ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمًۭا وَقُعُودًۭا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَٰطِلًۭا سُبْحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ
جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو
زمین و آسمان کی تخلیق میں ‘ اور رات اور دن کی گردش میں وہ کیا آیات اور نشانیاں ہیں ‘ اور جب یہ اولوالالباب آسمان اور زمین میں تفکر کرتے ہیں تو وہ کیا نشانیاں ہیں ؟ جب وہ رات اور ان کی گردش میں غور کرتے ہیں تو انہیں کیا نظر آتا ہے ؟ جبکہ پھر وہ اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں کھڑے ہوکر بھی ‘ بیٹھ کر بھی اور کروٹ لیتے ہوئے بھی ۔ اور پھر سوال یہ ہے کہ ان کے نتیجہ فکر کا تعلق اللہ کے ذکر کے ساتھ کیسے مربوط ہوجاتا ہے کہ وہ فوراً کھڑے ‘ بیٹھے اور کروٹ لیتے اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس ذکر کو اس پر خشوع و خضوع اور پر سوز دعا پر کیسے ختم کرتے ہیں ؟ وہ کہتے ہیں ۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ……………(پروردگار ! یہ سب کچھ تونے فضول اور بےمقصد نہیں بنایا تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب ہمیں دوزخ کی آگ سے بچالے۔ )
قرآن کریم یہاں ان لوگوں کی ایک زندہ اور متحرک تصویر کشی کرتا ہے جو اس کائنات کے اندر صحت مند غور کرتے ہیں اور ان کو اس کائنات کے مثرات کا ادراک ہوتا ہے ۔ اور وہ پھر ان مدرکات اور موثرات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘ اور ان کی آنکھوں کے سامنے رات دن اس پوری کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کی طرف لبیک کہتے ہیں ۔
قرآن کریم انسانی فکر ونظر میں باربار دعوت نظارہ دیتا ہے اور بڑی تاکید سے حکم دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب کا مطالعہ کریں ۔ جس کے صفحات رات اور دن خود الٹتے پلٹتے رہتے ہیں ۔ ہر صفحے پر صانع قدرت کے نشانات میں سے ایک نشان نظر آتا ہے ۔ اور وہ فطعرت سلیمہ کے اندر ایک ایسی سچائی کے پہچاننے کا بےحد جوش پیدا کردیتا ہے ‘ جو سچائی اس کتاب کے صفحات کے اندر جمی ہوئی ہے ۔ اس کائنات کی اساس میں وہ سچائی موجود ہے ۔ اس کائنات کے خالق کے مطالبات کے تسلیم کرنے کی طرف یہ سچائی مائل کرتی ہے ۔ اور جس خالق نے اس کائنات میں یہ ناموس ودیعت کیا ہے ۔ اس کی طرف رجوع کی دعوت دی جاتی ہے ۔ دل میں خالق کی محبت بھی پیدا ہوتی ہے ‘ اس کے ساتھ ساتھ اس کا خوف اور خشیت بھی پیدا ہوتی ہے …………پھر یہ اولوالالباب کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو صحیح الفکر ہیں ۔ جو آنکھیں کھول کر کتاب کائنات کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ آنکھوں پر پردے نہیں ڈالتے ۔ وہ اپنے غور وفکر اور تدبر کے دریچے بند نہیں کرتے ۔ اور اس طرح وہ اپنے دل کے حوالے سے ‘ اپنے قیام میں ‘ اپنے قعود میں اور کروٹ لیتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ یوں کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے ذرائع ادراک کھل جاتے ہیں اور وہ اس ناموس اکبر اور حقیقت کائنات کا ادراک کرلیتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں ودیعت کی ہے ۔ وہ اس کائنات کے مقصد وجود کو پالیتے ہیں ۔ اس ایجاد کرنے کے اصل اسباب ان کے علم میں آجاتے ہیں اور وہ کائنات کے فطرت کے اجزائے ترکیبی اور نظام قیام سے واقف ہوتے ہیں ۔ یہ تمام راز وہ اس الہام کے ذریعہ پاتے ہیں جو فطرت کے ان نوامیس اور انسانی دل کے درمیان رابطے کے ذریعے ہوتا ہے۔
زمین و آسمان کا مشہد ‘ رات اور دن کی تبدیلی کا منظر اور سیاروں کی گردش کے مناظر ایسے مناظر ہیں کہ اگر ہم اپنی آنکھیں کھول کردیکھیں ‘ ہمارے دل کام کررہے ہوں اور ہمارا ادراک اچھی طرح کام کرتا ہو اور ان کو اس نظر سے دیکھیں جس طرح ایک انسان کسی مشہد اور منظر کو پہلی مرتبہ دیکھتا ہے اور اگر ہم اپنے احساس سے ان مناظر کے عادی ہونے کے تصور کو دور کردیں ‘ اور اس تکرار کے اثرات سے اپنی حس کو پاک کردیں تو ہمارے احساس کے لئے یہ قابل ارتعاش ہوں ‘ ہمارے شعور کے اندر زلزلہ آجائے اور ہمیں اچھی طرح احساس ہوجائے کہ اس نظام کے اندر جس قدر دقت نظر سے ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے وہ کسی حکیمانہ ہاتھ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ۔ اس نظام کے پیچھے ایک مدبر عقل کام کررہی ہے ۔ اس نظام کے پیچھے ایک ناموس کام کررہا ہے ۔ جس کی خلاف ورزی …