Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 191–200 of 200

191

ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمًۭا وَقُعُودًۭا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَٰطِلًۭا سُبْحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو

[١٩٠] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عقلمند صرف وہ لوگ ہیں جو اس کارخانہ قدرت میں غور کرنے کے بعد اللہ کی بےپناہ قدرت و تصرف کی حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اس اعتراف حقیقت کے نتیجہ میں ان کے بدن کارواں رواں محبت الٰہی میں سرشار ہو کر اس کی حمد وثناء کرنے لگتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس کارخانہ قدرت میں غورو فکر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچیں کہ یہ عالم مادہ سے بنا ہے۔ پھر اتفاق سے یوں ہوگیا، پھر اتفاق سے یوں ہوگیا اور اس مضبوط و مربوط نظام کائنات کو محض اتفاقات کا نتیجہ کا قرار دیتے ہیں، وہ ہرگز اہل عقل نہیں ہیں۔ کیونکہ اتفاق سے کبھی کبھار تو خیر پیدا ہوسکتی ہے لیکن مسلسل خیر کبھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ اس کائنات کی ہر ایک چیز نہایت خوبی کے ساتھ اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ گویا اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں دہریت اور نیچریت کا رد موجود ہے۔- [١٩١] اس کائنات کے نظام میں غور و فکر کرنے سے اہل عقل پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوجاتی ہے کہ اس کائنات میں ایک انسان ہی ایسی مخلوق ہے جسے عقل اور تمیز عطا کی گئی ہے۔ اسے اللہ نے تصرف کے کچھ اختیارات بھی دیئے ہیں اور اخلاقی حس بھی پیدا کی ہے۔ لہذا یہ بات سراسر عقل اور حکمت کے خلاف ہے کہ اس سے اس کی دنیا کی زندگی کے بارے میں باز پرس نہ ہو اور اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا نہ دی جائے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان عمر بھر ظلم و ستم کئے جاتا ہے۔ لوگوں کو پریشان بھی کرتا ہے۔ ان کے حقوق بھی غصب کرتا ہے۔ لیکن اسے اس دنیا میں کوئی سزا نہیں ملتی۔ اسی طرح بعض دفعہ ایک نیک طبع اور دیندار انسان کی ساری عمر سختیاں اور مصائب برداشت کرتے اور تنگی و تنگ دستی کے عالم میں گزر جاتی ہے اور اسے کبھی راحت میسر نہیں آتی اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے عدل کے خلاف ہے۔ اس سے ایک عقلمند انسان لازماً یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہونی چاہئے۔ جس میں ہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جاسکے۔ اس طرح انہیں اخروی زندگی کا یقین حاصل ہوجاتا ہے اور وہ اللہ کی گرفت سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔- [١٩٢] باطل کی ضد حق ہے اور جس طرح حق کا لفظ وسیع المعنی ہے۔ اسی طرح باطل کے بھی بہت سے معنی ہیں۔ مثلاً باطل بمعنی جھوٹ، جھوٹی بات، بہتان، عبث، بےکار، بےمقصد ہے۔ اس آیت میں بتلایا جارہا ہے کہ یہ کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی۔ جیسا کہ مادہ پرستوں، دہریوں اور نیچریوں کا خیال ہے کہ مادہ کے اجزا باہم ملتے گئے اور کائنات کی ایک ایک چیز وجود میں آتی گئی۔ ہائیڈروجن کے ذرات ملے تو سورج پیدا ہوگیا اور وہ خود بھی گھومنے لگا۔ پھر اس سے ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہوا تو وہ زمین بن گئی۔ زمین نے جب گھومنا شروع کیا تو اس کا ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہوا تو وہ چاند بن گیا اور اسی طرح دوسرے سیارے وجود میں آتے گئے اور انہی اتفاقات سے کائنات سے ایک ایک چیز بن گئی۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ جس طرح کائنات کی ہر چیز جیسے اتفاق سے بنتی گئی۔ اسی طرح تباہ ہوجائے گی اور تباہی کے بعد پھر اجزا ملنے شروع ہوجائیں گے اور یہ سلسلہ یوں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلتا رہے گا۔ (وقس علیٰ ھٰذا من الخرافات) گویا ان کے خیال میں یہ کائنات محض ایک تماشا گاہ اس کی مختلف صورتوں اور اتفاقات کا کھیل ہے۔- اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ پوری کائنات تو درکنار، کائنات کی کوئی چیز بھی بےکار پیدا نہیں کی گئی۔ بلکہ با مقصد طور پر پیدا کی گئی ہے۔ قرآن کی تصریحات کے مطابق زمین اور اس کی جملہ اشیاء شمس و قمر اور ستارے سب انسان کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہیں اور اس کی خدمت پر مامور ہیں۔ زمین سے انسان کی ہر طرح کی جسمانی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ سورج اور اس کی گردش سے رات دن پیدا ہوتے، موسم بنتے اور فصلیں پکتی ہیں۔ چاند سے …

