Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 81–90 of 200

81

وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلنَّبِيِّۦنَ لَمَآ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَٰبٍۢ وَحِكْمَةٍۢ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٌۭ مُّصَدِّقٌۭ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥ ۚ قَالَ ءَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِى ۖ قَالُوٓا۟ أَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَٱشْهَدُوا۟ وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں

اور (یاد کرو) جب لیا اللہ نے عہد (تمام) نبیوں سے ، البتہ جو کچھ دوں میں تمھیں کتاب اور حکمت سے، پھر آئے تمھارے پاس کوئی رسول جو تصدیق کرنے والا ہو اس کی جو تمھارے پاس ہے، تو تم ضرور ایمان لانا ساتھ اس (رسول) کے اور ضرور مدد کرنا اس کی، اللہ نے فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہواور قبول کرتے ہو اس پر میرا عہد؟ کہا انھوں نے، اقرار کیا ہم نے، اللہ نے فرمایا تو تم گواہ رہنااور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں(81) پس جو کوئی روگردانی کرے گا بعد اس (عہد) کے، تو وہی لوگ ہیں نافرمان(82)

[82-81] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا، کیونکہ انھیں کتاب دی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور حکمت دی ہے جو حق و باطل کے درمیان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی رسول بھیجے جو ان کے پاس آنے والی وحی اور کتاب کو سچا مانے۔ تو تمام نبیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں۔ اس کی تصدیق کریں اور اپنی امتوں کو بھی اس پر ایمان و تصدیق کا حکم دیں۔ چنانچہ اللہ نے تمام انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے پرایمان لائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔ کیونکہ ان کے پاس جو بھی احکام آئے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے آنے والی ہر چیز پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ وہ سب ایک اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ محمدﷺخاتم النبیین ہیں۔ لہٰذا تمام انبیائے کرام پر واجب ہے کہ جس نبی کو بھی آپuکا زمانہ ملے، وہ آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی پیروی کرے اور آپ کی مدد کرے۔ کیونکہ آپ ان کے امام، پیشوا اور متبوع ہیں۔ یہ آیت کریمہ نبیﷺکے بلند مرتبے اور عظمت شان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺتمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام سے اقرار لیا ﴿ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ﴾ ’’تو سب نے کہا: ہمیں اقرار ہے‘‘ اور اے اللہ! ہم تیرا حکم قبول کرتے اور اسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ ﴿ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا ﴾ اللہ نے انھیں فرمایا: اپنی ذات کی طرف سے بھی اور اپنی امتوں کی طرف سے بھی گواہ رہو۔ ﴿ وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں‘‘ ﴿ فَمَنۡ تَوَلّٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس اس (پختہ وعدے اور عہد) کے بعد بھی (جس پر اللہ اور اس کے رسول کی گواہی ہے) جو پلٹ جائیں‘‘ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں‘‘ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ انبیائے کرام کا پیروکار ہے۔ یہودی ہو یا عیسائی یا کوئی اور۔ اگر وہ محمدﷺپر ایمان نہیں لایا تو وہ اس پختہ عہد کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس عہد شکنی کی سزا کے طورپر جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق ہوگیا ہے کیونکہ وہ نافرمان ہے۔

Aal-i-Imraan 3:81Listen in Qur'an →
82

فَمَن تَوَلَّىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

تو جو اس کے بعد پھر جائیں وہ بد کردار ہیں

اور (یاد کرو) جب لیا اللہ نے عہد (تمام) نبیوں سے ، البتہ جو کچھ دوں میں تمھیں کتاب اور حکمت سے، پھر آئے تمھارے پاس کوئی رسول جو تصدیق کرنے والا ہو اس کی جو تمھارے پاس ہے، تو تم ضرور ایمان لانا ساتھ اس (رسول) کے اور ضرور مدد کرنا اس کی، اللہ نے فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہواور قبول کرتے ہو اس پر میرا عہد؟ کہا انھوں نے، اقرار کیا ہم نے، اللہ نے فرمایا تو تم گواہ رہنااور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں(81) پس جو کوئی روگردانی کرے گا بعد اس (عہد) کے، تو وہی لوگ ہیں نافرمان(82)

[82-81] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا، کیونکہ انھیں کتاب دی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور حکمت دی ہے جو حق و باطل کے درمیان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی رسول بھیجے جو ان کے پاس آنے والی وحی اور کتاب کو سچا مانے۔ تو تمام نبیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں۔ اس کی تصدیق کریں اور اپنی امتوں کو بھی اس پر ایمان و تصدیق کا حکم دیں۔ چنانچہ اللہ نے تمام انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے پرایمان لائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔ کیونکہ ان کے پاس جو بھی احکام آئے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے آنے والی ہر چیز پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ وہ سب ایک اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ محمدﷺخاتم النبیین ہیں۔ لہٰذا تمام انبیائے کرام پر واجب ہے کہ جس نبی کو بھی آپuکا زمانہ ملے، وہ آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی پیروی کرے اور آپ کی مدد کرے۔ کیونکہ آپ ان کے امام، پیشوا اور متبوع ہیں۔ یہ آیت کریمہ نبیﷺکے بلند مرتبے اور عظمت شان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺتمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام سے اقرار لیا ﴿ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ﴾ ’’تو سب نے کہا: ہمیں اقرار ہے‘‘ اور اے اللہ! ہم تیرا حکم قبول کرتے اور اسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ ﴿ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا ﴾ اللہ نے انھیں فرمایا: اپنی ذات کی طرف سے بھی اور اپنی امتوں کی طرف سے بھی گواہ رہو۔ ﴿ وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں‘‘ ﴿ فَمَنۡ تَوَلّٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس اس (پختہ وعدے اور عہد) کے بعد بھی (جس پر اللہ اور اس کے رسول کی گواہی ہے) جو پلٹ جائیں‘‘ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں‘‘ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ انبیائے کرام کا پیروکار ہے۔ یہودی ہو یا عیسائی یا کوئی اور۔ اگر وہ محمدﷺپر ایمان نہیں لایا تو وہ اس پختہ عہد کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس عہد شکنی کی سزا کے طورپر جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق ہوگیا ہے کیونکہ وہ نافرمان ہے۔

