Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 191–200 of 200

191

ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمًۭا وَقُعُودًۭا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَٰطِلًۭا سُبْحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو

زمین و آسمان کی تخلیق میں ‘ اور رات اور دن کی گردش میں وہ کیا آیات اور نشانیاں ہیں ‘ اور جب یہ اولوالالباب آسمان اور زمین میں تفکر کرتے ہیں تو وہ کیا نشانیاں ہیں ؟ جب وہ رات اور ان کی گردش میں غور کرتے ہیں تو انہیں کیا نظر آتا ہے ؟ جبکہ پھر وہ اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں کھڑے ہوکر بھی ‘ بیٹھ کر بھی اور کروٹ لیتے ہوئے بھی ۔ اور پھر سوال یہ ہے کہ ان کے نتیجہ فکر کا تعلق اللہ کے ذکر کے ساتھ کیسے مربوط ہوجاتا ہے کہ وہ فوراً کھڑے ‘ بیٹھے اور کروٹ لیتے اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس ذکر کو اس پر خشوع و خضوع اور پر سوز دعا پر کیسے ختم کرتے ہیں ؟ وہ کہتے ہیں ۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ……………(پروردگار ! یہ سب کچھ تونے فضول اور بےمقصد نہیں بنایا تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب ہمیں دوزخ کی آگ سے بچالے۔ )

قرآن کریم یہاں ان لوگوں کی ایک زندہ اور متحرک تصویر کشی کرتا ہے جو اس کائنات کے اندر صحت مند غور کرتے ہیں اور ان کو اس کائنات کے مثرات کا ادراک ہوتا ہے ۔ اور وہ پھر ان مدرکات اور موثرات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘ اور ان کی آنکھوں کے سامنے رات دن اس پوری کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کی طرف لبیک کہتے ہیں ۔

قرآن کریم انسانی فکر ونظر میں باربار دعوت نظارہ دیتا ہے اور بڑی تاکید سے حکم دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب کا مطالعہ کریں ۔ جس کے صفحات رات اور دن خود الٹتے پلٹتے رہتے ہیں ۔ ہر صفحے پر صانع قدرت کے نشانات میں سے ایک نشان نظر آتا ہے ۔ اور وہ فطعرت سلیمہ کے اندر ایک ایسی سچائی کے پہچاننے کا بےحد جوش پیدا کردیتا ہے ‘ جو سچائی اس کتاب کے صفحات کے اندر جمی ہوئی ہے ۔ اس کائنات کی اساس میں وہ سچائی موجود ہے ۔ اس کائنات کے خالق کے مطالبات کے تسلیم کرنے کی طرف یہ سچائی مائل کرتی ہے ۔ اور جس خالق نے اس کائنات میں یہ ناموس ودیعت کیا ہے ۔ اس کی طرف رجوع کی دعوت دی جاتی ہے ۔ دل میں خالق کی محبت بھی پیدا ہوتی ہے ‘ اس کے ساتھ ساتھ اس کا خوف اور خشیت بھی پیدا ہوتی ہے …………پھر یہ اولوالالباب کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو صحیح الفکر ہیں ۔ جو آنکھیں کھول کر کتاب کائنات کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ آنکھوں پر پردے نہیں ڈالتے ۔ وہ اپنے غور وفکر اور تدبر کے دریچے بند نہیں کرتے ۔ اور اس طرح وہ اپنے دل کے حوالے سے ‘ اپنے قیام میں ‘ اپنے قعود میں اور کروٹ لیتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ یوں کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے ذرائع ادراک کھل جاتے ہیں اور وہ اس ناموس اکبر اور حقیقت کائنات کا ادراک کرلیتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں ودیعت کی ہے ۔ وہ اس کائنات کے مقصد وجود کو پالیتے ہیں ۔ اس ایجاد کرنے کے اصل اسباب ان کے علم میں آجاتے ہیں اور وہ کائنات کے فطرت کے اجزائے ترکیبی اور نظام قیام سے واقف ہوتے ہیں ۔ یہ تمام راز وہ اس الہام کے ذریعہ پاتے ہیں جو فطرت کے ان نوامیس اور انسانی دل کے درمیان رابطے کے ذریعے ہوتا ہے۔

زمین و آسمان کا مشہد ‘ رات اور دن کی تبدیلی کا منظر اور سیاروں کی گردش کے مناظر ایسے مناظر ہیں کہ اگر ہم اپنی آنکھیں کھول کردیکھیں ‘ ہمارے دل کام کررہے ہوں اور ہمارا ادراک اچھی طرح کام کرتا ہو اور ان کو اس نظر سے دیکھیں جس طرح ایک انسان کسی مشہد اور منظر کو پہلی مرتبہ دیکھتا ہے اور اگر ہم اپنے احساس سے ان مناظر کے عادی ہونے کے تصور کو دور کردیں ‘ اور اس تکرار کے اثرات سے اپنی حس کو پاک کردیں تو ہمارے احساس کے لئے یہ قابل ارتعاش ہوں ‘ ہمارے شعور کے اندر زلزلہ آجائے اور ہمیں اچھی طرح احساس ہوجائے کہ اس نظام کے اندر جس قدر دقت نظر سے ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے وہ کسی حکیمانہ ہاتھ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ۔ اس نظام کے پیچھے ایک مدبر عقل کام کررہی ہے ۔ اس نظام کے پیچھے ایک ناموس کام کررہا ہے ۔ جس کی خلاف ورزی …

