Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 200

91

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌۭ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ ٱلْأَرْضِ ذَهَبًۭا وَلَوِ ٱفْتَدَىٰ بِهِۦٓ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ

جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے وہ اگر (نجات حاصل کرنی چاہیں اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا

یوں سیاق کلام میں اس مسئلے کا فیصلہ کن تصفیہ کردیا جاتا ہے اور اسے تاکیدی الفاظ میں کردیا جاتا ہے جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں رہنے دیا جاتا۔

اللہ کے اصولوں کے خلاف انفاق ‘ اور اللہ کے راستے میں نہ خرچ کئے جانے والے اموال کے غیر موثر قرار دینے کے بعد اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ دارالعمل کے ختم ہونے کے بعد اگر روئے زمین کو بھر کر بھی انفاق کرے وہ قبول نہ ہوگا ‘ یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرمادیتے ہیں کہ وہ کون سا انفاق ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:91Listen in Qur'an →
92

لَن تَنَالُوا۟ ٱلْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا۟ مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌۭ

(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ ابواسحاق ابن عبداللہ ابن ابی طلحہ سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں انہوں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا انصار مدینہ میں ابوطلحہ بہت ہی مالدار تھے ۔ اور ان کو ان کی دولت سے محبوب ترین ایک کنواں تھا جسے ” حاء “ کہتے تھے ۔ یہ مسجد نبوی کے بالمقابل تھا ۔ رسول ﷺ اس کنویں پر جایا کرتے تھے ۔ اور اس کا پاک وصاف پانی پیا کرتے تھے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ……………” تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں کو خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ “ تو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں کو خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ “ اور میرا محبوب مال تو ” حاء “ کنواں ہے ۔ اور وہ میری طرف سے صدقہ ہے ۔ میں اس کا ثواب اور عنداللہ اس کی جزاء چاہتا ہوں ۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : واہ واہ ! یہ تو بڑا نفع بخش اور قیمتی مال ہے۔ یہ تو نفع بخش مال ہے۔ میں نے سن لیا لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اسے اقرباء کے درمیان تقسیم کردیں تو ابوطلحہ نے کہا : تو اللہ کے رسول ﷺ آپ ایسا ہی کردیں۔ تو رسول ﷺ نے اسے اس کے قرباء اور چچازادوں کے درمیان تقسیم کردیا ۔ (روایت مسلم و بخاری)

مسلم بخاری نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ خیبر میں مجھے جو حصہ ملا ہے ‘ اس سے اچھی جائیداد مجھے کبھی نہیں ملی تو اس کے بارے میں آپ کیا مشورہ دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اصل جائیداد اپنے پاس رہنے دو پیداوار سبیل اللہ کردو۔ “

اسی راستے پر صحابہ کرام ؓ میں سے اکثر ایک دوسرے سے آگے بڑھے ‘ یوں وہ اپنے رب سے بھلائی کی تلاش میں اس آیت پر لبیک کہتے رہے ۔ اس دور میں جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی طرف ہدایت دی ۔ اللہ کی آواز پر لبیک کہہ کر انہوں نے مال اور دولت کی غلامی سے اپنے آپ کو رہائی دلائی ۔ دلی بخل اور کنجوسی سے نجات پائی اور ذاتی لالچ سے پاک ہوئے ۔ اور یوں اس مقام بلند تک جاپہنچے جو نہایت بلند ‘ نہایت ہی روشن ‘ چمکدار تھا ‘ آزاد ‘ ہلکے پھلے ہر قید وبند سے نکلے ہوئے۔

پارہ چہارم ایک نظر میں

یہ پارہ سورة آل عمران کے آخری حصہ اور سورة نساء کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔ یعنی آیت وَالمُحصَنَاتُ مِنَ النِّسَآءِ……………تک سورة آل عمران کا آخری حصہ چار اجزاء پر مشتمل ہے ‘ جو سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ‘ جن کے بارے میں ہم سورة آل عمران پر تبصرہ کرتے وقت بحث کر آئے ہیں ۔ یعنی پارہ سوئم میں ۔ یہاں اس بحث کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہاں تبصرہ دیکھا جاسکتا ہے۔