Aal-i-Imraan 3:82Listen in Qur'an →
83

أَفَغَيْرَ دِينِ ٱللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُۥٓ أَسْلَمَ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًۭا وَكَرْهًۭا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

کیا یہ (کافر) خدا کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ سب اہلِ آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرماں بردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

کیا پس سوائے اللہ کے دین کے یہ (کو ئی اور دین) تلاش کر رہے ہیں؟ حالانکہ اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں جو کوئی بھی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی اور ناخوشی سے اور اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(83) کہہ دیجیے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو نازل کیا گیا اوپر ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اوریعقوب اور ان کی اولاد کے،اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء، اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے،اور ہم اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں(84) اور جو کوئی تلاش کرے گا سوائے اسلام کے کوئی اور دین، تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا اس سے،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا(85)

[85-83] یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لیے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں ﴿ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یاناخوشی سے‘‘ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبوراً اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء و قدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی، وہ ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور انھیں جزا و سزا دے گا۔ اور تمام معاملہ، اس کے فضل کا مظہر ہوگا یا اس کے عدل کا۔اس مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا، اس کا عمل ناقابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے، اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا، اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سوا ہر مذہب باطل ہے۔

Aal-i-Imraan 3:83Listen in Qur'an →
84

قُلْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ

کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں

کیا پس سوائے اللہ کے دین کے یہ (کو ئی اور دین) تلاش کر رہے ہیں؟ حالانکہ اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں جو کوئی بھی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی اور ناخوشی سے اور اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(83) کہہ دیجیے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو نازل کیا گیا اوپر ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اوریعقوب اور ان کی اولاد کے،اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء، اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے،اور ہم اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں(84) اور جو کوئی تلاش کرے گا سوائے اسلام کے کوئی اور دین، تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا اس سے،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا(85)

[85-83] یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لیے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں ﴿ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یاناخوشی سے‘‘ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبوراً اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء و قدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی، وہ ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور انھیں جزا و سزا دے گا۔ اور تمام معاملہ، اس کے فضل کا مظہر ہوگا یا اس کے عدل کا۔اس مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا، اس کا عمل ناقابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے، اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا، اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سوا ہر مذہب باطل ہے۔

Aal-i-Imraan 3:84Listen in Qur'an →
85

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ ٱلْإِسْلَٰمِ دِينًۭا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا

کیا پس سوائے اللہ کے دین کے یہ (کو ئی اور دین) تلاش کر رہے ہیں؟ حالانکہ اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں جو کوئی بھی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی اور ناخوشی سے اور اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(83) کہہ دیجیے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو نازل کیا گیا اوپر ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اوریعقوب اور ان کی اولاد کے،اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء، اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے،اور ہم اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں(84) اور جو کوئی تلاش کرے گا سوائے اسلام کے کوئی اور دین، تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا اس سے،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا(85)

[85-83] یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لیے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں ﴿ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یاناخوشی سے‘‘ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبوراً اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء و قدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی، وہ ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور انھیں جزا و سزا دے گا۔ اور تمام معاملہ، اس کے فضل کا مظہر ہوگا یا اس کے عدل کا۔اس مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا، اس کا عمل ناقابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے، اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا، اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سوا ہر مذہب باطل ہے۔

Aal-i-Imraan 3:85Listen in Qur'an →
86

كَيْفَ يَهْدِى ٱللَّهُ قَوْمًۭا كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَٰنِهِمْ وَشَهِدُوٓا۟ أَنَّ ٱلرَّسُولَ حَقٌّۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا

کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)

[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔

[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم …

Aal-i-Imraan 3:86Listen in Qur'an →
87

أُو۟لَٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ ٱللَّهِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ

ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر خدا کی اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو

کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)

[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔

[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم …

Aal-i-Imraan 3:87Listen in Qur'an →
88

خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

ہمیشہ اس لعنت میں (گرفتار) رہیں گے ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دے جائے گی

کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)

[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔

[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم …

Aal-i-Imraan 3:88Listen in Qur'an →
89

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

ہاں جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کر لی تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)

[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔

[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم …

Aal-i-Imraan 3:89Listen in Qur'an →
90

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَٰنِهِمْ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًۭا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں

کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)

[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔

[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم …

Aal-i-Imraan 3:90Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.