Aal-i-Imraan 3:191Listen in Qur'an →
192

رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُۥ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ

اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

ذرا آپ ان صاحبان عل و دانش کی ذہنی دنیا کا پہلا زلزلہ دیکھیں ۔ وہ اس میں اپنے رب کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاتے ہیں تاکہ وہ انہیں آگ کے عذاب سے بچائیں ذرا غور فرمائیں رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ……………” تونے جسے دوزخ میں ڈالا اسے درحقیقت بڑی ذلت اور رسوائی میں ڈال دیا۔ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ……………” پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ “

اس دعا سے اظہار ہوتا ہے کہ ان کا خوف آگ کے عذاب سے تھا ‘ اور اس سے بھی زیادہ ان کا خوف اس رسوائی سے تھا جو اہل دوزخ کو ہوا کرتی ہے ۔ ان کی ذہنی دنیا میں یہ ارتعاش اس شرمندگی اور رسوائی کی وجہ سے آیا جو اہل دوزخ کی ہوگی ۔ اس لئے یہ خوف انہیں محض اس سبب سے دامن گیر ہو کہ انہیں اللہ سے حیا لاحق ہوگئی ۔ اس طرح وہ آگ سے داغے جانے کے مقابلے میں اللہ سے حیاء کرنے میں زیادہ حساس ہیں ۔ اور یہ خوف اور کپکپی ان کے اس شعور کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا ‘ اس لئے کسی ظالم کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا۔

Aal-i-Imraan 3:192Listen in Qur'an →
193

رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًۭا يُنَادِى لِلْإِيمَٰنِ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِرَبِّكُمْ فَـَٔامَنَّا ۚ رَبَّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلْأَبْرَارِ

اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا

اب یہ پر خشوع دعا ذرا آگے بڑھتی ہے :

رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلإيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الأبْرَارِ

” مالک ! ہم نے ایک پکارنے والے کوسنا ‘ جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کی مانو ‘ ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی ‘ پس اے ہمارے آقا جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزرفرما ‘ جو برائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر ۔ “

اہل دانش کھلے دل لئے ہوئے ہیں ‘ ان پر جو القاء ہوتا ہے وہ لبیک کہتے ہیں ۔ ان کا احساس مزید تیز ہوجاتا ہے ‘ اب ان کی نظریں اپنی تقصیروں ‘ کوتاہیوں ‘ گناہوں اور نافرمانیوں پر لگ جاتی ہیں ۔ وہ فوراً اپنے رب سے اپنے گناہوں کی مغفرت کے طلبگار ہوتے ہیں ‘ وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوجاتے اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی موت نیک لوگوں کے زمرے میں ہو۔

اس فقرے میں اس دعا کا جو پرتو ہے وہ اس پوری سورت کے مضامین کے شیڈ کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ تمام سورت مضامین تطہیر اخلاق ‘ اللہ اور رسول ﷺ کی معصیت اور نافرمانی سے استغفار کا رنگ لئے ہوئے ہیں ۔ اس پوری سورت میں شہوات نفسانیہ اور ذنوب وخطیئات کے خلاف ایک بھرپور جنگ کا سماں ہے ۔ اور یہ وہ جنگ ہے کہ ہر میدانی معرکہ میں کس بھی فتح مندی کا دارومدار اس جنگ میں کامرانی اور فتح مندی پر ہے ۔ جب تک اس اخلاقی تطہیر کی جنگ میں فتح نصیب نہ ہو ۔ اس وقت تک اللہ کے دشمنوں اور ایمان کے دشمنوں کے خلاف کوئی میدانی جنگ نہیں جیتی جاسکتی ۔ اور اس پوری سورت میں یہی مضامین دیئے گئے ہیں جو باہم وابستہ ‘ ہم آہنگ ‘ متکامل ‘ ہمسایہ اور ایک جیسے اثرات کے حامل ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:193Listen in Qur'an →
194

رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا

اس دعا کا خاتمہ توجہ الی اللہ اور فضل خداوندی کی امیدواری سے ہوتا ہے ۔ اس بات پر اعتماد اور یقین کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر وعدے کی وفا ہوتی ہے ۔ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ” خداوند ! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ‘ بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے ۔ “

یہاں اب دعائیہ انداز میں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ رسولوں نے آپ کے جو وعدے ہم پہنچائے ہیں ‘ اور ہمیں تو یقین ہے کہ آپ کے ہاں وعدہ خلافی نہیں ہوتی ‘ وہ وعدے پورے کردے ۔ یہ لوگ امید کرتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ شرمندہ نہ ہوں گے ۔ یہ ان کے افکار کی دنیا میں پہلے جھٹکے کے نتیجے میں ان کے دین کی حالت ہے کہ وہ امید سے دامن بھرے ہوئے ہیں کہ وہ رسوا نہ ہوں گے ۔ اور اسے وہ دعا کی ابتدا میں بھی لاتے ہیں اور آخر میں بھی لاتے ہیں ۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصحاب دانش کس قدر حساس ہوگئے ہیں ۔ ان کے دل کس قدر نرم ہوگئے ہیں ۔ وہ کس قدر صاف ہوگئے ہیں ۔ اللہ کا ڈر اور معصیت کے شرم سے ان کے دل بھرے ہیں ۔

