Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 181–190 of 200

181

لَّقَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٌۭ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا۟ وَقَتْلَهُمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ وَنَقُولُ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو

تحقیق سن لی اللہ نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کہا، بے شک اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار، یقینا ہم لکھتے ہیں جو کچھ انھوں نے کہا اور ان کے قتل کرنے کو (بھی) انبیاء کا ناحق اور کہیں گے ہم چکھو عذاب جلانے والا(181) یہ بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا واسطے بندوں کے(182)

[181] اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انھوں نے جو بدزبانی کی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کر لے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہرزہ گوئی… ’’اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں‘‘… کے بدلے میں کہا جائے گا ﴿ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡـقِ ﴾ یعنی بدن سے دل تک جلا ڈالنے والے عذاب کا مزا چکھو، ان کو دیا گیا یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾ ’’بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔‘‘ وہ اس سے منزہ ہے۔

[182] فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ یہ رسوائیاں اور قباحتیں جو انھیں عذاب کا مستحق بناتی اور ثواب سے محروم کرتی ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنھوں نے مذکورہ ہرزہ سرائی کی تھی۔ ان میں ’’فنحاص بن عازوراء‘‘ کا نام لیا جاتا ہے جو مدینہ میں علمائے یہود کا سرخیل تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنحاص بن عازوراء نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(البقرہ: 2؍245) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(الحدید:57؍18) سنا تو اس وقت اس نے تکبر کی بنا پر یہ بات کہنے کی جسارت کی ۔۔ قبحہ اللٰہ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بدگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ ہرزہ سرائیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے قبیح کام کرتے رہے ہیں ان کی ایک نظیر یہ ہے کہ انھوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا… یہاں ’’ناحق‘‘ کی قید لگانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نبیوں کو لاعلمی اور ضلالت کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جرم کی قباحت اور شناعت کو جانتے ہوئے بھی سرکشی اور عناد کی بنا پر قتل انبیاء علیہ السلام کے اقدام کی جرأت کرتے تھے۔

Aal-i-Imraan 3:181Listen in Qur'an →
182

ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍۢ لِّلْعَبِيدِ

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا

تحقیق سن لی اللہ نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کہا، بے شک اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار، یقینا ہم لکھتے ہیں جو کچھ انھوں نے کہا اور ان کے قتل کرنے کو (بھی) انبیاء کا ناحق اور کہیں گے ہم چکھو عذاب جلانے والا(181) یہ بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا واسطے بندوں کے(182)

[181] اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انھوں نے جو بدزبانی کی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کر لے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہرزہ گوئی… ’’اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں‘‘… کے بدلے میں کہا جائے گا ﴿ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡـقِ ﴾ یعنی بدن سے دل تک جلا ڈالنے والے عذاب کا مزا چکھو، ان کو دیا گیا یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾ ’’بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔‘‘ وہ اس سے منزہ ہے۔

[182] فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ یہ رسوائیاں اور قباحتیں جو انھیں عذاب کا مستحق بناتی اور ثواب سے محروم کرتی ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنھوں نے مذکورہ ہرزہ سرائی کی تھی۔ ان میں ’’فنحاص بن عازوراء‘‘ کا نام لیا جاتا ہے جو مدینہ میں علمائے یہود کا سرخیل تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنحاص بن عازوراء نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(البقرہ: 2؍245) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(الحدید:57؍18) سنا تو اس وقت اس نے تکبر کی بنا پر یہ بات کہنے کی جسارت کی ۔۔ قبحہ اللٰہ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بدگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ ہرزہ سرائیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے قبیح کام کرتے رہے ہیں ان کی ایک نظیر یہ ہے کہ انھوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا… یہاں ’’ناحق‘‘ کی قید لگانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نبیوں کو لاعلمی اور ضلالت کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جرم کی قباحت اور شناعت کو جانتے ہوئے بھی سرکشی اور عناد کی بنا پر قتل انبیاء علیہ السلام کے اقدام کی جرأت کرتے تھے۔

Aal-i-Imraan 3:182Listen in Qur'an →
183

ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَآ أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍۢ تَأْكُلُهُ ٱلنَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌۭ مِّن قَبْلِى بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَبِٱلَّذِى قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