یہاں مختصراً یہ جان لینا چاہئے کہ سورة آل عمران کے ان چار اجزاء میں پہلا ان مکالمات پر مشتمل ہے جو مدینہ طیبہ کے ابتدائی دور میں ‘ اہل کتاب اور اہل ایمان کے درمیان ہوئے ۔ یہ مکالمات اس تاریخی پس منظر میں ہوئے جس کے بارے میں ہم آغاز صورت میں وقت کا تعین کرچکے ہیں ۔ یہ مکالمات رمضان 2 ھ کے بعد ماہ شوال 3 ھ کے بعد تک کے دور میں ہوئے ۔ اس سے پہلے سورة آل عمران ‘ تقریباً اس عظیم الشان معرکہ پر تبصرہ ہے ۔ ان تبصروں کے ذریعہ اسلامی تصور حیات کی ماہیت ‘ دین کی حقیقت ‘ اسلام کی حقیقت اور اس نظام کی حقیقت بیان کی گئی ہے جو اسلام نے پیش کیا ‘ اور اسلام سے قبل تمام رسولوں نے اس نظام کو پیش کیا ۔ ان تبصروں میں اہل کتاب کی حقیقت اور ان کے موقف کو بھی واضح کیا گیا ‘ جو رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دینی امور میں مجادلہ کیا کرتے تھے ‘ اور آپ کے صحابہ کرام کے ساتھ بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے ۔ یہ واضح کیا گیا کہ اہل کتاب دین اسلام سے کس قدر دور جاچکے ہیں ‘ اور یہ کہ مدینہ میں وہ جماعت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں کررہے تھے ‘ اس سورت میں اس کا بھی انکشاف کیا گیا ‘ اور یہ …

Aal-i-Imraan 3:92Listen in Qur'an →
93

۞ كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلًّۭا لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوْرَىٰةُ ۗ قُلْ فَأْتُوا۟ بِٱلتَّوْرَىٰةِ فَٱتْلُوهَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)

یہودیوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ ہر قسم ‘ شبہ اور ہر دلیل ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے تھے ‘ اور ہر طرح کا حیلہ اور مکر و فریب کام میں لاتے تھے تاکہ وہ رسالت محمدیہ کی صحت میں کوئی شبہ پیدا کردیں۔ تحریک اسلامی میں فکری بحران پیدا کردیں اور لوگوں کے دلوں میں اضطراب پیدا کردیں ۔ چناچہ یہ لوگ ہر وقت شکوک و شبہات پھیلاتے پھرتے تھے ۔ جب قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ توراۃ کی تصدیق کرتا ہے تو انہیں یہ اعتراض کرنے کا موقعہ ملا اگر قرآن کریم توراۃ کا مصداق ہے تو پھر اس کا جواز کیا ہے کہ وہ بعض چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے جو بنی اسرائیل کے لئے حرام تھیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں اونٹوں کا گوشت اور دودھ کی مثال پیش کی ۔ کیونکہ چیزیں بنی اسرائیل پر حرام تھیں ۔ اگرچہ اونٹ اور اس کے دودھ کے علاوہ بھی بعض ایسی چیزیں تھیں جو بنی اسرائیل کے لئے حرام تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے حلال کردیا تھا۔

یہاں قرآن کریم ان کی توجہ اس تاریخی حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے جسے وہ جان بوجھ کر نظر انداز کررہے تھے ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ قرآن کریم کے اس دعویٰ میں تشکیک پیدا کریں کہ وہ توراۃ کا مصدق ہے ۔ دلیل یہ دیتے کہ بعض ایسی چیزوں کو حلال قرار دیا جو نبی اسرائیل پر حرام تھیں ‘ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ کھانے کی وہ ساری چیزیں جو شریعت محمدیہ میں حلال ہیں ‘ وہ بنی اسرائیل کے لئے بھی حلال تھیں ‘ البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کئے جانے سے پہلے بنی اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ یہ اسرائیل حضرت یعقوب ہیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ ایک شدید مرض میں مبتلا ہوئے تھے ‘ اور انہوں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر وہ تندرست ہوگئے تو وہ بطور نفل اونٹ کا گوشت کھانا ترک کردیں گے ۔ اونٹ کا دودھ نہ پئیں گے اور یہ دونوں چیزیں انہیں بہت پسند تھیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی منت اور نذر کو قبول فرمایا اور بنی اسرائیل میں یہ سنت یعقوبی چل پڑی اور انہوں نے بھی ان چیزوں کو حرام کرلیا جو ان کے باپ نے حرام کی تھیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بعض دوسری چیزیں بطور سزا بھی حرام کردی تھیں ‘ اس لئے کہ انہوں نے بعض جرائم کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان محرمات کی طرف سورت انعام کی آیات (146) میں اشارہ کیا گیا ہے۔

وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ

” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے ‘ اور گائے اور بکری کی چربی بھی ‘ بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے اس کی سرکشی کی سزا نہیں دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں ۔ “ جبکہ اس تحریم سے قبل یہ چیزیں ان کے لئے حلال تھیں ۔

ان کی تردید کرکے اللہ تعالیٰ انہیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ کھانے پینے کی چیزوں میں اصل الاصول یہ ہے کہ وہ جائز ہیں ‘ اور بنی اسرائیل پر بعض چیزیں ان کے مخصوص حالات کے پیش نظر حرام کی گئی ہیں ‘ اس لئے اگر ان میں سے بعض چیزوں کے استعمال کو مسلمانوں کے لئے حلال قرار دے دیا گیا تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے وہ حلال تھیں ۔ اس لئے اس حلت سے قرآن کریم اور شریعت الٰہیہ کی صحت میں شک نہیں کیا جاسکتا۔

اس موقعہ پر قرآن کریم انہیں چیلنج دیتا ہے کہ لائیں وہ توراۃ اور اسے پڑھیں اور بچشم خود دیکھ لیں کہ ان چیزوں کی حرمت کے اسباب صرف ان کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ یہ اسباب عام نوعیت کے نہیں ہیں ۔ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ …

Aal-i-Imraan 3:93Listen in Qur'an →
94

فَمَنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹے افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں

اہل کتاب کے اعتراضات میں سے ایک اعتراض تحویل قبلہ پر بھی تھا ‘ یہ اعتراض بھی وہ بار بار دہراتے تھے ۔ یہ اعتراض اس لئے پیدا ہوا تھا کہ رسول ﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ طیبہ میں آپ سولہ ‘ سترہ یا اٹھارہ مہینوں تک نماز بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے رہے تھے ۔ باوجود اس کے کہ اس سے پہلے ‘ سورة بقرہ میں ‘ اس موضوع پر تفصیلی بحث کی گئی تھی ‘ اور یہ بتایا گیا تھا کہ خانہ کعبہ دراصل حقیقی اور اصلی قبلہ تھا ‘ اور بیت المقدس کو عارضی طور پر ‘ بعض مصلحتوں کے تحت ‘ قبلہ قراردیا گیا تھا ‘ جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اپنی جگہ کردی تھی ‘ لیکن اس اظہار حقیقت کے باوجود یہودی باربار اسی اعتراض کو دہراتے رہتے تھے ۔ یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ اہل ایمان کے دلوں میں فکری انتشار اور تشکیک پیدا کی جائے اور ایک واضح حقیقت کے اندر التباس پیدا کیا جائے ۔ یہ کام آج ہمارے دور میں بھی ‘ اسلامی نظریہ حیات کے ہر موضوع کے بارے میں دشمنان دین کی جانب سے بڑے منظم طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ از سر نو ان کے شبہات اور تلبیسات کی تردید فرماتے ہیں ۔

Aal-i-Imraan 3:94Listen in Qur'an →
95

قُلْ صَدَقَ ٱللَّهُ ۗ فَٱتَّبِعُوا۟ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے

یہ الفاظ کہ ” اللہ نے جو کچھ کہا سچ کہا “ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جو وضاحت کردی ہے وہ درست ہے یعنی یہ کہ خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس لئے تعمیر فرمایا تھا کہ یہ لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہو اور جائے امن وسلامتی ہو ‘ اور اہل ایمان کے قبلہ اور جائے عبادت ہو ۔ اسی لئے یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم حضرت ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اور نظریہ حیات ہمہ جہت توحیدی نظریہ تھا ‘ جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” پس ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا ۔ “ یہودیوں کا زعم یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم انہیں بتاتا ہے کہ یہ ہے دین ابراہیمی کی حقیقت ۔ اور وہ دین یہ ہے کہ ہر قسم کے شرک سے نفرت کی جائے ۔ اور یہاں اس حقیقت کا اظہار دومرتبہ کیا گیا ہے ۔ ایک مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ حنیف تھے ۔ اور دوسری مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ مشرکین میں سے نہ تھے ۔ اور یہود کا حال یہ ہے کہ وہ مشرک ہیں ۔

اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ روب قبلہ ہونا دین کے اصولوں میں سے ہے۔ اس لئے کہ اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے جو اللہ کی پرستش کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اور اسے ابتدائے تعمیر سے صرف اس مقصد کے لئے مخصوص کیا گیا ہے کہ وہ طواف کرنے والوں ‘ عبادت کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے مخصوص رہے ۔ نیز یہ ایک متبرک مقام ہے ‘ اور وہ اس مفہوم میں جائے ہدایت ہے کہ یہاں ملت ابراہیمی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ اور اس میں وہ واضح علامات ہیں کہ یہ ابراہیم کی جائے قیام ہے ۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ تاریخی پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوکر خانہ کعبہ کی تعمیر فرماتے تھے ۔ یہ خانہ کعبہ کے ساتھ متصل تھا۔ مگر خلیفہ راشد حضرت عمر ؓ نے اسے قدرے ہٹایا ‘ تاکہ طواف کرنے والوں کی وجہ سے ان لوگوں کو تکلیف نہ ہو جو اس کے پاس نفل ادا کرتے ہیں ۔ اس لئے اہل اسلام کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کے پاس نماز پڑھیں وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى…………… ” اور حضرت ابراہیم کے مقام کو جائے نماز بناؤ۔ “

