Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 200

11

كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ

” ان کا انجام ایسا ہی ہوگا جیسا کہ فرعون کے ساتھیوں کا اور اس کے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے ۔ کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا ‘ اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ “

یہ ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ میں بارہا دہرائی گئی ہے ۔ اور اس کے کئی قصے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیلات کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت ان قصوں میں پائی جاتی ہے ۔ جہاں اللہ چاہے ‘ اپنی اس سنت کو کام میں لاتا ہے ۔ اس لئے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کو اس جہاں میں کوئی گارنٹی حاصل نہیں ‘ نہ وہ محفوظ ہیں ۔ اس لئے اب جو لوگ رسالت محمدیہ کا انکار کررہے ہیں اور قرآن کریم کی تکذیب کررہے ہیں جو آپ پر نازل ہوا ہے ۔ ان کے لئے اس انجام ست دوچار ہونا یقینی ہے ۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اس لئے یہاں رسول اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان کفار اہل کتاب کو اس انجام بد سے خبردار کریں۔ اگر وہ فرعون اور تاریخ اسلامی کے دوسرے نافرمانوں کے انجام بد کو بھول چکے ہیں تو خدارا اہل مکہ کے اس انجام بد پر غور کریں جس کا مظاہرہ ابھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہوچکا ہے ۔ یہ سب کچھ تکذیب آیات ہی کا شاخسانہ تو ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:11Listen in Qur'an →
12

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

(اے پیغمبر) کافروں سے کہدو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے

كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ

” ان کا انجام ایسا ہی ہوگا جیسا کہ فرعون کے ساتھیوں کا اور اس کے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے ۔ کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا ‘ اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ “

یہ ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ میں بارہا دہرائی گئی ہے ۔ اور اس کے کئی قصے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیلات کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت ان قصوں میں پائی جاتی ہے ۔ جہاں اللہ چاہے ‘ اپنی اس سنت کو کام میں لاتا ہے ۔ اس لئے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کو اس جہاں میں کوئی گارنٹی حاصل نہیں ‘ نہ وہ محفوظ ہیں ۔ اس لئے اب جو لوگ رسالت محمدیہ کا انکار کررہے ہیں اور قرآن کریم کی تکذیب کررہے ہیں جو آپ پر نازل ہوا ہے ۔ ان کے لئے اس انجام ست دوچار ہونا یقینی ہے ۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اس لئے یہاں رسول اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان کفار اہل کتاب کو اس انجام بد سے خبردار کریں۔ اگر وہ فرعون اور تاریخ اسلامی کے دوسرے نافرمانوں کے انجام بد کو بھول چکے ہیں تو خدارا اہل مکہ کے اس انجام بد پر غور کریں جس کا مظاہرہ ابھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہوچکا ہے ۔ یہ سب کچھ تکذیب آیات ہی کا شاخسانہ تو ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:12Listen in Qur'an →
13

قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌۭ فِى فِئَتَيْنِ ٱلْتَقَتَا ۖ فِئَةٌۭ تُقَٰتِلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌۭ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ ٱلْعَيْنِ ۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَبْصَٰرِ

تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

اس آیت

يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ …………… کے دومفہوم ہوسکتے ہیں ‘ یرون کی ضمیر اگر کفار کی طرف ہے اور ہم سے مراد اہل ایمان ہیں تو مفہوم ہوگا کہ اہل کفر کو اپنی ظاہری کثرت کے باجود نظر یوں آرہا تھا کہ اہل اسلام ان سے دوگنا ہیں ۔ اور یوں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تائید غیبی تھی کہ کفار کو اہل اسلام زیادہ اور وہ خود تھوڑے نظر آرہے تھے ۔ یوں ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان کے دل بیٹھ گئے۔

اور اگر اس کے برعکس لیا جائے یعنی یرون سے مراد ہو کہ مسلمان ھم ان کو دیکھ رہے تھے ۔ تو مفہوم یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو وہ اپنے دوگنا نظر آرہے تھے ‘ وہ تین گنا تھے ۔ اس کے باوجود اہل اسلام ثابت قدم رہے ‘ اور فتح یاب ہوئے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تائید ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے دکھانا یہ مطلوب ہے کہ اہل کفر اپنے انجام پر غور کریں ۔ اور اہل اسلام دلوں کو مضبوط کرلیں اور یقین کرلیں کہ ان کے اعداء کی تقدیر میں شکست لکھی جاچکی ہے ۔ اس لئے وہ ان اعداء سے خوف نہ کھائیں ۔ جیسا کہ ہم نے اس سورت پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس وقت جو صورتحال تھی ‘ اس میں اہل کتاب کو اس قسم کی تنبیہ اور تخویف کی ضرورت تھی ۔

قرآن کریم مسلسل اپنی عظیم حقیقت پر کاربند ہے اور اس عظیم سچائی میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس دنیا میں جو لوگ کفر کرتے ہیں ‘ آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اسلامی نظام زندگی سے انحراف کرتے ہیں ان کی شکست کا وعدہ اب بھی اپنی جگہ قائم ہے اور قائم رہے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ‘ اہل ایمان کے ساتھ یہ وعدہ بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ فتح یاب ہوں گے اگرچہ وہ قلیل تعداد میں ہوں ‘ اور نصرت اور فتح صرف تائید ایزدی پر موقوف ہے اور یہ صرف اس کا اختیا رہے ‘ جسے چاہے وہ فتح ونصرت سے نوازے ۔ حقیقت اپنی جگہ اب بھی قائم ہے ۔ منسوخ نہیں ہوئی۔