اپنے مجموعی مضمون کے اعتبار سے ‘ یہ دعا ‘ ان اہل دانش کی جانب سے مطالعہ فطرت کے نتیجے میں مکمل قبولیت مکمل آمادگی کا اظہار ہے جو ان کے دل پر نظام کائنات کے مطالعہ سے القاء ہوئی ۔

مناسب ہے کہ ہم اس دعا پر ایک بار پھر غور کریں ‘ اس کی فنی خوبصورتی اور اس کی مناسب طرزادا پر نگاہ ڈالنا بھی ضروری ہے ۔

قرآن کریم کی ہر سورت میں ‘ اس کی آیات کے لئے ایک متعین قافیہ اپنایا گیا ہے ۔ اور قرآن مجید کے اندر قافیہ اور فواصل کا وہ طریقہ نہیں اپنایا گیا جو اشعار میں ہوتا ہے ۔ کہ حرف سے حرف ملے ۔ لیکن ان کا نغمہ اور زیروبم باہم متشابہ ہوتے ہیں ۔ مثلاً الفاظ بصیر ‘ حکیم ‘ مبین اور مریب ایک جیسے صوتی اثرات رکھتے ہیں۔ یا مثلاً الباب ‘ ابصار ‘ النار اور قرار جیسے الفاظ کے صوتی اثرات یکساں ہیں یا مثلاً خفیا ‘ شقیا ‘ شرقیاجی سے الفاظ اگرچہ شعری قافیہ نہیں لیکن ان کا صوتی ایقاع ایک جیسا ہے ۔ ان میں سے پہلا قافیہ اکثر پر زور تقریر جیسے مواقع پر ہوتا ہے ۔ جہاں انداز بیانیہ ہوتا ہے………دوسرا قسم کا قافیہ دعاؤں کے مواقع پر ہوتا ہے اور تیسری قسم کو حکایات اور بیان واقعات کے لئے لایا جاتا ہے۔

سورة آل عمران میں پہلی قسم کا قافیہ ہے ‘ صرف دوجگہ اس سے انحراف ہوا ہے ۔ ابتداء میں جہاں دعاتھی ‘ پھر ان آخری آیات میں جہاں پھر دعا ہے ۔

یہ انداز بالکل ایک نیا اور انوکھا انداز ہے جو قرآن نے مخصوص تعبیرات کے لئے اختیار کیا ہے ۔ دعا کے لئے جو انداز اختیار کیا گیا وہ دعا کو نرم آواز اور پر سو زلہجہ دیتا ہے ۔ الفاظ کے اندر مٹھاس پایا جاتا ہے ۔ جو عاجزی کے ساتھ عرض مدعا کے لئے نہایت ہی موزوں ہے ۔

ایک دوسری فنی خصوصیت بھی ان آیات میں پائی جاتی ہے ۔ کائنات میں تخلیق ارض وسما کا منظر اور گردش لیل ونہار کے جو مناظر انسان کے غور وفکر کے لئے پیش کئے گئے تھے ‘ ان کے ساتھ مناسب یہ تھا کہ دعا ایسی ہو جس میں خشوع و خضوع خوش آوازی کے ساتھ ہو ۔ اس کے نغمات طویل ہوں ‘ اس کے آواز کے زیروبم نہایت ہی گہرے ہوں ۔ اس طرح اس منظر کے الہامات ‘ اثرات طویل ہوں اور اعصاب سماعت اور خیال پر اس کے گہرے اثرات ہوں اور پھر یہ تاثر وجدان پر منتقل ہوجائے ۔ کیونکہ ان کلمات کے صوتی حرکات کے اندر بھی نہایت خشوع ‘ خوش ‘ خوش گواری ‘ توجہ اور اللہ ترسی ہے ۔ اس منظر کی جس طرح عبارت طویل ہے اس طرح نغمات بھی طویل ہیں ۔ جس سے قرآن کریم کی تعبیرات کی اصل غرض وغایت پوری ہوتی ہے اور اس کے ساتھ قرآن کریم کی اصل نئی خوبیاں بھی سامنے آتی ہیں ۔

جس طرح یہ دعا طویل ہے ۔ اسی جواب دعا بھی طویل ہے :

Aal-i-Imraan 3:194Listen in Qur'an →
195

فَٱسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٍۢ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۖ فَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ وَأُخْرِجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِمْ وَأُوذُوا۟ فِى سَبِيلِى وَقَٰتَلُوا۟ وَقُتِلُوا۟ لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ثَوَابًۭا مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلثَّوَابِ

تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کردوں گا اور ان کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (یہ) خدا کے ہاں سے بدلہ ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے

یہ ایک مفصل جواب دعا ہے ۔ طرز ادا بھی طویل ہے ۔ اور یہ قرآن کریم کے طرز ادا کے عین مطابق ہے ۔ تقاضائے حال اور فریقین کے موقف کے عین مطابق نفیساتی اور شعوری دونوں زاویوں سے ۔

