Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 1–10 of 200

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓمٓ

الم

درس 23 ایک نظر میں

اگر ہم ان روایات کو لے لیں ‘ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اس سورت کی ابتدائی 80 سے کچھ اوپر آیات اس موقع پر نازل ہوئیں جب وفد نجران رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مناظرے کے لئے آیا تھا ‘ یہ وفد عیسائیوں پر مشتمل تھا ‘ اور یہ لوگ رسول ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے تھے ۔ تو پھر اس سبق کی تمام آیات گویا اس موقع پر نازل شدہ تصور ہوں گی ‘ لیکن یہ روایات خود اس حقیقت کو بیان کردیتی ہیں کہ یہ وفد عام الوفود 9 ھ میں آیا تھا ‘ اس وقت غلبہ اسلام کا شہرہ جزیرۃ العرب اور اس کے اردگرد علاقوں میں پھیل گیا تھا اور جزیرۃ العرب کے مختلف علاقوں سے وفود رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ملاقات کے لئے دھڑا دھڑ حاضر ہورہے تھے ‘ ان وفود میں سے بعض تو معلومات حاصل کرنے آئے تھے اور بعض ایسے تھے جو جدید حالات میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ معاہدات کی پیشکش بھی کرتے تھے ۔

جیسا کہ میں اس سے پہلے کہہ چکا ہوں ‘ کہ ان آیات میں جن موضوعات پر بحث کی گئی ہے اور جس انداز سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ دونوں اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ آیات ہجرت کے بعد قریبی زمانہ میں نازل ہوئیں ۔ اس سورت میں زیادہ تر اہل کتاب کے ساتھ نظریاتی مباحثہ ہے ۔ ان کے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر جو شبہات پیدا ہوتے تھے ۔ ان کے جوابات ہیں ‘ یا ان اعتراضات کے جوابات ہیں جو وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی صحت کے بارے میں کیا کرتے تھے ‘ یا وہ ہدایات ہیں جو اہل کتاب کے حوالے سے حقیقت توحید اور شرک کے بارے میں نازل ہوئیں ‘ یا وہ خبرداری ہے جو اللہ نے یہاں اہل کتاب کی سازشوں کے مقابلے میں دی اور کہا کہ تم ان کے دھوکے میں نہ آؤ ‘ اپنے موقف پر ثابت قدم رہو ‘ ان موضوعات و مباحث کی وجہ سے میرا میلان اس طرف ہے کہ یہ آیات وفد نجران کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ۔ کیونکہ یہ وفد 9 ھ میں آیا تھا ‘ اس لئے کہ ان آیات کے نزول کے لئے 9 ھ سے پہلے بھی مدینہ طیبہ میں ایسے حالات تھے کہ ان کا نزول ان میں ہوایا یہ پوری سورت ان میں نازل ہوگئی ہو۔ اس لئے ان آیات کی تشریح کے وقت ہم واقعہ نجران ہی کو پیش نظر نہ رکھیں گے بلکہ اس سورت کا خطاب عام اہل کتاب کو سمجھاجائے گا ۔ کیونکہ تاریخی شواہد کے مطابق یہ واقعہ بہت متاخر ہے ۔

جیسا کہ ہم نے اوپر تمہید میں کہا ‘ ان آیات میں ‘ اس اصلی کشمکش کا ذکر ہے ‘ جو اس وقت تحریک اسلامی اور اس کے عقائد و نظریات اور اہل کتاب اور مشرکین اور ان کے عقائد ونظریات کے درمیان برپاتھی ‘ یہ جنگ ظہور اسلام کے ساتھ ہی شروع تھی ‘ اس میں کوئی وقفہ نہ تھا ‘ خصوصاً اس وقت اس کشمکش میں بڑی تیزی آگئی تھی جب تحریک اسلامی کا ہیڈ کو راٹر مدینہ منتقل ہوا اور وہاں ایک اسلامی حکومت قائم ہوگئی ۔ اس نظریاتی جنگ میں مشرکین اور یہودی شانہ بشانہ لڑ رہے تھے ۔ اور ان کی اس مشترکہ مہم کو قرآن کریم تفصیل سے ریکارڈ کرتا ہے۔

یہ بات بعید از امکان نہیں ہے کہ جزیرۃ العرب کے اطراف واکناف میں جو عیسائی آباد تھے ‘ ان میں مذہبی پیشوا بھی اس نظریاتی جنگ میں کسی نہ کسی صورت میں شریک ہوں ‘ نیز یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو صحیح عقائد ونظریات پیش کئے تھے ان کا علم ان عیسائیوں کو ہوگیا ہو ‘ اور وہ اس موضوع پر رسول اکرم ﷺ کے ساتھ بحث و مباحثہ کے لئے آئے ہوں ‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عیسائی اپنی اصل راہ سے ہٹ گئے تھے ۔ اور اس موضوع پر قرآن کریم تنقید کرچکا تھا ‘ اور عقیدہ توحید کے حوالے سے عیسائیوں پر رد آگیا تھا۔

اس سبق میں ابتداء ہی اسلام کے عقیدہ توحید کو اہل شرک کے انحرافات اور شبہات سے پاک وصاف کرکے بیان کیا گیا ہے ‘ اور یہ قرار دیا گیا کہ قرآن کریم حق و باطل کے درمیان فرقان ہے ‘ اور جو شخص بھی آیات الٰہی کا انکار کرے گا وہ کافر تصور ہوگا۔ چاہے وہ اہل کتاب …

