Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 200

31

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اللہ کی محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے اور نہ کوئی وہ وجدانی امر ہے۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ۔ آپ کی سیرت اور نقش قدم پر چلنا ضروری ہے ۔ اپنی زندگی میں اسلامی نظام رائج کرنا ضروری ہے ۔ ایمان صرف چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے ۔ نہ یہ شعور اور جذبات سے عبارت ہے ۔ نہ وہ صرف چند شعائر کے قیام کا نام ہے ۔ بلکہ ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔ اور اس منہاج پر عمل کا نام جس کے حامل رسول اللہ ہیں ۔

پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں ” یہ آیت ہر اس شخص کے کیس کا فیصلہ کردیتی ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا سلوک طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے ۔ یہ شخص فی الحقیقت جھوٹا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ شریعت محمدیہ کی اطاعت کرے ۔ اور اپنے تمام اقوال اور اعمال میں دین محمدی کی اطاعت کرے ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔” جس شخص نے جو عمل کیا ‘ جو ہمارے کام کے مطابق نہیں ہے ‘ تو وہ مردود ہے ۔ “

اور دوسری آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا……………” کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو بس اگر وہ منہ پھیر دیں ۔ “………اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے طریقے کی مخالفت کفر ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے اوصاف والے شخص سے محبت ہرگز نہیں کرتا۔ اگرچہ ایسا شخص یہ دعویٰ کرے یا یہ یقین کرے کہ وہ محب اللہ ہے ۔ “

امام شمس الدین ابومحمد ‘ ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں فرماتے ہیں ۔” جو شخص کتب سیرت اور ثابت شدہ احادیث پر غور کرے گا اسے معلوم ہوگا بیشمار اہل کتاب اور مشرکین ایسے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور حقانیت کی شہادت دیتے ہیں ۔ لیکن ان کی یہ شہادت انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتی ۔ تو معلوم ہوا کہ اسلام اس سے کہیں زیادہ کوئی اور چیز ہے ۔ اسلام صرف علم اور معرفت کا نام نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ معرفت اور اقرار سے عبارت ہے ۔ بلکہ اسلام عبارت ہے ‘ معرفت اقرار اور اطاعت تینوں سے ۔ یہ انقیاد اور طاعت ظاہری امور میں بھی لازمی ہے اور باطنی امور میں بھی ۔ “

دین اسلام کی ایک حقیقت اور ماہیت ہے اور جب تک وہ حقیقت اور ماہیت موجود نہ ہوگی دین نہ ہوگا۔ اور وہ حقیقت صرف رسول اللہ ﷺ کا اتباع ہے ۔ شریعت کا اتباع ہے ۔ کتاب اللہ کے مطابق عدالتی نظام کا قیام ہے ۔ اور یہ حقیقت عقیدہ توحید سے پھوٹ کر نکلتی ہے ۔ جس طرح اس عقیدے کی تشریح اسلام نے کی ہے ۔ یعنی یہ کہ اللہ اپنی ذات میں وحدہ لاشریک ہے ۔ اس کا حق ہے کہ لوگ پوری طرح اس کے غلام اور بندے ہوں ‘ وہ اللہ کے احکام نافذ کرنے والے ہوں۔ ان میں شریعت الٰہیہ نافذ ہو اور وہ ایسی اقدار قائم کریں جن کے مطابق لوگ اپنے فیصلے کریں اور پھر ان پر راضی ہوں ۔ اس عقیدے کی رو سے اللہ واحد نگہبان ہے ۔ اس لئے وہی حاکم ہے اور لوگوں کے درمیان تمام اجتماعی تعلقات اس حاکمیت کی اساس پر قائم ہوں ‘ جس طرح اس پوری کائنات کا نظام اس کے قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ انسان بھی اس کائنات کا ایک جزء ہے ۔

جیسا کہ ہم نے تفصیل سے مطالعہ کیا اس سورت کا پہلا سبق بالکل وضاحت اور صاف ستھرے طریقے سے اس بات کا فیصلہ کردیتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول نظام زندگی صرف اسلام ہے۔ اس سے فرار اور جان چھڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو شخص بھی مسلمان بننا چاہتا ہے اسے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی ۔ اسلام کی یہی صورت ہے ‘ وہ صورت نہیں ہے جو آج کل لوگوں نے اپنے لئے خود گھڑ رکھی ہے ۔ وہ محض اوہام ہیں ‘ محض خرافات ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:31Listen in Qur'an →
32

قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْكَٰفِرِينَ

کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

اللہ کی محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے اور نہ کوئی وہ وجدانی امر ہے۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ۔ آپ کی سیرت اور نقش قدم پر چلنا ضروری ہے ۔ اپنی زندگی میں اسلامی نظام رائج کرنا ضروری ہے ۔ ایمان صرف چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے ۔ نہ یہ شعور اور جذبات سے عبارت ہے ۔ نہ وہ صرف چند شعائر کے قیام کا نام ہے ۔ بلکہ ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔ اور اس منہاج پر عمل کا نام جس کے حامل رسول اللہ ہیں ۔

پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں ” یہ آیت ہر اس شخص کے کیس کا فیصلہ کردیتی ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا سلوک طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے ۔ یہ شخص فی الحقیقت جھوٹا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ شریعت محمدیہ کی اطاعت کرے ۔ اور اپنے تمام اقوال اور اعمال میں دین محمدی کی اطاعت کرے ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔” جس شخص نے جو عمل کیا ‘ جو ہمارے کام کے مطابق نہیں ہے ‘ تو وہ مردود ہے ۔ “

اور دوسری آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا……………” کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو بس اگر وہ منہ پھیر دیں ۔ “………اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے طریقے کی مخالفت کفر ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے اوصاف والے شخص سے محبت ہرگز نہیں کرتا۔ اگرچہ ایسا شخص یہ دعویٰ کرے یا یہ یقین کرے کہ وہ محب اللہ ہے ۔ “

امام شمس الدین ابومحمد ‘ ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں فرماتے ہیں ۔” جو شخص کتب سیرت اور ثابت شدہ احادیث پر غور کرے گا اسے معلوم ہوگا بیشمار اہل کتاب اور مشرکین ایسے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور حقانیت کی شہادت دیتے ہیں ۔ لیکن ان کی یہ شہادت انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتی ۔ تو معلوم ہوا کہ اسلام اس سے کہیں زیادہ کوئی اور چیز ہے ۔ اسلام صرف علم اور معرفت کا نام نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ معرفت اور اقرار سے عبارت ہے ۔ بلکہ اسلام عبارت ہے ‘ معرفت اقرار اور اطاعت تینوں سے ۔ یہ انقیاد اور طاعت ظاہری امور میں بھی لازمی ہے اور باطنی امور میں بھی ۔ “

دین اسلام کی ایک حقیقت اور ماہیت ہے اور جب تک وہ حقیقت اور ماہیت موجود نہ ہوگی دین نہ ہوگا۔ اور وہ حقیقت صرف رسول اللہ ﷺ کا اتباع ہے ۔ شریعت کا اتباع ہے ۔ کتاب اللہ کے مطابق عدالتی نظام کا قیام ہے ۔ اور یہ حقیقت عقیدہ توحید سے پھوٹ کر نکلتی ہے ۔ جس طرح اس عقیدے کی تشریح اسلام نے کی ہے ۔ یعنی یہ کہ اللہ اپنی ذات میں وحدہ لاشریک ہے ۔ اس کا حق ہے کہ لوگ پوری طرح اس کے غلام اور بندے ہوں ‘ وہ اللہ کے احکام نافذ کرنے والے ہوں۔ ان میں شریعت الٰہیہ نافذ ہو اور وہ ایسی اقدار قائم کریں جن کے مطابق لوگ اپنے فیصلے کریں اور پھر ان پر راضی ہوں ۔ اس عقیدے کی رو سے اللہ واحد نگہبان ہے ۔ اس لئے وہی حاکم ہے اور لوگوں کے درمیان تمام اجتماعی تعلقات اس حاکمیت کی اساس پر قائم ہوں ‘ جس طرح اس پوری کائنات کا نظام اس کے قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ انسان بھی اس کائنات کا ایک جزء ہے ۔

جیسا کہ ہم نے تفصیل سے مطالعہ کیا اس سورت کا پہلا سبق بالکل وضاحت اور صاف ستھرے طریقے سے اس بات کا فیصلہ کردیتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول نظام زندگی صرف اسلام ہے۔ اس سے فرار اور جان چھڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو شخص بھی مسلمان بننا چاہتا ہے اسے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی ۔ اسلام کی یہی صورت ہے ‘ وہ صورت نہیں ہے جو آج کل لوگوں نے اپنے لئے خود گھڑ رکھی ہے ۔ وہ محض اوہام ہیں ‘ محض خرافات ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:32Listen in Qur'an →
33

۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحًۭا وَءَالَ إِبْرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمْرَٰنَ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا

درس 24 ایک نظر میں

بعض وہ روایات ‘ جن میں رسول اکرم ﷺ اور وفد نجران کے درمیان مناظرے کیا بیان آیا ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ اس سورت میں جن قصوں کا ذکر ہوا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی ولادت ‘ ان کی والدہ کی ولادت ‘ حضرت یحییٰ اور دوسرے واقعات ‘ ان شبہات کے رد میں نازل ہوئے ۔ جن کو لے کر یہ وفد آیا تھا ۔ اور ان لوگوں کے شبہات کی عمارت قرآن کریم کی اس آیت پر کھڑی کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ کَلِمَۃُ اللّٰہِ …………ہیں جو مریم کی طرف آیا اور وہ ” اس کا روح “ ہیں نیز سورت مریم میں جن امور کا ذکر نہ ہوا تھا انہوں نے اس کے بارے میں رسول ﷺ سے جواب طلب کیا تھا۔

یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے ‘ لیکن اس سورت میں جس طرح ان قصوں کو لایا گیا ہے وہ بعینہ اسی طریقہ پر ہے جس طرح قرآن کریم قصوں کو لاتا ہے۔ یعنی کچھ حقائق پیش نظر ہوتے ہیں ۔ اور ان قصوں کے ذریعے قرآن کریم ان حقائق کو ذہن نشین کرتا ہے اور وہ حقائق دراصل پوری سورت کا موضوع سخن ہوتے ہیں ‘ جو اس موضوع کے گرد گھومتے ہیں ۔ اور قصوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ خود بخود ان سے وہ حقائق ظاہر ہوتے ہیں اور ذہن نشین ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اور وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق انسان کی زندگی میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جس طرح اسکرین پر کردار ہوتے ہیں ۔ محض فلسفیانہ اور تجریدی انداز بیان کے مقابلے میں حکایتی انداز بیان بہت ہی موثر ہوتا ہے ۔

اگر غور کریں تو ان قصوں سے بھی وہ حقائق اچھی طرح کھل کر سامنے آتے ہیں جو اس سورت کا موضوع ہیں اور یہ سورت ان حقائق پر مرکوز ہے ۔ اور جن خطوط پر اس میں بحث ہورہی ہے اسی پر یہ قصے چلتے ہیں ۔ اس لئے ان قصوں میں ‘ ان کے شان نزول کا کوئی مخصوص واقعہ نظر نہیں آتا ۔ بلکہ قصوں سے وہ واقعات لئے گئے ہیں جو اصل واقعات ہیں اور جن سے اسلام کا نظریاتی پہلو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔

اس سورت کا اصل مسئلہ جس طرح کہ ہم اس سے پہلے کہہ آئے ہیں ۔ عقیدہ توحید ہے ۔ یہ کہ اللہ اپنی ذات میں ایک ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ موجود نہیں ہے ۔ اور یہ کہ وہ واحد نگہبان ہے اور اس جہاں کو چلانے والا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور دوسرے وہ قصص جو اس کی تکمیل میں یہاں لائے گئے ہیں وہ اس عقیدہ ٔ توحید کو اچھی طرح ثابت کرتے ہیں ۔ یہ قصص اللہ کے لئے اولاد کے تصور کی نفی کرتے ہیں ‘ اس لئے شرک کے تصور کو رد کرتے ہیں ۔ وہ ان تصورات کو بعید از قیاس اور بعید ازفہم بناتے ہیں ۔ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس قسم کے شبہات غلط ہیں ۔ اور ایسے تصورات کھوٹے تصورات ہیں ۔ اس لئے حضرت مریم کی پیدائش کے واقعات کھول کر بیان کئے جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور متعلقہ واقعات دیئے جاتے ہیں۔ یہ واقعات اس انداز میں لائے جاتے ہیں کہ پڑھنے والے کے ذہن میں اس کی بشریت کے بارے میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا ۔ اور پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسی طرح رسول ہیں جس طرح دوسرے رسول گزرے ہیں ۔ ان کا ہی مقام ہے جو ان رسولوں کا تھا۔ ان کی طبعی حقیقت بھی وہی ہے جو ان رسولوں کی تھی ‘ یہ قصص حضرت عیسیٰ کی اور غیر معمولی پیدائش کے خارق العادت واقعہ کی ایسی تعبیر اور ایسی تشریح کرتے ہیں کہ جس سے اس اعجوبے کی دل لگتی تعبیر سامنے آجاتی ہے ۔ جس میں کوئی پیچیدگی اور کوئی لاینحل عقدہ نہیں رہتا ۔ اور اس تعبیر پر دل و دماغ بالکل مطمئن ہوجاتے ہیں اور یہ …

Aal-i-Imraan 3:33Listen in Qur'an →
34

ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنۢ بَعْضٍۢ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

درس 24 ایک نظر میں

بعض وہ روایات ‘ جن میں رسول اکرم ﷺ اور وفد نجران کے درمیان مناظرے کیا بیان آیا ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ اس سورت میں جن قصوں کا ذکر ہوا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی ولادت ‘ ان کی والدہ کی ولادت ‘ حضرت یحییٰ اور دوسرے واقعات ‘ ان شبہات کے رد میں نازل ہوئے ۔ جن کو لے کر یہ وفد آیا تھا ۔ اور ان لوگوں کے شبہات کی عمارت قرآن کریم کی اس آیت پر کھڑی کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ کَلِمَۃُ اللّٰہِ …………ہیں جو مریم کی طرف آیا اور وہ ” اس کا روح “ ہیں نیز سورت مریم میں جن امور کا ذکر نہ ہوا تھا انہوں نے اس کے بارے میں رسول ﷺ سے جواب طلب کیا تھا۔

یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے ‘ لیکن اس سورت میں جس طرح ان قصوں کو لایا گیا ہے وہ بعینہ اسی طریقہ پر ہے جس طرح قرآن کریم قصوں کو لاتا ہے۔ یعنی کچھ حقائق پیش نظر ہوتے ہیں ۔ اور ان قصوں کے ذریعے قرآن کریم ان حقائق کو ذہن نشین کرتا ہے اور وہ حقائق دراصل پوری سورت کا موضوع سخن ہوتے ہیں ‘ جو اس موضوع کے گرد گھومتے ہیں ۔ اور قصوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ خود بخود ان سے وہ حقائق ظاہر ہوتے ہیں اور ذہن نشین ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اور وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق انسان کی زندگی میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جس طرح اسکرین پر کردار ہوتے ہیں ۔ محض فلسفیانہ اور تجریدی انداز بیان کے مقابلے میں حکایتی انداز بیان بہت ہی موثر ہوتا ہے ۔

اگر غور کریں تو ان قصوں سے بھی وہ حقائق اچھی طرح کھل کر سامنے آتے ہیں جو اس سورت کا موضوع ہیں اور یہ سورت ان حقائق پر مرکوز ہے ۔ اور جن خطوط پر اس میں بحث ہورہی ہے اسی پر یہ قصے چلتے ہیں ۔ اس لئے ان قصوں میں ‘ ان کے شان نزول کا کوئی مخصوص واقعہ نظر نہیں آتا ۔ بلکہ قصوں سے وہ واقعات لئے گئے ہیں جو اصل واقعات ہیں اور جن سے اسلام کا نظریاتی پہلو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔

اس سورت کا اصل مسئلہ جس طرح کہ ہم اس سے پہلے کہہ آئے ہیں ۔ عقیدہ توحید ہے ۔ یہ کہ اللہ اپنی ذات میں ایک ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ موجود نہیں ہے ۔ اور یہ کہ وہ واحد نگہبان ہے اور اس جہاں کو چلانے والا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور دوسرے وہ قصص جو اس کی تکمیل میں یہاں لائے گئے ہیں وہ اس عقیدہ ٔ توحید کو اچھی طرح ثابت کرتے ہیں ۔ یہ قصص اللہ کے لئے اولاد کے تصور کی نفی کرتے ہیں ‘ اس لئے شرک کے تصور کو رد کرتے ہیں ۔ وہ ان تصورات کو بعید از قیاس اور بعید ازفہم بناتے ہیں ۔ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس قسم کے شبہات غلط ہیں ۔ اور ایسے تصورات کھوٹے تصورات ہیں ۔ اس لئے حضرت مریم کی پیدائش کے واقعات کھول کر بیان کئے جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور متعلقہ واقعات دیئے جاتے ہیں۔ یہ واقعات اس انداز میں لائے جاتے ہیں کہ پڑھنے والے کے ذہن میں اس کی بشریت کے بارے میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا ۔ اور پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسی طرح رسول ہیں جس طرح دوسرے رسول گزرے ہیں ۔ ان کا ہی مقام ہے جو ان رسولوں کا تھا۔ ان کی طبعی حقیقت بھی وہی ہے جو ان رسولوں کی تھی ‘ یہ قصص حضرت عیسیٰ کی اور غیر معمولی پیدائش کے خارق العادت واقعہ کی ایسی تعبیر اور ایسی تشریح کرتے ہیں کہ جس سے اس اعجوبے کی دل لگتی تعبیر سامنے آجاتی ہے ۔ جس میں کوئی پیچیدگی اور کوئی لاینحل عقدہ نہیں رہتا ۔ اور اس تعبیر پر دل و دماغ بالکل مطمئن ہوجاتے ہیں اور یہ …

Aal-i-Imraan 3:34Listen in Qur'an →
35

إِذْ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ عِمْرَٰنَ رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِى بَطْنِى مُحَرَّرًۭا فَتَقَبَّلْ مِنِّىٓ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

اس تمہیدی اعلان احترام کے بعد اب آل عمران کے بارے میں براہ راست بات شروع ہوجاتی ہے ۔

