إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۗ هَٰذَا صِرَٰطٌۭ مُّسْتَقِيمٌۭ
کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا رستہ ہے
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا یہ خاتمہ ہے ۔ یعنی یہ تھی وہ دعوت جو آپ نے بنی اسرائیل کو دی ۔ اس میں انہی بنیادی نکات کی وضاحت کی گئی ہے جو ہمیشہ اللہ کے دین کے اصل نکات رہے ہیں ۔ اور جن کی طرف تمام رسول دعوت دیتے رہے ہیں ۔ اور یہ وہ حقائق ہیں جن کی بہت ہی اہمیت ہے ۔ خصوصاًجبکہ ان حقائق کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے دہرایا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی ولادت ہی وجہ نزاع تھی اور یہ نزاعات اس لئے پیدا ہوگئے تھے کہ لوگوں نے دین اور رسولوں کی حقیقت پر غور نہ کیا ۔ یعنی یہ کہ رسول بھی ایک ہیں اور ان کا دین بھی ایک ہے ۔ اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔
وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلأحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ……………” اور میں اس کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوں جو تورات میں سے میرے سامنے موجود ہیں ۔ اور اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان چیزوں کو حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں۔ “
یہاں وہ سچا مذہب بیان کیا جاتا ہے جو مسیحیت کا اصل مذہب تھا ۔ پس تو راقت جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تھی اس میں وہ دین برحق پوری طرح موجود تھا ۔ اور اس میں وہ پوری شریعت موجود تھی جو اجتماعی زندگی کو بہترین طور پر منظم کرتی تھی ۔ یعنی اس دور کی ضروریات کے مطابق اور اس وقت بنی اسرائیل کے جو حالات تھے ۔ ان کی نسبت سے اور اس نقطہ نظر سے کہ اس وقت وہ انسانوں کے ایک خاص گروہ کے لئے ایک خاص نظام زندگی تھا ۔ اور حضرت مسیح اپنی رسالت میں اسی تورات پر اعتماد فرماتے تھے ۔ آپ نے تورات کی تصدیق کی ۔ ہاں اس میں بعض حرام چیزوں کو حلال کردیا گیا اور وہ چیزیں ان پر حرام بھی بطور سزا دی گئی تھیں ‘ اس لئے کہ انہوں نے بعض گناہوں اور بعض بداعمالیوں کا ارتکاب کیا تھا۔ اور ان کی تربیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو بھی حرام کردیا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بذریعہ عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر رحم فرمایا اور وہ بعض اشیاء جو حرام کردی گئی تھیں انہوں دوبارہ حلال کردیا گیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دین کا یہ حقیقی مزاج ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی زندگی بذریعہ قانون سازی منظم کرتا ہے ۔ دین کا مزاج صرف تہذیب اخلاق نہیں ہوتا ۔ نہ دین انسان کے تصورات اور اس کے وجدان و شعور کو درست کرنے پر اکتفا کرتا ہے ۔ نہ دین کا صرف یہ کام ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے کچھ عبادات تجویز کردے اور وہ ان مراسم عبودیت کے عابد بن کر بیٹھ جائیں ۔ ایسے جزوی مسائل ہی پر اکتفاء کرنے والا دین ‘ اپنے اصل معنوں میں دین نہیں ہوتا ۔ دین تو صرف وہ ہوتا ہے جو پوری زندگی کا نظام ہو ‘ وہ اللہ تعالیٰ کا تجویز کردہ ہو ۔ اور جو انسانوں کی زندگی کو اللہ کی منہاج کے مطابق استوار کرے ۔
اور یہ بات بھی درست ہے کہ ایمانی عقائد ‘ مراسم عبودیت ‘ اخلاقی قدریں اگر دین سے علیحدہ کردی جائیں تو اس صورت میں دین صرف فقہ بن جاتا ہے ۔ اور پھر وہ انسانی زندگی میں صحیح طرح کام نہیں کرتا ۔ پھر یہ بات دینی مزاج کے خلاف ہوجاتی ہے ۔
یہی وہ حادثہ ہے جو مسیحیت کے ساتھ پیش آیا کہ بعض تاریخی اسباب کی وجہ سے ‘ اور پھر اس وجہ سے بھی کہ وہ ایک محدود وقت کے لئے نازل ہوئی تھی ‘ اور وہ حضرت محمد ﷺ کی آخری نبوت کے لئے بطور تمہید آئی تھی ۔ مسیحیت کی روحانی تعلیمات سے نظام شریعت علیحدہ ہوگیا ۔ وہ تاریخی اسباب یہ تھے کہ یہودیوں اور مسیح (علیہ السلام) کے درمیان سخت عداوت پیدا ہوگئی ۔ آپ کے بعد آپ کے انصار اور یہودیوں کے درمیان بھی سخت عداوت رہی ۔ جس کی وجہ سے یہ شریعت تورات بھی ایک محدود قوم اور محدود وقت کے لئے تھی اور حضرت عیسیٰ کی اخلاقی تعلیمات بھی ۔ تاکہ اللہ کے نظام قدرت میں طے شدہ منصوبے کے مطابق حضرت محمد ﷺ کی آخری اور جامع شریعت نازل ہو اور ہمیشہ کے لئے پوری انسانیت کے لئے شریعت ہو۔
بہرحال …