الٓمٓ
الم
درس 23 ایک نظر میں
اگر ہم ان روایات کو لے لیں ‘ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اس سورت کی ابتدائی 80 سے کچھ اوپر آیات اس موقع پر نازل ہوئیں جب وفد نجران رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مناظرے کے لئے آیا تھا ‘ یہ وفد عیسائیوں پر مشتمل تھا ‘ اور یہ لوگ رسول ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے تھے ۔ تو پھر اس سبق کی تمام آیات گویا اس موقع پر نازل شدہ تصور ہوں گی ‘ لیکن یہ روایات خود اس حقیقت کو بیان کردیتی ہیں کہ یہ وفد عام الوفود 9 ھ میں آیا تھا ‘ اس وقت غلبہ اسلام کا شہرہ جزیرۃ العرب اور اس کے اردگرد علاقوں میں پھیل گیا تھا اور جزیرۃ العرب کے مختلف علاقوں سے وفود رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ملاقات کے لئے دھڑا دھڑ حاضر ہورہے تھے ‘ ان وفود میں سے بعض تو معلومات حاصل کرنے آئے تھے اور بعض ایسے تھے جو جدید حالات میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ معاہدات کی پیشکش بھی کرتے تھے ۔
جیسا کہ میں اس سے پہلے کہہ چکا ہوں ‘ کہ ان آیات میں جن موضوعات پر بحث کی گئی ہے اور جس انداز سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ دونوں اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ آیات ہجرت کے بعد قریبی زمانہ میں نازل ہوئیں ۔ اس سورت میں زیادہ تر اہل کتاب کے ساتھ نظریاتی مباحثہ ہے ۔ ان کے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر جو شبہات پیدا ہوتے تھے ۔ ان کے جوابات ہیں ‘ یا ان اعتراضات کے جوابات ہیں جو وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی صحت کے بارے میں کیا کرتے تھے ‘ یا وہ ہدایات ہیں جو اہل کتاب کے حوالے سے حقیقت توحید اور شرک کے بارے میں نازل ہوئیں ‘ یا وہ خبرداری ہے جو اللہ نے یہاں اہل کتاب کی سازشوں کے مقابلے میں دی اور کہا کہ تم ان کے دھوکے میں نہ آؤ ‘ اپنے موقف پر ثابت قدم رہو ‘ ان موضوعات و مباحث کی وجہ سے میرا میلان اس طرف ہے کہ یہ آیات وفد نجران کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ۔ کیونکہ یہ وفد 9 ھ میں آیا تھا ‘ اس لئے کہ ان آیات کے نزول کے لئے 9 ھ سے پہلے بھی مدینہ طیبہ میں ایسے حالات تھے کہ ان کا نزول ان میں ہوایا یہ پوری سورت ان میں نازل ہوگئی ہو۔ اس لئے ان آیات کی تشریح کے وقت ہم واقعہ نجران ہی کو پیش نظر نہ رکھیں گے بلکہ اس سورت کا خطاب عام اہل کتاب کو سمجھاجائے گا ۔ کیونکہ تاریخی شواہد کے مطابق یہ واقعہ بہت متاخر ہے ۔
جیسا کہ ہم نے اوپر تمہید میں کہا ‘ ان آیات میں ‘ اس اصلی کشمکش کا ذکر ہے ‘ جو اس وقت تحریک اسلامی اور اس کے عقائد و نظریات اور اہل کتاب اور مشرکین اور ان کے عقائد ونظریات کے درمیان برپاتھی ‘ یہ جنگ ظہور اسلام کے ساتھ ہی شروع تھی ‘ اس میں کوئی وقفہ نہ تھا ‘ خصوصاً اس وقت اس کشمکش میں بڑی تیزی آگئی تھی جب تحریک اسلامی کا ہیڈ کو راٹر مدینہ منتقل ہوا اور وہاں ایک اسلامی حکومت قائم ہوگئی ۔ اس نظریاتی جنگ میں مشرکین اور یہودی شانہ بشانہ لڑ رہے تھے ۔ اور ان کی اس مشترکہ مہم کو قرآن کریم تفصیل سے ریکارڈ کرتا ہے۔
یہ بات بعید از امکان نہیں ہے کہ جزیرۃ العرب کے اطراف واکناف میں جو عیسائی آباد تھے ‘ ان میں مذہبی پیشوا بھی اس نظریاتی جنگ میں کسی نہ کسی صورت میں شریک ہوں ‘ نیز یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو صحیح عقائد ونظریات پیش کئے تھے ان کا علم ان عیسائیوں کو ہوگیا ہو ‘ اور وہ اس موضوع پر رسول اکرم ﷺ کے ساتھ بحث و مباحثہ کے لئے آئے ہوں ‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عیسائی اپنی اصل راہ سے ہٹ گئے تھے ۔ اور اس موضوع پر قرآن کریم تنقید کرچکا تھا ‘ اور عقیدہ توحید کے حوالے سے عیسائیوں پر رد آگیا تھا۔
اس سبق میں ابتداء ہی اسلام کے عقیدہ توحید کو اہل شرک کے انحرافات اور شبہات سے پاک وصاف کرکے بیان کیا گیا ہے ‘ اور یہ قرار دیا گیا کہ قرآن کریم حق و باطل کے درمیان فرقان ہے ‘ اور جو شخص بھی آیات الٰہی کا انکار کرے گا وہ کافر تصور ہوگا۔ چاہے وہ اہل کتاب …