قَالَ رَبِّ ٱجْعَل لِّىٓ ءَايَةًۭ ۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًۭا ۗ وَٱذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًۭا وَسَبِّحْ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِبْكَٰرِ
زکریا نے کہا کہ پروردگار (میرے لیے) کوئی نشانی مقرر فرما خدا نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کر سکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح و شام اس کی تسبیح کرنا
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے …