Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 61–70 of 200

61

فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا۟ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَٰذِبِينَ

پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر دونوں فریق (خدا سے) دعا والتجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں

مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔

نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ 15 ۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔

اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔

Aal-i-Imraan 3:61Listen in Qur'an →
62

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْقَصَصُ ٱلْحَقُّ ۚ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحبِ حکمت ہے

مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔

نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ 15 ۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔

اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔

Aal-i-Imraan 3:62Listen in Qur'an →
63

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُفْسِدِينَ

تو اگر یہ لوگ پھر جائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے

مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔

نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ 15 ۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔

اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔

Aal-i-Imraan 3:63Listen in Qur'an →
64

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ كَلِمَةٍۢ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِۦ شَيْـًۭٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُولُوا۟ ٱشْهَدُوا۟ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔

Aal-i-Imraan 3:64Listen in Qur'an →
65

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوْرَىٰةُ وَٱلْإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعْدِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔

Aal-i-Imraan 3:65Listen in Qur'an →
66

هَٰٓأَنتُمْ هَٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلْمٌۭ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِۦ عِلْمٌۭ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔

Aal-i-Imraan 3:66Listen in Qur'an →
67

مَا كَانَ إِبْرَٰهِيمُ يَهُودِيًّۭا وَلَا نَصْرَانِيًّۭا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًۭا مُّسْلِمًۭا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرماں بردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔

Aal-i-Imraan 3:67Listen in Qur'an →
68

إِنَّ أَوْلَى ٱلنَّاسِ بِإِبْرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا ٱلنَّبِىُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلْمُؤْمِنِينَ

ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔

Aal-i-Imraan 3:68Listen in Qur'an →
69

وَدَّت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

(اے اہل اسلام) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔

Aal-i-Imraan 3:69Listen in Qur'an →
70

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ

اے اہلِ کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو اور تم (تورات کو) مانتے تو ہو

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔

Aal-i-Imraan 3:70Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.