اہل ایمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت پر اچھی طرح مطمئن ہوجائیں ۔ اور اس پر پوری طرح اعتماد کریں ۔ اور میدان جہاد میں اپنی تیاریاں مکمل طور پر کریں جس قدر ممکن ہو ‘ اور اس تیاری کے بعد پھر تائید خداوندی کا انتظار کریں ۔ وہ نہ جلدبازی کریں ‘ نہ مایوس ہوں ‘ اگرچہ انہیں طویل انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ کیونکہ اللہ حکیم ہے وہ اپنی تدابیر خود اپنے وقت پر کرتا ہے ‘ اور اس حکمت کے مطابق ہی اس کا وعدہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لأولِي الأبْصَارِ ……………” دیدہ بینا رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے دیکھنے والی آنکھ ہو ‘ تدبیر کرنے والی بصیرت ہو ‘ تب ہی ایک انسان عبرت حاصل کرسکتا ہے اور تب ہی قلب میں فہم پیدا ہوتا ہے ۔ اگر بصیرت نہ ہو تو سامان عبرت شب وروز آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے مگر آنکھ نہیں دیکھ پاتی۔ “

اگلی آیت میں ‘ جماعت مسلم کی تربیت کے سلسلے میں ‘ اسے ان فطری میلانات اور فطری اسباب کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے ‘ جن کی وجہ سے انسان کی زندگی میں گمراہی اور انحراف کا آگاز ہوتا ہے ‘ اس لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان فطری میلانات کو ہر وقت ضبط کنٹرول میں رکھا جائے ۔ اور ہر وقت زندگی کے اعلیٰ مقاصد کو پیش نظر رکھاجائے اور اصل مطمح نظر وہ اکرام وانعام ہوجائے جو کسی انسان کو یوم آخرت میں مل سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خواہشات دنیاوی میں گم ہوجانے ‘ مرغوبات نفس کے درپے ہوجانے اور دوسرے فطری میلانات کا بندہ بن جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ‘ کہ انسان کے دل بصیرت اور اس کی عقل سے عبرت آموزی ختم ہوجاتی ہے۔ اور انسان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ حسی لذتوں اور دنیاوی مرغوبات کے ہاتھوں مجبور ہوجاتا ہے۔ اعلیٰ اور بلند مقاصد نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ انسان کے احساسات مادی ہوجاتے ہیں وہ دنیائے قریب کی ان لذتوں کے دائرے سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اور وہ ان اعلیٰ مقاصد کے حصول کی لذت سے محروم ہوجاتا ہے جس کا تعلق …

Aal-i-Imraan 3:13Listen in Qur'an →
14

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلْبَنِينَ وَٱلْقَنَٰطِيرِ ٱلْمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلْفِضَّةِ وَٱلْخَيْلِ ٱلْمُسَوَّمَةِ وَٱلْأَنْعَٰمِ وَٱلْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلْمَـَٔابِ

لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے

زُيِّنَ لِلنَّاسِ……………” میں فعل مجہول کا صیغہ استعمال کرکے اس طرف اشارہ دیا گیا ہے کہ ان چیزوں کی طرف لوگوں کا میلان بتقضائے فطرت ہے ۔ ان چیزوں کو محبوب بنادیا گیا ہے اور ان کی تزئین کرکے ان کی محبوبیت میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ گویا یہ حقیقت واقعہ کے ایک پہلو کی تصدیق ہے ۔ اس لئے کہ انسان کی شخصیت میں ان چیزوں کی طرف میلان اور رغبت رکھی گئی ہے ۔ یہ اس کے اصل وجود اور اس کی ذات کا حصہ ہے ۔ اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان خواہ مخواہ اس حقیقت کا انکار کرے ۔ نہ خود انسان اپنی ذات میں ان میلانات اور رجحانات کو قابل اعتراض سمجھے ۔ اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کی ترقی اور نشوونما کے لئے ان میلانات کا موجود ہونا ازبس ضروری ہے جیسا کہ اس موضوع پر اس سے پہلے ہم مفصل بحث کر آئے ہیں ۔ لیکن یہ بھی حقیقت واقعیہ ہے کہ انسان کی فطرت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے ‘ جوان میلانات اور فطری رجحانات میں توازن پیدا کرتا ہے اور وہ ایک قسم کا چوکیدار ‘ جو انسان کو ان میلانات میں مستغرق ہونے سے بچاتا ہے ۔ اور یہ پہلو انسان کے عالم بالا کے ساتھ روحانی تعلق کو قائم رکھتا ہے ۔ چناچہ اس کی زندگی میں روحانی معنویت اور روحانی ہدایات پائی جاتی ہے ۔ اور یہ پہلو انسان کی روحانی زندگی کا پہلو ہے جو اس کے اندر بلندی کی استعداد پیدا کرتا ہے ۔ اس کے اندر ضبط نفس کی قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں انسان ان ‘ دنیاوی مرغوبات کے استعمال میں ایک حد اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔ ایسی حدود کے اندر جس میں نفس کی تعمیر ہو ۔ زندگی کا نشوونما ہو اور اس کے ساتھ ساتھ یہ جدوجہد بھی جاری رہے کہ انسانی زندگی کو حیوانیت کے نچلے مقام سے بلند کرکے عالم بالا کے روحانی افق تک پہنچایا جائے ۔ انسان کے دل کا تعلق عالم بالا سے قائم ہو اور اس کا ہدف دار آخرت اور اللہ کی رضامندی ہو ۔ نفس انسانی کی یہ دوسری جبلت ‘ اس کی پہلی فطری جبلت کو مہذب بناتی ہے ۔ اور اس کو تمام حیوانی ‘ آمیزشوں سے پاک کرتی ہے ۔ اور اسے ایسے حدود وقیود کے اندر بند کردیتی ہے جس کے نتیجے میں فطری میلانات سرکش نہیں ہوتے اور انسان صرف دنیاوی لذات کا گرویدہ نہیں ہوجاتا۔ اس طرح کہ انسانی ‘ روحانی قدریں دب جائیں ۔ تقویٰ اللہ خوفی اور زندگی کی اونچی اقدار کی راہیں بالکل مسدود ہوجائیں۔

