Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 171–180 of 200

171

۞ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضْلٍۢ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

Explained together with ayah 170

Aal-i-Imraan 3:171Listen in Qur'an →
172

ٱلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ مِنۢ بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ ٱلْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ مِنْهُمْ وَٱتَّقَوْا۟ أَجْرٌ عَظِيمٌ

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

یہ حمراء الاسد، یعنی جنگ احد سے اگلے روز کا واقعہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ احد سے پلٹ کر جب مشرکین چند منزل دور چلے گئے تو آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا حماقت کی کہ مسلمانوں کا پوری طرح خاتمہ کیے بغیر واپس چلے آئے۔ چناچہ وہ مدینے پر دوبارہ حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے لگے، ادھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ملی تو آپ نے مسلمانوں کو مشرکین کے تعاقب میں نکلنے کا حکم دیا، تاکہ وہ واقعی پلٹ کر مدینہ پر حملہ نہ کردیں۔ اس وقت اگرچہ شرکائے احد میں سے اکثر لوگ سخت زخمی اور تھکے تھے لیکن اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی تعمیل میں فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ جب مدینہ سے تقریباً آٹھ میل کے فاصلے پر حمراء الاسد (نامی جگہ) پہنچے تو مشرکین کو ان کے آنے کی اطلاع مل گئی اور انھوں نے آپس میں کہا کہ اس مرتبہ تو واپس چلتے ہیں، اگلے سال پھر آئیں گے۔ اس صورت حال کے پیش نظر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ چناچہ آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے اور مسلمانوں کو بشارت ہے۔ (ابن کثیر)- عائشہ (رض) نے اپنے بھانجے عروہ سے کہا : ” اے میرے بھانجے تیرے دونوں باپ زبیر (والد) اور ابوبکر (نانا) بھی ان میں شامل تھے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احد میں وہ تکالیف پہنچیں جو پہنچیں اور مشرکین واپس چلے گئے تو آپ نے خوف محسوس کیا کہ وہ پلٹ نہ آئیں تو فرمایا : ” ان کے پیچھے کون جائے گا ؟ “ تو ان میں سے ستر آدمیوں نے لبیک کہا، ان میں ابوبکر اور زبیر بھی تھے۔ “ [ بخاری، المغازی، باب ( الذین استجابوا للہ والرسول ) : ٤٠٧٧، عن عائشۃ (رض) ]

Aal-i-Imraan 3:172Listen in Qur'an →
173

ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدْ جَمَعُوا۟ لَكُمْ فَٱخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَٰنًۭا وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ وَنِعْمَ ٱلْوَكِيلُ

(جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

اَلَّذِيْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ ۔۔ : یہ آیت بھی واقعہ حمراء الاسد ہی سے متعلق ہے اور وہ اس طرح کہ جب ابوسفیان کو، جو اس وقت مشرکین کی قیادت کر رہا تھا، مسلمانوں کے تعاقب کی اطلاع ملی تو اس نے ایک تجارتی قافلے کے ذریعے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ چیلنج بھیجا کہ میں نے بڑا لاؤ لشکر جمع کرلیا ہے اور میں مدینہ پر پھر سے حملہ کرنے والا ہوں، یہ سن کر مسلمانوں میں خوف اور کمزوری کے بجائے مزید ایمانی قوت پیدا ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ نے کہا : ( حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ “ (ابن کثیر)- 2 عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) کا کلمہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کہا تھا جب انھیں آگ میں ڈالا گیا اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت کہا، جب لوگوں نے کہا : (اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ ۔۔ الخ ) ” بیشک لوگوں نے تمہارے لیے (فوج) جمع کرلی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس بات نے انھیں ایمان میں زیادہ کردیا “ اور انھوں نے کہا : (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : ( الذین قال لہم الناس۔۔ ) : ٤٥٦٣ ]- 3 فَزَادَھُمْ اِيْمَانًا : اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کا ایمان مشرکین کے چیلنج کرنے سے بڑھ گیا، ظاہر ہے وہ پہلے نسبتاً کم تھا، تب ہی بڑھا۔ اس سے ایمان کی کمی بیشی ثابت ہوتی ہے اور ان لوگوں کی تردید ہوگئی جو کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان جبریل (علیہ السلام) اور ابوبکر (رض) کے ایمان جیسا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان جس قدر بڑھتا ہے جذبۂ جہاد بھی بڑھتا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے نہ جنگ کی نہ اپنے دل سے جنگ کی بات کی، وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرے گا۔ “ [ أبو داوٗد، الجہاد، باب کراھیۃ ترک الغزو : ٢٥٠٢، عن أبی ہریرہ (رض) ۔ نسائی : ٣٠٩٩ ]

