وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
[١٥٧] حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایک سرخ رنگ کی روئی دار چادر کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن اموال غنیمت میں سے گم ہوگئی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا، شاید چادر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اپنے لیے رکھ لی ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) اور بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ آیت بھی غزوہ احد ہی سے متعلق ہے۔ جب ابتداًء اس غزوہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور وہ غنیمت کا مال اکٹھا کرنے لگے تو حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں بھی اب درہ چھوڑ کر لوٹ مار حاصل کرنے میں شامل ہوجانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اموال غنیمت میں ہمارا حصہ ہی نہ لگائیں۔ تو اس شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی سے ایسی ناانصافی یا خیانت ممکن ہی نہیں۔ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امین ہوتا ہے۔ چناچہ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے یمن سے ایک رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا بھیجا۔ جس سے ابھی مٹی بھی علیحدہ نہیں کی گئی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سونے کو چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا۔ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا : اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اطمینان نہیں۔ حالانکہ میں آسمان والے (اللہ تعالیٰ ) کا امین ہوں۔ اور میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، اپنا تہبند اپنی پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول اللہ سے ڈرئیے آپ نے فرمایا : تیری بربادی ہو، کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں ؟ ( اور مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عدل کیجئے۔ آپ نے فرمایا : تیری بربادی ہو اگر میں نے ہی عدل نہ کیا تو اور کون کرے گا ؟ ) وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ مگر آپ نے اسے قتل کرنے کی اجازت نہ دی۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جارہا تھا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا : اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے لے کر پڑھیں گے۔ مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کردوں گا (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب اعطاء المؤلفۃ القلوب وبیان الخوارج، بخاری، کتاب المغازی، باب بعث علی ابن ابی طالب خالد بن ولید) نیز کتاب استتابہ المعاندین والمرتدین۔۔ الخ)- گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر رسول اللہ غنائم اور صدقات کو تقسیم کرنے کی کوئی مصلحت ملحوظ رکھیں یا قوم یا رفاہ عامہ کے لیے کچھ حصہ بیت المال میں جمع کریں یا کسی وجہ سے تقسیم غنائم میں دیر ہو تو نبی کے متعلق انہیں ہرگز کسی قسم کی بدگمانی نہ ہونا چاہئے۔ نبی سے متعلق ایسی بدگمانی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے ہی مواقع پر مسلمانوں کے دلوں میں بدگمانی ڈالا کرتے تھے، ایسی بدگمانیوں سے قوم میں پھوٹ پڑجاتی ہے۔ ملت کا شیرازہ بکھرتا ہے اور اس کا انجام بغاوت ہوتا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس معاملہ میں بالخصوص اور عام حالات میں بھی بدظنی سے اجتناب کا تاکیدی …