Aal-i-Imraan 3:191Listen in Qur'an →
192

رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُۥ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ

اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

Explained together with ayah 191

Aal-i-Imraan 3:192Listen in Qur'an →
193

رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًۭا يُنَادِى لِلْإِيمَٰنِ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِرَبِّكُمْ فَـَٔامَنَّا ۚ رَبَّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلْأَبْرَارِ

اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا

[١٩٣] پکارنے والے سے مراد اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہے۔ جو وحی الٰہی کی روشنی میں انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے اس معمہ کو محض انسانی عقل کے حوالے نہیں کیا بلکہ اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے اس معمہ کا حل خود ہی بتلا دیا ہے۔ اس کو بتلایا یہ گیا ہے کہ کائنات میں اس کا صحیح مقام یہ ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز نہ اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے اور نہ سنوار سکتی ہے۔ اس کا تمام تر نفع و نقصان اس خالق ومالک کے ہاتھ میں ہے جو اس پوری کائنات کا خالق ہے۔ پھر رسولوں اور کتابوں ہی کے ذریعہ انسان کو اس کی زندگی کا مقصد یہ بتلایا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے اور دنیا میں اس طرح زندگی گزارے جس سے اسے اخروی نجات حاصل ہوجائے۔ ساتھ ہی ساتھ اسے یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ وہ محض اپنے نیک اعمال پر تکیہ نہ کرے بلکہ اپنے اللہ سے گناہوں کی بخشش بھی طلب کرتا رہے اور بھلائی کے لیے دعائیں بھی مانگتا رہے۔

Aal-i-Imraan 3:193Listen in Qur'an →
194

رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا

[١٩٤] یعنی وہ اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنے ان وعدوں کا مصداق بنا دے جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے کئے ہیں اور ہم سے وہ وعدے پورے کر دے، کہیں ایسا نہ ہو دنیا میں تو ہم پیغمبروں پر ایمان لاکر کافروں کی تضحیک اور طعن و ملامت کا نشان بنے ہی ہوئے ہیں۔ آخرت میں بھی ان کے سامنے ہماری رسوائی ہو اور وہ ہم پر یہ پھبتی کسیں کہ ایمان لاکر بھی تمہیں کیا حاصل ہوا ؟ اور دوسرا معنی اس کا یہ بھی ہے کہ تو نے ہم سے جو اس دنیا میں کفار پر فتح و نصرت عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما، اور کافروں اور منافقوں کی تضحیک اور لعن طعن سے ہمیں بچا لے۔

Aal-i-Imraan 3:194Listen in Qur'an →
195

فَٱسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٍۢ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۖ فَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ وَأُخْرِجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِمْ وَأُوذُوا۟ فِى سَبِيلِى وَقَٰتَلُوا۟ وَقُتِلُوا۟ لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ثَوَابًۭا مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلثَّوَابِ

تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کردوں گا اور ان کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (یہ) خدا کے ہاں سے بدلہ ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے

[١٩٥] یعنی مرد اور عورت چونکہ دونوں ایک ہی نوع سے ہیں۔ لہذا نیک اعمال کا جس قدر بدلہ مردوں کو ملے گا۔ اتنا ہی عورتوں کو ملے گا۔ جزائے اعمال کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں اور اس دنیا میں جو مرد کو بیوی پر تفوق حاصل ہے۔ اس کی وجوہ دو ہیں۔ ایک عائلی نظام کا استقلال ہے جو ایک ہی سربراہ کی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے اور مرد چونکہ قویٰ کے لحاظ سے عورت سے مضبوط ہے۔ لہذا گھر کا سربراہ وہی ہونا چاہئے، اور دوسرے یہ کہ مرد چونکہ بیوی کے نان و نفقہ اور اولاد کی تربیت اور جملہ اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لہذا عقلی طور پر بھی جس کا خرچ ہو رہا ہو اسی کی رائے کو فوقیت دی جانی چاہئے اور یہ معاملہ صرف گھریلو نظام تک محدود ہے۔ رہی جزائے اعمال کی بات تو اس کا انحصار نوع پر نہیں بلکہ ہر عمل کرنے والے کی نیت پر ہے۔ جس قدر نیت پاکیزہ ہوگی اتنا ہی بہتر اجر ملے گا۔- [١٩٦] یعنی جن لوگوں نے میری راہ میں اور اسلام کو سربلند کرنے اور رکھنے کی خاطر جان و مال اور وطن کی قربانیاں دی ہیں اور طرح طرح کے دکھ اٹھائے ہیں، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں اللہ سب سے یکساں سلوک کرتے ہوئے ان کی لغزشیں معاف فرما دے گا اور ان قربانیوں کا بہترین صلہ عطا فرماتے ہوئے انہیں پربہار باغات میں داخل کرے گا۔ روایات میں آیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ام سلمہ نے آپ سے عرض کیا : یارسول اللہ قرآن میں جہاں کہیں ہجرت یا اعمال حسنہ کا ذکر آتا ہے تو مردوں کا ہی آتا ہے عورتوں کا کیوں نہیں آتا ؟ تو اس بات کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:195Listen in Qur'an →
196