نذر کے اس قصے سے بیگم عمران کا دل کھل کر سامنے آجاتا ہے ۔ یہ مریم کی ماں تھیں۔ ان کا دل ذوق ایمان سے معمور ہے ۔ وہ اپنے عزیز ترین اثاثے کو اللہ کے لئے پیش کرتی ہے ۔ یعنی وہ بچہ جو ابھی تک ان کے پیٹ میں ہے ۔ وہ اسے خالصتاً اللہ کے لئے پیش کرتی ہیں ‘ اس پیش کش کے ساتھ کوئی شرط اور قید نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ کوئی شرکیہ تصور وابستہ نہیں جیسا کہ اکثر نذروں میں ہوتا ہے۔ اس فعل میں اللہ کے سوا کسی کے حق کا تصور نہیں ہے ۔ اور لفظ ” محرر “ سے اس بےقید نذر کی تعبیر نہایت ہی معنی خیز ہے ۔ اس لئے کہ صحیح معنوں میں آزاد وہی شخص ہوتا ہے ۔ جو اللہ کا ہوجائے ۔ وہ ہر طرف سے بھاگ کر جناب باری میں پناہ لے لے۔ وہ ہر شخص ‘ ہر چیز اور ہر قدر کی غلامی سے نجات پاکر نکل آئے اور بندگی صرف اللہ وحدہ کی اختیار کرے ۔ صرف اسی صورت میں ایک انسان صحیح معنوں میں تمام غلامیوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اس صورت کے علاوہ تمام صورتوں میں کسی نہ کسی شکل میں غلامی موجود رہتی ہے اگرچہ بظاہر کسی کو آزادی نظر آئے۔

اس نکتہ کو پالینے کے بعد ہی یہ بات نظر آتی ہے عقیدہ توحید دراصل مکمل آزادی کا ایک چارٹر ہے ۔ وہ شخص کیونکر آزاد تصور ہوسکتا ہے کہ جب وہ کسی معاملے میں ‘ اللہ کے سوا اوروں کا غلام اور تابع ہونے پر مجبور ہو ‘ اپنی ذات ونفسیات کی دنیا میں ‘ یا اپنے روزمرہ کے امور حیات کے معاملے میں یا اپنے طور طریقوں یا اقدار حیات کے معاملے میں یا قوانین اور دستور حیات کے سلسلے میں اس لئے کہ وہ یہ امور ہیں جو اس کی زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ اگر ایک انسان کا دل غیر اللہ کی محبت میں گرفتار ہو ‘ یا غیر اللہ کی غلامی کے زیر بار ہو یا وہ کسی چیز کی محبت کا شکار ہو تو اسے کن معنوں میں آزاد کہا جاسکتا ہے ۔ جبکہ اس کی زندگی میں ایسی اقدار کی قدر ہو اور ایسے قوانین پر عمل ہو رہا ہو جو غیر اللہ سے ماخوذ ہوں ۔ دنیا میں انسانوں کو حقیقی آزادی اس وقت نصیب ہوئی جب انہوں نے اسلام کے نظریہ توحید کو اپنایا۔

Aal-i-Imraan 3:35Listen in Qur'an →
36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّى وَضَعْتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّى سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّىٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں

زوجہ عمران کی یہ خشوع و خضوع کے عطر سے معطر دعا کہ اے رب میری نذر قبول فرما ! وہ نذر جو اس کے دل کا ٹکڑا ہے۔ اس کا جگر گوشہ ہے ۔۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خالص اللہ کی مسلم اور مطیع فرمان ہیں ۔ وہ کلمۃ اللہ کی جہت کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں ۔ بالکلہ یکسو ہیں ۔ ہر قید سے آزاد ہیں اور ان کے دل میں ماسوائے قبولیت نذر اور رضائے الٰہی کے جذبے کے اور کچھ نہیں ہے۔

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

” پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا :” مالک ! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا ‘ اللہ کو اس کی خبر تھی ………اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا ۔ خیر ‘ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔ “

اس کا خیال یہ تھا کہ میرا بچہ لڑکا ہوگا۔ اور گرجوں میں جن بچوں کی نذر دی جاتی تھی وہ بالعموم لڑکے ہوا کرتے تھے تاکہ وہ ہیکل کی خدمت کریں ۔ اور وہ صرف عبادت کے لئے وقف ہوجائیں اور دنیا سے کٹ جائیں ۔ لیکن وہ کیا دیکھتی ہے کہ بچہ لڑکی ہے ۔ اس لئے وہ گڑگڑا کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور نہایت ہی متأسفانہ انداز میں کہتی ہے ۔

رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى……………” میرے رب ‘ میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ۔ “

وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ……………” اور جو کچھ اس نے جنا ‘ اس کا علم تو اللہ کو بہرحال تھا۔ “ لیکن وہ یہ الفاظ اس لئے کہتی ہے کہ وہ خود متوجہ الی اللہ ہے اور ہدیہ پیش کرتی ہے ۔ گویا وہ ان الفاظ سے اللہ کے ہاں معذرت پیش کررہی ہے ۔ کہ اگر لڑکا ہوتا تو وہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرتا ۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى……………” اور لڑکا ‘ لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ “ یعنی جس مقصد کے لئے نذر مانی گئی ہے ‘ اس مقصد کے لئے تو لڑکا ہی موزوں ہوتا ہے۔ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ……………” میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ “

” یہاں جس انداز سے بات ہورہی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زوجہ عمران اللہ تعالیٰ سے آمنے سامنے بات کررہی ہیں ‘ گو تخلیہ میں بات ہورہی ہے ‘ دل کی پوری بات بتائی جارہی ہے ۔ صاف صاف بتائی جارہی ہے ۔ اور اپنا پورا اثاثہ پیش کیا جارہا ہے ۔ براہ راست خدمت اقدس میں ‘ اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کے تعلق باللہ کا یہی حال ہوتا ہے ۔ محبت ‘ قرب اور براہ راست رابطہ اپنے رب کے ساتھ سادہ الفاظ میں اخلاص کے ساتھ ہمکلامی ‘ جس میں نہ تکلف ہے اور نہ پیچیدگی ہے ۔ وہ بات اس طرح کرتے ہیں جس طرح رب ان کے بالکل قریب ہے ۔ ان سے محبت کرتا ہے ‘ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔

وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

” میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ “ یہ وہ آخری بات ہے جو ایک ماں اپنے بچے کی نذر پیش کرنے بعد الوداعی طور پر کہتی ہے ۔ اور اسے اپنے رب کی حمایت اور اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتی ہے ۔ اور اس کے لئے اور اس کی اولاد کے لئے شیطان مردود سے پناہ مانگتی ہے ………اور یہ باتیں خلوص قلب کا مظہر ہیں ‘ وبطیب خاطر یہ نذر دے رہی ہے اور اپنی محبوب اولاد کے لئے وہ جو تحفظ طلب کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ اسے شیطان مردود سے بچائے۔

Aal-i-Imraan 3:36Listen in Qur'an →
37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍۢ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًۭا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا ٱلْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًۭا ۖ قَالَ يَٰمَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا……………” آخرکار اللہ نے اس کی لڑکی کو قبول کرلیا اور اسے اچھی لڑکی بناکر اٹھایا۔ “ مال کے دل میں اخلاص اور للّٰہیت کو جذبہ موجزن تھا ‘ یہ اس کا صلہ تھا ‘ یہ ایک خالص نذر تھی جو صرف اللہ کے لئے تھی ‘ اور یہ اسے درحقیقت آنیوالے دور میں نفخ روح کے لئے تیار کرنا تھا ۔ کلمۃ اللہ کے حمل کے لئے اسے تیار کرنا تھا ۔ تاکہ وہ حضرت عیسیٰ کی خارق العادت ولادت کے لئے تیار ہو جس کی کوئی مثال اس سے قبل موجود نہ تھی ۔

وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا……………” ذکریا کو اس کا سرپرست بنادیا گیا۔ “ وہ اس کے ولی اور ذمہ دار قرارپائے ۔ اس دور میں حضرت زکریا ہیکل کے صدر نشین تھے ۔ اور وہ حضرت ہارون کی اولاد سے تھے ۔ اور ہیکل سلیمانی کی مجاوری اور انتظام ان کی اولاد کے ہاتھ میں چلا آرہا تھا ۔ یوں حضرت مریم کی نشوونما اور تربیت کا بابرکت سلسلہ شروع ہوا ۔ اللہ تعالیٰ اسی نوخیز راہبہ کے لئے اپنے فیض خاص سے رزق کا خصوصی انتظام فرماتے تھے۔

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” زکریاجب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا ‘ تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا ۔ پوچھتا ‘ مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ؟ قوہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔ “

ہم ان تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے کہ یہ رزق کیسا تھا ‘ جس طرح کہ مختلف روایات وارد ہیں ‘ یہاں اس قدر کہنا کافی ہے کہ وہ رزق بڑا بابرکت تھا ۔ آپ کے ماحول میں برکت تھی اور ہر طرف سے وہ چیزیں مہیا ہورہی تھیں جن پر رزق کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس قدر وافر رزق ہوتا تھا کہ ان کا کفیل بھی حیران رہ جاتا ۔ حالانکہ وہ نبی تھا ۔ وہ ان فیوض وبرکات کو دیکھ کر حیرانی سے پوچھتا کہ یہ کیسے اور کہاں سے ؟ لیکن حضرت مریم ایک مومن صادق کی طرح بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ جواب دیتیں اور اللہ کے انعامات کا اعتراف کرتیں ۔ اللہ کے کرم کا اقرار کرکے معاملہ اس کے حوالے کردیتیں۔

هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے ۔ “ یہ وہ کلمات ہیں ‘ جو بتاتے ہیں کہ بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔ اور کس طرح بندگان عالی مقام اپنے ان رازوں کو راز ہی رہنے دیتے ہیں جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہوتے ہیں ۔ اور بات میں اس راز کے بارے میں بڑی تواضع اور کسر نفسی سے بات کرتے ہیں ۔ اس کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے ۔ یہاں حضرت مریم کے ہاں فراہمی رزق کے سلسلے میں غیر معمولی صورت حال دکھائی گئی اور جس پر حضرت زکریا نبی وقت کو بھی تعجب ہوا ۔ وہ آئندہ آنے والے زیادہ عجائبات قدرت کے لئے بطور تمہیدذکر ہوئے ۔ جن میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی ولادت شامل ہے ۔

اس مقام پر (مریم جیسی اولاد اور اس کے پاس وافر رزق ) کو دیکھ کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کے دل میں امید کی کرن پھوٹی ‘ آپ کی اولاد نہ تھی ‘ یہ ایک فطری خواہش تھی ‘ جو ہر انسان کے دل میں دسر قدرت نے ودیعت کی ہوئی ہوتی ہے۔ یعنی اولاد صالح کی زبردست خواہش ۔ تاکہ انسان کی ذات تسلسل میں رہے ۔ اور اس کے بعد اس کا کوئی جانشین ہو ‘ یہ وہ خواہش ہے جو بڑے بڑے عبادت گزاروں اور زاہدوں کے دل میں بھی موجزن رہتی ہے ۔ ان لوگوں کے دل میں بھی جنہوں نے اپنے آپ کو عبادت کے لئے وقف کرلیا ہوتا ہے۔ اور جو ہیکل کی خدمت کے لئے وقف ہوچکے ہوتے ہیں ۔ یہ وہ فطرت ہے جس اللہ نے لوگوں کی تخلیق کی ہے ۔ اور یہ اس گہری حکمت کا نتیجہ ہے کہ اس جہاں میں زندگی کا تسلسل جاری ہے اور وہ دن …

Aal-i-Imraan 3:37Listen in Qur'an →
38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُۥ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةًۭ طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بے شک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

یوں ہم اپنے آپ کو ایک غیر معمولی واقعہ کے سامنے پاتے ہیں ۔ یہ واقعہ اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ کی مشیئت بےقید ہے ۔ اور وہ ان سلسلہ اسباب ومسببات کی قید وبند سے آزاد ہے ۔ جنہیں آگے پیچھے دیکھنے کا انسان عادی ہے ۔ اور جن کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس سلسلے میں تخلف ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو واقعات وحادثات اس قانون کے حدود وقیود کے اندر نہیں ہوتے یہ انسان ان کے بارے میں شاکی رہتا ہے ۔ اور جب وہ اس بات سے عاجز ہوں کہ اس کی تکذیب کردیں جب ان کے لئے ایسے واقعات کو جھٹلاناممکن نہ رہے کیونکہ وہ واقعات ہوتے ہیں تو وہ ان واقعات کے اوپر قصے اور کہانیوں کے خول چڑھادیتے ہیں ۔

دیکھئے زکریا شیخ اور معمر آدمی ہیں اور ان کی بیوی ان کے معمر ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانی میں بھی بانجھ رہی ہیں ۔ اس بوڑھے کے دل میں اولاد کی خواہش جوش میں آتی ہے ۔ جو ایک فطری خواہش ہے ۔ وہ مریم جیسی نیک اور خوبصورت بچی کو دیکھتے ہیں ‘ جسے وافر مقدار میں رزق دیا گیا ہے ۔ وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات کرتے ہیں ۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ انہیں بھی ایسی ہی پاک اولاد عطا ہو۔

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ

” یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا ” پروردگار ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر ‘ تو ہی دعا سننے والا ہے ۔ “…………اس پرسوز اور پرکیف دعا کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ فوراً قبول ہوئی اور اب یہ اولاد اور یہ قبولیت زمان ومکان کی قید سے ماوراء تھی ۔ عام معتادطریقے سے نظام ہٹ گیا ۔ اس لئے کہ اصل سبب تو مشیئت الٰہی ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:38Listen in Qur'an →
39

فَنَادَتْهُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌۭ يُصَلِّى فِى ٱلْمِحْرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدًۭا وَحَصُورًۭا وَنَبِيًّۭا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی (عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور (خدا کے) پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے

وہ دعا جو دل سے نکلی اور پاک دل سے نکلی وہ قبول ہوگئی ۔ اس لیے کہ اس دعا میں امید صرف اس ذات سے تھی جو دعا سنتا ہے۔ اور جس وقت چاہے اسے قبولیت کا جامہ پہناسکتا ہے ۔ فرشتوں نے زکریا کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیدی ۔ اس کا نام بھی ولادت سے پہلے یحییٰ رکھ دیا گیا۔ اور صفت واخلاق بھی قبل از وقت بتادئیے گئے ۔ وہ اچھا سردار ہوگا ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کو اچھی طرح قابو میں رکھنے والا ہوگا ۔ اور اس نے اپنے رجحانات اور میلانات کی لگام اچھی طرح تھام لی ہوگی ۔ وہ مومن ومصدق ہوگا اور اس کے پاس اللہ کا جو فرمان آئے گا اس کی تائید کرنے والا ہوگا۔ نبی صالح ہوگا اور قافلہ صلحاء کا رکن ہوگا۔

بہرحال یہ دعا قبول ہوگئی ۔ اور اس کی راہ میں وہ معمولی صورت حال حائل نہ ہوسکی جسے انسان روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں ۔ اور اسے ایک اٹل قانون سمجھتے ہیں ۔ اور پھر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ کی مشیئت بھی اسی قانون کی پابند ہے ۔ انسان جن امور کا مشاہدہ کرتا ہے اور پھر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قانون ہے اور اس سے انحراف ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک نسبتی امر ہے ۔ یہ کوئی آخری مشاہدہ نہیں ہوتا ۔ انسان کی عمر محدود ہے ۔ اور اس کا علم محدود ہے ۔ انسانی عقل طبیعات کے حدود کے اندر محدود ہے ۔ وہ اللہ کے انتہائی قانون تک رسائی بھی نہیں پاسکتی ۔ نہ وہ حقیقت مطلقہ کا ادراک کرسکتی ہے ۔ کیا انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ذر انسان بن کر رہے ۔ کیا اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ” ابار قدر خودبش اس “ کے مطابق اپنی حدود میں رہے اور اس وادی بےکنار میں بغیر کسی راہنمائے باخبر کے داخل ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ ممکنات اور مستحیلات کی وادی بےکراں ہے ۔ تعجب ہے کہ انسان اللہ کی مشیئت کے لئے وہ دائرہ تجویز کرتا ہے جو خود اس کے تجربے میں ہو اور جو اس کے علم قلیل کا دائرہ ہے۔

دعائے پر سوز کی یہ قبولیت خود حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لئے بھی تعجب خیر تھی ‘ بہرحال حضرت زکریا بھی تو انسان ہی تھے ۔ چناچہ ان کے دل میں بھی یہ شوق پیدا ہوا کہ وہ دیکھیں کہ یہ خارق العادۃ واقعہ کیسے ظہور پذیر ہوگا ‘ حالانکہ انسان کا روز مرہ کا مشاہدہ اس کے خلاف ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:39Listen in Qur'an →
40

قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى غُلَٰمٌۭ وَقَدْ بَلَغَنِىَ ٱلْكِبَرُ وَٱمْرَأَتِى عَاقِرٌۭ ۖ قَالَ كَذَٰلِكَ ٱللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ

زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

” زکریا نے کہا پروردگار ‘ بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا۔ میں تو بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میر بیوی بانجھ ہے ۔ “ اس کا جواب بڑی سادگی اور بڑی آسانی سے دیدیا جاتا ہے بات اپنی جگہ تک آجاتی ہے ۔ اور ایسی حقیقت کو پیش کردیا جاتا ہے جس کے فہم میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ اور جس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی تعجب نہیں ہوتا۔ قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ……………” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ “ یہی طریقہ ہے ‘ جو فی الحقیقت روبعمل ہے ۔ رات دن دہرایا جاتا ہے ۔ اللہ کی مشیئت کام کرتی رہتی ہے ۔ اللہ کے کام روز وشب یونہی ہوتے ہیں ۔ لیکن لوگ ان واقعات پر اچھی طرح غور نہیں کرتے ۔ وہ اللہ کی اس کاریگری کا گہرا مشاہدہ اور اس پر غور نہیں کرتے ۔ اور حقائق کو ذہن نشین نہیں کرتے ۔

یونہی بسہولت ‘ بہ روانی وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ اس میں اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ زکریا کو بیٹا دیدے ۔ اگرچہ وہ بوڑھا ہوگیا ہو اور اس کی عورت بانجھ ہوگئی ہو ۔ بوڑھا ہونا اور بانجھ ہونا تو انسانوں کا مشاہدہ ہے ۔ جس پر وہ اپنے لئے قواعد بناتے ہیں ۔ اس لئے اپنے لئے ضابطہ بناتے ہیں ۔ رہے اللہ تعالیٰ تو وہ انسانی ذہن کے قوانین وقیاسات کے پابند کیسے ہوگئے ۔ وہ تو جس طرح چاہے تجربات کو پھیر دے ۔ اس کی مشیئت تو ہر قید سے آزاد ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:40Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.