے میں وہ کچھ جان لیں جو اس سے قبل وہ جانتے تھے ۔ حادثات ‘ تجربے اور مختلف عملی مواقف سے دوچار کرکے ان کی یہ چھانٹی ہوئی۔

بعض اوقات انسان اس غرے میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ قوی وشجاع ہے اور حرص وآزار کے پنجے سے آزاد ہے اور جب وہ عملی تجربات کی کسوٹی پر چڑھتا ہے اور جب وہ واقعی حالات سے دوچار ہوتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی شخصیت میں تو ابھی بڑی بڑی کمزوریاں ہیں ‘ جو ابھی تک دور نہیں ہوسکیں ۔ اور یہ کہ وہ ابھی تک مشکلات کے اس قدر دباؤ کے برداشت کرنے کی قوت نہیں رکھتا اس لئے یہ بات خود اس کے مفاد میں ہوتی ہے کہ اسے قبل از وقت اپنی کمزوریوں کا علم ہوجائے تاکہ وہ اپنی شخصیت کو ازسرنو ڈھالنے کی کوشش کرے ۔ اور وہ ان مشکلات کے برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلے جو اس کی دعوت کی راہ میں لازماً درپیش آنے والی ہیں۔ اور اس نظریہ حیات کی وجہ سے وہ لابدی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ وہ اس پہلی جماعت اسلامی کی اچھی طرح تربیت کردے ۔ جسے اس نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا تھا ۔ اس اسکیم کے مطابق اس جماعت نے اس کرہ ارض پر ایک عظیم کا سر انجام دینا تھا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اسی طرح چھاٹا اور احد میں اسے ایسے حالات سے دوچار کیا جو غیر متوقع تھے تاکہ یہ جماعت اپنی سطح ذرابلند کرے اور اپنے آپ کو اس رول کے لئے تیار کرے جو اللہ نے طے کردیا تھا کہ اس نے ادا کرنا ہے اور وہ یہ تھا کہوَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ……………” اور تاکہ وہ کافروں کی سرکوبی کرے ۔ “ اور یہ اس لئے کہ حق کے ذریعہ ‘ باطل کی سرکوبی کرنا سنت الٰہیہ میں سے ایک سنت ہے ۔ لیکن یہ سرکوبی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب حق ظاہر ہوجائے اور سخت تربیت اور چھانٹی کے ذریعہ اس کی کمزوریاں دور کردی جائیں ۔

Aal-i-Imraan 3:141Listen in Qur'an →
142

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ ٱلصَّٰبِرِينَ

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

اب اگلی حکیمانہ بات بصورت استفہام انکاری آتی ہے۔ دعوت اسلامی کے بارے میں مسلمانوں کی سوچ کو درست کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں سنت الٰہی کیا ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ فتح وشکست ‘ اعمال اور انکے نتائج کے بارے میں اللہ کا ایک اٹل قانون ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جنت کی راہ میں تو کانٹے بھی بچھے ہوئے ہوتے ہیں ‘ مشکلات بھی ہوتی ہیں ‘ اور اس راہ میں مشکلات کو صبر وثبات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ محض خالی خولی تمناؤں اور نیک خواہشات کے ذریعہ یہ گھاٹی عبور نہیں کی جاسکتی ۔ تمہیں اس راہ میں مشکلات انگیز کرنی ہوں گی اور اپنی صفوں کو کمزور لوگوں سے صاف کرنا ہوگا۔

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (142) وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ

” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں وہ کون لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں ۔ تم موت کی تمنائیں کررہے تھے مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ “

صیغہ استفہام انکاری اس مقام پر استعمال ہوتا ہے جہاں مخاطب کو ایک نہایت ہی خطرناک فکری غلطی پر متنبہ کرنا مطلوب ہوتا ہے ۔ یہاں فکری غلطی یہ تھی کہ لوگوں نے سمجھا کہ بس زبان سے اس قسم کا اعلان ہی کافی ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں اور میں موت کے لئے تیار ہوں ‘ اسلام کی راہ میں مرمٹنے کے لئے۔ صرف اس اعلان ہی سے گویا انہوں نے دعوت اسلامی کی راہ کی تمام مشکلات برداشت کرلیں اور اب وہ اللہ کی رضامندی اور جنت دونوں کے مستحق ہوگئے ہیں۔

یہاں انہیں سختی کے ساتھ بتایا گیا کہ تمہاری یہ سوچ درست نہیں ہے ۔ تمہیں مشکلات کے واقعی تجربے سے گزرنا ہوگا ‘ عملی امتحان ہوگا ، جہاد میں شرکت کرنی ہوگی اور مصائب کو گلے لگانا ہوگا۔ اور اس کے بعد یہ کہ ان مشکلات کی حالت میں جزع وفزع نہیں بلکہ صبر کرنا ہوگا اور ان کو برداشت کرنا ہوگا۔

یہاں اس آیت کے بعض الفاظ چونکادینے والے ہیں وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ …………… ” حالانکہ ابھی یہ تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے ہیں وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ……………” اور کون ہیں جو اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔ “

