Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 51–60 of 200

51

إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۗ هَٰذَا صِرَٰطٌۭ مُّسْتَقِيمٌۭ

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا رستہ ہے

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ ۔۔ : عیسیٰ (علیہ السلام) نے معجزات پیش کرنے کے ساتھ ضروری سمجھا کہ اصل دین کی تاکید فرما دیں کہ میرا اور تمہارا داتا (رب) اللہ ہے، سو اسی کی عبادت کرو۔ مگر افسوس کہ نصرانیوں نے مسیح (علیہ السلام) کو اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے کر رب اور نفع و نقصان کا مالک سمجھ لیا اور ان سے فریادیں کرنے لگے۔

Aal-i-Imraan 3:51Listen in Qur'an →
52

۞ فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ ٱلْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرف دار اور میرا مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں

فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ ۔۔ : یعنی صرف عقل سے نہیں سمجھا بلکہ حواس سے معلوم کرلیا، آنکھوں اور کانوں سے یہ حقیقت جان لی کہ یہود اور ان کے علماء اللہ کی دی ہوئی نشانیوں اور دلائل و معجزات کے سامنے بےبس ہوچکے ہیں، مگر ماننے کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے سازشیں کر رہے ہیں تو انھیں اپنے دنیا سے رخصت ہونے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انھیں فکر تھی تو یہ کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام رکنا نہیں چاہیے، چناچہ انھوں نے اپنے پیروکاروں سے پوچھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف دعوت دینے اور اس کے راستے پر چلنے اور چلانے میں میرا مددگار ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے چند لوگوں کو توفیق عطا فرمائی، وہ ایمان لائے اور پوری تن دہی کے ساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کرتے رہے اور یہی لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں سے مدد مانگ رہے ہیں، اگر وہ مختار کل ہوتے تو مدد مانگنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہمارے دور کے قبرپرست بھی عجیب ہیں، اس آیت سے استدلال کرکے فوت شدہ بزرگوں سے وہ چیزیں مانگتے ہیں جو ان کے اختیار میں نہیں اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں بزرگوں نے چھوٹوں سے وہ مدد مانگی ہے جو ان کے اختیار میں تھی۔ - عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول ویسا ہی ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت سے پہلے زمانۂ حج میں مختلف قبائل عرب سے فرمایا کرتے تھے کہ کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں، اس لیے کہ قریش نے مجھے یہ پیغام پہنچانے سے روک رکھا ہے ؟ تاآنکہ آپ کو انصار مل گئے، جنھوں نے آپ کو پناہ دی اور اپنی جان و مال سے آپ کی مدد کی۔ مگر آپ کے حواری (خاص جاں نثار و مددگار) صرف انصار ہی نہ تھے، مہاجر بھی تھے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دوران میں تین دفعہ پوچھا : ” کون ہے جو بنوقریظہ کی خبر لائے گا ؟ “ تینوں دفعہ زبیر (رض) نے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں، میرا حواری زبیر ہے۔ “ [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل طلحۃ ۔۔ : ٢٤١٥، عن جابر بن عبداللہ ]

Aal-i-Imraan 3:52Listen in Qur'an →
53

رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلْتَ وَٱتَّبَعْنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

Explained together with ayah 52

Aal-i-Imraan 3:53Listen in Qur'an →
54

وَمَكَرُوا۟ وَمَكَرَ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسیٰ کو بچانے کے لیے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے

وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ ۔۔ : شیخ شنقیطی نے فرمایا : ” یہاں نہ یہود کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا، مگر دوسری جگہ ان کی تدبیر کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تھا، جیسا کہ فرمایا : ( وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ ) [ النساء : ١٥٧ ] ” اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا۔ “ اور اللہ کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے : (وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ ) [ النساء : ١٥٧ ] ” اور لیکن ان کے لیے (کسی کو اس مسیح کا) کا شبیہ بنادیا گیا۔ “ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ کو سولی دے کر سمجھ بیٹھے کہ ہم نے مسیح کو قتل کردیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء (١٥٧) ۔

Aal-i-Imraan 3:54Listen in Qur'an →
55

إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (وغالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا

مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیکَ : ” وَفَی یَفِیْ “ کا معنی پورا ہونا یا پورا کرنا ہے۔ ” اِسْتَوْفَی “ اور ” تَوَفّٰی “ کا معنی پورا لے لینا ہے۔ ” اِسْتَوْفَیْتُ مِنْہُ وَ تَوَفَّیْتُ “ کا معنی ہے ” میں نے اس سے پورا حق لے لیا۔ “ اس بنا پر ” مُتَوَفِّيْكَ “ کا معنی ہے ” میں تمہیں پورا لینے والا ہوں “ اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح و بدن دونوں کے ساتھ اٹھا لیا جاتا۔ بعض نے اس کا معنی ”(وقت پر) فوت کرنے والا ہوں “ کیا ہے اور میں نے ترجمہ کیا ہے ” قبض کرنے والا ہوں۔ “ اس میں دونوں معنی آجاتے ہیں۔ یوں تو قرآن میں ” تَوَفِّیْ “ کا معنی سلا دینا بھی آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ ) [ الأنعام : ٦٠ ]” اور وہی ہے جو تمہیں رات کو قبض کرلیتا (سلا دیتا) ہے “ اور فرمایا : ( اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ ) [ الزمر : ٤٢ ] ” اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں۔ “- شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (رض) نے ” اَلْجَوَاب الصَّحِیْحُ “ میں لکھا ہے کہ لغت عرب میں ” تَوَفِّیْ “ کے معنی ” اِسْتِیْفَاءٌ“ اور قبض کے آئے ہیں اور یہ نیند کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور موت کی صورت میں بھی اور یہ ” تَوَفِّی الرُّوْحِ مَعَ الْبَدَنِ جَمِیْعًا “ (روح اور بدن دونوں کو لے لینے) کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت میں (مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ ) سے عیسیٰ (علیہ السلام) کا مع جسم آسمان کی طرف اٹھایا جانا مراد ہے۔ جیسا کہ فرمایا : ( وَرَافِعُكَ اِلَيَّ )” اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ “ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل اور سولی کی نفی فرمائی اور ” تَوَفِّیْ “ کا لفظ استعمال کیے بغیر فرمایا : (بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ) [ النساء : ١٥٨] ” بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ “ - وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا : عیسیٰ (علیہ السلام) کے اول تابع نصاریٰ تھے، ان کے بعد مسلمان ہیں، سو یہ ہمیشہ غالب رہے۔ (موضح) حافظ ابن کثیر (رض) لکھتے ہیں کہ ان سے مراد صرف نصاریٰ بھی ہوسکتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہود جو مسیح (علیہ السلام) کے منکر ہیں ان پر نصاریٰ ہمیشہ غالب رہیں گے۔ (ابن کثیر)- اس سے مراد یہ بھی ہے کہ قیامت کے قریب جب مسیح (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو ان کے پیروکار مسلمان سب کفار پر غالب ہوں گے۔

Aal-i-Imraan 3:55Listen in Qur'an →
56

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ

یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

Explained together with ayah 55

Aal-i-Imraan 3:56Listen in Qur'an →
57

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دے گا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا

Explained together with ayah 55

Aal-i-Imraan 3:57Listen in Qur'an →
58

ذَٰلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ ٱلْءَايَٰتِ وَٱلذِّكْرِ ٱلْحَكِيمِ

(اے محمدﷺ) یہ ہم تم کو (خدا کی) آیتیں اور حکمت بھری نصیحتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں

Explained together with ayah 55

Aal-i-Imraan 3:58Listen in Qur'an →
59

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ ۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٍۢ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہو جا تو وہ (انسان) ہو گئے

اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى ۔۔ : یہ سورت شروع سے لے کر یہاں تک (یعنی پہلی آیت سے ٥٩ تک) وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وفد نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بحث کے دوران عیسیٰ (علیہ السلام) کی ” بُنُوَّۃ “ (اللہ کا بیٹا ہونے) پر اس سے استدلال کیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا اللہ کا بیٹا ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے تو آدم (علیہ السلام) جو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے وہ بالاولیٰ اللہ کا بیٹا کہلانے کے حق دار ہیں، مگر یہ عقیدہ بالکل باطل ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی طرح مسیح (علیہ السلام) کو بھی ” كُن “ سے پیدا کرکے اپنی قدرت کاملہ کو ظاہر فرمایا ہے۔ (ابن کثیر)- ” مِنْ تُرَابٍ “ میں تنوین تقلیل یا تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ” تھوڑی سی مٹی۔ “

Aal-i-Imraan 3:59Listen in Qur'an →
60

ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۔۔ : یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تمہارے سامنے جو حق بیان ہوا ہے یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ ” اَلْحَقُّ “ میں الف لام عہد کا ہے جس کا اشارہ گزشتہ بیان کی طرف ہے اس لیے ترجمہ ” یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے “ کیا گیا ہے۔ اور اس میں شک و شبہ کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ (رازی)

Aal-i-Imraan 3:60Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.