Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 61–70 of 200

61

فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا۟ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَٰذِبِينَ

پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر دونوں فریق (خدا سے) دعا والتجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں

اس کے بعد اس موضوع پر رسول اللہ کے ساتھ جو لوگ مباحثہ کرتے تھے ‘ رسول ﷺ نے بھرے مجمعے میں انہیں دعوت مباہلہ دی ۔ یعنی سب آجائیں اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ جھوٹوں پر لعنت کرے ۔ اس چیلنج کے انجام سے وہ لوگ ڈر گئے اور انہوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کا موقف سچا ہے ۔ لیکن جس طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسلام اس لئے قبول نہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے معاشرے میں ایک بلند مقام حاصل تھا ۔ نیز یہ لوگ ان کے مذہبی پیشواؤں میں سے تھے اور اس دور میں اہل کنیسہ کو اپنی سوسائٹی میں مکمل اقتدار حاصل تھا اور اس کے ساتھ ان کے بڑے مفادات وابستہ تھے ۔ اس سوسائٹی میں وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ یہ بات نہ تھی کہ جو لوگ دین اسلام سے اعراض کررہے تھے ان کے سامنے کوئی دلیل نہ پیش کی گئی تھی بلکہ ان کے بعض مفادات ایسے تھے جنہیں وہ نہ چھوڑ سکتے تھے ‘ کچھ ایسی نفسیاتی خواہشات میں وہ گھرے ہوئے تھے جن پر وہ یہ نہ کرسکتے تھے ۔ حالانکہ سچائی واضح ہوگئی تھی اور اس میں کوئی شک وشبہ نہ رہا تھا۔

دعوت مباہلہ کے بعد اب اس اختتامیہ میں حقیقت وحی ‘ حکمت قصص فی القرآن ‘ اور حقیقت توحید کا بیان کیا جاتا ہے۔ شاید یہ آیات دعوت مباہلہ سے مجادلین کے انکار کے بعد اتری ہوں ۔ اور ان لوگوں کو سخت دہمکی دی جاتی ہے جو اللہ کی اس زمین پر محض برائے فی سبیل اللہ فسادیہ مجادلے کرتے ہیں ۔

Aal-i-Imraan 3:61Listen in Qur'an →
62

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْقَصَصُ ٱلْحَقُّ ۚ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحبِ حکمت ہے

ان آیات میں جن حقائق کا بیان ہوا اس سے قبل ان کا بیان ہوگیا ہے۔ یہاں دعوت مباہلہ اور وفد کی جانب سے اس کے انکار کے بعد بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس آیت میں البتہ نئی بات یہ ہے کہ جو اس سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ درحقیقت مفسد ہیں اور خبردار کیا جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوشیدہ نہیں ہو ‘ وہ انداز قد سے پہچانتا ہے۔

اور وہ فساد جو منکرین توحید ‘ توحید کا انکار کرکے پھیلاتے تھے وہ اللہ کے نزدیک ایک عظیم فساد تھا ۔ اور دنیا میں جس قدر فسادات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب عقیدہ توحید سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور عقیدہ توحید کا اعتراف بھی محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ محض زبانی اعتراف کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ۔ نہ ہی ایسا دینی اعتراف جو خالص منفی اعتراف ہو ‘ اس لئے کہ محض قلبی اور زبانی اعتراف کے نتیجے میں وہ آثار ظاہر نہیں ہوتے جو انسانوں کی عملی زندگی میں نمودار ہونے ضروری ہیں ۔ دراصل دنیا نے عقیدہ توحید کے لازمی آثار ونتائج سے انکار کردیا ہے اور انسانی زندگی کے عقیدہ توحید کے آثار کو ختم کردیا ہے ۔ عقیدہ توحید کا پہلا لازمہ تو یہ ہے کہ ہمارا رب بھی ایک ہو ‘ پھر اس رب کی غلامی اور بندگی بھی ایک ہو ‘ اس لئے کہ بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے پھر اسی ایک رب کی اطاعت ہو ‘ پھر تمام ہدایات بھی اسی ایک رب سے اخذ کی جائیں یعنی اس کے سوا عبودیت نہ ہو ۔ اللہ کے سوا اطاعت نہ ہو اور اللہ کے سوا کوئی مرجع ہدایت نہ ہو ۔ ہدایات چاہے قانون سازی میں ہوں ‘ چاہے اقدار حیات اور فلسفہ حیات میں ہوں ‘ چاہے اخلاق وآداب میں ہوں ‘ غرض ان تمام امور میں جو اس کرہ ارض پر حیات انسانی سے تعلق رکھتے ہیں صرف اللہ سے ہدایت لی جائیں …………اگر ایسی صورت حال نہیں تو پھر شرک اور کفر کے سوا کوئی بات نہیں ہے ۔ چاہے زبان سے جو کچھ کہتے جائیں ۔ چ ہے قلب شعور میں مجرد عقائد جو بھی ہوں ۔ الا یہ کہ لوگوں کی روز مرہ زندگی میں ‘ تسلیم ورضا ‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ امر ونہی کی قبولیت کی فضا قائم ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اس وقت تک درست طور پر چل ہی نہیں سکتا جب تک یہ تسلیم نہ کرلیاجائے کہ اس کا اللہ ایک ہی ہے ۔ جو اس کے تمام معاملات کی تدبیر اور انتظام کرتا ہے ۔ وَلَوکَانَ فِیھِمَا اٰلِھَةٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا……………” اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کئی الٰہ ہوتے تو وہ بگڑجاتے ۔ “ اور انسان کے حوالے سے اللہ کی خدائی کا ممتاز ترین مظہر یہ ہے کہ تمام بندے اس کی بندگی کریں ۔ اور اللہ ان کے لئے نظام حیات تجویز کرے ‘ ان کے لئے حسن وقبح کے پیمانے وضع کرے ۔ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ ان اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اس کے لئے ہے ۔ تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے مخصوص ترین حقوق پر دست درازی کرتا ہے اور اس معنی میں آپ کو لوگوں کے الٰہ اور رب قرار دیتا ہے۔

اور اس معنی میں جب اس کرہ ارض پر بہت سے الٰہ پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کی یہ زمین فتنہ و فساد سے بھر جاتی ہے ۔ اور لوگ پھر لوگوں کی بندگی اور غلامی شروع کردیتے ۔ اس کے بعد پھر بندوں میں سے بعض بندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ دوسرے لوگ ان کی ذاتی اطاعت کریں ۔ اور یہ کہ انہیں بذات خود لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق حاصل ہے ۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کے بھلے برے کا فیصلہ از خود کرسکتا ہے ۔ یہ تمام دعوے دراصل الوہیت کے دعوے ہیں ۔ اگر ایسے لوگ فرعون کی طرح زبانی طور پر یہ نہ کہیں ۔ اَنَا رَبُّکُمُ الاَعلٰی……………” میں تمہارا بڑ ارب ہوں۔ “ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے ایسے حقوق کا اقرار کرنا شرک اور کفر کا اقرار کرنا ہے ۔ اور یہ دنیا میں بدترین فتنہ اور فساد ہے۔

Aal-i-Imraan 3:62Listen in Qur'an →
63

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُفْسِدِينَ

تو اگر یہ لوگ پھر جائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے

ان آیات میں جن حقائق کا بیان ہوا اس سے قبل ان کا بیان ہوگیا ہے۔ یہاں دعوت مباہلہ اور وفد کی جانب سے اس کے انکار کے بعد بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس آیت میں البتہ نئی بات یہ ہے کہ جو اس سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ درحقیقت مفسد ہیں اور خبردار کیا جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوشیدہ نہیں ہو ‘ وہ انداز قد سے پہچانتا ہے۔