جو لوگ کہتے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آکر کھا جائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟

وہ لوگ جنھوں نے کہا: بلاشبہ اللہ نے عہد لیا ہے ہم سے یہ کہ نہ ایمان لائیں ہم کسی رسول پر، یہاں تک کہ لائے وہ ہمارے پاس ایسی قربانی کہ کھا جائے اسے آگ، کہہ دیجیے! تحقیق آئے تمھارے پاس کئی رسول پہلے مجھ سے ساتھ واضح دلائل کے اور ساتھ اس کے جو کہا تم نے، پھر کیوں قتل کیا تم نے ان کو اگر ہو تم سچے؟(183) پس اگر جھٹلایا ہے انھوں نے آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے، لائے تھے وہ واضح دلائل اور صحیفے اور کتاب روشن(184)

[183] اللہ تعالیٰ ان افترا پردازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ ﴿ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ ﴾ ’’ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھا لے۔‘‘پس انھوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کر دیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لیے وہ رسول اللہﷺپر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں اپنے رب کی اطاعت اور اس کے عہد کا التزام کر رہے ہیں۔ یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان سب کی معجزات و براہین کے ذریعے سے تائید کی۔ جس پر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور جس معجزے کا انھوں نے مطالبہ کیا انبیاء علیہ السلام اس سے قاصر نہیں رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے انبیاء علیہ السلام کی دعوت کو بہتان و افترا کہہ کر اس کا التزام نہ کیا اور اسے باطل کہا اور اس پر عمل نہ کیا۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ وہ ان سے کہہ دیں ﴿ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِيۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمھارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت کی تائید کرتے تھے ﴿ وَبِالَّذِيۡ قُلۡتُمۡ ﴾ اور وہ معجزہ لے کر بھی آئے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے، یعنی انھوں نے وہ قربانی بھی کی جس کو آگ نے کھایا ﴿ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ۠ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟‘‘ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم تو رسول پر اس وقت ایمان لاتے ہیں جب وہ قربانی کرے اور آگ آسمان سے نازل ہو کر اسے کھا لے تو پھر تم یہ معجزہ دکھانے والے نبیوں کو قتل کیوں کرتے تھے۔ پس اس سے ان کا جھوٹ اور تناقض واضح ہو گیا۔

[184] پھر اپنے رسولﷺکو ان الفاظ میں خوشخبری سنائی ہے ﴿ فَاِنۡ كَذَّبُوۡكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس اگر انھوں نے تمھاری تکذیب کی ہے تو تم سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنا ان ظالموں کی عادت اور وتیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ معجزہ دکھانے سے قاصر رہے یا دلیل واضح نہ تھی بلکہ ﴿ جَآءُوۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی وہ تو دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ لے کر مبعوث ہوئے ﴿ وَالزُّبُرِ ﴾ ان کے لیے آسمان سے لکھی ہوئی کتابیں نازل ہوئیں ان کتابوں کو رسول کے سوا کوئی اور نہیں لا سکتا۔ ﴿ وَالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ﴾ یعنی احکام شرعی کو روشن اور عیاں کرنے والی اور یہ احکام الٰہی جن محاسن عقلی پر مشتمل ہیں ان کو بیان کرنے والی ہیں نیز سچی خبروں کو روشن کرتی ہے۔ لہٰذا جب ان اوصاف کے حامل رسولوں پر ایمان لانا ان کی عادت نہیں تو ان کا معاملہ آپ کو غمزدہ نہ کر دے۔

Aal-i-Imraan 3:183Listen in Qur'an →
184

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌۭ مِّن قَبْلِكَ جَآءُو بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُنِيرِ

پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آچکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا

وہ لوگ جنھوں نے کہا: بلاشبہ اللہ نے عہد لیا ہے ہم سے یہ کہ نہ ایمان لائیں ہم کسی رسول پر، یہاں تک کہ لائے وہ ہمارے پاس ایسی قربانی کہ کھا جائے اسے آگ، کہہ دیجیے! تحقیق آئے تمھارے پاس کئی رسول پہلے مجھ سے ساتھ واضح دلائل کے اور ساتھ اس کے جو کہا تم نے، پھر کیوں قتل کیا تم نے ان کو اگر ہو تم سچے؟(183) پس اگر جھٹلایا ہے انھوں نے آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے، لائے تھے وہ واضح دلائل اور صحیفے اور کتاب روشن(184)