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ …………… ” لوگوں کے لئے مرغوبات نفس کو مزین بنادیا گیا ہے۔ “ بس یہ مرغوبات مستحب ہیں اور لذیذ ہیں ……………یہ مکروہ اور غلیظ نہیں ہیں ۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ جس سے ان مرغوبات کی غلاظت اور کراہت کا اظہار نہیں ہوتا ۔ آیت صرف ان چیزوں کے مزاج اور ان کی حقیقت کو سمجھانا چاہتی ہے ۔ اور ان کے اثرات کا اظہار مقصود ہے ۔ نیز یہاں مطلوب یہ ہے کہ ان اشیاء کی قدرومنزلت اور ان کے مقام کا تعین کردیا جائے ‘ تاکہ وہ اس مقام سے آگے نہ بڑھ سکیں ۔ نہ وہ ان اقدار پر دست درازی کرسکیں جو ان کے مقابلے میں اعلیٰ وارفع ہیں ۔ انسان صرف ان دنیاوی شہوات میں غرق ہوکر نہ رہ جائے بلکہ اس کی نظریں دار آخرت پر مسلسل لگی ہوں ‘ اگرچہ وہ بقدر ضرورت ان لذات سے بھی لطف اندوز ہوتا رہے ۔

یہاں آکر معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام فطرت انسانی کو ایک حقیقت واقعیہ کے طور پر لیتا ہے اور فطری میلانات کا مناسب لحاظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ان میلانات کو مہذب اور شائستہ بناتا ہے۔ اور ان کو رفعت دیتا ہے ۔ وہ کسی صورت میں بھی ان میلانات کی بیخ کنی نہیں کرتا ‘ جو لوگ آج کل علم النفس کے مضمون میں میلانات کی بیخ کنی کے نقصانات بیان کرتے ہیں یا وہ نفسیاتی الجھنوں پر بحث کرتے ہیں جو جذبات کی بیخ کنی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں ۔ وہ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نفسیاتی الجھن جذبات کی بیخ کنی سے پیدا ہوتی ہے ‘ وہ جذبات کے ضبط اور تہذیب سے پیدا نہیں ہوتی اور بیخ کنی کا مفہوم یہ ہے تقاضائے فطرت کو گندگی …

Aal-i-Imraan 3:14Listen in Qur'an →
15

۞ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍۢ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ وَرِضْوَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ

(اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے

یہ ہے آخرت کا سازوسامان ‘ جس کا تذکرہ قرآن مجید کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اہل تقویٰ مؤمنین کو اس بارے میں خوشخبری دے دیں ۔ نعیم اخروی بھی عموماً انسانی خواہش ہی سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس کے اور اس دنیاوی انعام واکرام کے درمیان ایک بہت ہی بڑا فرق بھی ہے۔ یہ ایک ایسا سازوسامان ہے جس تک صرف ان لوگوں کی رسائی ہوگی ‘ جو اس دنیا میں اہل تقویٰ تھے ‘ جس کے دل خوف اللہ سے بھرے تھے ۔ ان کے دل یاد الٰہی سے معمور تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا خوفی کا شعور بیک وقت روحانی دنیا اور حسی دنیا کی اصلاح کرتا ہے ۔ وہ نفس انسانی کو شہوات میں مستغرق ہونے سے بچاتا ہے ۔ اس کی حفاظت کرتا ہے کہ وہ ان مرغوبات میں جانوروں کی طرح گم نہ ہوجائے ۔ جن لوگوں کے دلوں میں خوف خدا ہوتا ہے وہ عالم آخرت کے ان حسی مرغوبات کو بھی غلیظ حسی لذتیت کے مقام سے ذرابلند دیکھتے ہیں ۔ اسے جانوروں کی طرح شہوت رانی سے ذرا اونچا مقام دیتے ہیں ۔ وہ اس زمین پر رہتے ہوئے اپنے دلوں میں اس مقام رفیع کی تمنا رکھتے ہیں ‘ اس سے قبل کہ وہ اس جہاں فانی سے کوچ کریں اور رخصت ہوں۔

عالم آخرت کے اس پاک وصاف اور کامل ساز و سامان میں ‘ اس دنیائے ونی کی ترک کردہ شہوات کا بہترین بدلہ ہے ۔ بلکہ وہ انعام ان شہوات سے بہت زیادہ ہے ۔ اس دنیا میں اگر وہ ان کھیتوں کے مالک تھے ‘ جو سرسبز و شاداب تھے اور اچھی پیداوار دیتے تھے تو آخرت میں انہیں ایسے باغات دئیے جائیں گے جو مکمل ہوں گے ‘ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ۔ اور اس شعور اور یقین کے ساتھ ہوں گے کہ وہ ان باغوں میں ہمیشہ کے لئے ہوں گے اور وہ باغ بھی دائمی طور پر سر سبز ہوں گے جو موسمی نہ ہوں گے ۔ اس دنیا کے موسمی کھیت کی طرح نہ ہوں گے ۔ اگر دنیا میں عورتیں اور بچے ہیں تو وہاں بہت ہی پاکیزہ بیویاں ہیں ۔ اور ان کی پاکیزگی گویا دنیاوی بیویوں کے مقابلے میں ایک امتیاز ہے اور بہتری ہے ۔ رہے چیدہ گھوڑے ‘ مویشی کھیت اور سونے چاندی کے ڈھیر ‘ تو اس دنیا میں یہ وسائل عیش تھے۔ فراہمی مرغوبات کا سبب تھے ۔ قیامت میں ان کی ضرورت ہی نہ ہوگی ۔ اس لئے وہاں وسائل رغبت کی فراوانی ہوگی ۔ اور وہ اپنی بڑی تعداد میں حاصل ہوں گے ‘ پس وسائل کی کیا ضرورت جب مراد حاصل ہو۔