اور وہ فساد جو منکرین توحید ‘ توحید کا انکار کرکے پھیلاتے تھے وہ اللہ کے نزدیک ایک عظیم فساد تھا ۔ اور دنیا میں جس قدر فسادات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب عقیدہ توحید سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور عقیدہ توحید کا اعتراف بھی محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ محض زبانی اعتراف کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ۔ نہ ہی ایسا دینی اعتراف جو خالص منفی اعتراف ہو ‘ اس لئے کہ محض قلبی اور زبانی اعتراف کے نتیجے میں وہ آثار ظاہر نہیں ہوتے جو انسانوں کی عملی زندگی میں نمودار ہونے ضروری ہیں ۔ دراصل دنیا نے عقیدہ توحید کے لازمی آثار ونتائج سے انکار کردیا ہے اور انسانی زندگی کے عقیدہ توحید کے آثار کو ختم کردیا ہے ۔ عقیدہ توحید کا پہلا لازمہ تو یہ ہے کہ ہمارا رب بھی ایک ہو ‘ پھر اس رب کی غلامی اور بندگی بھی ایک ہو ‘ اس لئے کہ بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے پھر اسی ایک رب کی اطاعت ہو ‘ پھر تمام ہدایات بھی اسی ایک رب سے اخذ کی جائیں یعنی اس کے سوا عبودیت نہ ہو ۔ اللہ کے سوا اطاعت نہ ہو اور اللہ کے سوا کوئی مرجع ہدایت نہ ہو ۔ ہدایات چاہے قانون سازی میں ہوں ‘ چاہے اقدار حیات اور فلسفہ حیات میں ہوں ‘ چاہے اخلاق وآداب میں ہوں ‘ غرض ان تمام امور میں جو اس کرہ ارض پر حیات انسانی سے تعلق رکھتے ہیں صرف اللہ سے ہدایت لی جائیں …………اگر ایسی صورت حال نہیں تو پھر شرک اور کفر کے سوا کوئی بات نہیں ہے ۔ چاہے زبان سے جو کچھ کہتے جائیں ۔ چ ہے قلب شعور میں مجرد عقائد جو بھی ہوں ۔ الا یہ کہ لوگوں کی روز مرہ زندگی میں ‘ تسلیم ورضا ‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ امر ونہی کی قبولیت کی فضا قائم ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اس وقت تک درست طور پر چل ہی نہیں سکتا جب تک یہ تسلیم نہ کرلیاجائے کہ اس کا اللہ ایک ہی ہے ۔ جو اس کے تمام معاملات کی تدبیر اور انتظام کرتا ہے ۔ وَلَوکَانَ فِیھِمَا اٰلِھَةٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا……………” اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کئی الٰہ ہوتے تو وہ بگڑجاتے ۔ “ اور انسان کے حوالے سے اللہ کی خدائی کا ممتاز ترین مظہر یہ ہے کہ تمام بندے اس کی بندگی کریں ۔ اور اللہ ان کے لئے نظام حیات تجویز کرے ‘ ان کے لئے حسن وقبح کے پیمانے وضع کرے ۔ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ ان اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اس کے لئے ہے ۔ تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے مخصوص ترین حقوق پر دست درازی کرتا ہے اور اس معنی میں آپ کو لوگوں کے الٰہ اور رب قرار دیتا ہے۔

اور اس معنی میں جب اس کرہ ارض پر بہت سے الٰہ پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کی یہ زمین فتنہ و فساد سے بھر جاتی ہے ۔ اور لوگ پھر لوگوں کی بندگی اور غلامی شروع کردیتے ۔ اس کے بعد پھر بندوں میں سے بعض بندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ دوسرے لوگ ان کی ذاتی اطاعت کریں ۔ اور یہ کہ انہیں بذات خود لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق حاصل ہے ۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کے بھلے برے کا فیصلہ از خود کرسکتا ہے ۔ یہ تمام دعوے دراصل الوہیت کے دعوے ہیں ۔ اگر ایسے لوگ فرعون کی طرح زبانی طور پر یہ نہ کہیں ۔ اَنَا رَبُّکُمُ الاَعلٰی……………” میں تمہارا بڑ ارب ہوں۔ “ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے ایسے حقوق کا اقرار کرنا شرک اور کفر کا اقرار کرنا ہے ۔ اور یہ دنیا میں بدترین فتنہ اور فساد ہے۔

Aal-i-Imraan 3:63Listen in Qur'an →
64

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ كَلِمَةٍۢ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِۦ شَيْـًۭٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُولُوا۟ ٱشْهَدُوا۟ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں

یہی وجہ ہے کہ اس تہدید اور توبیخ کے بعد سیاق کلام میں اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ایسے نظریے کی طرف اٹھ آئیں جو فریقین کے درمیان یکساں ہے ۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی ‘ اس کے ساتھ شرک نہ کرنا ۔ اور ایک دوسرے کو رب نہ بنانا ۔ اگر وہ یہ صورت نہیں اپناتے تو پھر ہماری راہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئیں ۔ اس کے بعد نہ ملاپ ہوسکتا ہے اور نہ مکالمہ ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

” کہو اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے ۔ “ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں ۔ “

اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ایک منصفانہ دعوت ہے ۔ ایسی دعوت ہے جس میں رسول ﷺ ان پر کسی قسم کی کوئی فضیلت و برتری حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اور نہ اہل اسلام اس میں کسی قسم کی برتری چاہتے ہیں ۔ ایک یکساں موقف جس کے سامنے سب کے سب برابری کی پوزیشن میں کھڑے ہوں گے ۔ کوئی کسی پر برتری نہ چاہے گا ۔ کوئی کسی دوسرے کو اپنا غلام نہ بنائے گا ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے جس سے صرف بدفطرت اور مفسد ہی انکار کرسکتا ہے ۔ جو یہ نہیں چاہتا کہ حق کے سامنے جھک جائے ۔

یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ وہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ نہ کسی بشر کو ‘ نہ کسی پتھر کو ‘ اللہ کی طرف ایسی دعوت کہ جس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہ ہو ۔ نہ نبی کا غلام ہو ‘ نہ رسول کا غلام ہو ‘ بلکہ سب اللہ کے بندے اور غلام ہوں ۔ نبی اور رسول تو وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے تبلیغ دین کے لئے چن لیا ہوتا ہے۔ اس لئے نہیں منتخب کیا ہوتا کہ وہ اللہ کے ساتھ الوہیت یا ربوبیت میں شریک بن جائیں۔

فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ……………” اگر وہ منہ موڑیں تو پھر صاف کہہ دو کہ ہم تو مسلم ہیں۔ “ یعنی اگر وہ اس بات سے انکار کردیں کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور اس بات سے انکار کردیں کہ بندگی صرف اللہ کے لئے ہے ۔ بغیر کسی شرک کے ۔ یہ دو ایسے مظاہر ہیں جن سے اللہ کی نسبت سے بندے کے موقف کا اظہار ہوتا ہے ۔ تو اگر اس نظریئے سے وہ منہ موڑیں تو تم اس کے مطابق اپنے اسلام کا اعلان کردو ۔ یہاں مسلمانوں اور ان لوگوں کو جو اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب مانتے ہیں ‘ ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے ‘ جس سے اس بات کی فیصلہ کن وضاحت ہوجاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک ” المُسْلِمُونَ “ کون ہیں ‘ مسلمون وہ ہیں جو صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں اور صرف اللہ کی عبادت کریں اور ساتھ ساتھ باہم ایک دوسرے کو بھی اپنا رب بنائیں ۔ یہ ہے مسلمانوں کی خصوصیت جو انہیں تمام ملتوں اور تمام مکاتب فکر سے جدا کرتی ہے ۔ اور ان کے نظام زندگی کو تمام نظامہائے زندگی سے جدا اور ممتاز کرتی ہے ۔ اب اگر ان میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے تو وہ مسلمان ہیں اور اگر ان میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی تو وہ مسلمان نہیں چاہے جس قدر وہ دعویٰ کریں اپنے مسلمان ہونے کا ۔

اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان بندے کی غلامی سے مطلقاً آزاد ہوجائے اور اسلامی زندگی وہ واحد نظام زندگی ہے جو کسی انسان کو اس ہمہ گیر آزادی کی ضمانت دیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کرہ ارض میں جس قدر نظام ہائے حیات رائج ہیں ان میں بعض دوسرے لوگوں کو اپنا رب تسلیم کئے ہوئے ہیں ۔ دنیا کی بہترین سے بہترین جمہوریتوں میں …

Aal-i-Imraan 3:64Listen in Qur'an →
65

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوْرَىٰةُ وَٱلْإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعْدِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

درس 25 ایک نظر میں

سورت کا یہ حصہ بھی انہیں خطوط پر چلتا ہے ‘ جس پر ابتداء ً یہ سورت چلی آرہی ہے ۔ یعنی اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کے درمیان برپا معرکہ آرائی ‘ یعنی فریقین کے درمیان نظریاتی جنگ ‘ اور دشمنان دین اور دین اسلام کے خلاف جو حیلہ سازی ومکاری یعنی جو فریب کاری اور دھوکہ بازی ‘ جو کذب وافتراء اور مختلف قسم کی سازشیں اور تدابیر اختیار کرکے حق و باطل میں ہر وقت التباس پیدا کرتے تھے ۔ شکوک و شبہات پھیلاتے تھے ۔ اور جس طرح اس امت کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر وقت گھات میں بیٹھے رہتے تھے اور جس طرح وہ بلا ناغہ مسلسل کام کررہے تھے ۔ ان کا ازالہ اور جواب ‘ اور اس حصے میں مسلمانوں کو سمجھایا جارہا تھا کہ وہ اس صورت حال کا مقابلہ اس طرح کریں کہ جس حق پر قائم ہیں اس پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں اور یہ یقین پیدا کریں کہ ان کے دشمن باطل موقف پر کھڑے ہیں۔ نیز اس سورت میں متنبہ کیا گیا تھا کہ دشمن تمہارے بارے میں کیا کیا منصوبے بناتے ہیں ۔ آخر میں پھر ان دشمنوں کی تشریح بھی کردی گئی تھی ۔ اور بتایا گیا تھا کہ ان کا مزاج ‘ ان کے اخلاق ‘ ان کے اعمال اور ان کی نیتیں کیسی ہیں ۔ اور یہ باتیں کھول کر جماعت مسلمہ کے سامنے رکھدی گئیں تاکہ وہ اپنے دشمنوں کو اچھی طرح جان لے ۔ اور وہ جس علم ومعرفت کا دعویٰ کرتے تھے ۔ اس کی قلعی بھی کھول دی گئی تھی ۔ اور پھر جن مسلمانوں کو وہ دھوکہ دے رہے ‘ ان کا اعتماد ان پر سے اٹھادیا تھا۔ انہیں ان سے متنفر کیا گیا ۔ اور ان کی مکاریوں کو طشت ازبام کردیا گیا تھا کہ وہ نہ کسی کو دھوکہ دے سکیں اور نہ طمع کاری کرسکیں ۔ یہ تھے مضامین پہلے سبق کے ۔

