يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَلْبِسُونَ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَٰطِلِ وَتَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
اے اہلِ کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو
لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بالْبَاطِلِ ۔۔ : اہل کتاب کی مذہبی بدبختیوں کی طرف اشارہ ہے، اس سے پہلی آیت میں علمائے یہود کی یہ بدبختی بیان کی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سچا پیغمبر ہونے کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں، اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی اپنی گمراہی کا بیان تھا، اس آیت میں دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٤٢) ۔ (رازی) یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے فرقہ پرست علماء اور تجدد زدہ حضرات بھی دنیوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید سے وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو تورات و انجیل کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بالکل صحیح فرمایا : ( لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل : ٣٤٥٦ ] ” تم لازماً پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے۔ “