اور وہاں پر سازوسامان سے بھی ایک عظیم نعمت ہوگی ۔ یعنی رب ذوالجلال کی رضامندی ۔ یہ رضامندی اس قدر عظیم نعمت ہے جو اس پوری دنیا کی شہوات اور پوری آخرت کی مرغوبات پر بھی بھاری ہے ۔ اور پھر ذرالفظ رضوان پر غور کریں ‘ بذات خود لفظ رضوان کس قدرخوش کن ہے ۔ تروتازہ ہے ۔ انس و محبت کی خوشبو لئے ہوئے ہے۔

وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ …………… ” اور اللہ اپنے بندوں پر گہری نظر رکھتا ہے ۔ “…………وہ خوب جانتا ہے کہ ان کی فطرت کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ اس میں کیا کیا میلانات ہیں ‘ اس فطرت کو کن کن ہدایات کی ضرورت ہے ۔ وہ بھی اس کے علم میں ہیں ‘ وہ فطرت انسانی کے امور کے فیصلے کی اچھی بصیرت رکھتا ہے ‘ اس جہاں میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اس لئے کہ وہ صانع فطرت ہے۔

Aal-i-Imraan 3:15Listen in Qur'an →
16

ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

یہاں اب اللہ تعالیٰ ‘ اپنے خاص بندوں کی صفات گنواتے ہیں ‘ یہ کہ اب آپ کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوتا ہے۔ اور وہ کیا اعمال ہوتے ہیں جن کی بناء بندے جنتوں کے انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔

ان کی دعاؤں میں ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ ان کے تقویٰ اور اللہ خوفی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ اللہ سے ڈر کر پہلے ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ پھر ایمان کو عنداللہ اپنا شفیع بناتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے بچاتے ہیں ۔

ان کی تمام صفات میں سے ‘ انسانی زندگی کی اقدار میں سے ایک اعلیٰ قدر کا ذکر ہے ۔ خصوصاً جماعت مسلمہ کے لئے ان اقدار کی بہت اہمیت ہے ۔ وہ صبر کرنے والے ہیں ‘ صبر میں انسان ہر رنج والم کو برداشت کرتا ہے ۔ اور دعوت اسلامی کی راہ میں جو بھی مشکلادرپیش ہوں ان پر ثابت قدم رہتا ہے۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔ وہ اللہ کے سامنے تسلیم ورضا کا پیکر بن جاتا ہے اور حالات اس پر مصائب کے جو پہاڑ بھی توڑیں وہ اللہ کے حکم پر راضی برضا ہوتا ہے۔ وہ سچے ہیں ۔ اس لئے کہ سچائی اس کائنات کی بنیاد ہے ۔ سچائی کا دامن تھام کر وہ عام لوگوں سے اونچے ہوجاتے ہیں ۔ جھوٹ کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی فائدے کے لئے یا کسی ضرر سے بچنے کے لئے سچائی چھوڑ دیتا ہے۔

اور فرمان بردار ہیں ‘ یوں حق الوہیت ادا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے واجبات بندگی پر کاربند ہوتے ہیں ۔ اور صرف اللہ کی بندگی کرتے ہیں جس کے سوا اور کسی کی بندگی ان کے تصور حیات میں نہیں ہے ۔

انفاق فی سبیل اللہ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دولت کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہوتا ۔ اور اسے بخل سے نجات ملتی ہے ۔ اور انفاق کرکے ایک شخص عملاً انسانی اخوت کو ذاتی خواہش اور لذت پر ترجیح دیتا ہے اور وہ ایسے اجتماعی تحفظ کی فضا پیدا کرتا ہے جو سب انسانوں کے لئے خوشگوار ہو۔

اور رات کے آخری پہر میں استغفار تو ایک ایسا مقام ہے ‘ جہاں گھنی اور خوشگوار چھاؤں ‘ جس کی فضا تروتازہ ہے اور لفظ ” اسْحَارِ “ تو اس خاص وقت یعنی طلوع فجر سے قدرے پہلے ایسی خوشگوار اور پرسکون تصویر کشی کرتا ہے جو اپنی جگہ لاجواب ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب کائنات نہایت ہی پرسکون ہوتی ‘ فضا صاف ہوتی ہے ‘ اس وقت نفس انسانی کے روحانی تصورات جاگ اٹھتے ہیں ۔ اچھے خیالات کا ذہن وقلب پر القاء ہوتا ہے ۔ اس پرکیف فضا میں جب انسان کی جانب سے بارگاہ الٰہی میں استغفار ہورہا ہو ‘ تو پھر اس کا پرتو بھی نفس انسانی پر نہایت ہی روحانی اثرات ڈالتا ہے ۔ اس وقت انسان کی روح اور اس کائنات کی روح رب کائنات اور خالق انسان کے سامنے ہم سبق اور ہم سمت ہوجاتی ہیں۔