اس لئے اس راہ میں صرف جہاد کرلینا ہی کافی نہیں ہے ‘ بلکہ مشکلات راہ پر صبر کرنا بھی ضروری ہے ۔ یہ مشکلات تو مسلسل ہوتی ہیں ‘ مختلف نوعیت کی ہوا کرتی ہیں اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوجاتیں جب میدان جنگ میں جہاد ختم ہوجاتا ہے ‘ بلکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ میدان جنگ میں مشکلات جہاد بہت ہی کم ہوتی ہیں بمقابلہ اس کے جو جہاد کے بعد آتی ہیں اور جن کی خاطر صبر کا تقاضا کیا گیا ہے اور جن میں ایمان کی آزمائش ہوتی ہے ۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں نہ ختم ہونے والی مشکلات ہوتی ہیں ‘ افق ایمان پر مسلسل جمے رہنا ‘ شعور اور عمل دونوں میں ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہنا ‘ زندگی کی راہوں میں انسانی کمزوریوں پر بذریعہ صبر قابو پاتے رہنا ‘ روز مرہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے ساتھ یومیہ معاملات میں اور اپنے نفس کے ساتھ تمام معاملات میں اسلام پر جمے رہنا اور خصوصاً ان مقامات پر صبروثبات کا مظاہرہ کرنا جن میں باطل قوتوں کو بظاہر کامیابی حاصل ہوتی ہے اور وہ یوں نظر آتی ہیں گویا بس فتح اب ان کے لئے مقدر ہے ۔ پھر بعض اوقات جدوجہد طویل ہوتی ہے اور راستہ طویل اور کٹھن نظرآتا ہے اور مشکلات سے پر نظر آتا ہے ‘ ایسے حالات میں صبر کرتے رہنا ‘ جہاد اور مشکلات اور جنگاہ …

Aal-i-Imraan 3:142Listen in Qur'an →
143

وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ ٱلْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ……………” تم موت کی تمنائیں کررہے تھے ‘ مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ “

یہاں قرآن مجید ان کو ایک بار پھر موت کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے ‘ جس کی وہ تمنائیں کیا کرتے تھے ۔ اور پھر جس کا معائنہ وہ معرکہ احد کے میدان میں کرچکے تھے اور اس منظر کے سامنے انہیں اس لئے کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ ذرا ان حقائق کے ساتھ جو عملی میدان میں درپیش آئے ہیں ‘ ان الفاظ وکلمات کا مقابلہ کریں جو ان کی زبان پر ہوتے ہیں اور ان تمناؤں کا موازنہ کریں جو ان کے دلوں میں ہوتی ہیں تاکہ وہ انہیں سکھائے کہ وہ ہر اس کلمے اور لفظ کا جائزہ لیں جو ان کی زبانوں سے نکلتا ہے اور یہ دیکھیں کہ ان کلمات کے پیچھے مفہومات کا کس قدر سرمایہ موجود ہے اور یہ جائزہ وہ ان حقائق کی روشنی میں لیں جو معرکہ احد کے اندر پیش آئے ۔ اس طرح انہیں معلوم ہوگا کہ ان کلمات کی قدر و قیمت کیا ہے ‘ جو وہ اپنے منہ سے ادا کرتے ہیں اور ان تمناؤں کی حیثیت کیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں اور ان بھاری حقائق کے مقابلے میں ان وعدوں کا کیا مقام ہے جو انہوں نے کئے تھے ۔ پھر انہیں یہاں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ صرف ہوا میں تحلیل ہونے والے الفاظ یا دل میں ابھرنے والی تمنائیں ہیں انہیں جنت میں داخل نہیں کرسکتیں ‘ بلکہ جب جنت میں وہ تب داخل ہوسکیں گے جب وہ ان کلمات کو حقیقت کا جامہ پہنائیں اور ان تمناؤں کو میدان عمل میں لائیں تاکہ وہ حقیقی جہاد کا روپ دھاریں اور اس راہ کی مشکلات میں وہ صبر کرتے ہوئے نظر آئیں اور اللہ کی راہ میں ان حقائق کو لوگوں کی واقعی اور عملی دنیا میں دیکھ لیں۔

اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کام کوئی مشکل نہ تھا کہ وہ مومنین کو مشکلات میں ڈالے بغیر اور تکالیف دئیے بغیر ہی پہلے ہی دن اپنے نبی ‘ اپنے اس پیغام ہدایت اور اپنے اس تجویز کردہ نظام حیات کو کامیابی سے ہمکنار کردیتا۔ وہ اس بات پر قادر تھا کہ وہ فرشتے اتارتا اور وہ ان کے ساتھ لڑتے یا وہ اکیلے ہی مشرکین کو تباہ کردیتے ‘ جس طرح ان فرشتوں نے قوم عاد ‘ قوم ثمود اور قوم لوط (علیہم السلام) کو تباہ کیا تھا۔

