Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 51–60 of 200

51

إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۗ هَٰذَا صِرَٰطٌۭ مُّسْتَقِيمٌۭ

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا رستہ ہے

بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے …

Aal-i-Imraan 3:51Listen in Qur'an →
52

۞ فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ ٱلْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرف دار اور میرا مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں

بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے …

Aal-i-Imraan 3:52Listen in Qur'an →
53

رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلْتَ وَٱتَّبَعْنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے …

Aal-i-Imraan 3:53Listen in Qur'an →
54

وَمَكَرُوا۟ وَمَكَرَ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسیٰ کو بچانے کے لیے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے

بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے …

Aal-i-Imraan 3:54Listen in Qur'an →
55

إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (وغالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا

بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے …

Aal-i-Imraan 3:55Listen in Qur'an →
56

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ

یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

پس لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو میں عذاب دوں گا ان کو عذاب شدید دنیا میں اور آخرت میں، اور نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی مدد گار(56) اور لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، تو اللہ پورے دے گا انھیں اجر ان کے، اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(57)

[57,56] چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر جنھوں نے انکار کیا‘‘ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا ﴿ فَاُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پس میں انھیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا‘‘ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل ، ذلت وغیرہ ہیں۔ اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنھیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنھیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’لیکن جو لوگ ایمان لائے‘‘ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر، اور ان سب امور پرایمان لائے، جن پرایمان لانے کا انھیں حکم دیا گیا ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور نیک اعمال کیے‘‘ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنھیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا۔ اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خوش کرنا تھا۔ ﴿ فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’پس انھیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثواب دے گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا، اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انھیں عذاب دیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:56Listen in Qur'an →
57

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دے گا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا

پس لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو میں عذاب دوں گا ان کو عذاب شدید دنیا میں اور آخرت میں، اور نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی مدد گار(56) اور لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، تو اللہ پورے دے گا انھیں اجر ان کے، اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(57)

[57,56] چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر جنھوں نے انکار کیا‘‘ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا ﴿ فَاُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پس میں انھیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا‘‘ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل ، ذلت وغیرہ ہیں۔ اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنھیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنھیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’لیکن جو لوگ ایمان لائے‘‘ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر، اور ان سب امور پرایمان لائے، جن پرایمان لانے کا انھیں حکم دیا گیا ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور نیک اعمال کیے‘‘ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنھیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا۔ اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خوش کرنا تھا۔ ﴿ فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’پس انھیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثواب دے گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا، اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انھیں عذاب دیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:57Listen in Qur'an →
58

ذَٰلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ ٱلْءَايَٰتِ وَٱلذِّكْرِ ٱلْحَكِيمِ

(اے محمدﷺ) یہ ہم تم کو (خدا کی) آیتیں اور حکمت بھری نصیحتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں

یہ (واقعات) کہ پڑھتے ہیں ہم ان کو آپ پر، نشانیوں میں سے ہیں اور ذکر حکمت والا(58)

[58]﴿ذٰلِكَ نَتۡلُوۡهُ عَلَيۡكَ مِنَ الۡاٰيٰتِ وَالذِّكۡرِ الۡحَؔكِيۡمِ ﴾ ’’یہ جسے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں، آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے۔‘‘ یہ محمدﷺپر اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ان پر یہ حکمت والا قرآن نازل کیا جو محکم اور پختہ ہے۔ تمام احکام، حلال و حرام، گزشتہ انبیائے کرام کے واقعات اور ان کے ہاتھوں ظاہر ہونے والے واضح معجزات بیان کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن وہ تمام احکام و قصص بیان کرتا ہے جو ہمارے لیے مفید ہیں۔ ہمیں اس سے علم، عبرت، ثابت قدمی اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے جو رب کی عظیم ترین نعمت ہے۔ اس کے بعد فرمایا:

Aal-i-Imraan 3:58Listen in Qur'an →
59

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ ۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٍۢ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہو جا تو وہ (انسان) ہو گئے

بے شک مثال عیسیٰ کی نزدیک اللہ کے مانند مثال آدم کی ہے، اللہ نے پیدا کیا اس کو مٹی سے، پھر کہا واسطے اس کے ہو جا، تو ہوگیا وہ (انسان)(59)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(60)پھر جو کوئی جھگڑا کرے آپ سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں، بعد اس کے کہ آگیا آپ کے پاس (صحیح) علم سے، تو آپ کہہ دیں، آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمھاری جانوں کو، پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں ا ور کریں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر(61) بے شک یہی ہے بیان سچا،اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،اور بے شک اللہ ہی ہے غالب خوب حکمت والا(62) پس اگر وہ (اب بھی) روگردانی کریں، تو اللہ خوب جاننے والا ہے فساد کرنے والوں کو(63)

[63-59] عیسائی عیسیٰuکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لیے وہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰu کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے، اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدمuکو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدمuکے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰuکے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیحuکو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدمuکے ماں اورباپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالاولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰؔى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۰۰ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰuکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے۔ کیونکہ یہ (رب)’’پالنے والے‘‘ کی طرف سے ہے، آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ شک کرنے والوںمیں سے نہ ہوں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجیے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے۔ کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ﴾(یونس:10؍32) ’’حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں‘‘ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔آیات کا مطلب یہ ہے ﴿ فَمَنۡ حَآجَّكَ ﴾ کہ اے محمد(ﷺ)جو شخص عیسیٰuکے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انھیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ …

Aal-i-Imraan 3:59Listen in Qur'an →
60

ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

بے شک مثال عیسیٰ کی نزدیک اللہ کے مانند مثال آدم کی ہے، اللہ نے پیدا کیا اس کو مٹی سے، پھر کہا واسطے اس کے ہو جا، تو ہوگیا وہ (انسان)(59)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(60)پھر جو کوئی جھگڑا کرے آپ سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں، بعد اس کے کہ آگیا آپ کے پاس (صحیح) علم سے، تو آپ کہہ دیں، آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمھاری جانوں کو، پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں ا ور کریں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر(61) بے شک یہی ہے بیان سچا،اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،اور بے شک اللہ ہی ہے غالب خوب حکمت والا(62) پس اگر وہ (اب بھی) روگردانی کریں، تو اللہ خوب جاننے والا ہے فساد کرنے والوں کو(63)

[63-59] عیسائی عیسیٰuکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لیے وہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰu کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے، اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدمuکو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدمuکے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰuکے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیحuکو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدمuکے ماں اورباپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالاولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰؔى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۰۰ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰuکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے۔ کیونکہ یہ (رب)’’پالنے والے‘‘ کی طرف سے ہے، آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ شک کرنے والوںمیں سے نہ ہوں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجیے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے۔ کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ﴾(یونس:10؍32) ’’حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں‘‘ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔آیات کا مطلب یہ ہے ﴿ فَمَنۡ حَآجَّكَ ﴾ کہ اے محمد(ﷺ)جو شخص عیسیٰuکے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انھیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ …

Aal-i-Imraan 3:60Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.