Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 91–100 of 200

91

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌۭ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ ٱلْأَرْضِ ذَهَبًۭا وَلَوِ ٱفْتَدَىٰ بِهِۦٓ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ

جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے وہ اگر (نجات حاصل کرنی چاہیں اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا

اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں اور کفر ہی کی حالت میں فوت ہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والے جہنمی سے پوچھے گا : ” اگر دنیا میں جو بھی چیز ہے تمہاری ہوجائے تو کیا تم اسے (اپنی جان بچانے کے لیے) فدیہ میں دے دو گے ؟ “ وہ کہے گا : ” ہاں “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ” میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم کی پشت میں تھے، اس سے بہت زیادہ آسان بات کا تقاضا کیا تھا کہ شرک نہ کرنا تو میں تمہیں دوزخ میں داخل نہیں کروں گا، لیکن تم نہ مانے اور شرک کرتے رہے۔ “ [ مسلم، صفات المنافقین، باب طلب الکافر الفداء ۔۔ : ٢٨٠٥، عن أنس (رض) ]

Aal-i-Imraan 3:91Listen in Qur'an →
92

لَن تَنَالُوا۟ ٱلْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا۟ مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌۭ

(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ ۔۔ : ” الْبِرَّ “ ” کامل نیکی “ ، ” مِمَّا تُحِبُّوْنَ “ (اس میں سے کچھ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو) عام ہے، یعنی جان و مال، اولاد و اقارب، جاہ و عزت، غرض ہر چیز کو شامل ہے۔ یہ خطاب مسلمانوں کو بھی ہے اور یہود کو بھی۔ مسلمانوں سے خطاب کی مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ پچھلی آیت میں بیان فرمایا ہے کہ کافر کو خرچ کرنے سے کچھ بھی نفع نہیں ہوگا۔ اب اس آیت میں مومنوں کو خرچ کرنے کی کیفیت بتلائی، جس سے آخرت میں انھیں نفع ہوگا۔ - 2 ڛ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ ۔۔ : مقصد یہ کہ انسان جو کچھ بھی فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور انسان کو (بشرطیکہ مسلمان ہو اور اخلاص سے خرچ کرے) اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ اس لیے معمولی چیز خرچ کرنے کو بھی عار نہ سمجھے۔ مگر نیکی میں کامل درجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عزیز ترین چیز صرف کی جائے۔ یہ آیت سن کر اس پر صحابہ کرام (رض) کے اس پر عمل کی ایک دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہ انصاری (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ” یا رسول اللہ میری جائداد میں سے مجھے سب سے محبوب ” بَیْرُحَاء “ باغ ہے (جو عین مسجد نبوی کے سامنے تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا نفیس پانی پیا کرتے تھے) اور اے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) سو میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس کے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں، آپ اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرما دیں۔ “ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الأقارب ۔۔ : ١٤٦١، مختصرًا ]- عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول مجھے خیبر میں سے جو حصہ ملا ہے اس سے بڑھ کر نفیس مال مجھے آج تک حاصل نہیں ہوا، میں نے ارادہ کیا ہے کہ اسے صدقہ کر دوں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اصل اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کے راستے میں تقسیم کر دو ۔ “ چناچہ عمر (رض) نے اسے وقف کردیا۔ [ ابن ماجہ، الصدقات، باب من وقف : ٢٣٩٦، ٢٣٩٧ ]- 3 یہود سے خطاب کی صورت میں شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” شاید یہود کے ذکر میں یہ آیت اس واسطے ذکر فرمائی کہ ان کو اپنی ریاست بہت عزیز تھی، جس کے تھامنے کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع نہ ہوتے تھے، تو جب وہی نہ چھوڑیں تو اللہ کی راہ میں درجۂ ایمان نہ پائیں۔ “ (موضح) - 4 مِمَّا تُحِبُّوْنَ : اللہ کا کرم دیکھیے، بندوں سے ان کی محبوب چیزیں ساری نہیں مانگیں، بلکہ اس میں سے کچھ خرچ کرنے ہی کو کامل نیکی قرار دے دیا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:92Listen in Qur'an →
93

۞ كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلًّۭا لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوْرَىٰةُ ۗ قُلْ فَأْتُوا۟ بِٱلتَّوْرَىٰةِ فَٱتْلُوهَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)