لیکن جو اہداف مقرر ہوئے تھے ‘ وہ صرف فتح ونصرت نہ تھے ۔ اہداف میں یہ امر بھی تھا کہ جماعت مسلمہ کی تربیت بھی کی جائے ‘ اس لئے کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینا تھا۔ اس وقت انسانیت ضعیف ونحیف تھی ‘ خواہشات نفسانی اور میلانات جسمانی کی غلام تھی ‘ اور وہ عملاً جاہلیت اور فکراً انحراف کا شکار تھی اور اس مقصد کے لئے ایسی قیادت درکار تھی جو ذہین ہو ‘ اور وہ قائدین سے اعلیٰ صلاحیتوں کا تقاضا کرتی ہو ‘ اور ان تقاضوں میں سب سے پہلا تقاضا یہ ہو کہ وہ حق اور صداقت پر پختگی سے جمنے والے ہوں۔ وہ مشکلات پر صبر کرنے والے ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ ان کی صفوں میں کہاں کمزوری ہے اور کہاں قوت ہے ۔ اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ انسانی نفس کہاں ٹھوکر کھاتا ہے ‘ کہاں راہ راست سے انحراف کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ کہ پھر ان سب کمزوریوں کا علاج کیا ہے ؟ پھر اگر اچھے حالات اور کامرانی ہو تو پھر بھی صبر کرنے والی ہو اور شدیدحالات ہوں تو پھر بھی صبر ہو ‘ اور حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے بعد ناکامی دیکھنا اور اس پر صبر کرنا ان حالات میں بہت ہی کڑوی اور ناخوشگوار صورت حال تھی ۔

جماعت مسلمہ کو عالمی قیادت کے منصب پر فائز کرنے کے احکام دینے سے قبل ‘ اللہ تعالیٰ نے جماعت مسلمہ کو ایسی سخت تربیت سے گزارا۔ یہ اس لئے کہ وہ اس عظیم اور خوفناک کام کرنے کے لئے تیار ہوجائے ‘ جو اس نے کرہ ارض پر سرانجام دینا تھا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی مشیئت یہ تھی کہ وہ اس عظیم مشن پر اس انسان کو …

Aal-i-Imraan 3:143Listen in Qur'an →
144

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ ۚ أَفَإِي۟ن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ ٱنقَلَبْتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا ۗ وَسَيَجْزِى ٱللَّهُ ٱلشَّٰكِرِينَ

اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا

اس ٹکڑے کی پہلی آیت ایک متعین واقعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا۔ جب تیراندازوں نے پہاڑ پر اپنا متعین مقام چھوڑدیا ‘ اور مشرکین وہاں سے ان پر چڑھ دوڑے ‘ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ‘ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور رسول ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ کے چہرے پر زخم آئے اور چہرہ مبارک سے خون بہنے لگا ‘ فریقین باہم گتھم گتھا ہوگئے ‘ مسلمان منتشر ہوگئے ‘ کسی کو کسی کا پتہ نہ رہا۔ ان حالات میں کسی پکارنے والے نے یہ آواز دے دی ۔ لوگو ! محمد ﷺ قتل ہوگئے۔ اس چیخ کا مسلمانوں پر بہت ہی برا اثر ہوا۔ ان میں سے بہت سے لوٹ کر مدینہ آگئے ۔ پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے ‘ شکست کھاگئے اور مایوس ہوکر میدان جنگ کو چھوڑ گئے ۔ رسول ﷺ کے پاس چند افراد رہ گئے اور ان حالات میں آپ ﷺ ان چند افراد کے ساتھ جم گئے۔ اور مسلمانوں کو یہ آواز دینے لگے کہ واپس آؤ ‘ چناچہ وہ پھر سے مجتمع ہوئے ۔ ان کے دل تھم گئے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک محسوس انداز میں ان پر اونگھ طاری کرکے انہیں طمانیت قلب اور امن و سکون عطا کردیا جب کہ تفصیلات بعد میں آرہی ہیں۔

یہ واقعہ جس نے ان لوگوں کو مکمل طور پر مدہوش کردیا تھا ‘ قرآن کریم اسے نکتہ توجہ بناتا ہے اور اس مناسبت سے وہ یہاں اسلامی تصور حیات کے اہم حقائق کو سامنے لاتا ہے۔ اس کو موضوع بناکر یہاں حقیقت موت وحیات کے بارے میں اہم اشارے دئیے جاتے ہیں اور تاریخ ایمانی اور حالات قافلہ ایمانی پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ

” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور بھی رسول گزرچکے ہیں ‘ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے یاد رکھو ‘ جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “

بیشک محمد ﷺ صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں ‘ یہ سب رسل فوت ہوئے ہیں اور محمد ﷺ بھی اس طرح فوت ہوں گے جس طرح وہ رسول فوت ہوئے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جب اس معرکہ میں یہ حقیقت (اگرچہ جھوٹی افواہ کے طور پر) تمہارے سامنے آئی تو کیوں تمہاری نظروں سے اوجھل رہی ۔ یہ نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے۔

محمد ﷺ اللہ کی طرف سے پیغام لانے والے ہیں ۔ وہ اس لئے آئے ہیں کہ اللہ کا پیغام پہنچادیں ۔ اللہ اپنی جگہ زندہ لایموت ہے ۔ اس کا پیغام زندہ جاوید ہے ۔ اس لئے یہ کس طرح مناسب ہوگا کہ اگر پیغام لانے والے فوت ہوجائیں یا قتل ہوجائیں تو تم اپنے نظریہ حیات کو چھوڑ کر الٹے پاؤں پھر جاؤ۔ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جو اس معرکہ کی افراتفری میں ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی حالانکہ مناسب تھا کہ یہ اہل ایمان کی نظروں سے اوجھل ہوجائے کیونکہ یہ نہایت ہی سیدھی سادھی بات تھی۔