Aal-i-Imraan 3:1Listen in Qur'an →
2

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ

خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا

یوں اس سورت کا آغاز ان منکرین اسلام اہل کتاب پر تنقید سے ہوتا ہے ‘ جو رسول ﷺ کی رسالت کا انکار کررہے تھے ‘ حالانکہ وہ اپنے دین کی بنیاد پر اور اہل کتاب ہونے کے ناطے نبوت ‘ رسالت ‘ کتب سماوی اور وحی الٰہی کے تصور سے واقف تھے ‘ اس لئے ان کا فرض تھا کہ سب سے پہلے اسلام لاتے اور رسول ﷺ کی تصدیق کرتے بشرطیکہ ان کی تصدیق صرف دلیل اور حجت کے اطمینان پر موقوف ہوتی۔

اس فیصلہ کن حملے میں ‘ ان تمام شبہات کی بیخ کنی کردی جاتی ‘ جو اہل کتاب کے دلوں میں پائے جاتے تھے ‘ یا جنہیں وہ جان بوجھ کر مومنین کے دلوں میں ڈالنا چاہتے تھے ‘ اس لئے ان کا پروپیگنڈا کرتے تھے ۔ اس تنقید میں ان راستوں اور ان دروازوں کی نشان دہی کردی گئی ہے جن کے ذریعہ یہ شبہات داخل ہوتے تھے ۔ اس لئے یہاں انسدادی طور پر بتادیا گیا کہ اللہ کی آیات سے متعلق سچے مومنوں کا موقف کیا ہے اور ان کے بارے میں مخالفین اور منحرفین کی سوچ کیا ہے ۔ سورت کے اس آغاز میں سچے اہل ایمان کا تعلق باللہ ‘ اللہ کے دربار میں ان کی عاجزی اور ان کی التجاؤں کی ایک خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی صفات کے بارے میں یہ تصور رکھتے ہیں ۔ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ…………… ” اللہ وہ زندہ جاوید ہستی ہے ‘ جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ “

یہ خالص اور صاف ستھری توحید دراصل ایک مسلمان کے عقیدہ اور تمام غیر مسلموں کے عقائد کے درمیان ایک خط امتیاز کھینچ دیتی ‘ جن میں ملحدین اور مشرکین بھی شامل ہیں اور منحرفین اہل کتاب بھی شامل ہیں چاہے یہودی ہوں یا نصاریٰ ہوں ‘ اپنے تصورات اور عقائد کے اختلاف کے مطابق ‘ غرض توحید ایک مسلم اور تمام غیر مسلموں کے عقائد کے درمیان ایک خط امتیاز ہے ‘ اس لئے کہ یہاں نظام زندگی کا تعین تصور حیات اور عقائد پر ہوتا ہے ۔ یہ عقیدہ ہی جو نظام زندگی کا تعین کرتا ہے ۔

اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ‘ خدائی میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ‘ وہ زندہ ہے ‘ اور حیات اس کی ذاتی صفت ہے ۔ وہ ہر قید سے آزاد ہے ، زندہ مطلق ہے ‘ وہ القیوم ہے ‘ اس کائنات کو اسی نے تھاما ہوا ہے ‘ زندگی اس کی وجہ سے قائم ہے ‘ ہر موجود اس کی وجہ سے موجود ہے ۔ پھر وہ سب کو قائم رکھے ہوئے ہے ۔ اس لئے اس کے بغیر کائنات میں نہ کوئی ہستی موجود رہ سکتی ہے اور نہ موجود ہوسکتی ہے۔

یہ ہے خط امتیاز ایک تصور حیات اور عقیدہ میں اور یہی فرق ہے ایک مسلم کے طرزعمل اور نظام زندگی میں بمقابلہ ایک غیر مسلم ‘ اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اسلامی تصور توحید اور اسلامی عقائد اور ان کے عقائد باطلہ اور عقائد جاہلیت کے اندھیروں کے درمیان بھی امتیاز ہوجاتا ہے ۔ جاہلیت کے تصورات میں مشرکین عرب کے اس وقت کے تصورات بھی شامل ہیں اور یہود ونصاریٰ کے وہ منحرف شدہ تصورات بھی جن کے وہ قائل تھے ۔

قرآن کریم نے یہودیوں کے بارے میں ‘ یہ بات نقل کی ہے کہ وہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کا مقام دیتے تھے ‘ قرآن کریم نے یہودیوں کے جس باطل عقیدے کا ذکر کیا ہے آج یہودی جس کتاب مقدس کے قائل ہیں اس میں موجود ہے ‘ مثلاً سفر تکوین اصحاح ششم میں ذکر ہے۔

” جب روئے زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور ان کی بیٹیاں پیدا ہوئیں ‘ تو خدا کے ” بیٹوں “ نے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا کہ وہ خوبصورت ہیں اور جن کو انہوں نے جنا ان سے بیاہ کرلیا۔ تب خداوند نے کہا کہ میری روح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے اس کی عمر ایک سو بیس برس ہوگی ۔ ان دنوں میں زمین پر جبار تھے اور بعد میں جب خداوند کے بیٹے انسانوں کی بیٹیوں کے پاس گئے تو ان کے لئے ان سے اولاد ہوئی ۔ یہی قدیم زمانے کے سورما ہیں جو بڑے نامور ہوئے۔ “

مسیحی تصور ات میں جو خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں ‘ قرآن کریم نے ان کا قول نقل کیا ہے کہ ” اللہ تینوں میں سے …