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى ٱلْبِلَٰدِ

(اے پیغمبر) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے

[١٩٧] یعنی اللہ کے دین کی مخالفت کے باوجود کفار کے تجارتی قافلے یمن سے شام تک جاتے اور معقول منافع کماتے اور پھر عیش و عشرت سے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں تو اس چند روزہ عیش و آرام سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ ان پر مہربان ہے۔ کیونکہ آخرت میں ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔ لہذا کسی کو اس فریب میں نہ پڑنا چاہئے۔

Aal-i-Imraan 3:196Listen in Qur'an →
197

مَتَٰعٌۭ قَلِيلٌۭ ثُمَّ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

Explained together with ayah 196

Aal-i-Imraan 3:197Listen in Qur'an →
198

لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا نُزُلًۭا مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لِّلْأَبْرَارِ

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے

[١٩٨] ان دو آیات میں ایک مسلمان اور ایک کافر کی دنیوی اور آخروی زندگیوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ فرض کیجئے کہ ایک کافر کی دنیا کی یہ چند روزہ زندگی عیش و آرام سے گزرتی ہے۔ (حالانکہ عملاً ایسا نہیں ہوتا اسے بھی دنیا میں کئی طرح کے غم اور تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں) لیکن آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ وہ عذاب میں مبتلا رہتا ہے، اور مسلمان کی یہ چند روزہ زندگی، دکھ، مصائب، پریشانی اور تنگدستی میں گزرتی ہے۔ (حالانکہ عملاً ایسا نہیں ہوتا، اسے بھی اس دنیا میں خوشی اور خوشحالی کے لمحات میسر آتے ہی رہتے ہیں) لیکن آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے لیے ہر طرح کی نعمتیں ہی نعمتیں اور عیش و عشرت کی زندگی ہو تو بتلائیے کہ ان دونوں میں سے کون فائدہ میں رہا ؟ لہذا محض دنیوی زندگی کا ہی تقابل کرکے دھوکہ میں نہ آنا چاہئے۔- [١٩٩] مہمانی کا لفظ اس لیے فرمایا کہ اہل جنت کو اپنے کھانے پینے کے لیے خود کچھ بھی مشقت یا تردد نہ کرنا پڑے گا۔ بلکہ عزت و آرام سے بیٹھے بٹھائے ہر چیز تیار مل جایا کرے گی جیسا کہ کسی مہمان کو ملتی ہے۔ دنیا میں ان لوگوں نے جس قدر زیادہ دکھ اور اسلام کی راہ میں مصائب برداشت کئے ہوں گے، اتنا ہی انہیں بہتر سے بہتر انعامات سے نوازا جائے گا۔

Aal-i-Imraan 3:198Listen in Qur'an →
199

وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ لَمَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

اور بعض اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے

[٢٠٠] یہود میں کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو اللہ سے ڈرنے والے، حرام خوری سے بچنے والے دیانتدار اور نیک سرشت تھے۔ اگرچہ ایسے لوگ بہت کم تھے، تاہم تھے اور ان کا ذکر پہلے سورة آل عمران کی آیت ١١٣ تا ١١٥ میں گزر چکا ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور ایسے لوگ دوہرے ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایک اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانے کا دوسرے نبی آخرالزمان اور قرآن پر ایمان لانے کا۔ چناچہ آپ نے فرمایا ہے کہ تین آدمیوں کو دہرا اجر ملے گا، ایک تو اس کو جس کی کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، ادب سکھلائے پھر اس سے نکاح کرلے دوسرے اس یہودی یا عیسائی کو جو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا، پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لایا۔ تیسرے اس غلام کو جو اللہ اور اپنے آقا دونوں کا حق ادا کرے۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل من اسلم من اھل الکتاب)