انسان فانی ہے اور نظریہ حیات باقی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی ایک علیحدہ حقیقت ہے جو ان لوگوں سے بالکل مستقل حقیقت رکھتا ہے جو اس کے حاملین ہیں اور جو اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ‘ وہ رسول ہوں یا رسولوں کے بعد امت کے داعی اور مبلغین ہوں ۔ وہ مسلمان جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور یہ محبت ایسی ہے جس کی پوری تاریخ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ‘ اس کا فرض ہے کہ وہ ذات رسول اور اس نظریہ حیات کے اندر فرق و امتیاز کرے جسے اس ذات نے لوگوں تک پھیلایا۔ اس لئے کہ جو نظریہ حیات آپ ﷺ نے دیا وہ حَیٌّ لِایَمُوتُ…………ہے۔ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے جو حَیٌّ لَایَمُوتُ…………ہے۔ یہ فرق کرنا ان کا فرض اس لئے بنتا ہے کہ وہ محب رسول ہیں ۔ یہ لوگ نہیں چاہتے تھے …

Aal-i-Imraan 3:144Listen in Qur'an →
145

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ كِتَٰبًۭا مُّؤَجَّلًۭا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلْءَاخِرَةِ نُؤْتِهِۦ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِى ٱلشَّٰكِرِينَ

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے

اس کے بعد نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے فطری خوف کو ایک ٹچ دیتے ہیں یہ ایک نہایت ہی الہامی مس ہے ۔ وہ یکدم اس خوف کو دور کردیتا ہے اور موت وحیات کے بارے میں ایک اٹل حقیقت بیان کردی جاتی ہے ۔ نیز موت کے بعد لوگوں کے ساتھ اللہ کا سلوک اور جزاء وسزا کا ذکر کردیا جاتا ہے۔

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ

” کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے ۔ جو شخص دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دے دیں گے اور جو ثواب آخرت کے ارادے سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطاکریں گے۔ “

ہر شخص کی موت کے لئے ایک لکھا ہوا وقت مقرر ہے اور کوئی شخص اس لکھے ہوئے وقت تک زندگی گزارنے سے پہلے ہرگز مر نہیں سکتا ۔ اس لئے ڈر ‘ خوف ‘ ہراس اور جزع وفزع ایک پل بھر زندگی کی میعاد کو آگے نہیں بڑھاسکتا ۔ شجاعت ‘ ثابت قدمی ‘ اقدام اور وفاداری سے عمر کم نہیں ہوتی ۔ ناس ہو بزدلی کا ! بزدلوں کی آنکھ نیند کو تر سے ! جس کے لئے جو دن مقرر ہے ‘ اس میں نہ ایک دن کی کمی ہو سکتی ہے اور نہ اضافہ !

اس حقیقت کے بیان سے نفس انسانی میں تقدیر اور اجل کی حقیقت بیٹھ جاتی ہے ۔ اس لئے نفس انسانی اس کے بارے میں سوچنا چھوڑدیتا ہے ۔ اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں کرتا ۔ اس کی سوچ تمام تر ادائے فرض ‘ وفائے عہد اور ایمانی تقاضوں کو پورا کرنے میں صرف ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ سے وہ حرص اور کنجوسی کے بندھنوں سے بھی آزاد ہوجاتا ہے اور خوف اور جزع وفزع پر بھی قابو پالیتا ہے ۔ اب وہ راہ حق کی تمام مشکلات کو انگیز کرتے ہوئے اور راہ حق کے فرائض پورے کرتے ہوئے بڑے صبر و سکون کے ساتھ اور توکل علی اللہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے ۔ کیونکہ اب کی اس نئی سوچ کے مطابق ‘ موت کا وقت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور لکھا ہوا ہے ۔

ذرا ایک قدم اور آگے جائیں ۔ اس بات کا فیصلہ ہوگیا کہ عمر لکھی ہوئی ہے اور موت کا وقت متعین اور مقرر ہے تو بتایا جاتا ہے کہ اصل سوچ یہ ہے کہ تم اپنی کمائی کو دیکھو کہ اس وقت ‘ آنے والے وقت ‘ کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور کس مزید کمائی کا ارادہ ہے۔ اس نفس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم اپنی کمائی کو دیکھو کہ اس وقت ‘ آنے والے وقت ‘ کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور کس مزید کمائی کا ارادہ ہے ۔ اس نفس سے پوچھا جاتا ہے کہ اے نفس ! کیا تم ایمان کے تقاضوں کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہو اور کامیابی اور ناکامی کو اسی دنیا کے اندر محدود اور بند کردینا چاہتے ہو اور صرف اس دنیا کے لئے زندہ رہنا چاہتے ہو یا کہ تمہاری نظریں افق اعلیٰ پر بھی ہیں ؟ کیا اس محدود دنیا کے مقابلے میں بہت بڑی دنیا کی فکر بھی تمہیں ہے ۔ اس دنیا کی محدود عمر کے غم اور اہتمام کے ساتھ ساتھ کیا آخرت کا ارادہ بھی ہے ؟

وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا

” جو شخص ثواب دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں دے دیں گے اور جو شخص آخرت کے ارادے سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا۔ “

