Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 161–170 of 200

161

وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

آیت 161 وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ط غَلَّ یَغُلُّ غُلُوْلًا کے معنی ہیں خیانت کرنا اور مال غنیمت میں سے کسی چیز کا چوری کرلینا ‘ جبکہ غَلَّ یَغِلُّ غلاًّ کے معنی دل میں کینہ ہونا کے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ پر منافقوں نے الزام لگایا تھا کہ آپ ﷺ نے مال غنیمت میں کوئی خیانت کی ہے معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ ! یہ اس الزام کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کسی نبی ﷺ ‘ کی شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کا ارتکاب کرے۔ البتہ مولانا اصلاحی صاحب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ دراصل منافقین کے اس الزام کی تردید ہے جو انہوں نے احد کی شکست کے بعد رسول اللہ ﷺ پر لگایا تھا کہ ہم نے تو اس شخص پر اعتماد کیا ‘ اس کے ہاتھ پر بیعت کی ‘ اپنے نیک و بد کا اس کو مالک بنایا ‘ لیکن یہ اس اعتماد سے بالکل غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارے جان و مال کو اپنے ذاتی حوصلوں اور امنگوں کے لیے تباہ کر رہے ہیں۔ یہ عرب پر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ہماری جانوں کو تختۂ مشق بنایا ہے۔ یہ صریحاً قوم کی بدخواہی اور اس کے ساتھ غداری و بےوفائی ہے۔ قرآن نے ان کے اس الزام کی تردید فرمائی ہے کہ تمہارا یہ الزام بالکل جھوٹ ہے ‘ کوئی نبی اپنی امت کے ساتھ کبھی بےوفائی اور بدعہدی نہیں کرتا۔ نبی جو قدم بھی اٹھاتا ہے رضائے الٰہی کی طلب میں اور اس کے احکام کے تحت اٹھاتا ہے۔وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ج اللہ تعالیٰ کے قانون جزا و سزا سے ایک نبی سے بڑھ کر کون باخبر ہوگا ؟ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ نوٹ کیجیے لفظ تُوَفّٰییہاں بھی پور اپورا دیے جانے کے معنی میں آیا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:161Listen in Qur'an →
162

أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے

آیت 161 وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ط غَلَّ یَغُلُّ غُلُوْلًا کے معنی ہیں خیانت کرنا اور مال غنیمت میں سے کسی چیز کا چوری کرلینا ‘ جبکہ غَلَّ یَغِلُّ غلاًّ کے معنی دل میں کینہ ہونا کے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ پر منافقوں نے الزام لگایا تھا کہ آپ ﷺ نے مال غنیمت میں کوئی خیانت کی ہے معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ ! یہ اس الزام کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کسی نبی ﷺ ‘ کی شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کا ارتکاب کرے۔ البتہ مولانا اصلاحی صاحب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ دراصل منافقین کے اس الزام کی تردید ہے جو انہوں نے احد کی شکست کے بعد رسول اللہ ﷺ پر لگایا تھا کہ ہم نے تو اس شخص پر اعتماد کیا ‘ اس کے ہاتھ پر بیعت کی ‘ اپنے نیک و بد کا اس کو مالک بنایا ‘ لیکن یہ اس اعتماد سے بالکل غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارے جان و مال کو اپنے ذاتی حوصلوں اور امنگوں کے لیے تباہ کر رہے ہیں۔ یہ عرب پر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ہماری جانوں کو تختۂ مشق بنایا ہے۔ یہ صریحاً قوم کی بدخواہی اور اس کے ساتھ غداری و بےوفائی ہے۔ قرآن نے ان کے اس الزام کی تردید فرمائی ہے کہ تمہارا یہ الزام بالکل جھوٹ ہے ‘ کوئی نبی اپنی امت کے ساتھ کبھی بےوفائی اور بدعہدی نہیں کرتا۔ نبی جو قدم بھی اٹھاتا ہے رضائے الٰہی کی طلب میں اور اس کے احکام کے تحت اٹھاتا ہے۔وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ج اللہ تعالیٰ کے قانون جزا و سزا سے ایک نبی سے بڑھ کر کون باخبر ہوگا ؟ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ نوٹ کیجیے لفظ تُوَفّٰییہاں بھی پور اپورا دیے جانے کے معنی میں آیا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:162Listen in Qur'an →
163

هُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

آیت 163 ہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰہِ ط جیسے نیکوکاروں کے درجے ہیں اسی طرح وہاں بدکاروں کے بھی درجے ہیں۔ سب بدکار برابر نہیں اور سب نیکوکار برابر نہیں۔وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ اب آگے جو آیت آرہی ہے ‘ یہ مضمون سورة البقرۃ میں دو مرتبہ آچکا ہے۔ پہلی مرتبہ سورة البقرۃ کے پندرہویں رکوع میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں یہ مضمون بایں الفاظ آیا تھا : رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ ط آیت 129 پھر اٹھارہویں رکوع کے آخر میں یہ الفاظ آئے تھے : کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلاً مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ اب یہ مضمون تیسری مرتبہ یہاں آ رہا ہے :

Aal-i-Imraan 3:163Listen in Qur'an →
164

لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

آیت 164 لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یعنی ان کی اپنی قوم میں سے۔یَتْلُوْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ج یہ انقلاب نبوی ﷺ کے اساسی منہاج کے چار عناصر ہیں ‘ جنہیں قرآن اسی ترتیب سے بیان کرتا ہے : تلاوت آیات ‘ تزکیہ اور تعلیم کتاب و حکمت۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں جو ترتیب تھی ‘ اللہ نے اس کو تبدیل کیا ہے۔ اس پر سورة البقرۃ آیت 151 کے ذیل میں گفتگو ہوچکی ہے۔