اب ہم اللہ کی جانب سے آنیوالے جواب دعا اور قبولیت دعا کے مضامین کی طرف آتے ہیں ۔ یہ جواب اسلامی نظام زندگی کے کن امور کو ظاہر کرتا ہے اور یہ کہ اس نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور یہ نظام انسان کی تربیت کے لئے کیا منہاج اختیار کرتا اور اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟

یہ اصحاب دانش جنہوں نے تخلیق ارض وسما میں غور کیا ‘ جنہوں نے گردش لیل ونہار میں تدبیر کیا اور جنہوں نے اس کائنات کی کتاب مفتوح سے دلائل وآیات اخذ کئے اور ان کی فطرت نے ان دلائل وآیات حق کو قبول کیا اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے ۔ انہوں نے خشوع و خضوع سے بھرپور ‘ سوز وساز میں ڈوبی ہوئی طویل دعا کی ۔ اور اس کے بعد ان کے رب رحیم وکریم کی طرف سے فوراً جواب دعا آیا کیونکہ ان کی دعا نہایت ہی پر خلوص تھی وہ محبت سے بھری تھی ………اب دیکھئے جواب دعا کیا ہے ؟

یہ جواب دعا قبولیت دعاپر مشتمل ہے ‘ اور اس میں اسلامی منہاج حیات کے اصل عناصر ترکیبی کی طرف ہدایت کی گئی ہے ۔ اور اس کے فرائض بتائے گئے ہیں فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ……………جواب میں ان کے رب نے فرمایا۔” میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ “

تم لوگوں کی جانب سے صرف تدبر اور تفکر ہی کافی نہیں ہے ۔ خشوع اور خضوع اور پرسوزدعا ہی کافی نہیں ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوکر گناہوں کی معافی مانگنا ہی کافی نہیں ہے اور صرف نجات اخروی کی طلب ہی کافی نہیں ہے ۔ بلکہ عمل ضروری ہے ۔ مثبت عمل کی ضرورت ہے ۔ اور یہ مثبت عمل نتیجہ ہے ۔ اس غوروفکر اور توجہ الی اللہ کا ‘ اس آمادگی اور اس احساس جس کا اظہار اس پر سوز دعا میں ہوگا۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان مثبت عمل پر آمادہ ہو ‘ وہ عمل جسے اسلام اسی طرح عبادت تصور کرتا ہے جس طرح اسلام تفکر اور تدبر کو عبادت سمجھتا ہے ۔ جس طرح اسلام ذکر وفکر ‘ خوف و استغفار اور پر امید توجہ الی اللہ کو عبادت سمجھتا ہے ۔ وہ عمل جسے اسلام تمام عبادات کا ثمرہ قرار دیتا ہے ۔ اور یہ ثمرہ سب کی جانب سے قبول ہوگا ۔ مرد یہ عمل کریں یا عورتیں یہ عمل کریں ۔ اس عمل کے مقابلے میں جنس وصنف کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مرد اور عورت انسانیت میں بالکل مساوی ہیں ۔ وہ ایک دوسرے کے اجزاء اور آباء و اجداد ہیں اور قیامت کے ترازو میں برابر ہیں ۔

اس کے بعد ان اعمال کی تفصیل دی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام کے نظریہ حیات جان ومال کے ساتھ تعلق رکھنے والی کیا ڈیوٹیاں ہیں ۔ نیز ان اعمال کے ذکر سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نظام زندگی کا مزاج کیا ہے ؟ اور وہ کیا گراؤنڈ ہے جس کے اوپر یہ نظام تعمیر ہوتا ہے۔ اور اس کے طریق کار کا مزاج کیا ہے اور اس میں کیا کیا رکاوٹیں اور کیا کیا کانٹے ہیں ۔ اور یہ کہ ان مشکلات پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کانٹوں کو ایک ایک کرکے چننے کی ضرورت ہے اور اس زمین میں پاک درخت لگانے کے لئے کس کس تیاری کی ضرورت ہے ۔ پھر اسے اس زمین پر تمکنت دینے کے لئے کن کن اقدامات کی ضرورت ہے ، چاہے جس قدر قربانیاں دینی پڑیں ۔ چاہے جس قدر مشکلات کو انگیز کرنا پڑے۔

فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لأكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلأدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ

” لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے ‘ اور میری راہ …

Aal-i-Imraan 3:195Listen in Qur'an →
196

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى ٱلْبِلَٰدِ

(اے پیغمبر) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے

” اے نبی ! دنیا کے ملکوں کی اللہ کے نافرمانوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ‘ یہ صرف چند روزہ زندگی کا تھوڑاسا لطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے پاس سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ‘ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے۔ “