اور ان دونوں زندگیوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔ اور ان دونوں ارادوں میں بہت بڑا امتیاز ہے جبکہ دونوں صورتوں میں موت کا وقت وہی ہے جو مقرر ہے۔ فرق یہ ہے کہ جو شخص صرف اس دنیا کے لئے زندہ ہے اور صرف اس دنیا کا عوضانہ چاہتا ہے اس کی زندگی اور کیڑوں مکوڑوں اور ڈھورڈنگروں کی زندگیوں میں کیا فرق ہے ۔ دونوں کا وقت مقرر ہے ۔ اور جس شخص کی نظریں دار آخرت پر لگی ہوئی ہیں ‘ وہ انسانوں جیسی شریفانہ اور کریمانہ زندگی بسر کرتا ہے ‘ اسے اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے ۔ وہ اس کرہ ارض پر …

Aal-i-Imraan 3:145Listen in Qur'an →
146

وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّۢ قَٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌۭ فَمَا وَهَنُوا۟ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا۟ وَمَا ٱسْتَكَانُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اس کے بعد قرآن کریم بطور مثال زمانہ ماقبل کے اہل ایمان کی مثال بیان کرتا ہے۔ اس لئے کہ انسانیت کی طویل تاریخ میں ‘ زندگی کی گزرگاہوں میں قافلہ ایمان ہمیشہ رواں دواں رہا ہے ۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جو اپنے وعدے ایمان پر سچے رہے ۔ انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ داد شجاعت دی ۔ جب وہ مصیبت میں مبتلا ہوئے تو جزع وفزع نہیں کی ۔ اور اس مقام جہاد میں انہوں نے ایمانی آداب کی سخت پاسداری کی ۔ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے رہے ۔ اور ان کے منہ سے اف تک نہ سنی گئی صرف اللہ سے استغفار کرتے رہے وہ اپنی معمولی غلطیوں کو بھی برا قصور تصور کرتے اور اسے ” اسراف “ سے تعبیر کرتے ۔ وہ اپنے رب سے صرف صبر وثبات کے ذریعہ کفار کے مقابلے میں نصرت طلب کرتے ۔ اور ان کا یہی رویہ تھا جس کی وجہ سے وہ ثواب دارین حاصل کرپائے ۔ یہ ثواب انہیں اس لئے دیا گیا کہ وہ نہایت ہی عاجزی سے دست بدعا ہوتے اور جہاد کے مواقف پر احسان اور حسن نیت سے قائم رہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے مثال بن گئے۔

احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کا جو صدمہ ہوا ‘ وہ اس قسم کا پہلا صدمہ تھا ۔ اس سے قبل بدر میں اللہ نے انہیں فتح مندی عطا کی تھی ‘ حالانکہ وہ مخالفین سے کئی گنا کم تھے ۔ اس فتح کے بعد ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ گویا یہ فتح شاید ان کے حق میں ایک تکوینی سنت الٰہی ہے ‘ لیکن احد کا تجربہ ان کے لئے اچانک تھا۔ وہ غیر متوقع ابتلا سے دوچار ہوگئے۔

یہی وجہ ہے کہ واقعہ احد پر قرآن کریم نے طویل ترین تبصرہ کیا ہے۔ اس میں کبھی تو اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور کبھی ان پر سخت نکیر کی گئی ہے ‘ کبھی ان کی بات کی تائید کی گئی اور کسی جگہ انہیں تمثیلات سے سمجھایا گیا ہے ۔ یوں ان کے نفوس کی تربیت کی گئ ہے ‘ ان کے تصورحیات کی تصحیح کی گئی ہے اور انہیں آنے والے معرکوں کے لئے تیار کیا گیا ہے ‘ اس لئے کہ ان کی راہ طویل تھی ‘ اور ان کے سامنے مشکل مراحل تھے ‘ بھاری فرائض ان پر عائد ہوتے تھے اور وہ جس عظیم انقلاب کے نمائندے تھے وہ ایک عظیم الشان امر تھا۔

یہاں ان کی جو مثال پیش کی گئی ہے وہ ایک عام مثال ہے ۔ اس مثال میں کسی ایک نبی کی بات نہیں کی گئی ۔ کسی ایک قوم کی بات بھی نہیں کی گئی ‘ بلکہ قافہ ایمان کی بات کی گئی ہے ۔ آداب مؤمنین کی بات کی گئی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ابتلا ایک ایسا مرحلہ ہے جو ہر دعوت اور ہر دین میں پیش آتا رہتا ہے ۔ تمام انبیاء کے متبعین تمہارے اسلاف ہیں ۔ اس لئے قافلہ ایمان دراصل ایک ہے اور ایک ہی تسلسل ہے ۔ یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ نظریہ ٔ حیات ایک ہی ہے اور یہ سب کے سب ایک ہی ایمانی فوج کے رجمنٹ ہیں۔

وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ

” اس سے پہلے کتنے ہی نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ پرستوں نے جنگ کی ۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ‘ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اور نہ وہ باطل کے آگے سرنگوں ہوئے۔ “

کتنے ہی نبی گزرچکے ہیں جن کے ساتھ اسلامی جماعتیں لڑچ کی ہیں ۔ انہوں نے توکمزوری نہیں دکھائی ۔ ان پر جو مشکلات پڑیں ‘ جو مصائب وشدائد پیش آئے ‘ وہ جس درد والم میں مبتلا ہوئے وہ تم سے کچھ کم نہ تھا لیکن انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ۔ انہوں نے اس جدوجہد کا سلسلہ ختم نہیں کردیا ۔ نہ وہ ان مشکلات کے سامنے جھکے اور نہ دشمنوں کے سامنے جھکے ۔ مومنین کی شان تو ایسی ہوتی ہے ‘ اس لئے کہ وہ ایمان اور نظریہ حیات کے لئے جدوجہد کررہے ہوتے ہیں۔ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ …………… ” ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے ۔ “ جن کے نفوس ضعف نہیں دکھاتے ‘ ان کی قوتیں مضحمل نہیں ہوتیں ‘ ان کے عزائم نرم نہیں پڑتے …

