Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 171–180 of 200

171

۞ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضْلٍۢ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔

شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔

Aal-i-Imraan 3:171Listen in Qur'an →
172

ٱلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ مِنۢ بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ ٱلْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ مِنْهُمْ وَٱتَّقَوْا۟ أَجْرٌ عَظِيمٌ

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔

شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔

Aal-i-Imraan 3:172Listen in Qur'an →
173

ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدْ جَمَعُوا۟ لَكُمْ فَٱخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَٰنًۭا وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ وَنِعْمَ ٱلْوَكِيلُ

(جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔

شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔

Aal-i-Imraan 3:173Listen in Qur'an →
174

فَٱنقَلَبُوا۟ بِنِعْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضْلٍۢ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوٓءٌۭ وَٱتَّبَعُوا۟ رِضْوَٰنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔

شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔

Aal-i-Imraan 3:174Listen in Qur'an →
175

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔

شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔

Aal-i-Imraan 3:175Listen in Qur'an →
176

وَلَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ ۚ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا ۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّۭا فِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا۔ یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے

زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے۔ اصل مسئلہ وہ ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے۔ لوگ دنیا کے جہنم سے بچنے کی فکر کرتے ہیں اوراپنی ساری توجہ دنیا کی جنت کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ مگر زیادہ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کے جہنم سے اپنے کو بچائے اور وہاں کی جنت کی طرف دوڑے۔ دنیا میں پیسہ والا ہونا اور بے پیسہ والا ہونا، جائداد والا ہونا اور بے جائداد والا ہونا، عزت والا ہونا اور بے عزت والا ہونا، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہرآدمی کو آنکھوں سے نظر آتی ہیں۔ اس لیے وہ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ اپنی ساری کوشش اس مقصد کے لیے لگا دیتا ہے کہ وہ یہاں محروم نہ رہے۔ مگر انسان کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے جس کو اللہ نے امتحان کی مصلحت سے چھپا دیا ہے اور اس سے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لیے یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے کچھ بندوں کو غیب کی پیغام بری کے لیے چنے۔ ان کو موت کے اس پار کی حقیقتوں سے خبردار کرے اور پھر ان کو مقرر کرے کہ وہ دوسروں کو اس سے باخبر کردیں۔ انسان کی اصل جانچ یہ ہے کہ وہ خدا کے داعی کی آواز میں سچائی کی جھلکیوںکو پالے، وہ ایک لفظی پکار میں حقیقت کی عملی تصویر دیکھ لے۔ وہ اپنے جیسے ایک انسان کی باتوں میں خدائی بات کی گونج سن لے۔

ایمان یہ ہے کہ آدمی خود پسندی نہ کرے۔ کیوںکہ خود پسندی خدا کے بجائے اپنے آپ کو بڑائی کا مقام دینا ہے۔ وہ دنیا میں غرق نہ ہو۔ کیوں کہ دنیا میں غرق ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آدمی آخرت کو اصل اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کبر، بخل، ناانصافی اور غیر اللہ کی عقیدت ومحبت سے اپنے کو بچائے اور اس کے بجائے خداپرستی، تواضع، فیاضی اور انصاف پسندی کو اپنا شیوہ بنائے۔ ایسا کرنا ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایمان میں سنجیدہ ہے۔ اس نے فی الواقع اپنے آپ کو خدا اور آخرت کی طرف لگادیا ہے۔ اور ایسا نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں سنجیدہ نہیں۔ اقرارِ ایمان کے باوجود عملاً وہ اسی دنیا میں جی رہا ہے جہاں دوسرے لوگ جی رہے ہیں۔ آخرت میں خبیث روحوں اور طیب روحوں کی جو تقسیم ہوگی وہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگی، نہ کہ محض ظاہری نمائش کے اعتبار سے — دنیا میں برے لوگوں کو جوڈھیل دی گئی ہے وہ صر ف اس لیے ہے کہ وہ اپنے اندر کی بُرائی کو پوری طرح ظاہر کردیں۔ مگر وہ خواہ کتنی ہی کوشش کریں وہ اہلِ حق کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی آزادی کو صرف اپنے خلاف استعمال کرسکتے ہیں، نہ کہ دوسروں کے خلاف۔