لوگوں کا ممالک میں چلنا پھرنا ‘ سیاحتیں کرنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دولتمند ہیں اور ان کے پاس کچھ ہے ۔ نیز یہ ان کے مرتبے اور سیاسی قوت کی بھی علامت ہے ۔ یہ ایسے مظاہر ہیں جو اہل ایمان کو کھٹک سکتے ہیں ۔ وہ دل میں کسک محسوس کرسکتے ہیں ۔ عام لوگ ایسا احساس بہرحال رکھتے ہیں جیسا کہ وہ مشکل معاشی حالات اور محرومیت کا شکار ہوں ۔ انہیں اذیت دی جارہی ہو اور وہ جہد مسلسل کررہے ہوں انہیں جلاوطن کیا گیا ہو اور وہ بہتری کے لئے جہاد کررہے ہوں ۔ ان پر ہر قسم کی تکالیف اور خوفناک حالات آرہے ہوں اور دشمنان اسلام اور باطل پرست ناز ونعم میں پل رہے ہوں ۔ یہ صورت حال ایک طرف تو غفلت کا شکار جمہور عوام کو قلبی اذیت میں مبتلا کرتی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سچائی اور اہل حق مشکلات میں ہیں اور باطل اور اہل باطل کامیاب ہیں بلکہ عیش میں ہیں ۔ اور خود ان گمراہوں اور اہل باطل کے دلوں میں بھی یہ صورتحال غرور اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ مزید گمراہ ہوتے ہیں ۔ اور شر و فساد میں اور سرکش اور گمراہی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ آیت آئی کہ ” اے نبی ! دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ۔ یہ چند روزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ‘ اور پھر یہ جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ “………متاع قلیل ہے۔ ختم ہونے والا اور جانے والا ہے ۔ اور دائمی ٹھکانہ ان کا جہنم ہے ۔ جو بہت بری جگہ ہے ۔ اور اس تھوڑے سے جانیوالے اور ختم ہونے والے متاع قلیل کے مقابلے میں کیا ہے ؟ باغات ہیں ‘ ان میں دائمی زندگی ہے اور اللہ کی طرف سے عزت افزائی ہے۔” ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ “………” ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “……یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ۔ “………جو اللہ کے ہاں مزید ہے وہ نیکوکاروں کے لئے بہت بہتر ہے۔ “

اس میں شک نہیں کہ اگر اس حصے کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے حصے کو دوسرے میں تو جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اور یہ شک کسی دل میں نہ ہوگا کہ جو لوگ اپنی زندگی میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے یہیں ان کا پلڑان لوگوں سے بھاری ہوگا جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ۔ اور اسی طرح کوئی ذی عقل انسان اس معاملے میں تردد نہ کرے گا کہ اسے وہی حصہ اختیار کرنا چاہئے جو دانشور اپنے لئے اختیار کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ یہاں تعلیم وتربیت کے میدان میں اور اسلامی تصور حیات کی اساسی قدروں کے قیام میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں فرماتے کہ وہ ان کی نصرت فرمائیں گے ۔ یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہارے دشمنوں کو میں مقہور ومغلوب کرکے تمہیں دوں گا اور یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہیں زمین کے اند تمکین اور استقرار نصیب کیا جائے گا اور نہ وہ اس دنیا کی زندگی کی چیزوں میں سے کی دوسری چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ بعض دوسرے مقامات پر اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہ جو اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا بمقابلہ دشمنان اسلام ۔

یہاں اللہ تعالیٰ صرف ایک چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ‘ وہ جو اللہ کے ہاں ہے۔ دعوت اسلامی میں اصل اجر یہی ہے ۔ اور یہی ہے اس دعوت کا نقطہ امتیاز ۔ ہر ہدف اور ہر مقصد سے بےنیازی ‘ ہر مطمح نظر سے استغنا۔ یہاں تک کہ وہ اس خواہش سے بھی بےنیاز ہوجائے کہ …

Aal-i-Imraan 3:196Listen in Qur'an →
197

مَتَٰعٌۭ قَلِيلٌۭ ثُمَّ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

” اے نبی ! دنیا کے ملکوں کی اللہ کے نافرمانوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ‘ یہ صرف چند روزہ زندگی کا تھوڑاسا لطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے پاس سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ‘ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے۔ “

لوگوں کا ممالک میں چلنا پھرنا ‘ سیاحتیں کرنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دولتمند ہیں اور ان کے پاس کچھ ہے ۔ نیز یہ ان کے مرتبے اور سیاسی قوت کی بھی علامت ہے ۔ یہ ایسے مظاہر ہیں جو اہل ایمان کو کھٹک سکتے ہیں ۔ وہ دل میں کسک محسوس کرسکتے ہیں ۔ عام لوگ ایسا احساس بہرحال رکھتے ہیں جیسا کہ وہ مشکل معاشی حالات اور محرومیت کا شکار ہوں ۔ انہیں اذیت دی جارہی ہو اور وہ جہد مسلسل کررہے ہوں انہیں جلاوطن کیا گیا ہو اور وہ بہتری کے لئے جہاد کررہے ہوں ۔ ان پر ہر قسم کی تکالیف اور خوفناک حالات آرہے ہوں اور دشمنان اسلام اور باطل پرست ناز ونعم میں پل رہے ہوں ۔ یہ صورت حال ایک طرف تو غفلت کا شکار جمہور عوام کو قلبی اذیت میں مبتلا کرتی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سچائی اور اہل حق مشکلات میں ہیں اور باطل اور اہل باطل کامیاب ہیں بلکہ عیش میں ہیں ۔ اور خود ان گمراہوں اور اہل باطل کے دلوں میں بھی یہ صورتحال غرور اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ مزید گمراہ ہوتے ہیں ۔ اور شر و فساد میں اور سرکش اور گمراہی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ آیت آئی کہ ” اے نبی ! دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ۔ یہ چند روزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ‘ اور پھر یہ جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ “………متاع قلیل ہے۔ ختم ہونے والا اور جانے والا ہے ۔ اور دائمی ٹھکانہ ان کا جہنم ہے ۔ جو بہت بری جگہ ہے ۔ اور اس تھوڑے سے جانیوالے اور ختم ہونے والے متاع قلیل کے مقابلے میں کیا ہے ؟ باغات ہیں ‘ ان میں دائمی زندگی ہے اور اللہ کی طرف سے عزت افزائی ہے۔” ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ “………” ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “……یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ۔ “………جو اللہ کے ہاں مزید ہے وہ نیکوکاروں کے لئے بہت بہتر ہے۔ “