Aal-i-Imraan 3:146Listen in Qur'an →
147

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِىٓ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (147)

” ان کی دعا بس یہ تھی کہ ” اے ہمارے رب ! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما ‘ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو تجاوز ہوگیا ہے ‘ اسے معاف کردے ‘ ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “

ان کا سوال کسی دولت ونعمت کے لئے نہ تھا ‘ بلکہ انہوں نے اجروثواب وجزا کا مطالبہ بھی نہیں کیا نہ انہوں نے ثواب دنیا کا مطالبہ کیا اور نہ ہی ثواب آخرت کا ۔ وہ تو جناب باری میں بڑے ادب سے کھڑے تھے ۔ وہ ذات باری کی طرف متوجہ تھے ‘ حالانکہ وہ حالت قتال میں تھے ‘ انہوں نے اس حال میں بھی صرف اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کی اور صرف ثابت قدمی کی دعا کی ۔ کفار کے مقابلے میں کامیابی کی دعا کی ۔ یہاں تک کہ وہ یہ نصرت و کامرانی بھی اپنے لئے طلب نہیں کرتے ۔ وہ اس میں بھی کفر کی شکست اور کفار کے لئے مناسب سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ہے جناب باری تعالیٰ کی درگاہ میں احترام وادب جس کے وہ لائق ہے اور جو اہل ایمان کا شیوہ ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:147Listen in Qur'an →
148

فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ ٱلْءَاخِرَةِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

یہ مثال کہ اہل ایمان اپنے لئے کچھ نہیں مانگتے ۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ سب کچھ دے دیا ۔ انہیں وہ کچھ دے دیا جس کی طالب دنیا کبھی تمنا کرسکتا ہے ۔ نیز انہیں وہ سب کچھ بھی دے دیا جس کی تمنا کوئی طالب آخرت کرسکتا ہے ۔ فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الآخِرَةِ …………… ” آخر کار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر آخرت کا ثواب بھی دیا۔ “

اب اللہ تعالیٰ شہادت دیتے ہیں کہ یہ لوگ محسنین میں سے تھے ‘ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں بہترین ادب کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے بہترین مظاہرہ دوران جہاد کیا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اعلان کردیا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جو ہر قسم کے ثواب سے بھی زیادہ قیمتی ہے ۔ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ……………” اللہ کو ایسے ہی نیک لوگ پسند ہیں ۔ “

اس انداز میں پیراگراف ختم ہوتا ہے ‘ جس میں اسلامی تصور حیات کے نہایت ہی اساسی حقائق کو پیش کیا گیا ہے ‘ جن کی وجہ سے پہلی اسلامی جماعت کی بہترین تربیت ہوئی اور جو ہر نسل اور ہر دور میں اٹھنے والی تحریک اور ہر دور کی امت کے لئے سرمایہ بصیرت ہے ۔

اب یہ تبصرہ آگے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے ۔ اس معرکہ کے کچھ اور واقعات سامنے رکھے جاتے ہیں تاکہ ان سے بصیرت افروز نتائج اخذکئے جاسکیں۔ اہل ایمان کی نظریاتی تصحیح ہو ‘ ان کے نفوس کی تربیت ہو انہیں آگاہ کیا جائے کہ اس راہ میں کہاں کہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ‘ انہیں بتایا جائے کہ ان کے اردگرد سازشوں کے جال بچھے ہوئے ہیں ‘ اور دشمن گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ احد میں شکست کی وجہ سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہود کو از سر نو سازشیں کرنے کا موقع مل گیا تھا ‘ اس لئے کہ اس وقت تک اہل مدینہ اہل اسلام کے لئے نیک نیت نہ ہوئے تھے ۔ اس شہر میں ابھی تک مسلمان اجنبی تھے ۔ اس اجنبی تحریک اور اس نئے پودے کے اردگرد جنگ بدر نے رعب اور دبدبے کی ایک باڑ قائم کردی تھی ۔ کیونکہ بدر میں اہل اسلام کو نہایت ہی فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی تھی اور جب احد میں شکست ہوئی تو یہ صورت حال بدل گئی ۔ اسلام کے ان خفیہ دشمنوں کو موقع مل گیا کہ وہ اپنے دلی کینہ اور بغض وعناد کا اظہار کرسکیں ۔ اور معاشرے کے اندر زہر آلود پروپیگنڈا کرسکیں ۔ اور جن گھرانوں میں لوگ شہید ہوگئے تھے ‘ یا جن میں لوگ شدید زخمی تھے اور ایک کہرام مچاہوا تھا ان میں اس کے زہر آلودپروپیگنڈے اور سازشوں کے لئے راہ ہموار ہوگئی تھی چناچہ ان لوگوں نے اب کھل کر ریشہ دوانیاں شروع کردی تھیں ۔