Aal-i-Imraan 3:2Listen in Qur'an →
3

نَزَّلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ

اس نے (اے محمدﷺ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی

اس آیت کے پہلے جملے میں اسلامی تصور حیات کے تمام اساسی حقائق ذکر ہوئے ہیں ‘ اہل کتاب وغیرہ میں سے جو لوگ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے منکر تھے۔ ان کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ نازل ہوا وہ درست ہے۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ ہدایت کا نزول صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے۔ تمام کتب سماوی اس کی جانب سے ہیں ‘ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ حی اور قیوم ہے ‘ وہی ہے جس نے آپ پر یہ قرآن کریم اتارا اور وہی ہے جس نے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری ‘ وہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اتاری ‘ اس لئے اللہ کی الوہیت اور اس کی بندگی میں اس کے ساتھ کسی کا اشتراک و اختلاط نہ ہوگا۔ وہی ایک الٰہ ہے جو اپنے مختار بندوں پر کتابیں نازل کرتا ہے ۔ اور وہ بندے اس سے ہدایت اخذ کرتے ہیں ۔ اور وہ اخذ کرنے والے بھی اللہ کے بندے ہی ہوتے ہیں اگرچہ وہ انبیاء ہوں۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ کتب سماوی میں جو راہ ہدایت وہ ایک دین ہے ‘ اس لئے کہ آپ پر یہ کتاب جو سچائی لے کر آئی ہے ‘ وہ ان تمام صداقتوں کی تصدیق کرتی ہے ‘ جو انبیاء سابقہ پر نازل ہوئیں۔ مثلاً تورات اور انجیل میں ‘ اور ان سب کتابوں اور رسالتوں کا ہدف ایک ہی رہا ہے یعنی لوگوں کو راہ راست پر لانا ‘ پھر یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی ہے۔ اس کی ایک دوسری صفت بھی ہے ۔ وہ یہ کہ چونکہ کتب سماوی کے اندر ان کے ماننے والوں نے مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت تحریفات کی ہیں اس لئے یہ فرقان بھی ہے ۔ یہ ان کتب سماوی کی اصل ہدایات اور ان محرفہ ہدایات کے درمیان فرق کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کیا اصل ہے اور کیا انحراف اور کیا تحریف ہے ‘ جیسا کہ اس کا ایک نمونہ ہم نے آرنلڈ کی کتاب دعوت الی الاسلام کے طویل اقتباس میں دیا تھا۔

اس میں ضمناً یہ فیصلہ بھی کردیا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے لئے اس رسالت جدیدہ کے انکار کرنے کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس رسالت کی راہ بھی وہی ہے جس پر سابقہ رسالتیں تھیں ۔ یہ کتاب اسی طرح نازل ہوئی جس طرح اس سے قبل کتابیں نازل ہوئیں ۔ جس طرح اس سے قبل ایک بشر رسول پر نازل ہوئیں ‘ اسی طرح یہ کتاب بھی ایک بشر پر نازل ہوئی ہے ۔ اور یہ کتاب ان تمام کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ جس طرح یہ حق پر مشتمل ہے ‘ اسی طرح وہ کتابیں بھی سچائی پر مشتمل تھیں ۔ اور اس کتاب کو اسی ذات نے اتارا جس کا حق ہے کہ وہ سچائی اتارے ‘ اس لئے کہ صرف اسی ذات کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انسانوں کے لئے نظام زندگی تجویز کرے ‘ ان کے فکری تصورات ان کے لئے وضع کرے ۔ ان کے لئے شریعت تجویز کرے ۔ ان کے لئے اخلاق وآداب کا نظام تجویز کرے اور یہ تمام کتابیں اس کتاب منزل میں موجود ہوں۔

اس آیت کے دوسرے حصے میں ان لوگوں کے لئے ایک خوفناک تنبیہ کا ذکر ہے جو بغیر کسی حجت کے اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ عزیز ہے ‘ وہ بےپناہ قوتوں کا مالک ہے اور اس کی پکڑ شدید ہوتی ہے اور کبھی انتقام بھی لیتا ہے جو بہت خوفناک ہوتا ہے ۔ اور وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں گویا وہ تمام دینوں کا انکار کرتے ہیں جو اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہے ‘ اہل کتاب نے پہلے اس کتاب کا انکار کیا جو ان پر نازل ہوئی ہے اور جس کی انہوں نے تحریف کی ہے۔ وہی اب اس کتاب کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنی کتابوں کی بھی تحریف کی تھی ۔ اس لئے یہ کتاب جدید ان کے لئے فرقان ہے ۔ اس لئے یہاں یہ شدید دہمکی انہی کو دی گئی ہے ۔ اور انہی سے کہا گیا ہے کہ تم اللہ کے انتقام سے بچو۔

Aal-i-Imraan 3:3Listen in Qur'an →
4

مِن قَبْلُ هُدًۭى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ ٱلْفُرْقَانَ ۗ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۭ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍ

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

اس آیت کے پہلے جملے میں اسلامی تصور حیات کے تمام اساسی حقائق ذکر ہوئے ہیں ‘ اہل کتاب وغیرہ میں سے جو لوگ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے منکر تھے۔ ان کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ نازل ہوا وہ درست ہے۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ ہدایت کا نزول صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے۔ تمام کتب سماوی اس کی جانب سے ہیں ‘ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ حی اور قیوم ہے ‘ وہی ہے جس نے آپ پر یہ قرآن کریم اتارا اور وہی ہے جس نے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری ‘ وہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اتاری ‘ اس لئے اللہ کی الوہیت اور اس کی بندگی میں اس کے ساتھ کسی کا اشتراک و اختلاط نہ ہوگا۔ وہی ایک الٰہ ہے جو اپنے مختار بندوں پر کتابیں نازل کرتا ہے ۔ اور وہ بندے اس سے ہدایت اخذ کرتے ہیں ۔ اور وہ اخذ کرنے والے بھی اللہ کے بندے ہی ہوتے ہیں اگرچہ وہ انبیاء ہوں۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ کتب سماوی میں جو راہ ہدایت وہ ایک دین ہے ‘ اس لئے کہ آپ پر یہ کتاب جو سچائی لے کر آئی ہے ‘ وہ ان تمام صداقتوں کی تصدیق کرتی ہے ‘ جو انبیاء سابقہ پر نازل ہوئیں۔ مثلاً تورات اور انجیل میں ‘ اور ان سب کتابوں اور رسالتوں کا ہدف ایک ہی رہا ہے یعنی لوگوں کو راہ راست پر لانا ‘ پھر یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی ہے۔ اس کی ایک دوسری صفت بھی ہے ۔ وہ یہ کہ چونکہ کتب سماوی کے اندر ان کے ماننے والوں نے مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت تحریفات کی ہیں اس لئے یہ فرقان بھی ہے ۔ یہ ان کتب سماوی کی اصل ہدایات اور ان محرفہ ہدایات کے درمیان فرق کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کیا اصل ہے اور کیا انحراف اور کیا تحریف ہے ‘ جیسا کہ اس کا ایک نمونہ ہم نے آرنلڈ کی کتاب دعوت الی الاسلام کے طویل اقتباس میں دیا تھا۔

اس میں ضمناً یہ فیصلہ بھی کردیا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے لئے اس رسالت جدیدہ کے انکار کرنے کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس رسالت کی راہ بھی وہی ہے جس پر سابقہ رسالتیں تھیں ۔ یہ کتاب اسی طرح نازل ہوئی جس طرح اس سے قبل کتابیں نازل ہوئیں ۔ جس طرح اس سے قبل ایک بشر رسول پر نازل ہوئیں ‘ اسی طرح یہ کتاب بھی ایک بشر پر نازل ہوئی ہے ۔ اور یہ کتاب ان تمام کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ جس طرح یہ حق پر مشتمل ہے ‘ اسی طرح وہ کتابیں بھی سچائی پر مشتمل تھیں ۔ اور اس کتاب کو اسی ذات نے اتارا جس کا حق ہے کہ وہ سچائی اتارے ‘ اس لئے کہ صرف اسی ذات کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انسانوں کے لئے نظام زندگی تجویز کرے ‘ ان کے فکری تصورات ان کے لئے وضع کرے ۔ ان کے لئے شریعت تجویز کرے ۔ ان کے لئے اخلاق وآداب کا نظام تجویز کرے اور یہ تمام کتابیں اس کتاب منزل میں موجود ہوں۔

اس آیت کے دوسرے حصے میں ان لوگوں کے لئے ایک خوفناک تنبیہ کا ذکر ہے جو بغیر کسی حجت کے اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ عزیز ہے ‘ وہ بےپناہ قوتوں کا مالک ہے اور اس کی پکڑ شدید ہوتی ہے اور کبھی انتقام بھی لیتا ہے جو بہت خوفناک ہوتا ہے ۔ اور وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں گویا وہ تمام دینوں کا انکار کرتے ہیں جو اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہے ‘ اہل کتاب نے پہلے اس کتاب کا انکار کیا جو ان پر نازل ہوئی ہے اور جس کی انہوں نے تحریف کی ہے۔ وہی اب اس کتاب کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنی کتابوں کی بھی تحریف کی تھی ۔ اس لئے یہ کتاب جدید ان کے لئے فرقان ہے ۔ اس لئے یہاں یہ شدید دہمکی انہی کو دی گئی ہے ۔ اور انہی سے کہا گیا ہے کہ تم اللہ کے انتقام سے بچو۔

Aal-i-Imraan 3:4Listen in Qur'an →
5

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَىْءٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ

خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں

عذاب الٰہی اور انتقام الٰہی کی دہمکی کے بعد انہیں یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کی ذات سے کسی کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس سے نہ کوئی چیز مخفی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی چیز بچ سکتی ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ ………… ” اللہ وہ ذات ہے جس پر زمین و آسمان دونوں کے اندر پائے جانے والی کوئی شئے مخفی نہیں ہے ۔ “ یہ کہ اس پر کوئی بات مخفی نہیں ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اس لئے کہ وہی الٰہ ہے ‘ وہی ہے جس نے اس کائنات کو تھاما ہوا ہے ۔ اس لئے اس کا علم محیط ہے ، سورت کے آغاز میں اس کی صفت قیومیت کا ذکر موجود ہے ۔ نیز یہاں خصوصاًاس لئے بھی صفت احاطہ علم کا ذکر کیا گیا کہ اس آیت میں ایک خوفناک ‘ ڈراوا بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ رکھی جائے ۔ ارض وسماء میں کوئی شیئ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس سے کسی نیت و ارادہ کو بھی پوشیدہ نہیں رکھاجاسکتا ۔ کوئی تدبیر بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس طرح اس کے نظام میں یہ بھی ممکن نہیں ہے کوئی سزا سے بچ نکلے گا یا اس کے حیطہ علم سے کچھ باہر رہ جائے گا ۔