Aal-i-Imraan 3:176Listen in Qur'an →
177

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلْكُفْرَ بِٱلْإِيمَٰنِ لَن يَضُرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے۔ اصل مسئلہ وہ ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے۔ لوگ دنیا کے جہنم سے بچنے کی فکر کرتے ہیں اوراپنی ساری توجہ دنیا کی جنت کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ مگر زیادہ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کے جہنم سے اپنے کو بچائے اور وہاں کی جنت کی طرف دوڑے۔ دنیا میں پیسہ والا ہونا اور بے پیسہ والا ہونا، جائداد والا ہونا اور بے جائداد والا ہونا، عزت والا ہونا اور بے عزت والا ہونا، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہرآدمی کو آنکھوں سے نظر آتی ہیں۔ اس لیے وہ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ اپنی ساری کوشش اس مقصد کے لیے لگا دیتا ہے کہ وہ یہاں محروم نہ رہے۔ مگر انسان کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے جس کو اللہ نے امتحان کی مصلحت سے چھپا دیا ہے اور اس سے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لیے یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے کچھ بندوں کو غیب کی پیغام بری کے لیے چنے۔ ان کو موت کے اس پار کی حقیقتوں سے خبردار کرے اور پھر ان کو مقرر کرے کہ وہ دوسروں کو اس سے باخبر کردیں۔ انسان کی اصل جانچ یہ ہے کہ وہ خدا کے داعی کی آواز میں سچائی کی جھلکیوںکو پالے، وہ ایک لفظی پکار میں حقیقت کی عملی تصویر دیکھ لے۔ وہ اپنے جیسے ایک انسان کی باتوں میں خدائی بات کی گونج سن لے۔

ایمان یہ ہے کہ آدمی خود پسندی نہ کرے۔ کیوںکہ خود پسندی خدا کے بجائے اپنے آپ کو بڑائی کا مقام دینا ہے۔ وہ دنیا میں غرق نہ ہو۔ کیوں کہ دنیا میں غرق ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آدمی آخرت کو اصل اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کبر، بخل، ناانصافی اور غیر اللہ کی عقیدت ومحبت سے اپنے کو بچائے اور اس کے بجائے خداپرستی، تواضع، فیاضی اور انصاف پسندی کو اپنا شیوہ بنائے۔ ایسا کرنا ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایمان میں سنجیدہ ہے۔ اس نے فی الواقع اپنے آپ کو خدا اور آخرت کی طرف لگادیا ہے۔ اور ایسا نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں سنجیدہ نہیں۔ اقرارِ ایمان کے باوجود عملاً وہ اسی دنیا میں جی رہا ہے جہاں دوسرے لوگ جی رہے ہیں۔ آخرت میں خبیث روحوں اور طیب روحوں کی جو تقسیم ہوگی وہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگی، نہ کہ محض ظاہری نمائش کے اعتبار سے — دنیا میں برے لوگوں کو جوڈھیل دی گئی ہے وہ صر ف اس لیے ہے کہ وہ اپنے اندر کی بُرائی کو پوری طرح ظاہر کردیں۔ مگر وہ خواہ کتنی ہی کوشش کریں وہ اہلِ حق کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی آزادی کو صرف اپنے خلاف استعمال کرسکتے ہیں، نہ کہ دوسروں کے خلاف۔

Aal-i-Imraan 3:177Listen in Qur'an →
178

وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌۭ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُوٓا۟ إِثْمًۭا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے۔ اصل مسئلہ وہ ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے۔ لوگ دنیا کے جہنم سے بچنے کی فکر کرتے ہیں اوراپنی ساری توجہ دنیا کی جنت کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ مگر زیادہ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کے جہنم سے اپنے کو بچائے اور وہاں کی جنت کی طرف دوڑے۔ دنیا میں پیسہ والا ہونا اور بے پیسہ والا ہونا، جائداد والا ہونا اور بے جائداد والا ہونا، عزت والا ہونا اور بے عزت والا ہونا، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہرآدمی کو آنکھوں سے نظر آتی ہیں۔ اس لیے وہ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ اپنی ساری کوشش اس مقصد کے لیے لگا دیتا ہے کہ وہ یہاں محروم نہ رہے۔ مگر انسان کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے جس کو اللہ نے امتحان کی مصلحت سے چھپا دیا ہے اور اس سے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لیے یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے کچھ بندوں کو غیب کی پیغام بری کے لیے چنے۔ ان کو موت کے اس پار کی حقیقتوں سے خبردار کرے اور پھر ان کو مقرر کرے کہ وہ دوسروں کو اس سے باخبر کردیں۔ انسان کی اصل جانچ یہ ہے کہ وہ خدا کے داعی کی آواز میں سچائی کی جھلکیوںکو پالے، وہ ایک لفظی پکار میں حقیقت کی عملی تصویر دیکھ لے۔ وہ اپنے جیسے ایک انسان کی باتوں میں خدائی بات کی گونج سن لے۔