آنے والے پیراگرافوں میں اس معرکہ کے اہم واقعات کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور اس کے بڑے بڑے واقعات قلم بند کئے گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ کافروں کی پیروی مت کرو ‘ تمہیں فتح حاصل ہوگی اور کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب از سر نو پیدا ہوگا ‘ انہیں بتایا جاتا ہے کہ ابتدائے معرکہ میں تو تمہیں فتح ہوئی اور یہ میرے وعدے کے مطابق تھی جسے تم نے کمزوری دکھاکر ضائع کیا ‘ آپس میں نزاع اور خلاف کیا ‘ رسول اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ‘ اس کے بعد انہیں اس معرکے کے دونوں رخ زندہ اور متحرک صورت میں بتائے جاتے ہیں ۔ ہزیمت کے بعد افراتفری ‘ پھر اہل ایمان کے لئے تسلی و اطمینان کا سامان اور اہل نفاق کے دلوں میں حسرت ویاس ‘ جن کے خیالات اللہ کے بارے میں اچھے نہ تھے ۔ نیز انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس معرکہ میں واقعات کا رخ شکست کی جانب پھیرنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی لطیف حکمت کارفرماتھی ‘ نیز یہ کہ موت کا ایک دن متعین ہے اور اس سلسلے میں اہل کفر اپنے گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعہ جو گمراہی پھیلا رہے ہیں ان سے بچ کر رہو اور آخر کار تمہیں بہرحال اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے وہ اپنی موت مریں یا شہید ہوں جانا تو ادہر ہی ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:148Listen in Qur'an →
149

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تُطِيعُوا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر کر (مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے

آیات کے اس مجموعے کو اگر گہری نظر سے دیکھاجائے تو یہ اپنے اندر زندگی سے بھرپور مناظر کی ایک بڑی مقدار کو لئے ہوئے ہے اور ان مناظر کے علاوہ انسانی زندگی اور اسلامی تصور حیات دونوں کے نہایت ہی اساسی حقائق اس میں ثبت کئے گئے ہیں ۔ نیز اس میں کائنات کے بعض اٹل اصول بھی بیان کئے گئے ہیں ۔ جہاں تک اس معرکہ کا تعلق ہے ‘ اس کی جھلکیاں زندگی سے بھرپور ‘ بڑی تیزی کے ساتھ اور بڑی گہرائی کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ‘ اس معرکے کا کوئی اہم پہلو نہیں چھوڑا گیا اور وہ اس انداز میں فلم بند ہوا ہے کہ اسے پڑھ کر شعور اور جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری طرح زندہ ‘ جزئیات پر مشتمل فضائے جنگ اور اس کے حالات وواقعات ان میں ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ اس کے اندر انسانی ضمیر میں پیدا ہونے والے خلجان اور شعوری اور لاشعوری حرکات کی طرف بھی اشارے کئے گئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سیرت النبی کی مفصل کتابوں میں بیان کردہ تمام واقعات مستحضر ہوجاتے ہیں اور اس تبصرے کے نتیجے میں اسلامی تصور حیات کے اصلی حقائق ‘ زندہ شکل میں ‘ حرکت کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے لئے صحیح تصور حیات تعمیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اس میں شک نہیں ہے کہ اس معرکے کے تمام مشاہدات اور پورے حقائق کو الفاظ وفقرات کی اس مختصر مقدار میں ‘ زندگی سے بھرپور انداز میں ‘ حرکات اور اشارات کے اس مخصوص انداز میں ثبت کردینا ‘ کسی انسانی تعبیر کے لئے نہ ممکن ہے اور نہ ہی تاریخ آداب انسانی میں اس کی کوئی مثال ہے اور اس کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جسے اسلوب ادا کے اسرار اور انسان کی قوت ادا کی حدود کا علم ہوتا ہے ‘ خصوصاً وہ لوگ جن کو مشکل تعبیرات سے واسطہ پڑتا ہے اور جو فن تعبیر میں درک رکھتے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ (149) بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ

” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے تو تم نامراد ہوجاؤگے ۔ حقیقت یہ ہے اللہ ہی تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔ “

جنگ احد میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی ‘ ایک بڑی تعداد ماری گئی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی ۔ اس سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہودیوں کو یہ موقعہ مل گیا کہ وہ از سر نو اٹھیں اور مسلمانوں کو حضرت محمد ﷺ کا ساتھ دینے کے نتائج سے ڈرائیں ۔ انہیں جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ کریں اور خصوصاً مکہ کے مشرکین اور قریش کے حلفاء کے ساتھ مزید معرکہ آرائی کے نتائج سے انہیں خائف کریں ۔ ظاہر ہے کہ شکست وریخت کی یہ فضاء دلوں و متزلزل کرنے ‘ اسلامی صفوں کو منتشر کرنے اور اسلامی قیادت کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے اور اپنے مقابلے میں زیادہ طاقتور قوتوں کے ساتھ ٹکرانے پر اصرار کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے فوائد کو مشکوک بنانے اور اس پالیسی سے نکل آنے کی افادیت ظاہر کرنے ‘ اور کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مصالحت کی احادیث ظاہر کرنے اور اس سلسلے میں انفرادی درد وغم کو برانگیختہ کرنے کے لئے بہت زیادہ موزوں تھی ۔ یہ لوگ چاہتے تھے کہ اس فضا سے فائدہ اٹھاکر اسے جماعت مسلمہ کی بیخ کنی کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اس کے بعد اسلامی نظریہ حیات کی بیخ کنی تک اسے پہنچایا جائے اور اہل اسلام کو اس پر آمادہ کرلیا جائے کہ وہ اپنے سے قوی لوگوں کے سامنے جھک جائیں ۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر سے سخت الفاظ سے ڈرا کر منع فرمایا کہ وہ پالیسی کے معاملات میں اہل کفر کی اطاعت نہ کریں۔ اس معاملہ میں اگر وہ ان کی پیروی کریں گے تو اس کا نتیجہ لازماً خسارے کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ اس میں کوئی نفع اور کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ البتہ یہ ہوگا کہ وہ الٹے …