[183] اللہ تعالیٰ ان افترا پردازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ ﴿ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ ﴾ ’’ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھا لے۔‘‘پس انھوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کر دیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لیے وہ رسول اللہﷺپر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں اپنے رب کی اطاعت اور اس کے عہد کا التزام کر رہے ہیں۔ یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان سب کی معجزات و براہین کے ذریعے سے تائید کی۔ جس پر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور جس معجزے کا انھوں نے مطالبہ کیا انبیاء علیہ السلام اس سے قاصر نہیں رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے انبیاء علیہ السلام کی دعوت کو بہتان و افترا کہہ کر اس کا التزام نہ کیا اور اسے باطل کہا اور اس پر عمل نہ کیا۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ وہ ان سے کہہ دیں ﴿ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِيۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمھارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت کی تائید کرتے تھے ﴿ وَبِالَّذِيۡ قُلۡتُمۡ ﴾ اور وہ معجزہ لے کر بھی آئے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے، یعنی انھوں نے وہ قربانی بھی کی جس کو آگ نے کھایا ﴿ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ۠ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟‘‘ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم تو رسول پر اس وقت ایمان لاتے ہیں جب وہ قربانی کرے اور آگ آسمان سے نازل ہو کر اسے کھا لے تو پھر تم یہ معجزہ دکھانے والے نبیوں کو قتل کیوں کرتے تھے۔ پس اس سے ان کا جھوٹ اور تناقض واضح ہو گیا۔

[184] پھر اپنے رسولﷺکو ان الفاظ میں خوشخبری سنائی ہے ﴿ فَاِنۡ كَذَّبُوۡكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس اگر انھوں نے تمھاری تکذیب کی ہے تو تم سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنا ان ظالموں کی عادت اور وتیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ معجزہ دکھانے سے قاصر رہے یا دلیل واضح نہ تھی بلکہ ﴿ جَآءُوۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی وہ تو دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ لے کر مبعوث ہوئے ﴿ وَالزُّبُرِ ﴾ ان کے لیے آسمان سے لکھی ہوئی کتابیں نازل ہوئیں ان کتابوں کو رسول کے سوا کوئی اور نہیں لا سکتا۔ ﴿ وَالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ﴾ یعنی احکام شرعی کو روشن اور عیاں کرنے والی اور یہ احکام الٰہی جن محاسن عقلی پر مشتمل ہیں ان کو بیان کرنے والی ہیں نیز سچی خبروں کو روشن کرتی ہے۔ لہٰذا جب ان اوصاف کے حامل رسولوں پر ایمان لانا ان کی عادت نہیں تو ان کا معاملہ آپ کو غمزدہ نہ کر دے۔

Aal-i-Imraan 3:184Listen in Qur'an →
185

كُلُّ نَفْسٍۢ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدْخِلَ ٱلْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلْغُرُورِ

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے

ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو اور بلاشبہ پورے دیے جاؤ گے تم اپنے اجر دن قیامت کے، پس جو دور کر دیا گیا آگ سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور نہیں ہے زندگانیٔ دنیا مگر سامان دھوکے کا(185)

[185] اس آیت کریمہ میں دنیا میں زہد کی ترغیب دی گئی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور باقی نہیں رہے گی، یہ محض دھوکے کا سامان ہے یہ اپنی چکا چوند، اپنے غرور اور اپنی ظاہری خوبصورتی سے انسان کو دھوکے میں مبتلا کرتی ہے۔ پھر یہ دنیا ختم ہو جائے گی اور اس میں رہنے والے آخرت کے ٹھکانے میں منتقل ہو جائیں گے جہاں ہر نفس کو اچھے یا برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے اس دنیا میں کیے ہیں۔ ﴿ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ﴾ ’’جسے آگ سے بچا کر جنت میں بھیج دیا گیا پس وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ یعنی دردناک عذاب سے نجات حاصل کر کے اور نعمتوں سے لبریز جنتوں میں پہنچ کر اس نے عظیم کامیابی حاصل کی۔ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جس کسی کو جہنم کی آگ سے ہٹا کر جنت میں داخل نہ کیا گیا، وہ کامیابی سے محروم ہو گیا۔ بلکہ ابدی شقاوت اور سرمدی عذاب میں مبتلا کر دیا گیا۔ نیز اس آیت کریمہ میں برزخ کی نعمتوں کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے، لوگوں کو ان کے اعمال کا کچھ بدلہ برزخ میں بھی دیا جائے گا ان کے اعمال کے کچھ نمونے ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ یہ لطیف اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مستنبط ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَؔكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ یعنی اعمال کی کامل جزا تو قیامت کے روز ہی ملے گی البتہ اس سے کم تر جزا برزخ میں عطا ہو گی۔ بلکہ بسا اوقات اس سے بھی پہلے کبھی کبھی یہ جزا دنیا ہی میں عطا ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ ﴾(السجدۃ : 32؍21) ’’ہم ان کو آخرت کے بڑے عذاب کے علاوہ دنیا کے عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے۔‘‘