ایسے صابروں ‘ ایسے صداقت شعاروں ‘ ایسے ہی اطاعت گزاروں ‘ ایسے ہی دولت نثاروں اور ایسے بخشش کے طلبگاروں کا یہ حق ہوتا ہے کہ اللہ کی رضامندی ان کا استقبال کرے اس لئے کہ وہ اس کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ کی رحمت کی چھاؤں گھنی ہوتی ہے ۔ اور اس کا پھل تروتازہ ہوتا ہے۔ اور وہ ہر لذت اور ہر شہوت سے اپنے اندر زیادہ مٹھاس رکھتی ہے ۔ اگر ذوق سلیم ہو۔

یوں قرآن کریم ‘ اس زمین کے اوپر سے اسے مخلوق ارضی سمجھتے ہوئے ‘ نفس انسانی کی راہنمائی شروع کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ اسے بلند کرتا ہے اور اسے ایک بلند افق پر ملاء اعلیٰ کی روشنیوں تک لے جاتا ہے ‘ اور یہ عمل بڑے آرام سے ‘ بڑی تسلی سے ‘ بڑی نرمی اور شفقت سے وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اس روحانی ترقی میں انسان کی فطرت اور اس کے فطری میلانات کو پوری طرح مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس میں اس کی جسمانی کمزوریوں اور ناتوانیوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس محبت اور اس کے شوق کو بھی جوش دلایا جاتا ہے۔ اور اس میں کسی فطری جذبے کی بیخٰ کنی نہیں کی جاتی اور نہ ہی اسے کسی کام پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اس مہم کے دوران عام زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ اس میں تعطل نہیں پیدا کیا جاتا۔ یہ ہے …

Aal-i-Imraan 3:16Listen in Qur'an →
17

ٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْمُنفِقِينَ وَٱلْمُسْتَغْفِرِينَ بِٱلْأَسْحَارِ

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

یہاں اب اللہ تعالیٰ ‘ اپنے خاص بندوں کی صفات گنواتے ہیں ‘ یہ کہ اب آپ کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوتا ہے۔ اور وہ کیا اعمال ہوتے ہیں جن کی بناء بندے جنتوں کے انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔

ان کی دعاؤں میں ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ ان کے تقویٰ اور اللہ خوفی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ اللہ سے ڈر کر پہلے ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ پھر ایمان کو عنداللہ اپنا شفیع بناتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے بچاتے ہیں ۔

ان کی تمام صفات میں سے ‘ انسانی زندگی کی اقدار میں سے ایک اعلیٰ قدر کا ذکر ہے ۔ خصوصاً جماعت مسلمہ کے لئے ان اقدار کی بہت اہمیت ہے ۔ وہ صبر کرنے والے ہیں ‘ صبر میں انسان ہر رنج والم کو برداشت کرتا ہے ۔ اور دعوت اسلامی کی راہ میں جو بھی مشکلادرپیش ہوں ان پر ثابت قدم رہتا ہے۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔ وہ اللہ کے سامنے تسلیم ورضا کا پیکر بن جاتا ہے اور حالات اس پر مصائب کے جو پہاڑ بھی توڑیں وہ اللہ کے حکم پر راضی برضا ہوتا ہے۔ وہ سچے ہیں ۔ اس لئے کہ سچائی اس کائنات کی بنیاد ہے ۔ سچائی کا دامن تھام کر وہ عام لوگوں سے اونچے ہوجاتے ہیں ۔ جھوٹ کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی فائدے کے لئے یا کسی ضرر سے بچنے کے لئے سچائی چھوڑ دیتا ہے۔

اور فرمان بردار ہیں ‘ یوں حق الوہیت ادا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے واجبات بندگی پر کاربند ہوتے ہیں ۔ اور صرف اللہ کی بندگی کرتے ہیں جس کے سوا اور کسی کی بندگی ان کے تصور حیات میں نہیں ہے ۔

انفاق فی سبیل اللہ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دولت کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہوتا ۔ اور اسے بخل سے نجات ملتی ہے ۔ اور انفاق کرکے ایک شخص عملاً انسانی اخوت کو ذاتی خواہش اور لذت پر ترجیح دیتا ہے اور وہ ایسے اجتماعی تحفظ کی فضا پیدا کرتا ہے جو سب انسانوں کے لئے خوشگوار ہو۔

اور رات کے آخری پہر میں استغفار تو ایک ایسا مقام ہے ‘ جہاں گھنی اور خوشگوار چھاؤں ‘ جس کی فضا تروتازہ ہے اور لفظ ” اسْحَارِ “ تو اس خاص وقت یعنی طلوع فجر سے قدرے پہلے ایسی خوشگوار اور پرسکون تصویر کشی کرتا ہے جو اپنی جگہ لاجواب ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب کائنات نہایت ہی پرسکون ہوتی ‘ فضا صاف ہوتی ہے ‘ اس وقت نفس انسانی کے روحانی تصورات جاگ اٹھتے ہیں ۔ اچھے خیالات کا ذہن وقلب پر القاء ہوتا ہے ۔ اس پرکیف فضا میں جب انسان کی جانب سے بارگاہ الٰہی میں استغفار ہورہا ہو ‘ تو پھر اس کا پرتو بھی نفس انسانی پر نہایت ہی روحانی اثرات ڈالتا ہے ۔ اس وقت انسان کی روح اور اس کائنات کی روح رب کائنات اور خالق انسان کے سامنے ہم سبق اور ہم سمت ہوجاتی ہیں۔