Aal-i-Imraan 3:173Listen in Qur'an →
174

فَٱنقَلَبُوا۟ بِنِعْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضْلٍۢ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوٓءٌۭ وَٱتَّبَعُوا۟ رِضْوَٰنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

اس آیت سے اور ابن عباس (رض) کی حدیث سے کلمہ ( وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح ابراہیم (علیہ السلام) ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) ہر قسم کی برائی سے محفوظ رہ کر اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی۔ اس لیے ہر مصیبت کے وقت اس وظیفہ کے معنی کا خیال کرتے ہوئے دل اور زبان کو ایک کر کے اسے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔

Aal-i-Imraan 3:174Listen in Qur'an →
175

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

وہ شخص جو یہ افواہیں پھیلا رہا تھا اسے شیطان فرمایا اور بتایا کہ یہ اپنے منافق دوستوں سے ڈرا رہا ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر دل میں نہ لائیں۔ حقیقی شیطان بھی اپنے انسانی دوست شیطانوں کے دلوں میں مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے نئے سے نئے طریقے ڈالتا رہتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (١١٢) ۔ آج کل اخبار، ریڈیو، ٹیوی اور انٹرنیٹ جھوٹ پھیلانے اور خوف زدہ کرنے کے لیے شیطان کے آلات ہیں۔ مومن کو ان کی خبروں سے ڈرنے کے بجائے اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے اور ” اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ“ کے تحت ان کا علاج بھی کرنا چاہیے۔

Aal-i-Imraan 3:175Listen in Qur'an →
176

وَلَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ ۚ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا ۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّۭا فِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا۔ یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے

کافر اور منافق مختلف طریقوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتے رہتے، جس سے آپ طبعی طور پر رنجیدہ خاطر بھی ہوجاتے، خصوصاً غزوۂ احد کے واقعہ کو منافقین نے بہت ہوا دی اور مسلمانوں کو اللہ کی نصرت سے مایوس کرنے کی کوشش کی تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی کہ اس قسم کی مخالفتوں سے کفار اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، بلکہ اس قسم کا رویہ اختیار کر کے خود ہی آخرت کے حصے سے محروم ہو رہے ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:176Listen in Qur'an →
177

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلْكُفْرَ بِٱلْإِيمَٰنِ لَن يَضُرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

یعنی یہ لوگ ایمان کے بجائے کفر اختیارکر کے خود اپنا برا کر رہے ہیں، اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے۔

Aal-i-Imraan 3:177Listen in Qur'an →
178

وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌۭ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُوٓا۟ إِثْمًۭا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

فرمایا، ہم جو کافروں کی عمریں لمبی کرتے چلے جا رہے ہیں اور انھیں ان کے حال پر چھوٹ دے رہے ہیں، مال، اولاد اور دنیا کی نعمتیں وافر دے رہے ہیں، تو کیا یہ سب کچھ ان کے لیے بہتر ہے ؟ نہیں، بلکہ یہ ان کے لیے بہت برا ہے، کیونکہ اس سے ان کے گناہوں میں اضافہ ہوگا، ان کے خلاف حجت مضبوط ہوگی، بلکہ دنیا میں بھی یہ سب کچھ ان کے لیے عذاب کا باعث بنے گا، دیکھیے سورة مومنون (٥٥، ٥٦) ، سورة قلم (٤٤) اور سورة توبہ (٥٥) ۔

Aal-i-Imraan 3:178Listen in Qur'an →
179

مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى ٱلْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۚ وَإِن تُؤْمِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

(لوگو) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور الله تم کوغیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گاالبتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا

مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ چناچہ جنگ احد میں کفر و نفاق اور ایمان و اخلاص الگ ہو کر سامنے آگئے۔ رازی لکھتے ہیں : ” اس آیت کا تعلق بھی قصۂ احد سے ہے۔ چناچہ اس حادثہ میں قتل و ہزیمت اور پھر اس کے بعد ابو سفیان کے چیلنج کے جواب میں مسلمانوں کا نکلنا وغیرہ، سب ایسے واقعات تھے جن سے کفر ونفاق اور ایمان و اخلاص الگ الگ ہو کر سامنے آگئے اور مومن اور منافق میں امتیاز ہوگیا۔ چونکہ منافقین کا مومنوں کے ساتھ ملا جلا رہنا حکمت الٰہی کے خلاف تھا، اس لیے یہ تمام واقعات پیش آئے۔ - 2ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَي الْغَيْب : یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس طرح آزمائش کے ذریعے سے مخلص مومنوں اور منافقین کے لیے حالات اور ان کے ظاہر و باطن کو نمایاں نہ کرے تو تمہارے پاس کوئی غیب کا علم تو ہے نہیں کہ جس سے تم پر یہ چیزیں ظاہر ہوجائیں اور تم جان سکو کہ کون مومن ہے اور کون منافق اور نہ تم میں سے ہر ایک کو غیب کی بات پر اطلاع دی جاسکتی ہے۔ نہ کسی کو بھی پورے غیب کی اطلاع دی جاسکتی ہے۔- 3 وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ : ہاں، البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے غیب کی جتنی بات چاہتا ہے اس کی اطلاع دے دیتا ہے، جو نہیں چاہتا نہیں بتاتا۔ اب منافقین میں سے بعض کا بتادیا اور بعض کا نہیں بتایا۔ چناچہ فرمایا : ( وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ) ” اور ان لوگوں میں سے جو تمہارے ارد گرد بدویوں میں سے ہیں، کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑ گئے ہیں، تو انھیں نہیں جانتا، ہم ہی انھیں جانتے ہیں۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے چنے ہوئے رسولوں کو غیب کی کچھ باتوں کی اطلاع دیتا ہے، جن کی انھیں نبوت کی دلیل کے طور پر ضرورت ہوتی ہے، مگر وہ اس سے عالم الغیب نہیں بنتے، عالم الغیب ایک اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (٥٩) سورة نمل (١٦٥) ۔ اور سورة جن (٢٦ تا ٢٨) - 4 ۠ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِھٖ ۚ : مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ رسول سے اپنی مرضی کی غیب کی باتیں بتانے کا مطالبہ کریں۔ ان کا کام اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا ہے اور اگر وہ ایمان لا کر تقویٰ اختیار کریں گے تو ان کے لیے اجر عظیم ہے۔

Aal-i-Imraan 3:179Listen in Qur'an →
180

وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ هُوَ خَيْرًۭا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّۭ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا۟ بِهِۦ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ : اوپر ترغیب جہاد کے سلسلے میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو جان بچانے کی خاطر اس سے فرار اختیار کرتے ہیں ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جا رہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح ان منافقین کو اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے اور جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں، قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال جان بن جائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی اور وہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ وہ اسے اپنے دونوں جبڑوں سے پکڑے گا اور اس سے کہے گا : ” میں ہوں تمہارا مال، میں ہوں تمہارا خزانہ۔ “ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ بخاری، التفسیر، باب (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ ۔۔ ) : ٤٥٦٥، عن أبی ہریرہ (رض) ] - 2 بخل ان حقوق کو ادا نہ کرنے کا نام ہے جو انسان پر واجب ہوں، مثلاً گھر والوں کا نان و نفقہ، مہمان نوازی، جہاد کی تیاری، زکوٰۃ و عشر وغیرہ۔ ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ( وَ اَیُّ دَاءٍ اَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ) ” بخل سے بڑی بیماری کیا ہوسکتی ہے ؟ “ [ بخاری، المغازی، باب قصۃ عمان والبحرین : ٤٣٨٣ ]- 3 وَلِلّٰهِ مِيْرَاث الخ : یعنی جب زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جس مال کے بظاہر تم وارث بنائے گئے ہو، اس میں بخل کیوں کرتے ہو ؟ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اللہ وارث ہے، آخر تم مرجاؤ گے اور مال اسی کا ہو رہے گا، تم اپنے ہاتھ سے دو تو ثواب پاؤ۔ “ (موضح)

Aal-i-Imraan 3:180Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.