اس گھر کے فضائل میں سے ایک بات یہاں بتائی جاتی ہے کہ اس گھر میں جو شخص داخل ہوا وہ پر امن رہے گا ۔ اس لئے یہ گھر ہر اس شخص کے لئے امن کی جگہ ہے جو یہاں داخل ہوجائے ۔ اور یہ حیثیت اس کرہ ارض پر کسی دوسرے مقام کو حاصل نہیں ہے ۔ اور اس کی یہ حیثیت اس وقت سے چلی آرہی ہے جب اسے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے تعمیر کیا ۔ یہاں عربوں کے دور جاہلیت میں بھی اسے یہ حیثیت حاصل رہی ہے جبکہ وہ بالعموم دی ابراہیمی سے منحرف ہوگئے تھے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح خالص موحد نہ رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری کے قول کے مطابق اس برے دور میں بھی یہ احترام ومقام اسے حاصل تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ” ایک شخص اگر دوسرے کو قتل کردیتا تو تو ایک اونی کپڑا اپنی گردن کے اردگرد لپیٹ لیتا ۔ اس حالت میں اسے اگر مقتول کا وارث بھی ملتا تو وہ اسے خانہ کعبہ میں کچھ نہ کہتا اور اس کے نکلنے کا انتظار کرتا ۔ “ غرض اس بیت اللہ کو اس وقت بھی یہ اعزاز حاصل تھا جب اس کے ارد گرد کے لوگ جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اہل عرب پر اپنے احسانات جتلاتے ہوئے فرماتے ہیںأَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ……………” ہم نے ایک پرامن حرم بنادیا حالانکہ ان کے گردوپیش لوگ اچک لے جاتے ہیں ۔ “ (6729 :)

اور بھی خانہ کعبہ کے احترام کی ایک وجہ ہے کہ کے حدود کے اندر شکار کرنا حرام ہے اور وہاں پرندوں کو ان کے گھونسلوں …

Aal-i-Imraan 3:95Listen in Qur'an →
96

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍۢ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكًۭا وَهُدًۭى لِّلْعَٰلَمِينَ

پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے بابرکت اور جہاں کے لیے موجبِ ہدایت

یہ الفاظ کہ ” اللہ نے جو کچھ کہا سچ کہا “ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جو وضاحت کردی ہے وہ درست ہے یعنی یہ کہ خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس لئے تعمیر فرمایا تھا کہ یہ لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہو اور جائے امن وسلامتی ہو ‘ اور اہل ایمان کے قبلہ اور جائے عبادت ہو ۔ اسی لئے یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم حضرت ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اور نظریہ حیات ہمہ جہت توحیدی نظریہ تھا ‘ جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” پس ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا ۔ “ یہودیوں کا زعم یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم انہیں بتاتا ہے کہ یہ ہے دین ابراہیمی کی حقیقت ۔ اور وہ دین یہ ہے کہ ہر قسم کے شرک سے نفرت کی جائے ۔ اور یہاں اس حقیقت کا اظہار دومرتبہ کیا گیا ہے ۔ ایک مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ حنیف تھے ۔ اور دوسری مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ مشرکین میں سے نہ تھے ۔ اور یہود کا حال یہ ہے کہ وہ مشرک ہیں ۔

اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ روب قبلہ ہونا دین کے اصولوں میں سے ہے۔ اس لئے کہ اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے جو اللہ کی پرستش کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اور اسے ابتدائے تعمیر سے صرف اس مقصد کے لئے مخصوص کیا گیا ہے کہ وہ طواف کرنے والوں ‘ عبادت کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے مخصوص رہے ۔ نیز یہ ایک متبرک مقام ہے ‘ اور وہ اس مفہوم میں جائے ہدایت ہے کہ یہاں ملت ابراہیمی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ اور اس میں وہ واضح علامات ہیں کہ یہ ابراہیم کی جائے قیام ہے ۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ تاریخی پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوکر خانہ کعبہ کی تعمیر فرماتے تھے ۔ یہ خانہ کعبہ کے ساتھ متصل تھا۔ مگر خلیفہ راشد حضرت عمر ؓ نے اسے قدرے ہٹایا ‘ تاکہ طواف کرنے والوں کی وجہ سے ان لوگوں کو تکلیف نہ ہو جو اس کے پاس نفل ادا کرتے ہیں ۔ اس لئے اہل اسلام کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کے پاس نماز پڑھیں وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى…………… ” اور حضرت ابراہیم کے مقام کو جائے نماز بناؤ۔ “

اس گھر کے فضائل میں سے ایک بات یہاں بتائی جاتی ہے کہ اس گھر میں جو شخص داخل ہوا وہ پر امن رہے گا ۔ اس لئے یہ گھر ہر اس شخص کے لئے امن کی جگہ ہے جو یہاں داخل ہوجائے ۔ اور یہ حیثیت اس کرہ ارض پر کسی دوسرے مقام کو حاصل نہیں ہے ۔ اور اس کی یہ حیثیت اس وقت سے چلی آرہی ہے جب اسے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے تعمیر کیا ۔ یہاں عربوں کے دور جاہلیت میں بھی اسے یہ حیثیت حاصل رہی ہے جبکہ وہ بالعموم دی ابراہیمی سے منحرف ہوگئے تھے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح خالص موحد نہ رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری کے قول کے مطابق اس برے دور میں بھی یہ احترام ومقام اسے حاصل تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ” ایک شخص اگر دوسرے کو قتل کردیتا تو تو ایک اونی کپڑا اپنی گردن کے اردگرد لپیٹ لیتا ۔ اس حالت میں اسے اگر مقتول کا وارث بھی ملتا تو وہ اسے خانہ کعبہ میں کچھ نہ کہتا اور اس کے نکلنے کا انتظار کرتا ۔ “ غرض اس بیت اللہ کو اس وقت بھی یہ اعزاز حاصل تھا جب اس کے ارد گرد کے لوگ جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اہل عرب پر اپنے احسانات جتلاتے ہوئے فرماتے ہیںأَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ……………” ہم نے ایک پرامن حرم بنادیا حالانکہ ان کے گردوپیش لوگ اچک لے جاتے ہیں ۔ “ (6729 :)