ایمان یہ ہے کہ آدمی خود پسندی نہ کرے۔ کیوںکہ خود پسندی خدا کے بجائے اپنے آپ کو بڑائی کا مقام دینا ہے۔ وہ دنیا میں غرق نہ ہو۔ کیوں کہ دنیا میں غرق ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آدمی آخرت کو اصل اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کبر، بخل، ناانصافی اور غیر اللہ کی عقیدت ومحبت سے اپنے کو بچائے اور اس کے بجائے خداپرستی، تواضع، فیاضی اور انصاف پسندی کو اپنا شیوہ بنائے۔ ایسا کرنا ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایمان میں سنجیدہ ہے۔ اس نے فی الواقع اپنے آپ کو خدا اور آخرت کی طرف لگادیا ہے۔ اور ایسا نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں سنجیدہ نہیں۔ اقرارِ ایمان کے باوجود عملاً وہ اسی دنیا میں جی رہا ہے جہاں دوسرے لوگ جی رہے ہیں۔ آخرت میں خبیث روحوں اور طیب روحوں کی جو تقسیم ہوگی وہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگی، نہ کہ محض ظاہری نمائش کے اعتبار سے — دنیا میں برے لوگوں کو جوڈھیل دی گئی ہے وہ صر ف اس لیے ہے کہ وہ اپنے اندر کی بُرائی کو پوری طرح ظاہر کردیں۔ مگر وہ خواہ کتنی ہی کوشش کریں وہ اہلِ حق کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی آزادی کو صرف اپنے خلاف استعمال کرسکتے ہیں، نہ کہ دوسروں کے خلاف۔

Aal-i-Imraan 3:178Listen in Qur'an →
179

مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى ٱلْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۚ وَإِن تُؤْمِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

(لوگو) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور الله تم کوغیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گاالبتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا

زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے۔ اصل مسئلہ وہ ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے۔ لوگ دنیا کے جہنم سے بچنے کی فکر کرتے ہیں اوراپنی ساری توجہ دنیا کی جنت کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ مگر زیادہ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کے جہنم سے اپنے کو بچائے اور وہاں کی جنت کی طرف دوڑے۔ دنیا میں پیسہ والا ہونا اور بے پیسہ والا ہونا، جائداد والا ہونا اور بے جائداد والا ہونا، عزت والا ہونا اور بے عزت والا ہونا، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہرآدمی کو آنکھوں سے نظر آتی ہیں۔ اس لیے وہ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ اپنی ساری کوشش اس مقصد کے لیے لگا دیتا ہے کہ وہ یہاں محروم نہ رہے۔ مگر انسان کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے جس کو اللہ نے امتحان کی مصلحت سے چھپا دیا ہے اور اس سے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لیے یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے کچھ بندوں کو غیب کی پیغام بری کے لیے چنے۔ ان کو موت کے اس پار کی حقیقتوں سے خبردار کرے اور پھر ان کو مقرر کرے کہ وہ دوسروں کو اس سے باخبر کردیں۔ انسان کی اصل جانچ یہ ہے کہ وہ خدا کے داعی کی آواز میں سچائی کی جھلکیوںکو پالے، وہ ایک لفظی پکار میں حقیقت کی عملی تصویر دیکھ لے۔ وہ اپنے جیسے ایک انسان کی باتوں میں خدائی بات کی گونج سن لے۔