Aal-i-Imraan 3:149Listen in Qur'an →
150

بَلِ ٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلنَّٰصِرِينَ

(یہ تمہارے مددگار نہیں ہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے

آیات کے اس مجموعے کو اگر گہری نظر سے دیکھاجائے تو یہ اپنے اندر زندگی سے بھرپور مناظر کی ایک بڑی مقدار کو لئے ہوئے ہے اور ان مناظر کے علاوہ انسانی زندگی اور اسلامی تصور حیات دونوں کے نہایت ہی اساسی حقائق اس میں ثبت کئے گئے ہیں ۔ نیز اس میں کائنات کے بعض اٹل اصول بھی بیان کئے گئے ہیں ۔ جہاں تک اس معرکہ کا تعلق ہے ‘ اس کی جھلکیاں زندگی سے بھرپور ‘ بڑی تیزی کے ساتھ اور بڑی گہرائی کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ‘ اس معرکے کا کوئی اہم پہلو نہیں چھوڑا گیا اور وہ اس انداز میں فلم بند ہوا ہے کہ اسے پڑھ کر شعور اور جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری طرح زندہ ‘ جزئیات پر مشتمل فضائے جنگ اور اس کے حالات وواقعات ان میں ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ اس کے اندر انسانی ضمیر میں پیدا ہونے والے خلجان اور شعوری اور لاشعوری حرکات کی طرف بھی اشارے کئے گئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سیرت النبی کی مفصل کتابوں میں بیان کردہ تمام واقعات مستحضر ہوجاتے ہیں اور اس تبصرے کے نتیجے میں اسلامی تصور حیات کے اصلی حقائق ‘ زندہ شکل میں ‘ حرکت کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے لئے صحیح تصور حیات تعمیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اس میں شک نہیں ہے کہ اس معرکے کے تمام مشاہدات اور پورے حقائق کو الفاظ وفقرات کی اس مختصر مقدار میں ‘ زندگی سے بھرپور انداز میں ‘ حرکات اور اشارات کے اس مخصوص انداز میں ثبت کردینا ‘ کسی انسانی تعبیر کے لئے نہ ممکن ہے اور نہ ہی تاریخ آداب انسانی میں اس کی کوئی مثال ہے اور اس کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جسے اسلوب ادا کے اسرار اور انسان کی قوت ادا کی حدود کا علم ہوتا ہے ‘ خصوصاً وہ لوگ جن کو مشکل تعبیرات سے واسطہ پڑتا ہے اور جو فن تعبیر میں درک رکھتے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ (149) بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ

” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے تو تم نامراد ہوجاؤگے ۔ حقیقت یہ ہے اللہ ہی تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔ “

جنگ احد میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی ‘ ایک بڑی تعداد ماری گئی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی ۔ اس سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہودیوں کو یہ موقعہ مل گیا کہ وہ از سر نو اٹھیں اور مسلمانوں کو حضرت محمد ﷺ کا ساتھ دینے کے نتائج سے ڈرائیں ۔ انہیں جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ کریں اور خصوصاً مکہ کے مشرکین اور قریش کے حلفاء کے ساتھ مزید معرکہ آرائی کے نتائج سے انہیں خائف کریں ۔ ظاہر ہے کہ شکست وریخت کی یہ فضاء دلوں و متزلزل کرنے ‘ اسلامی صفوں کو منتشر کرنے اور اسلامی قیادت کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے اور اپنے مقابلے میں زیادہ طاقتور قوتوں کے ساتھ ٹکرانے پر اصرار کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے فوائد کو مشکوک بنانے اور اس پالیسی سے نکل آنے کی افادیت ظاہر کرنے ‘ اور کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مصالحت کی احادیث ظاہر کرنے اور اس سلسلے میں انفرادی درد وغم کو برانگیختہ کرنے کے لئے بہت زیادہ موزوں تھی ۔ یہ لوگ چاہتے تھے کہ اس فضا سے فائدہ اٹھاکر اسے جماعت مسلمہ کی بیخ کنی کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اس کے بعد اسلامی نظریہ حیات کی بیخ کنی تک اسے پہنچایا جائے اور اہل اسلام کو اس پر آمادہ کرلیا جائے کہ وہ اپنے سے قوی لوگوں کے سامنے جھک جائیں ۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر سے سخت الفاظ سے ڈرا کر منع فرمایا کہ وہ پالیسی کے معاملات میں اہل کفر کی اطاعت نہ کریں۔ اس معاملہ میں اگر وہ ان کی پیروی کریں گے تو اس کا نتیجہ لازماً خسارے کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ اس میں کوئی نفع اور کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ البتہ یہ ہوگا کہ وہ الٹے …

Aal-i-Imraan 3:150Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.