ایسے صابروں ‘ ایسے صداقت شعاروں ‘ ایسے ہی اطاعت گزاروں ‘ ایسے ہی دولت نثاروں اور ایسے بخشش کے طلبگاروں کا یہ حق ہوتا ہے کہ اللہ کی رضامندی ان کا استقبال کرے اس لئے کہ وہ اس کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ کی رحمت کی چھاؤں گھنی ہوتی ہے ۔ اور اس کا پھل تروتازہ ہوتا ہے۔ اور وہ ہر لذت اور ہر شہوت سے اپنے اندر زیادہ مٹھاس رکھتی ہے ۔ اگر ذوق سلیم ہو۔

یوں قرآن کریم ‘ اس زمین کے اوپر سے اسے مخلوق ارضی سمجھتے ہوئے ‘ نفس انسانی کی راہنمائی شروع کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ اسے بلند کرتا ہے اور اسے ایک بلند افق پر ملاء اعلیٰ کی روشنیوں تک لے جاتا ہے ‘ اور یہ عمل بڑے آرام سے ‘ بڑی تسلی سے ‘ بڑی نرمی اور شفقت سے وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اس روحانی ترقی میں انسان کی فطرت اور اس کے فطری میلانات کو پوری طرح مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس میں اس کی جسمانی کمزوریوں اور ناتوانیوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس محبت اور اس کے شوق کو بھی جوش دلایا جاتا ہے۔ اور اس میں کسی فطری جذبے کی بیخٰ کنی نہیں کی جاتی اور نہ ہی اسے کسی کام پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اس مہم کے دوران عام زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ اس میں تعطل نہیں پیدا کیا جاتا۔ یہ ہے …

Aal-i-Imraan 3:17Listen in Qur'an →
18

شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِٱلْقِسْطِ ۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

یہ وہ پہلی حقیقت ہے ‘ جس پر اسلام کے نظریاتی تصورات قائم ہیں یعنی عقیدہ توحید ‘ الوہیت میں توحید ‘ قیومیت میں توحید اور یہ کہ اس کائنات کی پوری نگہبانی اصول انصاف وعدل پر منجانب اللہ ہورہی ہے ۔ اس پہلی حقیقت کے ساتھ اس سورت میں کلام کا آغاز ہوا تھا اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ …………… ” اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ زندہ جاوید اور نگہبان ہے۔ “ اس آغاز سے ایک تو اسلامی عقیدہ کا اظہار اور توضیح مقصود تھی اور دوسری جانب سے اہل کتاب کے پھیلائے ہوئے شبہات کا رد مطلوب تھا ۔ ایک تو خود اہل کتاب کے لئے ان کے موروثی عقیدہ توحید کی تشریح اور توضیح بھی مقصود تھی ‘ دوسرے یہ کہ ان کے پھیلائے ہوئے شبہات کا جو اثر اہل اسلام پر ہورہا تھا ‘ اس کی توضیح بھی مقصود تھی ‘ کیونکہ بعض اوقات اہل اسلام بھی ان سے متاثر ہوجاتے تھے ۔

اللہ کی شہادت ‘ کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ‘ یہ ہر اس شخص کے لئے کافی وشافی عقیدہ ہے ‘ جو ایمان لاچکا ہے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اللہ کی گواہی تو ان کے لئے کافی وشافی ہوسکتی ہے۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہوں ‘ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہوں ۔ پھر ان کو شہادت کی ضرورت کیا رہتی ہے ۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اہل کتاب تو اللہ پر ایمان لاتے تھے لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے لئے اولاد بھی ٹھہراتے تھے اور اس کے لئے شریک بھی ٹھہراتے تھے ۔ بلکہ مشرکین مکہ بھی خدا پر ایمان لاتے تھے ۔ وہ گمراہ اس حوالے سے ہوتے تھے کہ وہ اللہ کے ساتھ کئی شرکاء بناتے تھے ۔ کئی کو اللہ کے مساوی ٹھہراتے تھے ۔ اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیوں کے قائل تھے ۔ اس لئے جب قرآن کریم نے اس بات کی تصدیق کی کہ خود وہ جس خدا کے قائل ہیں وہ شہادت دے رہا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ لہٰذا یہ شہادت ان کے تطہیر افکار کے لئے ایک مؤثر شہادت تھی ۔

نیز یہ معاملہ جس طرح کہ ہم نے اس حصے سے قبل اپنے تبصرے میں اس کا جائزہ لیا ہے ۔ یہ ایک بڑا ہی گہرا اور دقیق معاملہ ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے نظریہ توحید پر شہادت اس لئے دی گئی ہے کہ شہادت توحید کے ساتھ اس کے تقاضے بھی وابستہ ہیں اور ان تقاضوں کا ذکر بعد میں آرہا ہے ۔ اور وہ یہ عقیدہ توحید کے حاملین سے بندگی اور اطاعت بھی صرف اس وحدہ لاشریک کی متوقع ہے ۔ اور وہ بندگی اور اطاعت بھی صرف اسلام کی شکل میں ہے ۔ اور اسلام بھی سر تسلیم خم کردینے اور مکمل انقیاد کے معنی میں مطلوب ہے ۔ اسلام سے مراد صرف شعور ‘ تصور اور عقیدہ مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے مراد عمل ‘ اطاعت اور مکمل انقیاد بھی ہے ۔ اور یہ انقیاد بھی اسلامی نظام زندگی کی اس شکل و صورت کے مطابق جو قرآن وسنت سے ماخوذ ہے ۔ اس پہلو سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی اکثریت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ایمان لاچکے ہیں ‘ لیکن وہ اس اللہ کے ساتھ بیشمار غیروں کو شریک بھی ٹھہراتے ہیں ‘ اس صورت میں جب وہ اپنے فیصلے ایسے قوانین کے مطابق کراتے ہیں جو شریعت پر مبنی نہیں ہیں اور وہ ایسے لوگوں کی اطاعت کرتے ہیں جو اللہ اور رسول کی اطاعت نہیں کرتے ‘ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اخلاق واقدار ‘ اپنے تصورات و افکار اور اپنے حسن وقبح کے پیمانے غیر اللہ سے لیتے ہیں ‘ تو یہ سب باتیں ان کے اس قول سے متصادم ہوتی ہیں کہ ہم ایمان لاچکے ہیں ‘ نیز ان کا یہ طرزعمل خود اللہ کی شہادت کے بھی منافی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔

اب سوال رہ جاتا ہے ‘ ملائکہ اور علماء کی شہادت کا ‘ تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ علماء اور ملائکہ کے مکمل طور پر اللہ اور اس کے اوامر ونواہی کی اطاعت کرتے ہیں ‘ وہ صرف اللہ سے ہدایات لیتے ہیں ۔ اور اللہ کی جانب سے جو کچھ نازل ہوتا ہے اس کی پیروی کرتے ہیں ۔ نہ اس کے بارے میں بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا شک کرتے ہیں ۔ بشرطیکہ یہ …

Aal-i-Imraan 3:18Listen in Qur'an →
19

إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٰمُ ۗ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے

اب اس حقیقت پر جسے اس ایک آیت میں دو بار دہرایا گیا ‘ اس کا فطری نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے وہ یہ کہ خدائی ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی صرف اسی خدائی کے لئے ہے ۔

غرض تصور یہ ہے کہ ایک الٰہ ہے ۔ اس لئے ایک ہی نظام ہے ‘ پھر اس الٰہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے۔ نہ ان کے تصور میں اس کے سوا کوئی تصور ہو ‘ نہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ اس نظام سے آزاد ہو……………جب اللہ ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی اسی کے لئے ہے ۔ اور یہی اللہ اس بات کا حقدار بھی ہے کہ لوگ اس کے مطیع فرمان ہوں ‘ ان کے قانونی نظام میں شریعت نافذ ہو اور ان کی اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانوں میں یہ شریعت معیار ہو ۔ اور ان کی پوری عملی زندگی اس شریعت پر قائم ہو۔

اگر ایک اللہ ہے تو پھر تصورحیات بھی ایک ہی ہوگا۔ اور یہ تصور ونظریہ وہی ہوگا جسے اس الٰہ نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔ یعنی خالص عقیدہ توحید کا چمکتا ہوا اور صاف ستھرا۔

جس طرح ہم مکرر کہہ آئے ہیں کہ عقیدہ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے ۔إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلامُ……………اللہ کے نزدیک نظام زندگی صرف دین اسلام ہے ۔ اور اسلام صرف دعویٰ ہی نہیں ہے ۔ وہ صرف جھنڈے کا نام بھی نہیں ہے ۔ وہ صرف نعرے کا نام بھی نہیں ہے ‘ وہ صرف ایک تصور اور خام خیال کا نام بھی نہیں ہے جہاں پر دل مطمئن ہو ‘ اور وہ صرف انفرادی عبادات کا نام ہے جنہیں ایک بطور فرد ادا کرتا ہے۔ مثلاً نماز ‘ حج اور روزے ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ صرف یہ امور وہ اسلام نہیں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں کرتا ۔ بلکہ اسلام تو مکمل انقیاد کا نام ہے ۔ اسلام مکمل عبادت کا نام ہے۔ وہ مکمل اتباع ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ عدالتوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے ہورہے ہوں ‘ جس کی تفصیلات عنقریب آرہی ہیں ۔

اسلام یہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھاجائے ۔ یہ عقیدہ پختہ ہو کہ اس کائنات کو وہی تھامنے والا ہے ۔ جبکہ اہل کتاب ذات باری اور ذات مسیح میں خلط ۔ کرتے تھے ۔ بلکہ وہ اللہ کے ارادے اور مسیح کے ارادے کو بھی خلط کرتے تھے ۔ اور اس موضوع پر خود ان کے درمیان کئی فرقے تھے اور ہر فرقے کا اپنا عقیدہ تھا ۔ اور ان کے یہ اختلافات بعض اوقات اس قدر شدید ہوجاتے تھے کہ وہ قتل و غارت پر منتج ہوتے تھے ۔ اس لئے یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کو بتاتے ہیں کہ ان اختلافات اور فکری ژولیدگی کا اصل سبب کیا تھا۔

وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ

” اور اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ ان کے اس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آجانے کے بعد ‘ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لئے ایسا کیا۔ “

یہ اختلافات اس لئے نہ تھے کہ انہیں حقیقت واقعہ کا پتہ نہ تھا ‘ کیونکہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں فیصلہ کن معلومات آگئی تھیں کہ اللہ صرف ایک ہے ‘ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ صرف بندہ ہے ‘ معبود نہیں ہے ۔ یہ جو انہوں نے شدید اختلافات پیدا کئے یہ محض ایک دوسرے پر زیادتی کی خاطر کئے ۔ ایک دوسرے پر ظلم اور دست درازی کے لئے جواز پیدا کیا گیا ۔ ان کے لئے اللہ کے نظام عدل و انصاف میں کوئی جواز نہ تھا ‘ اسلامی نظریہ حیات اور سماوی شریعت یا سماوی کتب میں ایسے اختلافات کے لئے کوئی جواز نہ تھا۔

اس سے قبل ہم مسیحی مورخ کا حوالہ دے چکے ہیں جس میں ہم نے بتایا کہ عیسائیوں کے ہاں سیاسی تحریکات کس طرح جان بوجھ کر مذہبی اختلافات پیدا کرتی تھیں اور یہودی اور عیسائی افکار کے درمیان اختلافات بھی اسی قبیل کے تھے ۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ مصر اور شام کے درمیان یہ مذہبی منافرت کس قدر پھیلی ہوتی تھی ۔ شام میں چونکہ رومی سلطنت کی حکمرانی …

