Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 81–90 of 200

81

وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلنَّبِيِّۦنَ لَمَآ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَٰبٍۢ وَحِكْمَةٍۢ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٌۭ مُّصَدِّقٌۭ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥ ۚ قَالَ ءَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِى ۖ قَالُوٓا۟ أَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَٱشْهَدُوا۟ وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں

[٧١] اللہ تعالیٰ نے ایک عہد تو تمام بنی آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت نمبر ١٧٧ میں آتا ہے اور دوسرا عہد انبیاء سے لیا گیا تھا۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور مفسرین کی رائے کے مطابق یہ عہد بھی عالم ارواح میں ہی لیا گیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں کوئی ایسا نبی آئے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان بھی لانا ہوگا اور اس کی مدد بھی کرنا ہوگی۔ یہ حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے اس حکم کی بجا آوری کی توثیق بھی کرائی۔ بیشمار انبیاء تو ایسے ہیں جو ہم عصر تھے۔ جسے حضرت ابراہیم اور لوط، حضرت موسیٰ اور ہارون، حضرت عیسیٰ اور یحییٰ وغیرہ وغیرہ اور یہ سب دعوت الی اللہ کے کام میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار تھے۔ پھر جو عہد انبیاء سے لیا گیا تھا اس کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہر نبی کی امت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہود پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ عیسیٰ اور دوسرے انبیاء پر ایمان لاتے اور ان کے کام میں مددگار ثابت ہوتے۔ اسی طرح یہود، نصاریٰ اور مشرکین مکہ (جو اپنے آپ کو دین ابراہیم کا پیرو کار سمجھتے تھے) سب پر یہی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاتے اور ان کے معاون و مددگار ثابت ہوتے۔ پھر یہ بات صرف اس عہد تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ہر نبی کی کتاب میں بعد میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی جاتی رہی اور اس نبی اور اس کی امت سے اسی قسم کا عہد لیا جاتا رہا۔- واضح رہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کے انبیاء سے یہ عہد لیا گیا تھا اور ان کی کتابوں میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی گئی تھی۔ لیکن آپ سے اس قسم کا عہد نہیں لیا گیا کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ نہ ہی قرآن و حدیث میں کسی آنے والے نبی کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے اور بیشمار احادیث صحیحہ سے یہ بات واضح ہے کہ آپ کے بعد تاقیامت کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ضرور نازل ہوں گے۔ مگر اس وقت ان کی حیثیت آپ کے متبع کی ہوگی یعنی وہ شریعت محمدیہ کی ہی اتباع کریں گے۔

Aal-i-Imraan 3:81Listen in Qur'an →
82

فَمَن تَوَلَّىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

تو جو اس کے بعد پھر جائیں وہ بد کردار ہیں

[٧٢] اس پختہ عہد اور بشارتوں کے بعد بھی جو شخص تعصب کی راہ اختیار کرے اور اپنے آپ کو دین کا اجارہ دار سمجھے اور مخالفت پر کمر بستہ ہوجائے تو اس سے زیادہ نافرمانی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جب عیسائیوں سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں قرآن پر ایمان لانا چاہئے کیونکہ یہ تمہاری کتاب انجیل کی تصدیق کرتا ہے ؟ تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قرآن نہ تو عقیدہ الوہیت مسیح کی تصدیق کرتا ہے نہ مسیح کی ابنیت کو تسلیم کرتا ہے، نہ عقیدہ تثلیث کو اور نہ کفارہ مسیح کو تسلیم کرتا ہے۔ حالانکہ ہماری اناجیل سے یہ سب کچھ ثابت ہے۔ پھر ہم آپ کے قرآن پر کیسے ایمان لائیں اور کیوں کر اسے الہامی کتاب سمجھ سکتے ہیں ؟ گویا جن غلط اور گمراہ کن عقائد کی اصلاح اور صحیح عقیدہ توحید کو پیش کرنے کے لیے قرآن نازل ہوا تھا اور حق و باطل کو نکھار کر ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے آیا تھا۔ یہ لوگ ان غلط عقائد سے کچھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں اور مذہبی تعصب کی پٹی ان کی آنکھوں پر کچھ اس طرح بندھی ہوئی ہے کہ وہ انہیں غلط عقائد کو اصل بنیاد قرار دے کر قرآن کی ہی تکذیب شروع کردیتے ہیں۔ حالانکہ ایسے غلط عقائد صدیوں بعد ان کے علماء کی طرف سے اناجیل میں شامل کردیئے گئے، اور یہ مجموعہ کچھ اس طرح الہامی مضامین اور الحاقی مضامین میں گڈمڈ ہوگیا کہ بعد میں آنے والے علماء کے لیے یہ معاملہ مشتبہ ہوگیا اور ان میں سے اصل الہامی مضامین کو الگ کرنا مشکل ہوگیا۔ یہی حال تورات کا بھی ہوا۔ بائیبل میں کئی ایسی داخلی شہادتیں آج بھی موجود ہیں جن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ عبارت الہامی نہیں ہوسکتی۔ بلکہ لوگوں کی طرف سے شامل کی گئی ہے اور ایسی شہادتوں کا ہم نے کسی دوسرے مقام پر ذکر بھی کردیا ہے۔ ان کے مقابلہ میں قرآن کی سالمیت غیر مذاہب میں بھی مسلم ہے۔ پھر یہ کس قدر اندھیر کی بات ہے کہ ایسی تحریف شدہ کتابوں کو اصلی معیار قرار دے کر قرآن کریم کی تکذیب کی جائے۔