Aal-i-Imraan 3:199Listen in Qur'an →
200

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱصْبِرُوا۟ وَصَابِرُوا۟ وَرَابِطُوا۟ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے اہل ایمان (کفار کے مقابلے میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو

[٢٠١] (صَابِرُوْا) کے دو معنے ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر صبر کرو اور دوسرے یہ کہ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہو۔ یعنی جو اسلام کی راہ میں مشکلات آنے پر خود بھی ثابت قدم رہیں اور دوسروں کو بھی ایسی ہی تلقین کرتے اور ان کی ڈھارس بندھاتے رہیں۔- [٢٠٢] اسی طرح (رَابِطُوْا) میں جہاد کے لیے تیار رہنا، کسی چوکی پر پہرہ دینا، مورچے پر رہنا اور اپنی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کرنا سب کچھ شامل ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن مورچے پر رہنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور تم میں کسی کو ایک کوڑا رکھنے کے برابر جنت میں جگہ مل جائے تو وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور شام کو جو آدمی اللہ کی راہ (جہاد) میں چلے یا صبح کو تو وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ )- نیز آپ نے فرمایا : ایک دن رات پہرہ دینا، ایک ماہ کے روزے اور قیام سے بہتر ہے۔ اگر وہ پہرہ دیتے ہوئے شہید ہوگیا تو اس کا یہ عمل برابر جاری رہے گا اور اس کو اس پر اجر دیا جائے گا اور وہ فتنوں سے امن میں رہے گا (مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل)- بعض فقہاء رباط کو جہاد فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جہاد غیر مسلموں سے کیا جاتا ہے اور رباط خود مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔- مدنی دور کے ابتدائی سالوں میں مدینہ کے ارد گرد بسنے والے مشرک قبائل آپس میں گٹھ جوڑ کرکے مدینہ پر حملہ کی سازشیں کرتے رہتے تھے۔ آپ ان کے حالات سے ہر لحظہ باخبر رہتے اور جب محسوس کرتے کہ مدینہ کی طرف کوئی بری نظروں سے دیکھ رہا ہے تو فوراً خود وہاں پہنچ جاتے، یا سریہ بھیج دیتے تھے۔ صلح حدیبیہ سے پہلے اکثر ایسے واقعات پیش آتے رہے اور بسا اوقات یوں ہوا کہ دشمن اسلامی دستوں کی آمد کی خبر پاکر تتر بتر ہوجاتا تھا۔- ٩ ھ میں عرب کا بیشتر علاقہ اسلام کے زیر نگین آگیا تو شام کی سرحد پر عرب عیسائیوں نے جو قیصر روم کے زیراثر تھے۔ مسلمانوں کی سرحد پر اپنی افواج کو اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ افواہ یہ گرم تھی کہ دو لاکھ عیسائی اس سرحد پر جمع ہورہے ہیں۔ غزوہ تبوک اسی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اسلامی لشکر کے پہنچنے سے پہلے ہی دشمن کا لشکر منتشر ہوگیا اور جنگ کی نوبت ہی نہ آئی۔- دور فاروقی میں جب اسلامی سلطنت کی سرحدیں بہت وسیع ہوگئیں تو سرحدوں پر فوجی چھاؤنیاں قائم کردی گئیں۔ جہاں ہر وقت فوج موجود رہتی تھی تاکہ دشمن کی نقل و حرکت کی بروقت سرکوبی کی جاسکے۔- اور بعض لوگوں نے رابِطُوْا سے باہمی روابط اور معاشرتی آداب کو ملحوظ رکھنا مراد لیا ہے۔ یعنی صلہ رحمی، رشتوں ناطوں کا پورا پورا لحاظ رکھو اور ہر شخص دوسرے کے حقوق و آداب کو ملحوظ رکھ کر معاشرہ میں ہمدردی، مروت اور اخوت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ دوسروں سے احسان اور بہتر سلوک کرنا وغیرہ سب باتیں اس میں شامل ہیں۔- سورة آل عمران میں چونکہ غزوہ احد کا تفصیلی بیان آیا ہے اور اسکا بہت سا حصہ اسی غزوہ کے حالات پر مشتمل ہے اور یہ آخری آیت گویا اس سورة کا تتمہ اور لب لباب ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں ہر وقت تیار رہنے کے ضمن میں جامع ہدایات دی گئی ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:200Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.