فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا۟ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَٰذِبِينَ
پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر دونوں فریق (خدا سے) دعا والتجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں
فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ : سورت کے شروع سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، مسیح (علیہ السلام) کی ولادت کا بیان اور ان کا اللہ یا اللہ کا بیٹا نہ ہونا زبردست علمی دلائل کے ساتھ بیان ہوا۔ اب حکم ہوا کہ جو شخص اتنے واضح دلائل کے بعد بھی نہ مانے تو وہ عناد پر آمادہ ہے، اس سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، پھر انھیں مباہلہ کی دعوت دو ۔ - مباہلہ کی صورت یہ بیان فرمائی کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمہیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ - ” بَھَلَ یَبْھَلُ (ف) “ کا معنی لعنت کرنا ہے اور ” بَاھَلَ مُبَاھَلَۃً “ اور ” اِبْتَھَلَ یَبْتَھِلُ “ کا معنی ایک دوسرے پر لعنت کی دعا کرنا ہے، چونکہ یہ دعا نہایت خلوص اور عاجزی سے ہوتی ہے، اس لیے ” اِبْتَھَلَ “ کا لفظ عاجزی سے دعا کرنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ - سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ( فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ ۔۔ ) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین (رض) کو بلایا، پھر فرمایا : ( اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلاَءِ اَھْلِیْ )” اے اللہ یہ میرے اہل ہیں۔ “ [ مسلم،- فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن أبی طالب (رض) : ٣٢؍٢٤٠٤ ] - مگر اہل نجران مباہلہ سے ڈر گئے اور انھوں نے جزیہ دینا منظور کرلیا، جیسا کہ حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ عاقب اور السید نجران والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، وہ آپ سے مباہلہ کا ارادہ رکھتے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ” ایسا مت کرو، کیونکہ اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہوئے اور ہم نے مباہلہ کرلیا تو نہ ہم کبھی فلاح پائیں گے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسل۔ “ تو دونوں نے کہا : ” آپ نے ہم سے جو مطالبہ کیا ہے ہم آپ کو دیں گے اور آپ ہمارے ساتھ کوئی امین آدمی بھیج دیں اور کسی اور کو نہیں صرف امانت دار کو بھیجیں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یقیناً میں تمہارے ساتھ ایک سچے پکے امانت دار کو بھیجوں گا۔ “ تو اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے گردنیں اٹھائیں (کہ کس پر آپ کی نظر پڑتی ہے) تو آپ نے فرمایا : ” اے ابوعبیدہ بن جراح اٹھو۔ “ جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ اس امت کا امین ہے۔ “ [ بخاری، المغازی،- باب قصۃ أہل نجران : ٤٣٨٠ ] ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ” اگر وہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مباہلہ کرتے تو اس حال میں واپس جاتے کہ نہ اپنے اہل کو پاتے اور نہ مال کو۔ “ ( طبری بسند حسن)- اس آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ ضد میں آ کر حق سے انکار کرنے والے سے مباہلہ ہوسکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو لعان بھی مباہلہ کی ایک صورت ہے۔ - وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ : آیت مباہلہ میں اپنے بیٹوں اور اپنی عورتوں کو بلانے کا ذکر ہے۔ ” نِسَاۗءَ “ (عورتوں) کا لفظ بیویوں پر استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ سورة احزاب میں بار بار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو ” يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ “ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اور انھیں اہل بیت کہہ کر خطاب کیا ہے۔ ( دیکھیے احزاب : ٣٠ تا ٣٤ ) اولاد پر بیٹیوں کا لفظ آتا ہے نہ کہ عورتوں کا، ہاں، دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر ان پر بھی یہ لفظ آسکتا ہے۔ یہاں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے فاطمہ، علی اور حسن و حسین (رض) کو بلایا، آپ کے اہل بیت یہی تھے، بیویوں کو نہیں بلایا۔ حالانکہ کسی حدیث میں بیویوں کو نہ بلانے کا ذکر نہیں ہے اور یہ طے شدہ قاعدہ ہے کہ کسی چیز کا ذکر نہ ہونے سے اس کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ احادیث میں تو دوسرے …