اور بھی خانہ کعبہ کے احترام کی ایک وجہ ہے کہ کے حدود کے اندر شکار کرنا حرام ہے اور وہاں پرندوں کو ان کے گھونسلوں …

Aal-i-Imraan 3:96Listen in Qur'an →
97

فِيهِ ءَايَٰتٌۢ بَيِّنَٰتٌۭ مَّقَامُ إِبْرَٰهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنًۭا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلْبَيْتِ مَنِ ٱسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًۭا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَٰلَمِينَ

اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے

یہاں انداز تعبیر قابل توجہ ہے ‘ فرضیت حج نہایت ہی عموم اور شمول پر مشتمل ہے ۔ اس کے لئے علی الناس ” تمام لوگوں پر “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ‘ اس میں پہلا اشارہ تو یہ ہے کہ یہ حج ان یہودیوں پر بھی فرض کیا گیا ہے جو اس وقت رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مناظرہ اور محاربہ کررہے ہیں کہ کیوں مسلمانوں نے اس کی طرف منہ کرکے عبادت کرنا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خود اہل کتاب سے بھی یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گھر کا حج کریں ۔ اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ کیونکہ یہ ان کے باپ ابراہیم کا تعمیر کردہ ہے اور پھر اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے اللہ کا اور جو صرف اس کی عبادت کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اس لئے اعتراض کرنے والے یہودی اپنے فرائض سے انحراف کررہے ہیں ‘ یہ تقصیر ہیں اور اللہ کی معصیت کررہے ہیں ۔ اور اس عمومیت میں دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ تمام لوگوں سے مطالبہ یہ ہے کہ اس دین کا اقرار کرلیں اور اس دین کے فرائض اور شعائر ادا کریں ۔ اور وہ بھی خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوں اور حج کریں جس طرح اہل ایمان کررہے ہیں ۔ اور اگر یہ سب لوگ ایسا نہ کریں گے تو گویا وہ کفر کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ اگرچہ وہ زبانی طور پر یہ دعویٰ کریں کہ وہ اس دین پر ہیں اور اللہ تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے ‘ اسے قطعاً اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ سب لوگ ایمان لائیں یا سب لوگ حج کے لئے جائیں ۔ حج میں تو ان کے لئے مصلحت ہے ‘ صرف ان کی فلاح ہے ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ایمان لائیں اور اللہ کی عبادت کریں۔

حج پوری عمر میں ایک بار فرض ہے اور یہ فرض اس وقت عائد ہوجاتا ہے جب انسان کو اس کی استطاعت ہوجائے ‘ جس میں ذاتی صحت ‘ سفر کا امکان اور راستوں کا امن وامان شامل ہے ۔ اس کی فرضیت کے وقت میں اختلاف ہے ۔ وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ یہ آیات 9 ہجری میں نازل ہوئیں جسے عام الوفود کہا جاتا ہے ‘ اور اس سلسلے میں بعض روایات بھی وارد ہیں یا ان کی رائے یہ ہے کہ 9 ہجری میں حج فرض ہوا ہے ۔ اس کا استدلال اس سے بھی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے 9 ہجری کے بعد ہی حج فرمایا ۔ اس سے قبل جلد دوئم میں تحویل قبلہ فیصلہ سے بحث کرتے ہوئے ہم نے یہ کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے حج کی تاخیر اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ حج کی فرضیت ہی بعد میں ہوئی ۔ ہوسکتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بعض مصروفیات اور مخصوص حالات کی وجہ سے حج مؤخر فرمایا ہو۔ مثلاً یہ کہ مشرکین حج کے موقعہ ننگے ہوکر حج کرتے تھے ‘ اور یہ حرکت وہ فتح مکہ کے بعد تک کرتے رہے ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے لوگوں کے ساتھ اختلاط کو ناپسند فرمایا ہو اور جب 9 ہجری میں سورت براءۃ نازل ہوئی اور مشرکین کے لئے طواف کعبہ حرام قرار دے دیا گیا تو اس کے اگلے سال بعد رسول ﷺ نے خود حج ادا فرمایا۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ حج اس سے پہلے فرض ہوچکا ہو۔ اور یہ سورت ہجرت کے ابتدائی زمانہ میں نازل ہوئی ہو مثلاً غزوہ احد کے قریب۔

