Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 161–170 of 200

161

وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

احدکے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کردیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طورپر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہيے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے — حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیانک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہیے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے كوئي غلطي نهيں هوئي تھي۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کرکے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کردے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہيں کرنا چاہیے کہ ان کے جان ومال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کردے۔یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لیے اٹھا ہو کہ لوگ اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود کیوں کر اس حال میں اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف چلا ہو۔

پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے كو اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ ’’اپنا‘‘ نظر آئے، اس کی زبان، اس کا طرز کلام، اس کا رہن سہن ہرچیز اجنبیت سے پاک ہو۔ وہ اپنے اور اپنے مخاطبین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فریق بنا کر کھڑا کردے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کی دلیلوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کاجزء بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد زبانی گفتگو اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بات زیادہ تر اصولی انداز ميں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤںمیں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا وجود بھی پوری طرح اس کی تقویت كے ليےموجود رہتاہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لیے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کے بابت آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور چوتھی چیز حکمت ہے۔ یعنی دین کے گہرے بھیدوں سے پردہ اٹھانا، بین السطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔

Aal-i-Imraan 3:161Listen in Qur'an →
162

أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے

احدکے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کردیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طورپر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہيے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے — حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیانک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہیے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے كوئي غلطي نهيں هوئي تھي۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کرکے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کردے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہيں کرنا چاہیے کہ ان کے جان ومال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کردے۔یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لیے اٹھا ہو کہ لوگ اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود کیوں کر اس حال میں اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف چلا ہو۔

پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے كو اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ ’’اپنا‘‘ نظر آئے، اس کی زبان، اس کا طرز کلام، اس کا رہن سہن ہرچیز اجنبیت سے پاک ہو۔ وہ اپنے اور اپنے مخاطبین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فریق بنا کر کھڑا کردے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کی دلیلوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کاجزء بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد زبانی گفتگو اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بات زیادہ تر اصولی انداز ميں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤںمیں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا وجود بھی پوری طرح اس کی تقویت كے ليےموجود رہتاہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لیے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کے بابت آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور چوتھی چیز حکمت ہے۔ یعنی دین کے گہرے بھیدوں سے پردہ اٹھانا، بین السطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔

Aal-i-Imraan 3:162Listen in Qur'an →
163

هُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

احدکے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کردیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طورپر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہيے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے — حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیانک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہیے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے كوئي غلطي نهيں هوئي تھي۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کرکے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کردے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہيں کرنا چاہیے کہ ان کے جان ومال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کردے۔یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لیے اٹھا ہو کہ لوگ اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود کیوں کر اس حال میں اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف چلا ہو۔

پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے كو اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ ’’اپنا‘‘ نظر آئے، اس کی زبان، اس کا طرز کلام، اس کا رہن سہن ہرچیز اجنبیت سے پاک ہو۔ وہ اپنے اور اپنے مخاطبین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فریق بنا کر کھڑا کردے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کی دلیلوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کاجزء بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد زبانی گفتگو اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بات زیادہ تر اصولی انداز ميں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤںمیں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا وجود بھی پوری طرح اس کی تقویت كے ليےموجود رہتاہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لیے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کے بابت آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور چوتھی چیز حکمت ہے۔ یعنی دین کے گہرے بھیدوں سے پردہ اٹھانا، بین السطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔

Aal-i-Imraan 3:163Listen in Qur'an →
164

لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

احدکے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کردیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طورپر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہيے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے — حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیانک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہیے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے كوئي غلطي نهيں هوئي تھي۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کرکے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کردے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہيں کرنا چاہیے کہ ان کے جان ومال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کردے۔یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لیے اٹھا ہو کہ لوگ اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود کیوں کر اس حال میں اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف چلا ہو۔

پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے كو اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ ’’اپنا‘‘ نظر آئے، اس کی زبان، اس کا طرز کلام، اس کا رہن سہن ہرچیز اجنبیت سے پاک ہو۔ وہ اپنے اور اپنے مخاطبین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فریق بنا کر کھڑا کردے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کی دلیلوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کاجزء بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد زبانی گفتگو اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بات زیادہ تر اصولی انداز ميں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤںمیں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا وجود بھی پوری طرح اس کی تقویت كے ليےموجود رہتاہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لیے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کے بابت آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور چوتھی چیز حکمت ہے۔ یعنی دین کے گہرے بھیدوں سے پردہ اٹھانا، بین السطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔

Aal-i-Imraan 3:164Listen in Qur'an →
165

أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌۭ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

حق وباطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے۔ کیوںکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر شرپسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہوجاتی ہے۔ ناموافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ کون قابل اعتماد ہے اورکون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہل ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔

حق وباطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کومٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خواہ مخواہ اپنے کو برباد کرلیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پانا ہے ۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار ديے جائیںگے۔

اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر نادان لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے دوسری راہوں میں اپنی زندگیاں لگانے والوں پر موت نہیں آتی، جیسے کہ صرف مجاہدین فی سبیل اللہ مرتے ہیں اور دوسرے لوگ مرتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سراسر بے معنی ہے۔ موت خدا کا ایک عام قانون ہے۔ وہ بہر حال ہرایک کے لیے اپنے وقت پر آنے والی ہے۔ آدمی خواہ ایک راستہ میں چل رہا ہو یا دوسرے راستہ میں، وہ کسی حالت میں موت کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔

جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ کبھی اپنی بات میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو اعتراف کررہا ہوتا ہے کہ حق کے لیے قربانی نہ دے کر انھوںنے سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔

Aal-i-Imraan 3:165Listen in Qur'an →
166

وَمَآ أَصَٰبَكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيَعْلَمَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم

حق وباطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے۔ کیوںکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر شرپسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہوجاتی ہے۔ ناموافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ کون قابل اعتماد ہے اورکون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہل ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔

حق وباطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کومٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خواہ مخواہ اپنے کو برباد کرلیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پانا ہے ۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار ديے جائیںگے۔

اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر نادان لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے دوسری راہوں میں اپنی زندگیاں لگانے والوں پر موت نہیں آتی، جیسے کہ صرف مجاہدین فی سبیل اللہ مرتے ہیں اور دوسرے لوگ مرتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سراسر بے معنی ہے۔ موت خدا کا ایک عام قانون ہے۔ وہ بہر حال ہرایک کے لیے اپنے وقت پر آنے والی ہے۔ آدمی خواہ ایک راستہ میں چل رہا ہو یا دوسرے راستہ میں، وہ کسی حالت میں موت کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔

جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ کبھی اپنی بات میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو اعتراف کررہا ہوتا ہے کہ حق کے لیے قربانی نہ دے کر انھوںنے سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔

Aal-i-Imraan 3:166Listen in Qur'an →
167

وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ قَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدْفَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًۭا لَّٱتَّبَعْنَٰكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَٰنِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَٰهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے

حق وباطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے۔ کیوںکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر شرپسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہوجاتی ہے۔ ناموافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ کون قابل اعتماد ہے اورکون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہل ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔

حق وباطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کومٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خواہ مخواہ اپنے کو برباد کرلیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پانا ہے ۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار ديے جائیںگے۔

اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر نادان لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے دوسری راہوں میں اپنی زندگیاں لگانے والوں پر موت نہیں آتی، جیسے کہ صرف مجاہدین فی سبیل اللہ مرتے ہیں اور دوسرے لوگ مرتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سراسر بے معنی ہے۔ موت خدا کا ایک عام قانون ہے۔ وہ بہر حال ہرایک کے لیے اپنے وقت پر آنے والی ہے۔ آدمی خواہ ایک راستہ میں چل رہا ہو یا دوسرے راستہ میں، وہ کسی حالت میں موت کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔

جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ کبھی اپنی بات میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو اعتراف کررہا ہوتا ہے کہ حق کے لیے قربانی نہ دے کر انھوںنے سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔

Aal-i-Imraan 3:167Listen in Qur'an →
168

ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ لِإِخْوَٰنِهِمْ وَقَعَدُوا۟ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا۟ ۗ قُلْ فَٱدْرَءُوا۟ عَنْ أَنفُسِكُمُ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

حق وباطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے۔ کیوںکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر شرپسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہوجاتی ہے۔ ناموافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ کون قابل اعتماد ہے اورکون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہل ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔

حق وباطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کومٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خواہ مخواہ اپنے کو برباد کرلیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پانا ہے ۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار ديے جائیںگے۔

اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر نادان لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے دوسری راہوں میں اپنی زندگیاں لگانے والوں پر موت نہیں آتی، جیسے کہ صرف مجاہدین فی سبیل اللہ مرتے ہیں اور دوسرے لوگ مرتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سراسر بے معنی ہے۔ موت خدا کا ایک عام قانون ہے۔ وہ بہر حال ہرایک کے لیے اپنے وقت پر آنے والی ہے۔ آدمی خواہ ایک راستہ میں چل رہا ہو یا دوسرے راستہ میں، وہ کسی حالت میں موت کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔

جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ کبھی اپنی بات میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو اعتراف کررہا ہوتا ہے کہ حق کے لیے قربانی نہ دے کر انھوںنے سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔

Aal-i-Imraan 3:168Listen in Qur'an →
169

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتًۢا ۚ بَلْ أَحْيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔

شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔

Aal-i-Imraan 3:169Listen in Qur'an →
170

فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا۟ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔

شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔

Aal-i-Imraan 3:170Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.