اس میں شک نہیں کہ اگر اس حصے کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے حصے کو دوسرے میں تو جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اور یہ شک کسی دل میں نہ ہوگا کہ جو لوگ اپنی زندگی میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے یہیں ان کا پلڑان لوگوں سے بھاری ہوگا جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ۔ اور اسی طرح کوئی ذی عقل انسان اس معاملے میں تردد نہ کرے گا کہ اسے وہی حصہ اختیار کرنا چاہئے جو دانشور اپنے لئے اختیار کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ یہاں تعلیم وتربیت کے میدان میں اور اسلامی تصور حیات کی اساسی قدروں کے قیام میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں فرماتے کہ وہ ان کی نصرت فرمائیں گے ۔ یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہارے دشمنوں کو میں مقہور ومغلوب کرکے تمہیں دوں گا اور یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہیں زمین کے اند تمکین اور استقرار نصیب کیا جائے گا اور نہ وہ اس دنیا کی زندگی کی چیزوں میں سے کی دوسری چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ بعض دوسرے مقامات پر اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہ جو اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا بمقابلہ دشمنان اسلام ۔

یہاں اللہ تعالیٰ صرف ایک چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ‘ وہ جو اللہ کے ہاں ہے۔ دعوت اسلامی میں اصل اجر یہی ہے ۔ اور یہی ہے اس دعوت کا نقطہ امتیاز ۔ ہر ہدف اور ہر مقصد سے بےنیازی ‘ ہر مطمح نظر سے استغنا۔ یہاں تک کہ وہ اس خواہش سے بھی بےنیاز ہوجائے کہ …

Aal-i-Imraan 3:197Listen in Qur'an →
198

لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا نُزُلًۭا مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لِّلْأَبْرَارِ

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے

” اے نبی ! دنیا کے ملکوں کی اللہ کے نافرمانوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ‘ یہ صرف چند روزہ زندگی کا تھوڑاسا لطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے پاس سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ‘ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے۔ “

لوگوں کا ممالک میں چلنا پھرنا ‘ سیاحتیں کرنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دولتمند ہیں اور ان کے پاس کچھ ہے ۔ نیز یہ ان کے مرتبے اور سیاسی قوت کی بھی علامت ہے ۔ یہ ایسے مظاہر ہیں جو اہل ایمان کو کھٹک سکتے ہیں ۔ وہ دل میں کسک محسوس کرسکتے ہیں ۔ عام لوگ ایسا احساس بہرحال رکھتے ہیں جیسا کہ وہ مشکل معاشی حالات اور محرومیت کا شکار ہوں ۔ انہیں اذیت دی جارہی ہو اور وہ جہد مسلسل کررہے ہوں انہیں جلاوطن کیا گیا ہو اور وہ بہتری کے لئے جہاد کررہے ہوں ۔ ان پر ہر قسم کی تکالیف اور خوفناک حالات آرہے ہوں اور دشمنان اسلام اور باطل پرست ناز ونعم میں پل رہے ہوں ۔ یہ صورت حال ایک طرف تو غفلت کا شکار جمہور عوام کو قلبی اذیت میں مبتلا کرتی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سچائی اور اہل حق مشکلات میں ہیں اور باطل اور اہل باطل کامیاب ہیں بلکہ عیش میں ہیں ۔ اور خود ان گمراہوں اور اہل باطل کے دلوں میں بھی یہ صورتحال غرور اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ مزید گمراہ ہوتے ہیں ۔ اور شر و فساد میں اور سرکش اور گمراہی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ آیت آئی کہ ” اے نبی ! دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ۔ یہ چند روزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ‘ اور پھر یہ جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ “………متاع قلیل ہے۔ ختم ہونے والا اور جانے والا ہے ۔ اور دائمی ٹھکانہ ان کا جہنم ہے ۔ جو بہت بری جگہ ہے ۔ اور اس تھوڑے سے جانیوالے اور ختم ہونے والے متاع قلیل کے مقابلے میں کیا ہے ؟ باغات ہیں ‘ ان میں دائمی زندگی ہے اور اللہ کی طرف سے عزت افزائی ہے۔” ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ “………” ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “……یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ۔ “………جو اللہ کے ہاں مزید ہے وہ نیکوکاروں کے لئے بہت بہتر ہے۔ “