Aal-i-Imraan 3:164Listen in Qur'an →
165

أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌۭ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

آیت 165 اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْہَالا قُلْتُمْ اَنّٰی ہٰذَا ط یعنی یہ کیوں ہوگیا ؟ اللہ نے پہلے مدد کی تھی ‘ اب کیوں نہیں کی ؟ قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ط۔غلطی تم نے کی تھی ‘ امیر کے حکم کی خلاف ورزی تم نے کی تھی ‘ جس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔گویا اسی مضمون کو یہاں دہرا کر لایا گیا ہے جو پیچھے آیت 152 میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تو وعدہ اپنا پورا کرچکا تھا اور تم دشمن پر غالب آ چکے تھے ‘ مگر تمہاری اپنی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ اللہ چاہتا تو تمہیں کوئی سزا نہ دیتا ‘ بغیر سزادیے معاف کردیتا ‘ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ تمہیں سزا دی جائے۔ اس لیے کہ ابھی تو بڑے بڑے مراحل آنے ہیں۔ اگر اسی طرح تم نظم کو توڑتے رہے اور احکام کی خلاف ورزی کرتے رہے تو پھر تمہاری حیثیت ایک جماعت کی تو نہیں ہوگی ‘ پھر تو ایک انبوہ ہوگا ‘ ہجومِ مؤمنینہو گا ‘ جبکہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ایک منظم جماعت ‘ لشکر ‘ فوج ‘ حزب اللہ درکار ہے۔

Aal-i-Imraan 3:165Listen in Qur'an →
166

وَمَآ أَصَٰبَكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيَعْلَمَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم

آیت 166 وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ اللہ کے اذن کے بغیر تو یہ تکلیف نہیں آسکتی تھی۔وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔یہ ظاہر ہوجائے کہ کون ہیں اصل مؤمن ‘ حقیقی مؤمن جو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ‘ ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:166Listen in Qur'an →
167

وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ قَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدْفَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًۭا لَّٱتَّبَعْنَٰكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَٰنِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَٰهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے

آیت 176 وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْاج۔لِیَعْلَمَ کا معنی ہے تاکہ جان لے۔۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہرچیز کا جاننے والا ہے لہٰذا ایسے مقامات پر ترجمہ کیا جاتا ہے : تاکہ اللہ ظاہر کر دے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے واقعتا ظاہر کردیا کہ کون مؤمن ہے اور کون منافق ! عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر چلا گیا تو سب پر ان کا نفاق ظاہر ہوگیا۔ اب آئندہ اہل ایمان ان کی بات پر اعتبار تو نہیں کریں گے ‘ ان کی چکنی چپڑی باتیں کان لگا کر تو نہیں سنیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ یہ بالکل واضح ہوجائے کہ Who is who what is what ?۔وَقِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِ ادْفَعُوْا ط عبداللہ بن ابی جب اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر واپس جا رہا تھا تو اس وقت ان سے کچھ لوگوں نے کہا ہوگا کہ بیوقوفو ! کہاں جا رہے ہو ؟ اس وقت تو لشکر سامنے ہے۔ اگر ایک ہزار میں سے تین سو آدمی نکل جائیں گے تو باقی لوگوں کے دلوں میں بھی کچھ نہ کچھ کمزوری پیدا ہوگی۔ اگر تم میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو کم از کم مدینہ کے دفاع کے لیے تو کمربستہ ہوجاؤ۔ اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو کیا ہوگا ؟ اگر یہاں پر یہ لشکر شکست کھا گیا تو کیا دشمن تمہاری بہوبیٹیوں کو اپنی باندیاں بنا کر نہیں لے جائیں گے ؟ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنٰکُمْ ط یعنی یہ تو درحقیقت نورا کشتی ہو رہی ہے ‘ یہ حقیقت میں جنگ ہے ہی نہیں۔ یہ جو مکہ سے محمد ﷺ کے ساتھی مہاجرین آئے ہیں اور اب یہ جو مکہ ہی سے لشکر ہم پر چڑھائی کر کے آیا ہے یہ سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں اور ہمارا ان سے کوئی سروکار نہیں۔

Aal-i-Imraan 3:167Listen in Qur'an →
168

ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ لِإِخْوَٰنِهِمْ وَقَعَدُوا۟ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا۟ ۗ قُلْ فَٱدْرَءُوا۟ عَنْ أَنفُسِكُمُ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

آیت 168 اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِہِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا ط قُلْ فَادْرَءُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ کیا تم اپنے آپ سے موت کو ٹال لو گے ؟ خود موت سے بچے رہو گے ؟ کیا موت تمہیں اپنے گھروں میں نہیں آئے گی ؟

Aal-i-Imraan 3:168Listen in Qur'an →
169

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتًۢا ۚ بَلْ أَحْيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

آیت 169 وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ط۔ یہی مضمون قبل ازیں سورة البقرۃ میں آچکا ہے : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ

Aal-i-Imraan 3:169Listen in Qur'an →
170

فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا۟ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

آیت 169 وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ط۔ یہی مضمون قبل ازیں سورة البقرۃ میں آچکا ہے : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ

Aal-i-Imraan 3:170Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.