كُلُّ الطَّعَامِ ۔۔ : اوپر کی آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے اثبات میں دلائل پیش کیے اور اہل کتاب پر الزامات قائم کیے ہیں۔ اب یہاں سے ان کے شبہات کا جواب ہے، جو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر پیش کرتے تھے۔ (رازی) جب قرآن نے بیان کیا کہ یہود کے ظلم اور سرکشی کی وجہ سے بہت سی چیزیں ان پر حرام کردی گئیں۔ (النساء : ١٦٠۔ الأنعام : ١٤٦) ورنہ یہ چیزیں ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد نبوت میں حلال تھیں، تو یہود نے ان آیات کو جھٹلایا اور کہنے لگے کہ یہ چیزیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے حرام چلی آئی ہیں، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (شوکانی) بعض مفسرین نے ان آیات (٩٣، ٩٤) کی شان نزول میں لکھا ہے کہ یہود تورات میں نسخ کے قائل نہیں تھے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی یہود نے اسی لیے جھٹلا دیا تھا کہ وہ تورات میں بعض حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور اسی لیے انھوں نے قرآن کے ناسخ و منسوخ پر بھی اعتراض کیا تو ان کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں کہ یہ نسخ تو خود تمہاری شریعت میں بھی موجود ہے کہ جب تک تورات نازل نہیں ہوئی تھی تو کھانے کی تمام چیزیں تمہارے لیے حلال تھیں، جن میں اونٹ کا گوشت اور دودھ بھی شامل ہے، پھر جب یعقوب (علیہ السلام) عرق النساء کے مرض میں مبتلا ہوئے تو انھوں نے صحت یاب ہونے پر بطور نذر اونٹ کا گوشت حرام قرار دے لیا۔ پھر جب تورات نازل ہوئی تو اس میں اونٹ کا گوشت اور دودھ حرام قرار دے دیا گیا۔ (ابن کثیر۔ الکشاف) ( حلال کو حرام قرار دے لینے کی یہ نذر ان کی شریعت میں جائز تھی۔ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ایک واقعہ میں شہد پینے کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا تھا، گو یہ نذر نہ تھی مگر قرآن نے اس قسم کی نذر سے اور حلال کو حرام کرنے سے منع فرما دیا اور کفارہ مقرر فرما دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة تحریم۔ - بعض نے لکھا ہے کہ یہود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے سلسلہ میں یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ یہ پیغمبر خود کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا دعوے دار بتاتا ہے اور اونٹ کا گوشت کھاتا ہے، حالانکہ یہ گوشت ملت ابراہیمی میں حرام ہے، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ تورات کے اترنے سے پہلے تو یہ سب چیزیں حلال تھیں، پھر ملت ابراہیمی میں یہ کیسے حرام ہوسکتی ہیں، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو تورات میں دکھاؤ، ورنہ اللہ تعالیٰ پر اس قسم کے بہتان گھڑنے سے باز رہو۔ (ابن کثیر)- مسند احمد میں ابن عباس (رض) سے یہود کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چار سوال اور ان کے جواب مذکور ہیں۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ کھانے کی وہ کون سی چیزیں تھیں جنھیں یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے لیے حرام قرار دے لیا تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) جب سخت بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری بہت طول اختیار کرگئی تو انھوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ انھیں شفا عطا فرما دے تو وہ اپنے پسندیدہ کھانے اور پسندیدہ مشروب کو ترک کردیں گے اور ان کا پسندیدہ کھانا اونٹ کا گوشت اور پسندیدہ مشروب اونٹ کا دودھ تھا۔ یہ بات سن کر یہود نے آپ کی تصدیق کی، آپ نے فرمایا : ” اے اللہ تو ان پر گواہ ہوجا۔ [ احمد : ١ ٢٧٨، ح : ٢٥١٨۔ المعجم الکبیر للطبرانی : ١٢؍١٩٠، ١٩١، ح : ١٣٠١٢ ] اس واقعہ کی ( لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْن ) سے مناسبت بھی ظاہر ہے۔

Aal-i-Imraan 3:93Listen in Qur'an →
94

فَمَنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹے افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں

Explained together with ayah 93

Aal-i-Imraan 3:94Listen in Qur'an →
95

قُلْ صَدَقَ ٱللَّهُ ۗ فَٱتَّبِعُوا۟ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ : یعنی اللہ تعالیٰ کا بیان صدق پر مبنی ہے کہ کھانے کی یہ قسم پہلے حلال تھی، اس کے بعد اسرائیل اور ان کی اولاد پر حرام کردی گئی، لہٰذا ” نسخ “ صحیح ہے اور تمہارا شبہ باطل ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ان کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے، یہ عین ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے مطابق ہے۔ لہٰذا تم بھی دین اسلام میں داخل ہوجاؤ، جو اصول و فروع کے اعتبار سے عین دین ابراہیم کے مطابق ہے۔ (ابن کثیر)

Aal-i-Imraan 3:95Listen in Qur'an →
96

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍۢ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكًۭا وَهُدًۭى لِّلْعَٰلَمِينَ

پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے بابرکت اور جہاں کے لیے موجبِ ہدایت

اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ : یہ یہود کے دوسرے شبہ کا جواب ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے شام کی طرف ہجرت کی اور ان کی اولاد میں سے تمام انبیاء شام میں ہوئے، ان کا قبلہ بیت المقدس تھا اور مسلمانوں نے اس قدیم قبلہ کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ بنا لیا ہے، پھر یہ ملت ابراہیم کے متبع کیسے ہوسکتے ہیں ؟ قرآن نے بتایا کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ تو کعبہ ہے، جو ” بکہ “ میں ہے۔ بکہ مکہ ہی کا نام ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا۔ اس پر بہت سے واضح دلائل موجود ہیں۔ جن میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ دور جاہلیت سے یہ محترم چلا آ رہا ہے کہ اگر کسی کے باپ کا قاتل بھی اس میں داخل ہوجائے تو وہ اس سے تعرض نہیں کرتا، نیز اس میں مقام ابراہیم، یعنی وہ پتھر ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے بانی ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور یہ کہ یہی ابراہیمی قبلہ ہے، کیونکہ بیت المقدس کی تعمیر کعبۃ اللہ سے چالیس برس بعد ہوئی۔- ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : ” اے اللہ کے رسول روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟ “ آپ نے فرمایا : ” مسجد حرام۔ “ پوچھا : ” پھر کون سی ؟ “ آپ نے فرمایا : ” مسجد اقصیٰ ۔ “ پوچھا : ” ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے ؟ “ آپ نے فرمایا : ” چالیس سال۔ “ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، بابٌ : ٣٣٦٦ ]

Aal-i-Imraan 3:96Listen in Qur'an →
97

فِيهِ ءَايَٰتٌۢ بَيِّنَٰتٌۭ مَّقَامُ إِبْرَٰهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنًۭا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلْبَيْتِ مَنِ ٱسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًۭا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَٰلَمِينَ

اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے

وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کی (شہادت) کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ “ [ بخاری، الإیمان، باب دعاؤکم إیمانکم : ٨، عن ابن عباس (رض) ] ہر عاقل و بالغ مسلمان پر جو کعبہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے، اس پر عمر بھر میں ایک مرتبہ حج فرض ہے۔ [ مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر : ١٣٣٧ ]- مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا : استطاعت کی تفسیر حدیث میں زاد راہ اور سواری سے کی گئی ہے۔ [ ترمذی، عن علی عن رسول اللہ، الحج، باب ما جاء من التغلی٭۔۔ : ٨١٢ ] شیخ البانی (رض) نے صحیح الترغیب میں اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن تیمیہ (رض) بھی یہی کہتے ہیں۔ (ہدایۃ المستنیر)- استطاعت کے مفہوم میں راستے کا پر امن ہونا، جان و مال کے تلف ہونے کا اندیشہ نہ ہونا بھی شامل ہے اور عورت کے لیے محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مالی استطاعت ہو مگر جسمانی نہ ہو تو کوئی دوسرا اس کی جگہ حج کرلے۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آئی، اس نے پوچھا : ” یا رسول اللہ اللہ کا اپنے بندوں پر جو فریضہ حج ہے، وہ میرے والد پر اس حال میں آیا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہے، سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ؟ “ فرمایا : ” ہاں “ اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔ [ بخاری، الحج، باب حج المرأۃ عن - الرجل : ١٨٥٥ ]- اسی طرح اگر کسی صاحب پر حج فرض تھا، جو سستی سے رہ گیا اور وہ فوت ہوگیا تو اس کی میراث میں سے حج ادا کیا جائے گا، ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( فَاقْضِ اللّٰہَ فَہُوَ أَحَقُّ بالْقَضَاءِ ) ” اللہ کا قرض ادا کرو، کیونکہ وہ پورا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے۔ “ [ بخاری، الأیمان - والنذور، باب من مات وعلیہ نذر : ٦٦٩٩۔ مسلم : ١١٤٨ ]- ایک صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کی طرف سے وہ شخص حج کرے جو پہلے اپنا حج کرچکا ہو۔ [ أبو داوٗد، الحج، باب الرجل یحج عن غیرہ : ١٨١١، عن ابن عباس ]- 2 ۭ وَمَنْ كَفَر : اس سے معلوم ہوا کہ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا کفر ہے اور جو کفر کرے تو اس بےچارے کی کیا اوقات ہے، اللہ تعالیٰ تو سارے جہانوں سے بےپروا ہے۔ اسلام کی پانچ بنیادوں کے ترک اور دوسری چیزوں کے ترک کا یہی فرق ہے کہ ان پانچوں میں سے کسی کے ترک سے اسلام کی بنیاد ڈھے جاتی ہے۔ حافظ ابن کثیر (رض) نے ابوبکر اسماعیلی الحافظ (رح) کی سند سے امیر المومنین عمر بن خطاب (رض) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ” جو شخص حج کی طاقت رکھے اور پھر حج نہ کرے تو اس پر برابر ہے کہ یہودی ہونے کی حالت میں مرے یا نصرانی ہونے کی حالت میں۔ “ امام ابن کثیر نے فرمایا : ” یہ سند عمر (رض) تک صحیح ہے۔ “