اللہ کے اس لطیف اور دقیق علم کے سائے ‘ انسانی شعور کو خود اس کی پیدائش کے سلسلے میں ایک ٹچ دیا جاتا ہے ‘ انسانی شعور کو یہ چٹکی ‘ خود تخلیق انسان کے بارے میں دی جاتی ہے ۔ انسان کی تخلیق جو پردہ غیب میں ‘ رحم مادر کے پس پردہ اندھیروں میں عمل پذیر ہوتی ہے ‘ جس کے بارے میں نہ انسان کا علم رسائی حاصل کرسکا ہے اور نہ ہی اس کا ادراک کرتا ہے۔ اور نہ ہی وہ عمل تخلیق انسان کے دائرہ قدرت میں آسکا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:5Listen in Qur'an →
6

هُوَ ٱلَّذِى يُصَوِّرُكُمْ فِى ٱلْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

وہ رحم مادر میں تمہیں ایک شکل و حرارت دیتا ہے ‘ جس طرح اس کی مشیئت ہوتی ہے پھر وہ تمہیں اس شکل و صورت کے ساتھ مناسب خصوصیات بھی عطا کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کے سوا کوئی ذات اس تصویر سازی میں شریک نہیں ہوتی ‘ یہ کام وہ صرف اپنے ارادے اور اپنی مشیئت سے کرتا ہے ۔” جس طرح چاہتا ہے۔ “ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ “ وہ عزیز ہے۔ “ وہ اس تخلیق اور تصویر سازی پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔” وہ حکیم ہے ‘ یہ تمام تخلیقی عمل بڑی گہری ‘ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس میں نہ کوئی رکاوٹ آتی ہے ‘ اور نہ اس کام میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ “

تخلیق انسان کی طرف یہاں اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے خطاب اہل کتاب سے ہے اور اہل کتاب کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے میں نہایت ہی غلط خیالات اور شکوک و شبہات پائے جاتے تھے ۔ اللہ ہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ کی تصویر کشی کی ‘ جس طرح اس نے چاہا ‘ یہ عقیدہ باطل ہے کہ حضرت عیسیٰ بذات خود رب ہیں ۔ یا خدا ہیں ‘ یا خدا کے بیٹے ہیں یا کوئی لاہوتی ناسوتی اقنوم ہیں۔ اس لئے کہ یہ تصورات ناقابل فہم ناقابل ادراک ہونے کے ساتھ ساتھ ‘ عقیدہ توحید کے صحیح ‘ قابل فہم اور واضح تصور کے بھی خلاف ہیں ۔

اس کے بعد قرآن مجید ان لوگوں کی نشان دہی کرتا ہے جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ۔ اور یہ لوگ وہ ہیں جو قرآن کریم کی قطعی الدلالت آیات کو چھوڑ کر ان آیات کے درپے ہوتے ہیں جن کے مفہوم میں تاویل کا احتمال ہوتا ہے تاکہ وہ ایسی آیات کی غلط تاویل کرکے اسلامی نظریات کے اندر شبہات پیدا کریں ۔ یہ نشان دہی اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل ایمان اور اہل حقائق کی حقیقی صفات بیان کردی جائیں ۔ یہ بتایا جائے کہ ان کا ایمان کس قدر خالص ہے ۔ اور کس طرح اللہ کے قطعی احکام کو بلا چون وچراء عمل میں لاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:6Listen in Qur'an →
7

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ مِنْهُ ءَايَٰتٌۭ مُّحْكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلْكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٌۭ ۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌۭ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنْهُ ٱبْتِغَآءَ ٱلْفِتْنَةِ وَٱبْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِۦ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ وَٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلٌّۭ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں

ایک روایت میں آتا ہے کہ وفد نجران کے عیسائیوں نے رسول ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ سمجھتے ہیں ؟ وہ ان الفاظ سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے عقائد باطلہ ثابت کرنا چاہتے تھے ۔ مثلاً یہ کہ وہ بشر نہیں ‘ روح اللہ ہیں اور روح اللہ کی وہ اپنی تعبیرات کرتے تھے ۔ لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن کریم کی ان آیات کی بات بھی نہ کرتے تھے ۔ جو اس موضوع پر محکمات تھیں ‘ جن میں اللہ کی بےقید وحدانیت کا ذکر تھا۔ اور جن میں اس بات کی قطعی تردیدکردی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک یا اس کا کوئی لڑکا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کا نزول فرمایا اور ان کی اس سازش کا انکشاف کیا جس کی وجہ سے وہ ان متشابہ تعبیرات قرآن سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے ۔ اور قطعی الدلالت آیات سے صرف نظر کرتے تھے ۔

لیکن یہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے ‘ اس میں قرآن مجید کی آیات کے بارے میں مختلف مکتب ہائے فکر کے لوگوں کے مختلف مواقف پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔ چناچہ اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن مجید ایک کتاب ہدایت ہے ۔ اس میں بعض باتیں تو ایسی ہیں جن کا تعلق اصول ایمان اور اسلامی فکر کے بنیادی حقائق سے ہے ۔ بعض میں اسلامی نظام حیات کی تفصیلات دی گئی ہیں اور بعض آیات میں ان غیبی امور کا بیان ہے جن کا صحیح تصور ہماری محدود عقل کے دائرہ قدرت سے باہر ‘ جن پر ادراک انسانی اپنے موجود محدود وسائل علم کے ذریعہ قابو نہیں پاسکتا ۔ اور ان نصوص میں اکثر وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو انسان کے ادراک سے باہر ہیں ۔