اس میں شک نہیں کہ اگر اس حصے کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے حصے کو دوسرے میں تو جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اور یہ شک کسی دل میں نہ ہوگا کہ جو لوگ اپنی زندگی میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے یہیں ان کا پلڑان لوگوں سے بھاری ہوگا جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ۔ اور اسی طرح کوئی ذی عقل انسان اس معاملے میں تردد نہ کرے گا کہ اسے وہی حصہ اختیار کرنا چاہئے جو دانشور اپنے لئے اختیار کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ یہاں تعلیم وتربیت کے میدان میں اور اسلامی تصور حیات کی اساسی قدروں کے قیام میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں فرماتے کہ وہ ان کی نصرت فرمائیں گے ۔ یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہارے دشمنوں کو میں مقہور ومغلوب کرکے تمہیں دوں گا اور یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہیں زمین کے اند تمکین اور استقرار نصیب کیا جائے گا اور نہ وہ اس دنیا کی زندگی کی چیزوں میں سے کی دوسری چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ بعض دوسرے مقامات پر اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہ جو اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا بمقابلہ دشمنان اسلام ۔

یہاں اللہ تعالیٰ صرف ایک چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ‘ وہ جو اللہ کے ہاں ہے۔ دعوت اسلامی میں اصل اجر یہی ہے ۔ اور یہی ہے اس دعوت کا نقطہ امتیاز ۔ ہر ہدف اور ہر مقصد سے بےنیازی ‘ ہر مطمح نظر سے استغنا۔ یہاں تک کہ وہ اس خواہش سے بھی بےنیاز ہوجائے کہ …

Aal-i-Imraan 3:198Listen in Qur'an →
199

وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ لَمَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

اور بعض اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے

سورت کے مضامین ختم ہونے سے قبل روئے سخن پھر اہل کتاب کی طرف مڑجاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اہل کتاب میں بعض لوگ ایسے ہیں جو مومنین کی طرح صحیح العقیدہ ہیں ۔ اور یہ لوگ قافلہ ایمان میں شامل ہوگئے ہیں ۔ وہ اسی کے ساتھ جارہے ہیں ۔ اس لئے ان کی جزا بھی وہی ہوگی جو اہل ایمان کی ہوگی ۔

یہ اہل کتاب کے ساتھ اختتامی خطاب ہے ۔ اس سے قبل اہل کتاب کے فرقوں اور ان کے مختلف مواقف کے بارے میں اس سورت کے ایک بڑے حصے میں بات ہوئی تھی ۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان کے اعلیٰ نمونوں کی اس نمائش گاہ اور دعا اور قبولیت دعا کے اس منظر میں اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کے نمونے اس نمائش میں رکھنے کے قابل ہیں ۔ اس لئے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ صحیح راستے پر گامزن ہوگئے ہیں ۔ وہ صحیح انجام تک آپہنچے ہیں ۔ وہ تمام کتب پر ایمان لے آئے ہیں ۔ (موجودہ اور سابق) وہ اللہ اور اس کے درمیان بلحاظ اطاعت فرق بھی نہیں کرتے ۔ وہ اللہ کے رسولوں میں سے بھی کسی میں فرق نہیں کرتے ۔ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے جو ان کی طرف نازل ہوئی اور اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو مسلمانوں پر نازل ہوئی ہے ۔ اور یہی اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیت ہے کہ وہ قافلہ ایمانی کی طرف قرب و محبت کی نظروں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ نظریہ کی ایک ہی لائن ہے جو ذات باری کے ساتھ موصول ہے ۔ وہ اسلامی نظریہ حیات کو ایک وحدت سمجھتا ہے ۔ اسے کلی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ یہاں اہل کتاب مومنین کی خصوصیات میں سے جس اہم خصوصیت کو ظاہر کیا جارہا ہے وہ ان کی صفت خشوع و خضوع ہے اور ان کی یہ صفت کہ وہ اللہ کی آیات کے بدلے اس دنیا کے ثمن قلیل کو قبول نہیں کرتے ۔ یہ صفات اس لئے ذکر کی گئیں کہ انہیں دوسرے اہل کتاب کی صفوں سے چھانٹ کر الگ کردیا جائے جن میں یہ دونوں کمزوریاں موجود تھیں ۔ یعنی متکبر بھی تھے اور بےحیا بھی تھے ۔ آیات کو چھپاتے بھی تھے اور ان میں تحریف بھی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ نہایت ہی گھٹیا مقصد کے لئے کرتے تھے ۔ اور ان کے ساتھ وہی وعدہ اجر کیا جاتا ہے جو اہل ایمان کے ساتھ ہے اور یہ اجر دستی طور پر ادا ہوگا کوئی ٹال مٹول نہ ہوگی۔ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ……………(اللہ تعالیٰ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا ۔ )

Aal-i-Imraan 3:199Listen in Qur'an →
200

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱصْبِرُوا۟ وَصَابِرُوا۟ وَرَابِطُوا۟ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے اہل ایمان (کفار کے مقابلے میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو

اب آخری ضرب ہے ۔ اللہ کی جانب سے ان لوگوں کو پکار دی جاتی ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ اس میں اس راہ کی مشکلات کا مختصر ترین نچوڑ اور خلاصہ پیش کیا جاتا ہے اور راستے کی ذمہ داریوں اور شرائط کا ذکر کیا جاتا ہے۔