بہرحال جس وقت بھی حج فرض ہوا ہو ‘ اس کی فرضیت اسی نص قاطع کے ذریعے ہوئی ہے ۔ یعنی حج ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو راستے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔ حج مسلمانوں کا ایک سالانہ اجتماع ہے ‘ وہ اس گھر کے پاس جمع ہوتے ہیں ‘ جہاں سے دعوت اسلامی کا آغاز ہوا ‘ جہاں سے ان کے باپ حضرت ابراہیم کی ملت کا بھی آغاز ہوا ‘ اور جسے حضرت ابراہیم نے اللہ کی عبادت کے لئے پہلا گھر قرار دیا ۔ اس لئے حج ایک نہایت ہی بامقصد اجتماع ہے ‘ اس کی کچھ خاص یادیں ہیں اور ان تمام یادوں کا محور یہ بات ہے کہ انسان کا اپنے رب کے ساتھ رابطہ خاص پیدا ہوا ‘ انسان کی روح اللہ کی پکار پر لبیک کہے ‘ اس لئے کہ اس روح کی وجہ سے انسان ، انسان بنا ہے ۔ یہ ایک ایسا مقصد ہے جس پر تمام انسانوں کو جمع ہونا چاہئے اور وہ ہر سال اس گھر میں جمع ہوں جہاں سے کبھی خالص ” انسانی روحانی اجتماع “ کی دعوت کا آغاز ہوا تھا اور یہ دعوت خالص انسانی بنیادوں …

Aal-i-Imraan 3:97Listen in Qur'an →
98

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ

کہو کہ اہلِ کتاب! تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

یہ تہدید اور اس قسم کا ڈراوا اس سورت میں اور ایسی ہی دوسری سورتوں میں باربار آیا ہے ۔ اس کا پہلا اثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ اہل کتاب کو اپنے موقف کی اصلیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی اصل حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا مومن اور بڑا دیندار ظاہر کرتے ہیں ‘ جبکہ فی الحقیقت وہ اہل کفر میں سے ہیں ‘ کیونکہ وہ اللہ کی نازل کردہ آیات قرآنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے جو شخص اللہ کے کسی بھی جزء کا انکار کرے گا ‘ گویا وہ سب کتاب کا انکار کرے گا ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اگر وہ خود ان کے پاس محفوظ کتاب پر ایمان لائے ہوتے تو وہ لازماً ہر آنے والے رسول پر نازل ہونے والی ہدایات پر ایمان لائے ہوتے ۔ اس لئے کہ دین کی حقیقت ایک ہے ۔ جو شخص بھی اس حقیقت کو پالے وہ ان تمام رسولوں پر ایمان لائے گا جو بعد میں آئیں اور ان سے بیعت لیں ۔ یہ ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے جس سے چاہئے کہ وہ کانپ اٹھیں اور انہیں ان کی عاقبت کے بارے میں شک لاحق ہوجائے اور وہ اپنے انجام کی فکر کریں ۔

اس کا دوسرا اثر یہ ہے کہ جماعت مسلمہ میں سے بعض لوگ جو اہل کتاب سے ان کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھاتے تھے ‘ ان کی آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں کہ اللہ خود اہل کتاب کی حقیقت ان کے سامنے کھول کر بیان فرماتے ہیں اور ان پر صریحاً کفر کا فتویٰ دیتے ہیں ‘ اس لئے اس کے بعد کسی کے لئے کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ اہل کتاب غلط ہیں اور اہل اسلام سچے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کو اس قدر شدید الفاظ میں ڈراتے ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں۔ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا تَعْمَلُونَ……………” اللہ ان تمام حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جو تم کررہے ہو۔ “ اور وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ……………” تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے۔ “ یہ ایک خوفناک تنبیہ ہے ۔ جب ایک انسان اس بات کو محسوس کرلے کہ اس کے اعمال پر اللہ گواہ ہے اور یہ کہ وہ اس کے اعمال سے غافل نہیں ہے اور عمل بھی کیسا ؟ خالص کفر ‘ خالص دھوکہ ‘ خالص فساد اور خالص گمراہ کرنا تو اس کے دل میں خوف کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔

اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو ریکارڈ پر لاتے ہیں کہ وہ جس حق کا انکار کرتے ہیں درحقیقت وہ جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہوئے لوگوں کو اس ھق سے دور روکتے ہیں ۔ جبکہ وہ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ……… ” حالانکہ تم اس پر گواہ ہو ۔ “ یعنی انہیں اس بات پر پورا یقین تھا کہ وہ جس حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں وہ حق ہے اور وہ جس بات سے عوام الناس کو روکتے ہیں اس میں ان کی بھلائی ہے ۔ اور ان کا یہ رویہ انتہائی قابل نفرت ہے ۔ اس لئے ایسے کردار والے کسی شخص پر نہ تو کوئی اعتماد کرنا مناسب ہے اور نہ ایسے شخص کا ہمنشین ہونا مناسب ہے ۔ ایسے شخص کا صحیح علاج یہ ہے کہ اس کے ساتھ پوری طرح نفرت کا مظاہرہ کیا جائے اور اس پر بھرپور تنقید کی جائے۔

Aal-i-Imraan 3:98Listen in Qur'an →
99

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَأَنتُمْ شُهَدَآءُ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

کہو کہ اہلِ کتاب تم مومنوں کو خدا کے رستے سے کیوں روکتے ہو اور باوجود یہ کہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمھارے کاموں سے بےخبر نہیں

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا تعارف ان الفاظ میں کیا ہے ۔ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا……………” یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے تم اللہ کے راستے سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے ۔ “ یہ ایک بامعنی جائزہ ہے ۔ اور اس میں بہت بڑا راز ہے ۔ یعنی اللہ کا راستہ تو بالکل سیدھا راستہ ہے اور اس کے علاوہ جو راستے ہیں وہ سب ٹیڑھے راستے ہیں ۔ اور جب لوگوں کو سیدھے راستے سے روکا گیا اور جب ابھی ایمان کو اسلامی نظام حیات سے محروم کیا گی تو تمام انسانی امور میں اتقامت اور سیدھ ختم ہوجائے گی اور حسن وقبح کے پیمانے صحیح و سلامت نہ رہیں گے ۔ اور اس زمین کے نظام کا ہر شعبہ ٹیڑھا ہوجائے گا ۔ یہ ایک عظیم فساد ہوگا ‘ نظام فطرت میں فساد برپا ہوگا کیونکہ نظام فطرت کے خلاف ورزی ہوگی ‘ انسانی زندگی میں فساد اس لئے ہوگا کہ یہ زندگی ٹیڑھ پر قائم ہوگی ‘ اور یہ عظیم فساد اس لئے رونما ہوگا کہ لوگوں کو اسلامی ظام حیات سے روک دیا گیا ہوگا۔ پھر یہ فساد انسانی تصورات میں بھی برپا ہوگا ‘ انسانی ضمیر میں بھی فساد ہوگا ‘ انسانی اخلاق میں بھی فساد ہوگا ‘ انسانی طرزعمل میں فساد ہوگا ‘ انسانی روابط میں فساد ہوگا ‘ انسانی معاملات میں فساد ہوگا۔ غرض ان تمام روابط میں فساد ہوگا جو ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان پیدا ہوں گے ۔ نیز یہ فساد ان کے اور اس نظام کائنات میں بھی برپا ہوگا جس کائنات میں انسان رہتے ہیں ۔ پس لوگ یا تو اسلامی نظام زندگی کے تحت زندگی بسر کریں گے تو اس صورت میں وہ صراط مستقیم اور حالت صالحہ میں ہوں گے اور ان کے لئے بھلائی ہوگی یا پھر وہ ٹیڑھے اور منحنی راہوں پرچلیں گے ‘ تو اس صورت میں وہ ٹیڑھ ‘ فساد اور شر میں مبتلا ہوں گے ۔ دنیا میں یہی دوراستے ہیں اور یہی دوحالات ہیں جو بنی نوع انسان کی زندگی پر آسکتے ہیں ۔ ایک حالت یہ ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہوں گے تو پھر ان کے لئے خیر اور بہتری ہے اور یا وہ اس شاہراہ پر گامزن ہوں تو پھر ان کے لئے خیر اور بہتری ہے اور یا وہ اس شاہراہ سے منحرف ہوں گے تو اس صورت حال میں شر اور فساد ہی ان کا مقدر ہوگا۔

یہاں آکر اہل کتاب کے ساتھ اب مناظرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اب انہیں بھلادیا جاتا ہے اور اب خطاب جماعت مسلمہ سے ہورہا ہے ۔ اب امت مسلمہ کو ہدایات دی جارہی ہیں ۔ انہیں تنبیہ کی جاتی ہے او دشمن کی چالوں سے ڈرایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے خصائص کیا ہیں ‘ اس کا تصور حیات اور اس کا نظام زندگی کیا ہے ‘ اور وہ کیا ذرائع ہیں جنہیں کام میں لاکر اس نظام زندگی کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے ؟

Aal-i-Imraan 3:99Listen in Qur'an →
100

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تُطِيعُوا۟ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَٰنِكُمْ كَٰفِرِينَ

مومنو! اگر تم اہلِ کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمھیں ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے

اس کرہ ارض پر اس امت کو اس لئے اٹھایا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر صرف اسلامی نظام زندگی کے برپا کرنے کے لئے اپنے لئے راہ متعین کرے ۔ یہ ایک منفرد ‘ ممتاز اور نمایاں امت ہے ۔ اس کا وجود اسلامی نظام زندگی سے پھوٹا ہے ‘ تاکہ وہ حیات انسانی کے اندر وہ رول ادا کرے جو اس کے سوا کوئی نہیں ادا کرتا ۔ یہ امت اس لئے برپا کی گئی ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کا اقرار کرے اور اسے عملی طور پر نافذ کرے ‘ اور اس نظام کا نشان منزل نظر آرہا ہو ۔ اس میں قرآن وسنت کی نصوص اور احکام عملاً زندگیوں میں چلتے پھرتے نظر آئیں ‘ اسلامی نصوص انسانی شعور ‘ انسانی اخلاق اور انسانی طرز عمل اور انسانی روابط عملاً نظر آئیں۔