Aal-i-Imraan 3:97Listen in Qur'an →
98

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ

کہو کہ اہلِ کتاب! تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ ۔۔ : اہل کتاب کے شبہات کی تردید کرنے کے بعد اب انھیں ڈانٹ پلائی جا رہی ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ حق پر خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں ان میں طرح طرح کے فتنے اور شوشے چھوڑ کر حق کی راہ میں کجی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ ” تبغونہا عوجا “ کا مطلب ہے : ” تَبْغُوْنَ فِیْہَا عِوَجًا “ (تم اس دین میں کوئی نہ کوئی کجی تلاش کرتے ہو) اور پھر یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے یہ کرتوت خوب معلوم ہیں، تمہیں اپنے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ ” سَبِيْلِ اللّٰهِ “ سے مراد یہاں اسلام ہے۔

Aal-i-Imraan 3:98Listen in Qur'an →
99

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَأَنتُمْ شُهَدَآءُ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

کہو کہ اہلِ کتاب تم مومنوں کو خدا کے رستے سے کیوں روکتے ہو اور باوجود یہ کہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمھارے کاموں سے بےخبر نہیں

Explained together with ayah 98

Aal-i-Imraan 3:99Listen in Qur'an →
100

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تُطِيعُوا۟ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَٰنِكُمْ كَٰفِرِينَ

مومنو! اگر تم اہلِ کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمھیں ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے

اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا : اوپر کی دو آیتوں میں اہل کتاب کو وعید سنائی گئی، جو لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے، اب یہاں سے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی جا رہی ہے کہ ان سے ہوشیار رہیں اور گمراہی میں نہ پڑجائیں۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے شبہات کا جواب دے کر مسلمانوں سے فرمایا کہ ان کی بات مت سنو، یہی علاج ہے، ورنہ شبہات سنتے سنتے اپنی راہ سے پھسل جاؤ گے۔ اب بھی ہر مسلمان کا فرض ہے کہ شک پیدا کرنے والوں کی بات نہ سنیں، اس میں دین کی سلامتی ہے اور بحث سے جھگڑے بڑھتے ہیں۔ “ (موضح) - يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَ ۔۔ : ایمان کے بعد پھر کافر بنا دینے میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کا کام آپس میں لڑانا ہے۔ اگر ان کی بات مانو گے تو آپس کے اتفاق اور محبت سے محروم ہوجاؤ گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے بعد پھر کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ “ [ بخاری، المغازی، باب حجۃ الوداع : ٤٤٠٣، عن ابن عمر (رض) ] یاد رہے کہ اس کفر سے مراد اسلام میں رہ کر کفر ہے، مرتد ہونا نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دو لڑنے والے گروہوں میں سے دونوں کو مومن قرار دے کر ان کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة حجرات (٩، ١٠)

Aal-i-Imraan 3:100Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.