Aal-i-Imraan 3:185Listen in Qur'an →
186

۞ لَتُبْلَوُنَّ فِىٓ أَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ أَذًۭى كَثِيرًۭا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ

(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ اور تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

البتہ ضرور آزمائے جاؤ گے تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں اور بالیقین ضرور سنو گے تم ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب تم سے پہلے اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ایذا (کی باتیں) بہت اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں(186)

[186]اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انھیں ان کے اموال میں اللہ کی راہ میں واجب اور مستحب نفقات کے ذریعے سے آزمایا جائے گا اور خود ان کو ایسی بوجھلتکالیف میں مبتلا کیا جائے گا جو اکثر لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں مثلاً جہاد فی سبیل اللہ، جہاد میں مشقت، قتل، اسیری اور زخموں سے واسطہ پڑتا ہے اور مثلاً امراض جو خود اسے یا اس کے کسی محبوب فرد کو لاحق ہو جاتے ہیں۔﴿ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡۤا اَذًى كَثِيۡرًا﴾ یعنی تمھیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے خود تمھاری ذات، تمھارے دین، تمھاری کتاب اور تمھارے رسول کے بارے میں طعنے سننے پڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان امور کے بارے میں اپنے مومن بندوں کو آگاہ کرنے میں متعدد فوائد ہیں۔۱۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے تاکہ مومن صادق اور دیگر لوگوں کے درمیان امتیاز واقع ہو جائے۔۲۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو وہ ان کے لیے شدائد اور تکالیف کو مقدر کر دیتا ہے تاکہ وہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی برائیوں کو مٹا دے اور تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ فرمایا اور وہ اسی طرح واقع بھی ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ وعدہ فرمایا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا اس سے ان کے ایمان میں اضافہ اور تسلیم و رضا زیادہ ہو گئی۔‘‘۳۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس کی خبر دی تاکہ ان کے نفوس اس قسم کے شدائد برداشت کرنے کے لیے آمادہ ہوں اور جب سختیاں آن پڑیں تو ان پر صبر کریں۔ کیونکہ جب شدائد کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں گے تو ان کا برداشت کرنا ان کے لیے آسان ہو جائے گا اور ان کا بوجھ ہلکا لگے گا، تب وہ صبر اور تقویٰ کی پناہ لیں گے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا ﴾ یعنی تمھاری جان و مال میں تم جس ابتلا و امتحان میں پڑے ہوئے ہو اور تمھیں ظالموں کی اذیتوں کا جو سامنا کرنا پڑا ہے اگر تم اس پر صبر کرو اور اس صبر میں تقویٰ کا التزام یعنی اس صبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کی نیت رکھو اور اپنے صبر میں صبر کی شرعی حدود سے تجاوز نہ کرو یعنی ایسے مقام پر صبر نہ کرو جہاں صبر کرنا جائز نہ ہو بلکہ وہاں تمھارا کام اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے انتقام لینا ہو ﴿ فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ تو اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جس پر عزم کیا جاتا ہے اور جس میں رغبت کے لیے سبقت کی جاتی ہے اور اس کی توفیق صرف انھیں عطا ہوتی ہے جو باعزم اور بلند ہمت لوگ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾(فصلت:41؍35) ’’یہ بات صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس بات سے صرف وہ لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو نصیب والے ہیں۔‘‘

Aal-i-Imraan 3:186Listen in Qur'an →
187

وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ وَٱشْتَرَوْا۟ بِهِۦ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ

اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار کرلیا کہ (جو کچھ اس میں لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے

اور جب لیا اللہ نے عہد ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب، البتہ ضرور بیان کرو گے تم اسے واسطے لوگوں کے اور نہ چھپاؤ گے اسے، پس پھینک دیا انھوں نے اسے پیچھے اپنی پیٹھوں کے اور خرید لیا اس کے بدلے مول تھوڑا، پس برا ہے وہ جو خریدتے ہیں(187) نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کوجو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے جو انھوں نے (کرتوت) کیے اور پسند کرتے ہیں وہ یہ کہ تعریف کیے جائیں ساتھ اس کے جو نہیں کیا انھوں نے، پس نہ گمان کریں آپ ان کی بابت چھوٹ جانے کا عذاب سےاور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(188)

[187]﴿ مِيۡثَاقَ ﴾اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو علم ان کو عطا کیا ہے وہ اسے اللہ کی رضا کی خاطر لوگوں پر شفقت کی وجہ سے اور کتمان علم کے گناہ سے ڈرتے ہوئے لوگوں کو سکھاتے ہیں۔رہے وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دیگر لوگ تو انھوں نے اس عہد اور میثاق کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور اس میثاق کی انھوں نے پروا نہیں کی۔ پس انھوں نے حق کو چھپا لیا اور باطل کو ظاہر کیا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو حقیر سمجھتے ہوئے محرمات کے ارتکاب کی جرأت کی اور اس کتمان حق کے بدلے بہت معمولی قیمت لی۔ وہ یہ تھی کہ انھیں کتمان حق کی بنا پر سرداری حاصل ہوئی اور ان کے گھٹیا پیروکاروں کی طرف سے، جو ان کی خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور حق پر خواہشات کو مقدم رکھتے تھے، ان کو حقیر سے مال کے نذرانے پیش ہوتے تھے۔﴿ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا برا ہے جو وہ خریدتے (حاصل کرتے) ہیں‘‘ کیونکہ یہ خسیس ترین معاوضہ ہے جو انھوں نے حاصل کیا ہے اور جس حق کے بیان کرنے سے انھوں نے روگردانی کی، اس حق میں ان کی ابدی سعادت، دینی اور دنیاوی مصالح موجود ہیں اور یہ حق سب سے بڑا اور جلیل ترین مطلوب و مقصود ہے۔ پس انھوں نے محض اپنی بدنصیبی اور ذلت کی بنا پر عالی مرتبہ دین کو چھوڑ کر گھٹیا طریق زندگی اختیار کر لیا، نیز اس لیے بھی کہ انھوں نے وہی چیز اختیار کر لی جس کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے۔

[188] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا ﴾ ’’آپ ان کی نسبت خیال نہ کریں جو اپنے (ناپسندیدہ) کاموں سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ جن قبیح امور اور قولی اور فعلی باطل کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا ﴾ یعنی اس بھلائی کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں کی اور اس حق کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں بولا۔ پس انھوں نے برائی کے قول و فعل اور اس پر اظہار فرحت کو یکجا کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بھلائی کے اس کام پر ان پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جائیں جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ انھیں عذاب سے نجات اور سلامتی حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ تو عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں عنقریب انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ اہل کتاب شامل ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے پاس علم ہے …

Aal-i-Imraan 3:187Listen in Qur'an →
188

لَا تَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوا۟ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا۟ بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا۟ فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍۢ مِّنَ ٱلْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لئے چاہتے ہیں کہ ان ک تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے۔ اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا

اور جب لیا اللہ نے عہد ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب، البتہ ضرور بیان کرو گے تم اسے واسطے لوگوں کے اور نہ چھپاؤ گے اسے، پس پھینک دیا انھوں نے اسے پیچھے اپنی پیٹھوں کے اور خرید لیا اس کے بدلے مول تھوڑا، پس برا ہے وہ جو خریدتے ہیں(187) نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کوجو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے جو انھوں نے (کرتوت) کیے اور پسند کرتے ہیں وہ یہ کہ تعریف کیے جائیں ساتھ اس کے جو نہیں کیا انھوں نے، پس نہ گمان کریں آپ ان کی بابت چھوٹ جانے کا عذاب سےاور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(188)