Aal-i-Imraan 3:19Listen in Qur'an →
20

فَإِنْ حَآجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْأُمِّيِّۦنَ ءَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا۟ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ

اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا کہ میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہو چکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے ہو) اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مانیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے

اب مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بہت کچھ کہہ دیا گیا ‘ اس لئے اب یا تو تم لوگ اللہ وحدہ کی الوہیت کا اعتراف کرو ‘ اس کی نگہبانی کا اعتراف کرو اور نتیجتاً اتباع اور انقیاد کرو ورنہ پھر تمہیں اس کا کوئی حل نہ ملے گا ۔ اور یہ مباحثہ یونہی جاری رہے گا ۔ اور تم توحید اور اسلام سے محروم رہو گے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو صرف ایک لفظ ایسا بتاتے ہیں جو بیک وقت نظریہ حیات اور نظام زندگی کا مظہر ہے ۔ اور وہ یہ کہ اگر پھر بھی یہ لوگ تم سے جھگڑیں تو تم صاف کہہ دو کہ ہم نے اس کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ…………میں اسلام لایا اور میرے متبعین بھی ‘ یہاں اہل ایمان کو متبعین کہہ کر اشارہ اس طرف مطلوب ہے کہ اسلام صرف تصدیق ہی نہیں ہے ۔ اس کے بعد اتباع بھی ضروری ہے ‘ اسی طرح یہ تعبیر کہ میرا چہرہ اللہ کے سامنے جھک گیا ہے۔ اس لئے کہ اسلام محض قول وقرار کا نام بھی نہیں ہے ۔ نہ صرف عقیدے اور تصور کا نام ہے ۔ اس کے مفہوم میں انقیاد بھی داخل ہے ۔ اتباع اور اطاعت بھی داخل ہے ۔ چہرے کا مطیع ہونا مقصد ہے مکمل انقیاد واتباع ‘ اس لئے کہ انسان کے جسم میں چہرے کو اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔ چہرے مہرے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس قدر مطیع ‘ متبع ‘ فرماں بردار اور ہر وقت عمل کے لئے چاق وچوبند ہے ۔

یہ ہے خود حضرت محمد ﷺ کا اعتقاد اور آپ کا نظام زندگی ‘ نظام مصطفیٰ ‘ اور مسلمان تو ہیں ہی وہ لوگ جو اس کے متبع اور مقلد ہیں ‘ اس کے اعتقاد میں بھی اور اس کے عمل میں بھی اس لئے اب یہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے پوچھا جائے ۔ اب یہ سوال کیا جائے جو دونوں کیمپوں کے درمیان واضح حد بندی کردے ۔ دونوں کے درمیان حد فاصل قائم کردے ۔ جس میں کوئی اشتباہ نہ رہے اور دونوں کے درمیان کوئی فکری اختلاط والتباس نہ رہے ۔

وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالأمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ……………” اہل کتاب اور امیوں (غیر اہل کتاب) سے کہو :” کیا تم نے بھی سر تسلیم خم کردیا ؟ “ یہاں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کا فرق اب ختم کردیا جاتا ہے ۔ اب دونوں ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں ۔ اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو دعوت اسلام دی جاتی ہے اور یہ دعوت اسلام اسی مفہوم کے ساتھ ہے جس کی تشریح ہم کرتے ہیں ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ عقیدہ توحید قبول کریں اللہ کی ذات میں اور اس کی قیومیت اور نگہبانی میں ‘ اس کے بعد انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس عقیدے کو اپنانے کے بعد پھر مطیع فرمان ہوجائیں اور اطاعت یہ ہوگی کہ وہ اپنی پوری زندگی میں فیصلے کتاب اللہ کے مطابق کریں ‘ اسلامی نظام زندگی کو اپنائیں فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا……………” اگر انہوں نے یہ اطاعت قبول کرلی تو راہ راست پاگئے ۔ “

معلوم ہوا کہ ہدایت کا ظہور صرف ایک ہی شکل میں ہوتا ہے یعنی اسلام کی صورت میں یعنی اس کی ماہیت اور اس طبیعت کے مطابق ‘ اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں ہے ‘ کوئی دوسرا تصور نہیں ہے ‘ کوئی دوسرا طریق کار نہیں اور نہ کوئی دوسرا ایسا منہاج ہے جس کے ذریعہ ہدایت حاصل کی جاسکتی ہو ۔ اس کے سوا جو بھی اور راستے ہیں وہ سب ٹیڑھے ہیں ‘ وہ سب حیرانی و پریشانی کے راستے ہیں ۔ وہ سب زیغ وضلال کے راستے ہیں۔

وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ……………” اگر وہ منہ موڑیں تو تم پر صرف پیغام پہنچادینے کی ذمہ داری ہے ۔ “ پیغام پہنچانے کے بعد رسول کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے ۔ آپ کا کام ختم ہوجاتا ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کو ان لوگوں کے ساتھ قتال کی اجازت نہ دی گئی تھی جو اسلام قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ باز آجائیں ‘ بعد کا حکم یہ تھا وہ یا تو مکمل انقیاد اختیار کرلیں اور اسلامی نظام کے مطیع ہوجائیں یا پھر وہ معاہدہ کریں اور جزیہ ادا کرکے اسلامی نظام کے تابع ہوجائیں پھر وہ آزاد ہیں اس لئے کہ اسلام …

Aal-i-Imraan 3:20Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.