Aal-i-Imraan 3:82Listen in Qur'an →
83

أَفَغَيْرَ دِينِ ٱللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُۥٓ أَسْلَمَ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًۭا وَكَرْهًۭا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

کیا یہ (کافر) خدا کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ سب اہلِ آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرماں بردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

[٧٣] اللہ کا دین کیا ہے ؟ اللہ کا دین صرف اس کے آگے سر تسلیم خم کردینے کا نام ہے۔ کائنات کی ہر چیز زمین و آسمان، شمس و قمر، ستارے اور سیارے، فرشتے اور ہوائیں غرض جو چیز بھی موجود ہے خواہ یہ اطاعت اضطراری ہو یا اختیاری، بہرحال وہ اللہ کی مطیع فرماں ہے اور اس کے حکم سے سرمو تجاوز نہیں کرسکتی۔ انسانوں اور جنوں کو کسی حد تک فرمانبرداری اور نافرمانی کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ جن کاموں میں انہیں تھوڑا بہت اختیار دیا گیا ہے ان میں بھی وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں۔ یہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء پر نازل ہوا اور اسی کی وہ تبلیغ و اشاعت کرتے رہے ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:83Listen in Qur'an →
84

قُلْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ

کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں

[٧٤] یعنی ہمارا یہ طریقہ نہیں کہ ہم کسی نبی پر ایمان لائیں اور کسی پر نہ لائیں، کسی کو جھوٹا کہیں اور کسی کو سچا اور چونکہ سب بلحاظ درجہ نبوت برابر ہیں۔ لہذا ہم ان کے درمیان کچھ فرق نہیں کرتے۔ حمیت جاہلیہ سے کام لینا ہمارا شیوہ نہیں۔ بلکہ اللہ کا جو بندہ بھی اللہ کی طرف سے حق لے کر آیا ہے ہم اس کے برحق ہونے پر شہادت دیتے ہیں۔ (انبیاء کے درمیان تفریق کی مزید وضاحت کے لیے سورة بقرہ کی آیت ٢٨٥ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

Aal-i-Imraan 3:84Listen in Qur'an →
85

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ ٱلْإِسْلَٰمِ دِينًۭا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا

[٧٥] اس آیت میں پہلی بات کو ہی دوسرے الفاظ میں دہرایا گیا ہے۔ یعنی دور نبوی کے یہود و نصاریٰ کی زبانوں سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ جو تعلیم لائے ہیں وہ وہی ہے جو سابقہ انبیاء کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے جو مخالفت کی تو اس کی وجہ محض تعصب اور مفاد پرستی تھی۔ لہذا ایسے لوگوں کا کوئی عمل بھی قابل قبول نہ ہوگا اور آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے جس کے بدلے انہیں دردناک عذاب برداشت کرنا پڑے گا۔

Aal-i-Imraan 3:85Listen in Qur'an →
86

كَيْفَ يَهْدِى ٱللَّهُ قَوْمًۭا كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَٰنِهِمْ وَشَهِدُوٓا۟ أَنَّ ٱلرَّسُولَ حَقٌّۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا

[ ٧٥۔ ١] اہل کتاب کا اندھاتعصب :۔ اس آیت کے مخاطب ہٹ دھرم اور متعصب قسم کے اہل کتاب ہیں۔ خواہ وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ ، یہ دونوں فریق آنے والے نبی کے منتظر تھے۔ کیونکہ نبی آخرالزمان کی بشارت تورات میں بھی موجود تھی اور انجیل میں بھی۔ لیکن جب وہ رسول مبعوث ہوگیا تو ان لوگوں نے اس پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہود یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمارے مذہب کی تائید کرے گا۔ اور عیسائی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ یہود کے مقابلہ میں ان کا ساتھ دے گا۔ لیکن جب ان کی یہ تمنا بر نہ آئی تو انہوں نے انکار کردیا۔ پھر انہی یہود و نصاریٰ میں کچھ ایسے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے برملا شہادت دی کہ یہ وہی رسول ہے جس کی شہادت ہماری کتابوں میں موجود ہے اور وہ ایمان بھی لے آئے۔ متعصب لوگوں پر اس کا بھی کچھ اثر نہ ہوا۔ پھر نبی آخر الزمان میں انہوں نے کئی ایسی نشانیاں بھی دیکھیں جو ان کی تسلی کے لیے بہت کافی تھیں۔ ان نشانیوں میں کچھ تو وہ تاریخی قسم کے سوالات تھے جو علمائے اہل کتاب یہ سمجھتے تھے کہ ان کے جوابات ان کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر جب انہوں نے امتحان کے طور پر آپ سے وہ سوالات پوچھے تو آپ نے ان کے کافی و شافی جواب دے دیئے اور یہ بات وحی الٰہی کے علاوہ ممکن نہ تھی۔ علاوہ ازیں قرآن نے کچھ پیشین گوئیاں کی تھیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے یا خود ان پر پوری ہو رہی تھیں۔ پھر بھی یہ لوگ اپنے تعصب کی بنا پر ایمان لانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے ہٹ دھرم لوگوں کو زبردستی کبھی ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اس طرح کی زبردستی اس کے دستور کے خلاف ہے۔

Aal-i-Imraan 3:86Listen in Qur'an →
87

أُو۟لَٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ ٱللَّهِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ

ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر خدا کی اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو

[٧٦] یہاں سب لوگوں سے مراد مسلمان ہیں اور اس لحاظ سے سب لوگ بھی ہوسکتے ہیں کہ اجمالاً ہر شخص جھوٹے بدعہد اور دغا باز پر لعنت بھیجتا ہے اور آخرت میں تو کافر خود بھی ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور اپنے قصور کا الزام دوسرے کے سر تھوپیں گے۔

Aal-i-Imraan 3:87Listen in Qur'an →
88

خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

ہمیشہ اس لعنت میں (گرفتار) رہیں گے ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دے جائے گی

[٧٧] یعنی عذاب جہنم اپنی حدت و شدت کے لحاظ سے ایسا مسلسل اور متواتر ہوگا کہ نہ تو اس کی حدت و شدت میں کبھی کمی واقع ہوگی اور نہ ہی عذاب کے درمیان کبھی کوئی وقفہ دیا جائے گا۔

Aal-i-Imraan 3:88Listen in Qur'an →
89

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

ہاں جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کر لی تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

[٧٨] ہاں وہ لوگ ایسے عذاب سے بچ سکتے ہیں جنہوں نے سچے دل سے توبہ کرلی۔ ایمان لے آئے اور مخالفت سے رک گئے۔ اپنے اعمال و افعال کی اصلاح کرلی اور اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ بن کر ان کی معاونت کرنے لگے تو ایسے لوگوں کے سابقہ گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔

Aal-i-Imraan 3:89Listen in Qur'an →
90

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَٰنِهِمْ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًۭا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں

[٧٩] اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مثلاً یہود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرکے کفر کا رویہ اختیار کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی انکار کردیا جو ان کے کفر میں مزید اضافہ کا سبب بن گیا۔ ایسے معاندین کے حق میں توبہ کبھی قبول نہ ہوگی۔ دوسری صورت یہ کہ ایک شخص ایمان لایا۔ پھر اس کے بعد مرتد ہوگیا۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسلام دشمنی میں اپنی سرگرمیاں تیز تر کردیں، تو ایسے شخص کی بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مرتد ہوجانے کے بعد کفر پر ڈٹا رہا اور جب موت کا وقت آپہنچا تو توبہ کی سوجھی۔ اس وقت بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔ البتہ جو لوگ اپنی زندگی میں اسلام دشمنی میں سرگرم اور تقریر و تحریر کے ذریعہ لوگوں میں الحاد اور باطل عقائد پھیلانے میں سرگرم رہے ہوں ان کی توبہ قبول ہونے کی صورت اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ کی آیت نمبر ١٦٠ بایں الفاظ بیان فرمائی۔ ( اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا) یعنی ان کی توبہ کی قبولیت کے لیے تین شرطیں لازم ہیں۔ (١) سچی توبہ کریں (٢) اپنے اعمال و افعال درست کرکے اپنی اصلاح کرلیں اور جو کچھ الحاد یا باطل عقائد وہ لوگوں میں پھیلا چکے ہیں۔ برملا اس کی تردید بھی کریں۔ اگر تقریر کے ذریعہ گمراہی پھیلائی ہے تو اسی طرح بھری محفل میں ایسے عقائد سے بیزاری کا اظہار اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور اگر تحریری صورت میں گمراہی پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہیں تو تحریری صورت میں اس کی تلافی اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں تو ایسے لوگوں کی بھی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔

Aal-i-Imraan 3:90Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.