ایمان یہ ہے کہ آدمی خود پسندی نہ کرے۔ کیوںکہ خود پسندی خدا کے بجائے اپنے آپ کو بڑائی کا مقام دینا ہے۔ وہ دنیا میں غرق نہ ہو۔ کیوں کہ دنیا میں غرق ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آدمی آخرت کو اصل اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کبر، بخل، ناانصافی اور غیر اللہ کی عقیدت ومحبت سے اپنے کو بچائے اور اس کے بجائے خداپرستی، تواضع، فیاضی اور انصاف پسندی کو اپنا شیوہ بنائے۔ ایسا کرنا ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایمان میں سنجیدہ ہے۔ اس نے فی الواقع اپنے آپ کو خدا اور آخرت کی طرف لگادیا ہے۔ اور ایسا نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں سنجیدہ نہیں۔ اقرارِ ایمان کے باوجود عملاً وہ اسی دنیا میں جی رہا ہے جہاں دوسرے لوگ جی رہے ہیں۔ آخرت میں خبیث روحوں اور طیب روحوں کی جو تقسیم ہوگی وہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگی، نہ کہ محض ظاہری نمائش کے اعتبار سے — دنیا میں برے لوگوں کو جوڈھیل دی گئی ہے وہ صر ف اس لیے ہے کہ وہ اپنے اندر کی بُرائی کو پوری طرح ظاہر کردیں۔ مگر وہ خواہ کتنی ہی کوشش کریں وہ اہلِ حق کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی آزادی کو صرف اپنے خلاف استعمال کرسکتے ہیں، نہ کہ دوسروں کے خلاف۔

Aal-i-Imraan 3:179Listen in Qur'an →
180

وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ هُوَ خَيْرًۭا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّۭ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا۟ بِهِۦ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے

ظاہری طور پر آدمی ایک قول دے کر مومن بن جاتا ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ اس وقت مومن بنتا ہے جب کہ وہ اپنی جان اور اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے دے۔ جان ومال کی قربانی کے بغیر کسی کا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔ آدمی اپنے مال کو اس لیے بچاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے دنیوی مستقبل کا تحفظ کررہا ہے۔ مگر آدمی کا حقیقی مستقبل وہ ہے جو آخرت میں سامنے آنے والا ہے اور آخرت کی دنیا میں ایسا بچایا ہوا مال آدمی کے حق میں صرف وبال ثابت ہوگا۔ جو مال دنیا میں زینت اور فخر کا ذریعہ دکھائی دے رہاہے وہ آخرت میں خداکے حکم سے سانپ کی صورت اختیار کرلے گا جو ابدی طورپر اس کو ڈستارہے۔

جو لوگ قربانی والے دین کو نہیں اپناتے وہ اپنے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ مال خدا نے ہماری ضرورت کے لیے پیدا کیا ہے۔ پھر کیوں نہ ہم اس کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کریں، اور اس سے اپنے دنیوی آرام کا سامان کریں۔ کبھی ان کی بے حسی ان کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ خود داعیٔ حق کو مشتبہ کرنے کے لیے طرح طرح کے شوشے نکالتے ہیں تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ وہ شخص سچا داعی ہی نہیں،جس کا ظہوریہ تقاضا کررہا ہے کہ اپنی زندگی اور اپنے مال کو قربان کرکے اس کا ساتھ دیا جائے۔ اس قسم کے لوگ جو باتیں کہتے ہیں وہ بظاہر دلیل کے روپ میں ہوتی ہیں مگر حقیقۃً وہ ایمانی تقاضوںسے فرار کے لیے ہیں۔ اس لیے خواہ کیسی ہی دلیل پیش کی جائے وہ ا س کو رد کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ تلاش کرلیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ان کا آخری انجام موت ہے، اور موت کا مرحلہ سامنے آتے ہی صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ موت تمام جھوٹے سہاروں کو باطل کردے گی۔ اس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ٹھیک اس مقام پر کھڑا ہوا پائے گا جہاں وہ حقیقۃً تھا، نہ کہ اس مقام پر جہاں وہ اپنے آپ کو ظاہر کررہا تھا — موجودہ دنیا میں کسی کا ترقی کرنا یا موجودہ دنیا میں کسی کا ناکام ہوجانا، دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں۔ نہ یہاں کی نعمتیں کسی کے برسر حق ہونے کا ثبوت ہیں، اور نہ کسی کا یہاں مشکلات ومصائب میں مبتلا ہونا، اس کے برسرِ باطل ہونے کا ثبوت۔ کیوں کہ دونوں ہی امتحان کے نقشے ہیں، نہ کہ انجام کی علامتیں۔

Aal-i-Imraan 3:180Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.