[187]﴿ مِيۡثَاقَ ﴾اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو علم ان کو عطا کیا ہے وہ اسے اللہ کی رضا کی خاطر لوگوں پر شفقت کی وجہ سے اور کتمان علم کے گناہ سے ڈرتے ہوئے لوگوں کو سکھاتے ہیں۔رہے وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دیگر لوگ تو انھوں نے اس عہد اور میثاق کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور اس میثاق کی انھوں نے پروا نہیں کی۔ پس انھوں نے حق کو چھپا لیا اور باطل کو ظاہر کیا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو حقیر سمجھتے ہوئے محرمات کے ارتکاب کی جرأت کی اور اس کتمان حق کے بدلے بہت معمولی قیمت لی۔ وہ یہ تھی کہ انھیں کتمان حق کی بنا پر سرداری حاصل ہوئی اور ان کے گھٹیا پیروکاروں کی طرف سے، جو ان کی خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور حق پر خواہشات کو مقدم رکھتے تھے، ان کو حقیر سے مال کے نذرانے پیش ہوتے تھے۔﴿ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا برا ہے جو وہ خریدتے (حاصل کرتے) ہیں‘‘ کیونکہ یہ خسیس ترین معاوضہ ہے جو انھوں نے حاصل کیا ہے اور جس حق کے بیان کرنے سے انھوں نے روگردانی کی، اس حق میں ان کی ابدی سعادت، دینی اور دنیاوی مصالح موجود ہیں اور یہ حق سب سے بڑا اور جلیل ترین مطلوب و مقصود ہے۔ پس انھوں نے محض اپنی بدنصیبی اور ذلت کی بنا پر عالی مرتبہ دین کو چھوڑ کر گھٹیا طریق زندگی اختیار کر لیا، نیز اس لیے بھی کہ انھوں نے وہی چیز اختیار کر لی جس کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے۔

[188] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا ﴾ ’’آپ ان کی نسبت خیال نہ کریں جو اپنے (ناپسندیدہ) کاموں سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ جن قبیح امور اور قولی اور فعلی باطل کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا ﴾ یعنی اس بھلائی کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں کی اور اس حق کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں بولا۔ پس انھوں نے برائی کے قول و فعل اور اس پر اظہار فرحت کو یکجا کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بھلائی کے اس کام پر ان پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جائیں جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ انھیں عذاب سے نجات اور سلامتی حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ تو عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں عنقریب انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ اہل کتاب شامل ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے پاس علم ہے …

Aal-i-Imraan 3:188Listen in Qur'an →
189

وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

اور اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(189)

[189] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوق کا مالک ہے اور وہی اپنی قدرت کاملہ اور انوکھی ربوبیت کے ذریعے سے ان پر تصرف کرتا ہے۔ کوئی اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں اور کوئی اسے عاجز و لاچار نہیں کر سکتا۔

Aal-i-Imraan 3:189Listen in Qur'an →
190

إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَءَايَٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں

بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے، البتہ نشانیاں ہیں واسطے اہل عقل کے (190)وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اوپر اپنے پہلوؤں کےاور غور و فکر کرتے ہیں پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تونے یہ بے فائدہ پاک ہے تو! پس بچا تو ہمیں عذاب سے آگ کے (191) اے ہمارے رب! بلاشبہ جس کو داخل کرے تو آگ میں تو یقینا رسوا کر دیا تونے اسےاور نہیں واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(192) اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم نے سنا ایک مُنادی کو، پکارتا ہے وہ ایمان کی طرف، یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے! پس ایمان لائے ہم، اے ہمارے رب! پس بخش دے واسطے ہمارے، ہمارے گناہ اور دور کر دے ہم سے ہماری برائیاں اور فوت کر ہمیں ساتھ نیک لوگوں کے(193) اے ہمارے رب! اور دے ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی اور نہ رسوا کرنا ہمیں دن قیامت کے۔ بلاشبہ تو نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(194)

[190] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں۔ البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ مجمل طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط و غلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالی کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔

[191] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ ﴾ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِيٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَيَتَفَؔكَّـرُوۡنَ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے …

Aal-i-Imraan 3:190Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.