لیکن اس سبق میں بھی اہل کتاب یعنی یہود نصاری کے ساتھ بحث ہے ‘ لیکن یہاں بتایا گیا ہے کہ خصوصاً ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کا موقف اور نظریہ تو بادی النظر میں غلط ہے ۔ یہودی سمجھتے تھے ‘ کہ وہ یہودی تھے ‘ عیسائی یہ سمجھتے تھے کہ وہ عیسائی تھے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودیت اور نصرانیت دونوں کے وجود میں آنے سے بھی پہلے دنیا میں تشریف لائے تھے ۔ وہ تورات وانجیل کے نزول سے بھی پہلے تشریف لائے تھے ۔ لہٰذا ان کے بارے میں اس قسم کے دعوے کرنا محض وہم ہے ۔ جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو دین حنیف پر تھے ۔ جو سیدھے راستے کا نام ہے ۔ اور ان کے دوست اور پیروکار کہلانے کے مستحق وہی لوگ ہیں جو اس طریقے پر ہوں ۔ اور اللہ بھی اہل ایمان کا دوست ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان لوگوں کے بارے میں یہ دعوے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو اور دوست ہیں باطل قرار پاتے ہیں ۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کے بارے میں اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ اہل اسلام تمام رسولوں کو برحق تسلیم کرتے ہیں إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ……………” ابراہیم سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں ۔ اور اللہ صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ (68 : 3)

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں اہل کتاب یہ مجادلہ کیوں کرتے ہیں ؟ اس میں پردہ راز کیا ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دین کے معاملے میں گمراہ کردیں ‘ ان کے عقائد میں شبہات پید اکئے جائیں ۔ چناچہ اس سلسلے میں ان کی گوشمالی کی جاتی ہے ۔

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ (70) يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ

” اے اہل کتاب …

Aal-i-Imraan 3:65Listen in Qur'an →
66

هَٰٓأَنتُمْ هَٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلْمٌۭ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِۦ عِلْمٌۭ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مباحثہ کیا ‘ پھر انہوں نے بعض فقہی موضوعات پر بھی مجادلہ کیا ‘ اور جب انہیں دعوت دی گئی کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں تو انہوں نے روگردانی کی ۔ یہ دونوں موضوعات ایسے تھے ‘ جن کے بارے میں انہیں کچھ علم تھا۔ رہے وہ معاملات جو تمہارے وجود سے پہلے ہیں ‘ تمہاری کتابوں سے پہلے ہیں ۔ تمہارے اس دین سے پہلے ہیں جن پر تمہارا ایمان ہے ۔ تو اس بارے میں تمہارے پاس نہ علم ہے اور نہ سند ہے۔ اگرچہ ہماری سند ہو ‘ لہٰذا ان موضوعات پر تمہارا مباحثہ کرنا صرف بحث برائے بحث ہوگا۔ وہ محض تیر تکے چلانا ہوگا۔ کوئی بامقصد کام نہ ہوگا ۔ بلکہ محض مطلب براری اور نفس پرستی ہوگی ۔ اور جن لوگوں کا حال یہ ہو وہ ہرگز قابل اعتبار نہ ہوں گے بلکہ ایسے لوگوں سے بات نہ کرنا مناسب ہے اور نہ ان کی بات پر کان دھرنا مناسب ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:66Listen in Qur'an →
67

مَا كَانَ إِبْرَٰهِيمُ يَهُودِيًّۭا وَلَا نَصْرَانِيًّۭا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًۭا مُّسْلِمًۭا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرماں بردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے

ان حضرات کی بحث و تکرار کا پول کھولنے کے بعد اور اس بحث کی حیثیت ختم کردینے کے بعد اور انہیں مکمل طور پر ناقابل اعتبار کردینے کے بعد ‘ اب اللہ تعالیٰ وہ اصل حقیقت بیان فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ۔ کیونکہ تاریخ انسانی میں بہت زیادہ قدیم واقعات کی اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر جو دین نازل فرمایا گیا تھا ‘ اس کی حقیقت کو بھی اللہ ہی جانتا ہے ۔ اور اللہ کا فیصلہ بہرحال قاطع ہے ۔ اللہ کے فیصلے کے بعد کسی کے لئے کوئی بات کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔ الایہ کہ کوئی ہر صورت میں ‘ بغیر کسی دلیل وبرہان کے ‘ مجادلہ پر اتر آیاہو مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

” ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھا ‘ نہ عیسائی بلکہ وہ ایک مسلم یکسو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔ “ یوں ‘ اس سے پہلے اشارۃً بات کی گئی تھی کہ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے ‘ اس لئے کہ تورات وانجیل بعد میں نازل ہوئی ۔ یہاں اس کی تصریح کردی گئی ہے کہ وہ یہودی اور نصرانی نہیں تھے بلکہ وہ مسلم حنیف تھے ۔ اور وہ اسلام کے سوا کسی اور ملت کی طرف مائل نہ تھے ۔ اس لئے کہ وہ مسلم تھے ۔ اور مسلم بھی ان معنوں میں تھے ‘ جن کی تفصیل ہم نے اس سے پہلے بیان کردی ہے وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ “ یہ فقرہ سابقہ فقرے کی تاکید مزید ہے کہ وہ مسلم حنیف تھے ۔ اور اس لئے کہ مسلم حنیف جو بھی ہو وہ مشرک نہیں ہوتا۔ اب حنیف مسلم کے بعدیہ کہنا کہ وہ مشرک نہ تھے اس میں چند لطیف اشارے مقصود ہیں ۔

پہلا اشارہ یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ جن کے اندر عقائد کا انحراف اس حد تک پہنچ گیا ہے وہ در حقیقت مشرک ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ابراہیم نہ یہودی ہوسکتا ہے اور نہ نصرانی ‘ بلکہ وہ مسلم حنیف ہی ہے۔

دوسرا اشارہ یہ ہے کہ اسلام ایک علیحدہ حقیقت ہے اور شرک بالکل ایک الگ چیز ہے ۔ ان دونوں کا ایک جگہ اکٹھ کبھی نہیں ہوسکتا ۔ اسلام مطلق توحیدکانام ہے اور توحید بھی از ہمہ جہت وباہمہ خصوصیات وباہمہ مقتضیات اس لئے اسلام شرک کے کسی رنگ کے ساتھ لگا نہیں کھاتا۔

اس میں تیسرا اشارہ یہ مطلوب ہے کہ مشرکین قریش اپنے آپ کو حنیفی اور دین ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو سمجھتے تھے ۔ اور وہ خانہ کعبہ کے خادم اور مجاور تھے ۔ ان کو بتایا جارہا ہے کہ وہ تو مسلم حنیف تھے ۔ اور تم مشرکین ہو وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ “

جب ابراہیم (علیہ السلام) مسلم حنیف تھے اور مشرک نہ تھے تو یہود ونصاریٰ یا مشرکین میں سے کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ان کے وارث ہیں ۔ اور نہ ہی ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ ابراہیم کے دین کے والی ہیں حالانکہ وہ اس دین سے بہت ہی دور جاچکے ہیں ۔ عقیدہ اور نظریہ وہ رابطہ ہے جس پر لوگ اسلام میں باہم جمع ہوتے ہیں ۔ جبکہ ہم نسب ‘ ہم قوم ‘ ہم جنس اور ہم وطن ہوکر بھی لوگ دوسرے سے دور ہوتے ہیں ۔ اگر وہ مسلمان نہ ہوں اور جب اسلامی نظریہ حیات کی اس مضبوط اساس پر اہل ایمان جمع ہوتے ہیں تو پھر ان کی نظر میں انسان وہ ہوتا ہے جو روحانی اعتبار سے انسان ہو۔ یعنی انسان اس وجہ سے ممتاز ہے کہ اس کے جسم میں اللہ نے ایک پاک روح ڈالی ہے ۔ چناچہ اس کا صحیح اکٹھ بھی عقیدے کی اساس ہو سکتا ہے جو اس کی روح کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ انسان کا اجتماعی نظام ان اساسوں پر قائم نہیں ہوتا جس پر مویشیوں کا اکٹھ ہوتا ہے ۔ مثلاً ای جگہ چرنے والے مویشی ‘ ایک جنس کے مویشی ‘ ایک چراگاہ والے مویشی ایک ہی باڑے میں اور اہل زندان میں روکے ہوئے مویشی باہم مل کر رہتے ہیں ۔ اسلامی نقطہ نظر سے ایک فرد اور دوسرے فرد ‘ ایک گروہ اور دوسرے گروہ ‘ ایک …

Aal-i-Imraan 3:67Listen in Qur'an →
68

إِنَّ أَوْلَى ٱلنَّاسِ بِإِبْرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا ٱلنَّبِىُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلْمُؤْمِنِينَ

ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے

پس وہ لوگ جو حضرت ابراہیم کی زندگی میں ان کے پیرو رہے ‘ اور ان کے نظام اور طریقے پر چلے ‘ اور انہوں نے ان کے احکام کے مطابق فیصلے کیے تو وہی ان کے دوست تھے ۔ پھر یہ نبی ان کے دوست ہیں جو اللہ کی شہادت کے مطابق ان کے دین پر ہیں وہ ان کے دوست ہیں ‘ اس کے بعد وہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوست ہیں جو اس نبی پر ایمان لائے ۔ اور وہ اپنے نظام زندگی اور طریقہ حیات میں ان کے ہم رنگ ہوگئے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ” اللہ صرف ان کا حامی اور مددگا رہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ اس لئے کہ یہی لوگ اللہ کی پارٹی کے ہیں ‘ یہی لوگ اللہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں اور اس کے سوا ان کا کوئی ولی نہیں ہے ۔ یہ لوگ ایک ہی خاندان ہیں ۔ یہ ایک امت ہیں ‘ چاہے صدیاں گزرجائیں ‘ زمانے گزرجائیں ‘ زمین اور وطن کے فاصلے طویل کیوں نہ ہوں ‘ نسل اور قوم مختلف کیوں نہ ہو ‘ خاندان اور قبائل مختلف کیوں نہ ہوں ‘ یہ ایک ہیں ‘ ایک رہیں گے۔

انسانی اجتماع کی یہ سب سے ترقی یافتہ شکل ہے جو حضرت انسان کے لئے موزوں ترین ہے ، اور یہی صورت اسے حیوانوں کے ریوڑ سے ممتاز کرتی ہے۔ دوسری جانب مختلف قسم کی سوسائٹیوں میں سے یہ سوسائٹی سب سے عام اور بلاقید ہے ۔ اس لئے کہ اس اجتماعی نظام کی اساس جس شرط کے ساتھ مشروط ہے وہ شرط اختیار ہے ۔ انسان کے بس میں ہے کہ وہ اس شرط کو پوری کردے ۔ وہ شرط نظریاتی ہے اور ہر شخص کسی بھی نظرئیے کو اپنانے میں آزاد اور مختار ہے ۔ جب کوئی شخص اپنی نسل تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اگرچہ ہم اجتماعی نظام کی اساس کسی نسل پر رکھ دیں تو کوئی شخص بہرحال اس نسل میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ اگرچہ اجتماعیت کو قومیت کی اساس پر استوار کریں تو پھر کوئی شخص اپنی قومیت تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اگر ہم اجتماعی نظام رنگ پر رکھیں تو کوئی بھی شخص اپنا رنگ نہیں بدل سکتا ۔ اسی طرح اگر ہم زبان کی اساس پر اجتماعی نظام استوار کریں تو کوئی شخص اپنی زبان بھی نہیں بدل سکتا ۔ اسی طرح اگر نظام طبقات پر مبنی ہو ‘ تو طبقہ بدلنا بھی آسانی سے ممکن نہیں ہوتا ۔ بلکہ بعض اوقات طبقات بھی ناقابل تبدیل ہوتے ہیں مثلاً ہندوستان میں اچھوت وغیرہ ‘ یہی وجہ ہے تمام دوسری سوسائٹیوں میں بعض طبقات کی راہ میں پردے حائل ہوتے ہیں اور وہ اس سوسائٹی کا ممبر نہیں بن سکتے ۔ صرف نظریاتی اساس پر تشکیل پانے والی سوسائٹی اس عیب سے خالی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ نظریاتی سوسائٹی میں کوئی نظریہ اپنانے نہ اپنانے کا معاملہ ایک فرد کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ بغیر اس کے اس کی اصلیت بدلے ‘ اس کی زبان بدلے ‘ اس کا طبقہ بدلے ‘ یا وصف بدلے جس کی اساس ‘ اس کا پردہ اس میں شامل ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نظریاتی سوسائٹی میں انسان کے مقام اور اس کے اکرام میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ اور اس کا نظریہ اجتماع ان عناصر کی اساس پر ہوتا ہے جو انسانی عناصر ہیں ۔ ان پر نہیں جو جانوروں کو باہم اکٹھا کرتے ہیں ۔ اب انسان کے لئے صرف دوراستے ہیں ‘ ایک یہ کہ وہ اسلام کے نظریہ اجتماع کے مطابق وہ روحانی اور نظریاتی اساسوں پر جمع ہو اور انسانوں کی طرح رہے اور یا پھر حیوانوں کے ایک ریوڑ اور گلے کی طرح ہم جنس ‘ جو اکٹھے ہوں یا ایسے مویشی اکٹھے ہوں جن کی چراگاہ ایک ہے ۔ اور ان حدود وقیود کے اندر رہیں جو ان مویشیوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔

اب امت مسلمہ کو بتایا جاتا ہے کہ اس جدل وجدال اور بحث ومباحثے کے پس منظر میں اہل کتاب کا اصل منصوبہ کیا ہے ؟ اس لئے اہل کتاب کی مکاریوں ‘ ان کی خفیہ تدبیروں اور دین کے ساتھ اس کھیل کا بھانڈا امت مسلمہ کے سامنے بھرے چورا ہے میں پھوڑا جاتا ہے وہ ستر پاش پاش کردیا جاتا ہے جس کے پیچھے چھپ کر یہ لوگ گھناؤنا کھیل کھیلا کرتے تھے اور انہیں جماعت مسلمہ کے سامنے صاف ننگا کرکے شرمندہ کردیا جاتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:68Listen in Qur'an →
69

وَدَّت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

(اے اہل اسلام) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے

اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف جو عداوت دلوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ نظریاتی عدوات تھی ، وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ یہ امت کبھی راہ راست پر آئے ۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ امت پوری قوت پورے یقین اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نظریات کی طرف لوٹ آئے ۔ اس لئے ان کی تمام جدوجہد اس نکتے پر مرکوز ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات سے اس امت کو ادہر ادہر کردیں اور اسے صراط مستقیم سے پھیر دیں۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ……………” اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے۔ “ یہ ان کی نفسانی خواہش ہے ۔ ان کے دلوں کی تہہ میں یہ جذبہ چھپا ہوا ہے ۔ ان کی ہر سازش کے پیچھے ان کی یہ خواہش کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ان کی ہر تدبیر ‘ ہر بحث ‘ ہر مناظرہ اور ہر تلبیس کے پس پشت یہی خواہش کارفرما ہے اور ان لوگوں کی یہ خواہش محض دشمنی ‘ ہوائے نفس اور شرارت پر مبنی ہے ۔ اس لئے وہ صریح گمراہی ہے ۔ اس لئے کہ سچائی ‘ بھلائی اور ہدایت وخیر خواہی کے جذبات کے نتیجے میں اس قسم کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوتی اور وہ جب بھی اہل اسلام کی گمراہی کے لئے کوئی جدوجہد شروع کرتے ہیں ‘ اسی وقت وہ خود گمراہ ہوجاتے ہیں۔ وَمَا يُضِلُّونَ إِلا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ……………” حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ “ اور مسلمان جب تک اسلام پر قائم رہیں گے وہ اپنے ان دشمنوں کی تدابیر کا اچھی طرح مقابلہ کرسکیں گے ۔ اہل کفر ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ان کو سازشیوں کی سازشوں سے بچانے والا ہے اور جب تک وہ پکے مسلمان ہیں ان کی تدابیر کو اللہ خود ان کے خلاف الٹاتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:69Listen in Qur'an →
70

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ

اے اہلِ کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو اور تم (تورات کو) مانتے تو ہو

اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف جو عداوت دلوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ نظریاتی عدوات تھی ، وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ یہ امت کبھی راہ راست پر آئے ۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ امت پوری قوت پورے یقین اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نظریات کی طرف لوٹ آئے ۔ اس لئے ان کی تمام جدوجہد اس نکتے پر مرکوز ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات سے اس امت کو ادہر ادہر کردیں اور اسے صراط مستقیم سے پھیر دیں۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ……………” اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے۔ “ یہ ان کی نفسانی خواہش ہے ۔ ان کے دلوں کی تہہ میں یہ جذبہ چھپا ہوا ہے ۔ ان کی ہر سازش کے پیچھے ان کی یہ خواہش کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ان کی ہر تدبیر ‘ ہر بحث ‘ ہر مناظرہ اور ہر تلبیس کے پس پشت یہی خواہش کارفرما ہے اور ان لوگوں کی یہ خواہش محض دشمنی ‘ ہوائے نفس اور شرارت پر مبنی ہے ۔ اس لئے وہ صریح گمراہی ہے ۔ اس لئے کہ سچائی ‘ بھلائی اور ہدایت وخیر خواہی کے جذبات کے نتیجے میں اس قسم کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوتی اور وہ جب بھی اہل اسلام کی گمراہی کے لئے کوئی جدوجہد شروع کرتے ہیں ‘ اسی وقت وہ خود گمراہ ہوجاتے ہیں۔ وَمَا يُضِلُّونَ إِلا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ……………” حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ “ اور مسلمان جب تک اسلام پر قائم رہیں گے وہ اپنے ان دشمنوں کی تدابیر کا اچھی طرح مقابلہ کرسکیں گے ۔ اہل کفر ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ان کو سازشیوں کی سازشوں سے بچانے والا ہے اور جب تک وہ پکے مسلمان ہیں ان کی تدابیر کو اللہ خود ان کے خلاف الٹاتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:70Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.