قرآن مجید نے پہلے دو امور یعنی عقیدہ اور نظریہ تصورات اور افکار کے بارے میں اور اسلامی نظام حیات اور شریعت کے بارے میں قطعی الدلالت آیات نازل فرمائیں ۔ جن کا تصور بھی ممکن ہے اور جن کے مقاصد بھی بالکل واضح ہیں اور یہی دوشعبے ہیں جو قرآن کا اصل موضوع ہیں ۔ رہے وہ جن کی خبر رسول ﷺ نے خبر دی یا قرآن نے دی اور ہم نے انہیں سنایا پڑھایا وہ غیبی خبریں جو قرآن نے سنائیں ہیں جن میں پیدائش مسیح کی خبر بھی ہے تو اس بارے میں ہدایت یہ ہے کہ جس حد تک انہیں سمجھ سکتے ہو تو ضرور را ہوار ادراک کو طولانی دو لیکن حد ادراک سے آگے ایمان لاؤ کہ بس یہ خالق حقیقی کی جانب سے ایک حق بات اور ماہیت اور کیفیت کا ادراک فی الحال مشکل ہے ‘ اس لئے کہ اپنی ماہیت کے اعتبار سے وہ انسان کے موجودہ ذرائع سے وراء ہے۔

اب رہے وہ لوگ ‘ تو وہ ان آیات پر غور ‘ خود اپنی شخصیت کے حوالے سے کرتے ہیں ‘ اگر وہ صحیح الفکر ہیں تو ان کی سوچ صحیح ہے ۔ اگر ان کی فکر ٹیڑھی ہے تو ان کی سوچ بھی ٹیڑھی ہے ۔ اور وہ اپنی اس ٹیڑھی فطرت کی وجہ سے گمراہ ہوگئے ہیں تو یہ لوگ قرآن کریم صاف ستھری اور واضح آیات سے صرف نظر کرتے ہیں ۔ وہ واضح اصولوں کو ترک کردیتے ہیں ۔ وہ نہایت ہی مفصل ہیں اور جن کے اوپر اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام زندگی قائم ہے ۔ اور یہ لوگ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں جن کی تصدیق کا دارومدار صرف ایمان پر ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب سے نازل کی گئی ہیں ۔

اور یہ کہ ان کے صحیح معنی صرف اللہ جل شانہ کے علم میں ہیں ۔ جیسا کہ انسانی ذرائع علم نسبتی ہیں اور ان کی قوت مدرکہ کا میدان کار محدود ہے ۔ نیز ان کے صحیح فہم کا مدار اس براہ راست الہام اور شعور پر ہے ‘ جو کتاب اللہ کی صداقت کے بارے میں ایک صحیح الفکر آدمی کو حاصل ہوتا ہے کہ یہ پوری کتاب ایک سچی کتاب ہے ۔ اور یہ کہ وہ سچائی کے ساتھ اتاری گئی ہے اور کسی پہلو سے بھی باطل نہ اس پر حملہ آور ہوسکتا ہے ۔ اور ٹیڑھے دل و دماغ والے ان متشابہات کے پیچھے اس لئے پڑے رہتے ہیں کہ وہ ان آیات میں ایسے مواقع تلاش کرلیتے ہیں جن کے ذریعے وہ فتنے پیدا کرتے ہیں ۔ ایسی تاویلات پیدا کرتے ہیں ۔ جس سے اسلامی تصور حیات کے اندر شکوک پیدا کئے …

Aal-i-Imraan 3:7Listen in Qur'an →
8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ

اے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر دیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ان کا اپنے رب کے ساتھ یہ تعلق ہے ‘ اور یہ ایسا تعلق ہے جو ایک صحیح مومن کا ہونا چاہئے ‘ جو اللہ کے کلام اور اللہ کے عہد پر پورا بھروسہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے صحیح شعور کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے ‘ خصوصاً اس وقت جب ایک مومن اللہ کی قضا وقدر پر پختہ یقین بھی رکھتا ہو اور اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں موجزن ہو۔ اور ایک مومن نہ غافل ہوتا ہے ‘ نہ مغرور ہوتا ہے ‘ نہ اپنے روز وشب میں کبھی اپنے فرائض بھولتا ہے۔

قلب مومن کی ضلالت اور گمراہی کے بعد دولت ایمان ملنے کی بڑی قدر دانی ہوتی ہے ۔ اور کسی دھندلے تصور کے بعد اپنی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھ لینے کی اس کے دل میں بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ اور حیرانی و پریشانی کے کے بعد راہ راست پانے سے اسے شعور ہوتا ہے ۔ خلجان اور بےیقینی کے بعد اطمینان پانے پر وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے ‘ وہ دنیا کی تمام غلامیوں سے آزاد ہوکر ایک اللہ کی غلامی میں داخل ہوکر پر مسرت ہوتا ہے اور اسے یہ شعور ہوتا ہے کہ دولت ایمان دیکر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت کچھ دیدیاہے……………اس لئے وہ دوبارہ گمراہی کی راہ سے بہت ہی ڈرتا ہے ‘ چونکہ وہ راہ راست پر آچکا ہوتا ہے اس لئے دوبارہ گمراہی کے نشیب و فراز اور تاریک راہوں میں پھنس جانے سے بہت خوف کھاتا ہے ‘ وہ یوں ڈرتا ہے جس طرح وہ شخص جو ایک خوش گوار موسم میں گھنی چھاؤں میں بیٹھا ہو تو جھلسادینے والی گرمی اور بےآب وگیاہ صحرا کے تصور سے بھی ڈر رہا ہو ‘ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی قدر اور ذوق یقین وہی شخص پاسکتا ہے جس نے بدبختی کے کڑے دن اور الحاد وزندگی کی ذہنی خشکی کے دن دیکھے ہوں ۔ ایسا ہی شخص اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے کہ بےدینی گمراہی اور فسق وفجور کی زندگی کے مقابلے میں ایمانی زندگی کے اندر کس قدر مٹھاس ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ایسے مقامات پر ایک مومن ایسے خضوع وخشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا……………” اے ہمارے رب ! راہ ہدایت دکھانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کردیجیو۔ “ یہ پکارتے ہیں کہ انہیں گمراہی کے بعد ایک عظیم رحمت مل گئی ہے ۔ کہیں وہ لٹ نہ جائے ‘ یہ ایک ایسا انعام ہے جس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہے ۔

وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ……………” ہمیں اپنے خزانہ غیب سے رحمت عطاکر تو ہی فیاض حقیقی ہے۔ “ یعنی یہ لوگ اپنے شعور ایمان کے ذریعہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ خود ان کے دل بھی ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں ۔ اس لئے وہ اپنی ہدایت اور نجات اخروی کے لئے بھی اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ اکثر اوقات یہ دعا فرمایا کرتے تھے ۔” تمام دل اللہ رحمان کی دوانگلیوں کی گرفت میں ہیں ‘ جب وہ دلوں کو سیدھا کرنا چاہے تو سیدھا کردیتا ہے۔ اور جب وہ ٹیڑھا کرنا چاہے تو وہ ٹیڑھا کردیتا ہے۔ “ اور جب ایک مومن کو صحیح طرح اس بات کا شعور حاصل ہوتا ہے تو وہ نہایت گرم جوشی کے ساتھ آستانہ درگاہ الٰہی کے ساتھ چمٹ جاتا ہے ‘ اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کی معاونت اور توفیق کا طلب گار ہوجاتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوکر اس کی رحمت اور اس کے فضل وکرم کا طلبگار ہوتا ہے تاکہ وہ خزانہ محفوظ رہے ‘ جو اس نے اس مومن کو عطا کیا ہے اور وہ کرم باقی رہے جن سے اسے نوازا گیا ہے۔

اس کے بعد روئے سخن اہل کفر کی طرف مڑجاتا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ ان کے بارے میں وہ سنت الٰہی کیا ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی کبھی واقعہ نہیں ہوتی ۔ معنی یہ کہ ان کے گناہوں پر ان سے ضرور مواخذہ ہوگا ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ ‘ اس دین کا انکار کرتے ہیں اور اس کی راہ روکے کھڑے ہوتے ہیں انہیں یہ دہمکی کی جاتی ہے کہ وہ باز آجائیں ‘ رسول ﷺ کے واسطہ سے …

Aal-i-Imraan 3:8Listen in Qur'an →
9

رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ ٱلنَّاسِ لِيَوْمٍۢ لَّا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ

اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا

جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ان کا اپنے رب کے ساتھ یہ تعلق ہے ‘ اور یہ ایسا تعلق ہے جو ایک صحیح مومن کا ہونا چاہئے ‘ جو اللہ کے کلام اور اللہ کے عہد پر پورا بھروسہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے صحیح شعور کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے ‘ خصوصاً اس وقت جب ایک مومن اللہ کی قضا وقدر پر پختہ یقین بھی رکھتا ہو اور اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں موجزن ہو۔ اور ایک مومن نہ غافل ہوتا ہے ‘ نہ مغرور ہوتا ہے ‘ نہ اپنے روز وشب میں کبھی اپنے فرائض بھولتا ہے۔

قلب مومن کی ضلالت اور گمراہی کے بعد دولت ایمان ملنے کی بڑی قدر دانی ہوتی ہے ۔ اور کسی دھندلے تصور کے بعد اپنی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھ لینے کی اس کے دل میں بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ اور حیرانی و پریشانی کے کے بعد راہ راست پانے سے اسے شعور ہوتا ہے ۔ خلجان اور بےیقینی کے بعد اطمینان پانے پر وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے ‘ وہ دنیا کی تمام غلامیوں سے آزاد ہوکر ایک اللہ کی غلامی میں داخل ہوکر پر مسرت ہوتا ہے اور اسے یہ شعور ہوتا ہے کہ دولت ایمان دیکر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت کچھ دیدیاہے……………اس لئے وہ دوبارہ گمراہی کی راہ سے بہت ہی ڈرتا ہے ‘ چونکہ وہ راہ راست پر آچکا ہوتا ہے اس لئے دوبارہ گمراہی کے نشیب و فراز اور تاریک راہوں میں پھنس جانے سے بہت خوف کھاتا ہے ‘ وہ یوں ڈرتا ہے جس طرح وہ شخص جو ایک خوش گوار موسم میں گھنی چھاؤں میں بیٹھا ہو تو جھلسادینے والی گرمی اور بےآب وگیاہ صحرا کے تصور سے بھی ڈر رہا ہو ‘ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی قدر اور ذوق یقین وہی شخص پاسکتا ہے جس نے بدبختی کے کڑے دن اور الحاد وزندگی کی ذہنی خشکی کے دن دیکھے ہوں ۔ ایسا ہی شخص اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے کہ بےدینی گمراہی اور فسق وفجور کی زندگی کے مقابلے میں ایمانی زندگی کے اندر کس قدر مٹھاس ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ایسے مقامات پر ایک مومن ایسے خضوع وخشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا……………” اے ہمارے رب ! راہ ہدایت دکھانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کردیجیو۔ “ یہ پکارتے ہیں کہ انہیں گمراہی کے بعد ایک عظیم رحمت مل گئی ہے ۔ کہیں وہ لٹ نہ جائے ‘ یہ ایک ایسا انعام ہے جس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہے ۔

وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ……………” ہمیں اپنے خزانہ غیب سے رحمت عطاکر تو ہی فیاض حقیقی ہے۔ “ یعنی یہ لوگ اپنے شعور ایمان کے ذریعہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ خود ان کے دل بھی ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں ۔ اس لئے وہ اپنی ہدایت اور نجات اخروی کے لئے بھی اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ اکثر اوقات یہ دعا فرمایا کرتے تھے ۔” تمام دل اللہ رحمان کی دوانگلیوں کی گرفت میں ہیں ‘ جب وہ دلوں کو سیدھا کرنا چاہے تو سیدھا کردیتا ہے۔ اور جب وہ ٹیڑھا کرنا چاہے تو وہ ٹیڑھا کردیتا ہے۔ “ اور جب ایک مومن کو صحیح طرح اس بات کا شعور حاصل ہوتا ہے تو وہ نہایت گرم جوشی کے ساتھ آستانہ درگاہ الٰہی کے ساتھ چمٹ جاتا ہے ‘ اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کی معاونت اور توفیق کا طلب گار ہوجاتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوکر اس کی رحمت اور اس کے فضل وکرم کا طلبگار ہوتا ہے تاکہ وہ خزانہ محفوظ رہے ‘ جو اس نے اس مومن کو عطا کیا ہے اور وہ کرم باقی رہے جن سے اسے نوازا گیا ہے۔

اس کے بعد روئے سخن اہل کفر کی طرف مڑجاتا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ ان کے بارے میں وہ سنت الٰہی کیا ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی کبھی واقعہ نہیں ہوتی ۔ معنی یہ کہ ان کے گناہوں پر ان سے ضرور مواخذہ ہوگا ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ ‘ اس دین کا انکار کرتے ہیں اور اس کی راہ روکے کھڑے ہوتے ہیں انہیں یہ دہمکی کی جاتی ہے کہ وہ باز آجائیں ‘ رسول ﷺ کے واسطہ سے …

Aal-i-Imraan 3:9Listen in Qur'an →
10

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ وَقُودُ ٱلنَّارِ

جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے

یہ آیات بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے کہی گئی ہیں ۔ ان میں یہ دہمکی دی گئی ہے کہ وہ اہل کفر کے انجام پر غور کرلیں ۔ پہلے جو ہوچکا ہے اور آئندہ جو ہونے والا ہے ۔ اس میں ایک لطیف اور عمیق اشارہ ہے اس جانب کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی لیکن یہ ہلاکت اس لئے نہ تھی کہ فرعون فرعون تھا بلکہ اس لئے کہ وہ کافر تھا۔ اور نجات بنی اسرائیل بھی اس لئے نہ تھی کہ وہ قوم بنی اسرائیل سے نسبی رشتہ رکھتے تھے ۔ بلکہ اس لئے تھی کہ وہ اہل ایمان تھے ۔ اس لئے اب اگر وہ کفر اور گمراہی کا رویہ اختیار کریں گے تو وہ نجات کے مستحق نہ ہوں گے ۔ اگر وہ گمراہ ہوگئے تو وہ اہل کفر کہلانے سے نہ بچ سکیں گے ۔ اسی طرح وہ دنیا وآخرت میں اہل کفر کے انجام بد سے لازماً دوچار ہوں گے جیسا کہ بوجہ کفر آل فرعون کا یہ انجام ہوا۔

اسی طرح انہیں بدر کے میدان میں اہل قریش کے مقتل کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ اس صورت حال سے وہ محض اس لئے دوچار ہوئے کہ وہ کفار تھے ۔ اگر وہ بھی کفر پر قائم رہے تو پھر سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ لازماً اسی انجام سے دوچار ہوں گے جن سے اہل قریش دوچار ہوئے۔ اس لئے کہ اس انجام کا اصل سب کفر تھا۔ اللہ کے ہاں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے ‘ نہ وہاں سفارش چلتی ہے ‘ صرف ایمان صحیح ہی وہاں شفیع ہوسکتا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ

” جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ‘ انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ ان کا مال کچھ کام دے گا اور نہ اولاد ‘ وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ “

دنیا میں مال اور اولاد بچاؤ کا سہارا ہوتے ہیں لیکن یہ دونوں چیزیں ‘ اس دن کام نہ دیں گی جس کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس دن کے آنے کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اور اللہ کے وعدے میں کبھی تخلف نہیں ہوتا ۔ اللہ کا وعدہ کبھی ٹلتا نہیں ‘ اہل کفر وہاں جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ یہاں انداز تعبیر ایسا اختیار کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اہل جہنم سے انسانی خصوصیات سلب ہوجائیں گی اور وہ جہنم میں خس و خاشاک کی طرح سوختی کی اشیاء ہوں گے ۔ اور اس وقت نہ مال اور دولت ‘ نہ جاہ اور نہ سلطنت ان کے کچھ کام آئے گی۔

Aal-i-Imraan 3:10Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.