امت مسلمہ کے برپا کرنے کا مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا ‘ اس کی راہ اس وقت تک متعین نہیں ہوسکتی اور وہ انسانی زندگی میں یہ چمکدار اور خوبصورت اور ممتاز عملی زندگی اس وقت تک وجود میں نہیں لاسکتی جب تک وہ تمام ہدایات اللہ جل شانہٗ سے اخذ نہ کرے اور انسانی قیادت اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے اصول تسلیم نہ کرے ۔ تمام انسانوں کی راہنمائی کا انکار نہ کردے ‘ تمام انسانی اطاعتوں کو ترک نہ کردے اور تمام انسانوں کی پیروی ترک نہ کردے ۔ اسے یا تو یہ تمام امور سرانجام دینے ہوں گے اور یا پھر اسے کفر ‘ گمراہی اور راہ راست سے انحراف قبول کرنا ہوگا۔

یہ وہ اصول ہے جس کی تاکید قرآن مجید بتکرار کرتا ہے ‘ اور مختلف مواقع پر کرتا ہے ۔ اور یہی وہ اصول ہے جس پر جماعت مسلمہ کا شعور ‘ اس کی سوچ ‘ اس کے اخلاق پروان چڑھے ہیں جہاں بھی اسے موقعہ ملے ۔ اب مواقع میں سے ایک موقعہ یہ تھا ‘ جس میں اہل کتاب رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مباحثہ کررہے تھے اور تحریک اسلامی کو مدینہ میں اہل کتاب کے مکروفریب ‘ خفیہ سازشوں اور عداوتوں کا مقابلہ کرنا پڑرہا تھا ۔ ہاں یہ ہدایات بہر حال مدینہ طیبہ کے ان مخصوص حالات کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ۔ یہ ہدایات امت مسلمہ کے لئے دائمی ہدایات ہیں ۔ ہر زمانے اور ہر دور اور ہرنسل کے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ ہر زمانے اور ہر دور اور ہر نسل کے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ اس لئے کہ امت مسلمہ کا یہ اصول حیات ہے اور یہی اس کا مقصد وجود ہے ۔

اس امت کو اس لئے برپا کیا گیا ہے کہ وہ پوری انسانیت کی قیادت کرے ۔ اب یہ کس منطق کی رو سے جائز ہے کہ وہ جاہلیت کی پیروی کرے حالانکہ اس کا مقصد وجود ہی یہ ہے کہ وہ جاہلیت کا قلع قمع کرے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور انسانوں کا رشتہ اللہ سے جوڑے ۔ انسانوں کی قیادت اسلامی نظام زندگی کے مطابق کرے ۔ اور جب یہ امت مسلمہ قیادت کے مقام سے گرجائے تو متصور ہوگا کہ امت مسلمہ کا وجود نہیں ہے ۔ اور اگر اس کا کوئی وجود ہے تو وہ بھی بےمقصد وجود ہے ۔ اسے تو اس لئے برپا کیا گیا تھا کہ وہ ایک صحیح تصورحیات کے مطابق انسانیت کی قیادت کرے ۔ اس کا عقیدہ بالکل درست ہو ‘ اس کا شعور استوار ہو ‘ اس کے اخلاق معیاری ہوں ‘ اس کا نظام مستحکم ہو اور اس کی تنظیم مضبوط ہو ۔ صرف ایسے حالات ہی میں انسانی عقل نشو ونما پاسکتی ہے اور اس کے لئے مزید راہیں میسر ہوسکتی ہیں ۔ اور وہ اس پوری کائنات سے اچھی طرح متعارف ہوسکتی ہے ۔ وہ اس کائنات کے بھیدوں سے آگاہ ہوسکتی ہے اور وہ اس کائنات کی بھلائی کے لئے استعمال میں لانے کا حکم دیتی ہے ۔ وہ ان قوتوں ‘ اس کے ذخیروں کو مسخر کرسکتی ہے ۔ لیکن امت کی قیادت عالیہ جو تسخیر کائنات کا حکم دیتی ہے ‘ وہ ان تمام قوتوں کو انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال میں لانے کا حکم دیتی ہے ۔ وہ ان قوتوں کو مسخر کرکے انہیں اس کائنات کی تباہی اور اس کائنات کی بربادی کے لئے کام میں نہیں لاتی ۔ اور نہ وہ ان قدرتی قوتوں کو اس سے دریافت کرتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرے اور شہوات حیوانیہ میں گم ہوجائے ۔ تسخیر کائنات کا مقصد صرف یہ ہے کہ امت اپنے ایمان …

Aal-i-Imraan 3:100Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.