عالم بالا سے یہ پکار ‘ اہل ایمان کے لئے ہے ۔ اور اس صفتی نام سے یہ پکار ہے جس صفت نے انہیں ذات باری سے مربوط کیا ہے ۔ وہ ذات جوان مومنین پر یہ ذمہ داریاں ڈال رہی ہے ۔ جو انہیں اس پکار کے اہل بناتی اور جو انہیں ذمہ داریاں اٹھانے کی تربیت دیتی ہے ۔ اور انہیں اس زمین پر بھی اسی طرح مکرم بناتی ہے جس طرح انہیں آسمان پر مکرم بنایا گیا ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا……………(اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ )

اور پکار کس لئے ہے ۔ صبر سے کام لو ‘ جرات دکھاؤ ‘ ہر وقت دشمن کے مقابلے کے لئے تیار رہو ‘ اور ہر وقت خوف اللہ کو پیش نظر رکھو………اس پوری سورت میں صبر اور تقویٰ کی باربار تلقین کی گئی ہے ۔ ان کا تذکرہ الگ الگ بھی ہوا ہے اور یکجا بھی ہوا ہے ۔ نیز اس پوری سورت میں یہ دعوت دی گئی ہے کہ راہ حق میں مشکلات برداشت کرو ‘ مجاہدہ کرو ‘ سازشوں کا مقابلہ کرو اور جو لوگ شکست کی طرف بلاتے ہیں اور ہمت شکنی کی باتیں کرتے ہیں ان کی طرف توجہ نہ کرو اور یہاں اس سورت کے آخر میں اس مضمون کو دہرا کر صبر اور مصابرت کی دعوت دی جاتی ہے ۔ اللہ کی راہ میں ہر وقت تیار رہنے اور اللہ خوفی کو اختیار کرنے کی تلقین یہاں بہترین خاتمہ ہے ۔

صبر اس راہ کا بہترین سامان ہے ‘ راہ دعوت اسلامی کا ‘ اس لئے کہ یہ طویل اور پر مشقت راستہ ہے ۔ یہ مشکلات سے پر اور کانٹوں سے اٹاپڑا ہے ۔ جگہ جگہ ابتلاوآزمائش ہے ۔ ہر وقت چوٹ لگنے اور جان کی قربانی کے مواقع ہیں ۔ اور ہر موقع ایسا ہے جس میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انسانی خواہشات پر صبر ‘ نفس کے مرغوبات پر صبر ‘ ہر قسم کے لالچوں اور آرزؤں پر صبر ‘ اپنے ضعف اور نقص پر صبر ‘ ان کے مزاج کے انحراف پر صبر ‘ نفس کی جلد بازی اور افسردگی پر صبر ‘ لوگوں کی خواہشات پر صبر ‘ لوگوں کے ضعف اور کمزوری پر صبر ‘ لوگوں کے جہل اور بری سوچ پر صبر ‘ ان کے مزاج کے انحراف پر صبر ان کی نخوت اور غرور پر صبر ‘ ان کی چالبازیوں پر صبر ‘ باطل کے غرور پر صبر ‘ کفر کی گندگی پر صبر ‘ شر کے پھیلنے پھولنے پر صبر ‘ شہوت کے غلبے پر صبر ‘ غرور اور کبر کی آگ پر صبر ‘ مددگاروں کی قلت پر صبر ‘ اعانت کننددگان کی قلت پر صبر ‘ راستے کی طوالت پر صبر ‘ کرب اور بےچینی کے اوقات میں شیطانی وسوسوں پر صبر ‘ اور جہاد کی تلخی پر صبر اور ان تمام نفسیاتی تاثرات اور متنوع انفعالات پر صبر………مثلا رنج والم ‘ غیض وغضب ‘ دلی تنگی اور گھٹن ‘ بعض اوقات بھلائی پر بےاعتمادی اور انسانی فطرت کی اصلاح کی ناامیدی وغیرہ………بعض اوقات رنج وملال اور تھکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اور انسان پر مایوسی کا غبار چھا جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں صبر ہی کام دیتا ہے ۔ پھر جب غلبہ نصیب ہوتا ہے تو انسان کو انتقام پر قدرت حاصل ہوجاتی ہے ۔ اور اس وقت پھر صبر کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ پھر بعض اوقات مادی سہولیات ملتی ہیں تو ان پر تواضع اور سنجیدگی کرنا ہوتی ہے ۔ بغیر تکبر اور بغیر میلان انتقام اور بغیر اس کے کہ قصاص میں حد سے گزرجائیں………پھر خوشحالی اور بدحالی دونوں میں اللہ سے لولگائے رکھنا ‘ اس کے فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ‘ اور نہایت ہی اطمینان ‘ نہایت ہی اعتماد اور منکسرالمزاجی کے ساتھ اپنے تمام امور اس کے حوالے کردینا۔

ان سب امور میں صبر کرنا اور ان جیسے دوسرے امور میں صبر کرنا ‘ ایسے امور ہیں جو مسالک راہ حق کو ‘ اس کے اس طویل سفر میں پیش آتے رہتے ہیں ۔ ایسی مشکلات اور ایسے حالات پیش آتے رہتے ہیں ۔ جن کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ ان مشکلات کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں ۔ ان مشقتوں کا مفہوم کلمات کے جامہ میں نہیں سماتا ۔ اس مفہوم …

Aal-i-Imraan 3:200Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.